السبت، 23 ربيع الأول 1448| 2026/09/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
فلسطين

ہجری تاریخ    18 من ربيع الاول 1448هـ شمارہ نمبر: BN/S 1448/06
عیسوی تاریخ     پیر, 31 اگست 2026 م

 

پریس ریلیز

 

بن گویر کو دیا جانے والا جواب وہ ہونا چاہئیے جو وہ آنکھوں سے دیکھے، نہ کہ وہ جو وہ محض کانوں سے سنے

 

 

ایک یہودی عورت کے بیٹے، بن گویر، نے ایک ویڈیو جاری کر کے ایک خطرناک حد پار کر دی ہے، جس میں وہ مسلمان باحجاب قیدی خواتین یعنی ارضِ فلسطین کی آزاد بیٹیوں کے سامنے کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ پہلے تو ان مسلمان بیٹیوں کا قید میں ہونا ہی غیرت مندوں کا خون کھولنے کے لیے کافی ہوتا تھا، جب غیرت کا اظہار محض جذبات کے بجائے عمل سے ہوا کرتا تھا، لیکن ان پر کیا جانے والا ظلم اور ان کی بنیادی ضروریات کