السبت، 11 صَفر 1448| 2026/07/25
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

سورۂ النساء کی آیات 78 اور 79 میں "الحسنة" (بھلائی) اور "السيئة" (برائی) کا مفہوم سوال و جواب:

سورۂ النساء کی آیات 78 اور 79 میں "الحسنة" (بھلائی) اور "السيئة" (برائی) کا مفہوم سوال و جواب:

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال و جواب: سورۂ النساء کی آیات 78 اور 79 میں "الحسنة" (بھلائی) اور "السيئة" (برائی) کا مفہوم

 

سوال و جواب

 

 

سورۂ النساء کی آیات 78 اور 79 میں "الحسنة" (بھلائی) اور "السيئة" (برائی) کا مفہوم

 

 

(عربی سے ترجمہ)

 

محمود سنقرط کے لئے

 

========================

سوال:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔ لاکھوں درود وسلام ہوں اللہ کے رسول ﷺ پر، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمتیں اور سلامتی ہو آپﷺ کے اہلِ بیت پر، آپﷺ کے صحابۂ کرام رضوان علیہم اجمعین پر اور ان تمام لوگوں پر جو آپ کی پیروی کرتے ہیں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفاظت و امان میں رکھے، ہمارے معزز و محترم شیخ! اللہ تعالیٰ آپ پر اپنے فضل و کرم اور برکتوں میں اضافہ فرمائے، اور آپ کو ان تمام اعمال کی توفیق عطا فرمائے جو اسے محبوب ہیں اور جن سے وہ راضی ہوتا ہے۔ ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جلد از جلد فتح، نصرت اور تمکین عطا فرمائے، اور یہ سب مستقبل قریب میں آپ کے مبارک ہاتھوں سے ہمارے لئے مقدر فرمائے... بے شک وہی اس کا کارساز ہے اور اس پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی پاک کتاب، قرآنِ مجید میں، سورہ النساء کی آیات 78 اور 79 میں فرماتا ہے،

 

﴿أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ ۖ فَمَالِ هَٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا * مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا﴾

’’تم جہاں کہیں بھی ہو، موت تمہیں پا کر رہے گی، خواہ تم مضبوط بنے ہوئے قلعوں (یا بلند و بالا برجوں) میں ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر انہیں کوئی فائدہ (یا بھلائی) پہنچتا ہے تو وہ کہتے ہیں، 'یہ اللہ کی طرف سے ہے'؛ اور اگر انہیں کوئی نقصان (یا مصیبت) پہنچتی ہے تو کہتے ہیں، 'یہ تیری طرف سے ہے'۔ تو کہہ دیجیے، 'سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے'۔ پس اس قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتے؟ * تجھے جو بھی بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو بھی برائی (یا مصیبت) تجھے پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی وجہ سے ہے۔ اور (اے محمد ﷺ!) ہم نے آپ کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے، اور اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے‘‘۔

 

تو پھر ان دونوں آیات میں کس طرح تطبیق دی جائے کہ پہلی آیت کے مطابق بھلائی اور برائی دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، جبکہ دوسری آیت کے مطابق بھلائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، لیکن برائی انسان کی اپنی طرف سے ہوتی ہے؟ یہ سوال اس لئے بھی نہایت اہم ہے کہ پہلی آیت ان لوگوں کی مذمت کررہی ہے جو برائی کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہتے تھے: ’’یہ آپ کی وجہ سے ہے‘‘۔ پھر آیت کے آخر میں فرمایا گیا: ’’آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ کسی بات کو سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے؟‘‘ میں اس مسئلے کی ایک جامع اور تفصیلی وضاحت کا خواہش مند ہوں، کیونکہ میں نے متعدد معاصر علماء کی ویڈیوز دیکھی ہیں، لیکن مجھے مطلوبہ تشفی بخش جواب نہیں ملا، کیونکہ ان کی گفتگو زیادہ تر عمومی نوعیت کی تھی اور اس میں اس مسئلے کی تفصیلی وضاحت موجود نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر فرمائے۔

 

 

جواب:

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

اول،

میرے بھائی! آپ کا سوال قرآنِ کریم کی دو مبارک آیات میں وارد ہونے والے اللہ تعالیٰ کے ارشاد سے متعلق ہے:

پہلی آیت یہ ہے:

 

﴿وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ ۖ فَمَالِ هَٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا﴾

’’تم جہاں کہیں بھی ہو، موت تمہیں پا کر رہے گی، خواہ تم مضبوط بنے ہوئے قلعوں (یا بلند و بالا برجوں) میں ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر انہیں کوئی فائدہ (یا بھلائی) پہنچتا ہے تو وہ کہتے ہیں، 'یہ اللہ کی طرف سے ہے'؛ اور اگر انہیں کوئی نقصان (یا مصیبت) پہنچتی ہے تو کہتے ہیں، 'یہ آپ (ﷺ) کی وجہ سے ہے'۔ آپ فرما دیجیے، 'سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے'۔ پس اس قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتے؟‘‘ [سورة النساء؛ 4:78]

 

اور دوسری آیت یہ ہے:

 

﴿مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ ۚ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا﴾

’’(اے انسان!) تجھے جو بھی بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو بھی برائی (یا مصیبت) تجھے پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی وجہ سے ہے۔ اور (اے محمد ﷺ!) ہم نے آپ کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے، اور اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے‘‘ [سورة النساء؛ 4:79]

 

پہلی آیت یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے کہنا شروع کر دیا: ’’جب سے یہ شخص اور اس کے ساتھی ہمارے درمیان آئے ہیں، ہماری فصلوں اور باغات کی پیداوار مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے‘‘۔ چنانچہ وہ پیداوار کی اس کمی اور قحط کو—جسے وہ "سیئہ" (ناگوار مصیبت) قرار دیتے تھے—رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ اس کے برعکس، جب فصلوں اور پھلوں میں فراوانی ہوتی—جسے وہ "حسنہ" (بھلائی) کہتے تھے—تو اسے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف منسوب کرتے اور کہتے کہ یہ اسی کی طرف سے ہے۔ چنانچہ اسی لئے یہ مبارک آیت نازل ہوئی تاکہ واضح کر دیا جائے کہ فصلوں اور پھلوں کی فراوانی ہو یا ان میں کمی، قحط اور خشک سالی، یہ سب کچھ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت اور ناسمجھی کو نمایاں کرتے ہوئے فرمایا:

﴿فَمَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا﴾

"آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ کسی بات کو سمجھنے کے قریب بھی نہیں پہنچتے؟‘‘

 

اور جہاں تک دوسری آیت کا تعلق ہے، تو اس کا تعلق لوگوں کے اعمال سے ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھلائی کرتا ہے اور اسے اچھائی، برکت اور کامیابی—یعنی 'حسنہ'—حاصل ہوتی ہے، تو اسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنی چاہیے، کیونکہ یہ اس پر اللہ کے فضل اور کرم کا نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ برائی کرتا ہے اور اسے کسی نقصان یا مصیبت—یعنی 'سیئہ'—کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ اس کے اپنے برے اعمال کی وجہ سے ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرمایا ہے:

﴿وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ﴾

’’اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہوتی ہے؛ جبکہ وہ بہت سے (گناہوں) کو معاف فرما دیتا ہے‘‘ [سورة الشوریٰ؛ 42:30]۔

 

اس میں ایک نہایت گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ، جو زبردست حکمت والا ہے، اس نے دوسری آیت میں اس معاملے کو اس لئے واضح فرمایا تاکہ اہلِ ایمان کے دلوں سے شیطان کے وسوسوں کا ازالہ ہو جائے۔ پہلی آیت یہ حقیقت بیان کرتی ہے کہ خوشحالی، فراوانی، قحط اور خشک سالی سب اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ لیکن اس سے شیطان لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال سکتا ہے کہ چونکہ خیر اور شر دونوں اللہ ہی کی طرف سے ہیں، اس لیے انسان اپنے اعمال میں کوئی اختیار نہیں رکھتا، بلکہ وہ نیک یا بد اعمال کرنے پر مجبور ہے۔ گویا اس کے اعمال چونکہ اللہ کی طرف سے ہیں، اس لیے ان پر اس کا کوئی مواخذہ یا جواب دہی نہیں ہونی چاہیے۔ اسی غلط فہمی اور شیطانی وسوسے کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں واضح فرما دیا کہ نیکی اللہ کے فضل اور توفیق سے حاصل ہوتی ہے، جبکہ برائی انسان کے اپنے اختیار، اپنے اعمال اور اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتی ہے، لہٰذا وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار اور ان پر جواب دہ ہے۔

 

اسی لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے دوسری آیت نازل فرمائی تاکہ یہ واضح کر دے کہ انسان اپنے اختیار سے کیے جانے والے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص نیک عمل کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسے دنیا یا آخرت میں خیر و بھلائی حاصل ہوتی ہے، تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضل، کرم اور احسان کا مظہر ہے۔ اور اگر کوئی شخص برے اعمال کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا یا آخرت میں کسی مصیبت، تکلیف یا سزا سے دوچار ہوتا ہے، تو یہ اس کے اپنے برے اعمال کا لازمی نتیجہ اور اس کی اپنی کمائی ہے۔

 

اس طرح دونوں آیات کے درمیان مکمل مطابقت اور ہم آہنگی واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ خوشحالی ہو یا قحط، یعنی رزق کی فراوانی ہو یا تنگی، وہ کم ہو یا زیادہ، سب اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ البتہ انسان کے اپنے اختیاری اعمال کے نتیجے میں جو کچھ اسے پیش آتا ہے، اس کی نوعیت مختلف ہے۔ اگر وہ نیکی کرتا ہے اور اس پر دنیا یا آخرت میں اسے خیر و بھلائی اور اجر و ثواب ملتا ہے، تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضل، کرم اور رحمت کا مظہر ہے۔ اور اگر وہ برائی کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا یا آخرت میں سزا یا کوئی دوسری ناگوار سزا و مصیبت بھگتتا ہے، تو یہ اس کے اپنے کیے ہوئے برے اعمال کا نتیجہ ہے، جس کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔

 

دوئم :

مزید وضاحت کے لئے، ان دونوں آیاتِ مبارکہ کے بارے میں بعض تفاسیر میں جو کچھ بیان ہوا ہے، اس میں سے چند اقتباسات درج ذیل ہیں:

 

1- تفسیر ابن کثیرؒ (تفسیر قرآن) میں ہے:

[ثم قال تعالى: ﴿مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ﴾ أي: من فضل الله ومنه ولطفه ورحمته ﴿وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ﴾ أي: فمن قبلك، ومن عملك أنت كما قال تعالى: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ﴾ [الشورى: 30].. قال السدي، والحسن البصري، وابن جُريج، وابن زيد: ﴿فَمِنْ نَفْسِكَ﴾ أي: بذنبك.

وقال قتادة: ﴿مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ﴾ عقوبة يا ابن آدم بذنبك. قال: وذكر لنا أن نبي الله ﷺ كان يقول: "لا يصيب رجلا خَدْش عود، ولا عثرة قدم، ولا اختلاج عِرْق، إلا بذنب، وما يعفو الله أكثر".. وهذا الذي أرسله قتادة قد روي متصلا في الصحيح: "والذي نفسي بيده، لا يصيب المؤمن هَمٌّ ولا حَزَنٌ، ولا نَصَبٌ، حتى الشوكة يشاكها إلا كَفَّر الله عنه بها من خطاياه"].

 

’’پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’تمہیں جو بھی بھلائی پہنچتی ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے‘‘۔ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے فضل، احسان، فضل و کرم اور رحمت کا نتیجہ ہے۔ ’’اور تمہیں جو بھی برائی پہنچتی ہے، وہ تمہاری اپنی طرف سے ہے‘‘۔ یعنی وہ تمہاری اپنی جانب سے، تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: ’’اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے، اور اللہ بہت سی خطاؤں سے درگزر بھی فرما دیتا ہے‘‘۔ [الشورىٰ؛ 42:30] اس کے بعد سدّی، حسن بصری، ابن جریج اور ابن زید رحمہم اللہ نے ﴿فَمِنْ نَفْسِكَ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: ’’یعنی تمہارے اپنے گناہ کی وجہ سے‘‘۔

 

اور قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اے ابنِ آدم! تمہیں جو سزا یا تکلیف پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے گناہ کی پاداش میں ہوتی ہے‘‘۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ’’کسی شخص کو کانٹے دار ٹہنی کی معمولی خراش، قدم کا ٹھوکر کھا جانا، یا کسی رگ کا پھڑکنا بھی نہیں ہوتا مگر کسی گناہ کی وجہ سے، اور اللہ تعالیٰ جس قدر معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے‘‘۔ قتادہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو مرسل طور پر روایت کیا ہے، لیکن یہی مفہوم صحیح احادیث میں متصل سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مومن کو کوئی فکر، غم، تکلیف یا مشقت نہیں پہنچتی، حتیٰ کہ اگر اسے کانٹا بھی چبھ جائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے بعض گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے‘‘۔

 

2- تفسیرِ قرطبی میں بیان کیا گیا ہے:

 

[سورة النساء (4): آية 78]

﴿أَيْنَما تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لَا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً (78)﴾

قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ﴾ أَيْ إِنْ يُصِبِ الْمُنَافِقِينَ خِصْبٌ قَالُوا: هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ. ﴿وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ﴾ أَيْ جَدْبٌ وَمَحْلٌ قَالُوا: هَذَا مِنْ عِنْدِكَ، أَيْ أَصَابَنَا ذَلِكَ بِشُؤْمِكَ وَشُؤْمِ أَصْحَابِكَ.........

وَأَنَّهَا نَزَلَتْ فِي الْيَهُودِ وَالْمُنَافِقِينَ، وَذَلِكَ أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ عَلَيْهِمْ قَالُوا: ما زلنا نعرف النقص في ثمارنا ومزارعنا مُذْ قَدِمَ عَلَيْنَا هَذَا الرَّجُلُ وَأَصْحَابُهُ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَعْنَى ﴿مِنْ عِنْدِكَ﴾ أَيْ بِسُوءِ تَدْبِيرِكَ. وَقِيلَ: ﴿مِنْ عِنْدِكَ﴾ بِشُؤْمِكَ، كَمَا ذَكَرْنَا، أَيْ بِشُؤْمِكَ الَّذِي لَحِقَنَا، قَالُوهُ عَلَى جِهَةِ التَّطَيُّرِ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ﴾ أَيِ الشِّدَّةُ وَالرَّخَاءُ وَالظَّفَرُ وَالْهَزِيمَةُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، أَيْ بِقَضَاءِ اللَّهِ وَقَدَرِهِ. ﴿فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ﴾ يَعْنِي الْمُنَافِقِينَ ﴿لَا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً﴾ أَيْ مَا شَأْنُهُمْ لَا يَفْقَهُونَ أن كلا من عند الله....]

 

[سورة النساء (4)، آیت 78]

’’تم جہاں کہیں بھی ہو، موت تمہیں پا کر رہے گی، خواہ تم مضبوط بنے ہوئے قلعوں (یا بلند و بالا برجوں) میں ہی کیوں نہ ہو۔ اور اگر انہیں کوئی فائدہ (یا بھلائی) پہنچتا ہے تو وہ کہتے ہیں، 'یہ اللہ کی طرف سے ہے'؛ اور اگر انہیں کوئی نقصان (یا مصیبت) پہنچتی ہے تو کہتے ہیں، 'یہ آپ (ﷺ) کی وجہ سے ہے'۔ آپ فرما دیجیے، 'سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے'۔ پس اس قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتے؟‘‘

 

اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں کہ: ’’اور اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں، 'یہ اللہ کی طرف سے ہے'‘‘—یعنی، جب منافقین کثرت اور شادابی (زرخیزی) کے دور سے گزرتے، تو وہ کہتے، ’’یہ اللہ کی طرف سے ہے‘‘۔ ’’اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچتی ہے‘‘—یعنی قحط سالی اور بنجر پن—تو وہ کہتے، ’’یہ آپ کی طرف سے ہے‘‘یعنی ’’یہ مصیبت آپ کی نحوست اور آپ کے ساتھیوں کی نحوست کی وجہ سے ہم پر آئی ہے‘‘۔

 

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے کہنا شروع کیا: ’’جب سے یہ شخص اور اس کے ساتھی ہمارے درمیان آئے ہیں، ہمارے پھلوں اور فصلوں کی پیداوار مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے‘‘۔ ابن عباسؓ نے فرمایا کہ ’’آپ کی طرف سے‘‘کا مطلب ہے: ’’آپ کے برتاؤ یا طرزِ عمل کی وجہ سے‘‘۔ اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ’’آپ کی طرف سے‘‘سے مراد ہے: ’’آپ سے منسوب بدشگونی کی وجہ سے‘‘۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، یعنی ان کے خیال میں جو مصیبت انہیں پہنچی، وہ آپ ﷺ کی آمد کی وجہ سے تھی۔ انہوں نے یہ بات بدشگونی (تطیّر) کے عقیدے کی بنا پر کہی تھی، یعنی آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو اپنے لئے نحوست اور بدقسمتی کا سبب سمجھا تھا۔

 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ’’کہہ دیجیے، سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے‘‘ — یعنی تنگی اور آسانی، فتح اور شکست، سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے؛ یعنی اللہ کے فیصلہ کردہ قضا و قدر کے مطابق ہے۔ ’’آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے‘‘ — جس سے مراد منافقین ہیں — ’’کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتے؟‘‘ — یعنی، ’’انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ہر چیز اللہ ہی کی طرف سے ہے...؟‘‘

 

مجھے امید ہے کہ یہ وضاحت کافی ہو گی ، اور اللہ ہی بہتر جاننے والاہے اور نہایت حکمت والا ہے۔

آپ کا بھائی،

 

 

عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

 

04 صفر الخیر 1448 ہجری

بمطابق 18 جولائی، 2026 عیسوی

 

 

 

Last modified onجمعہ, 24 جولائی 2026 20:59

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک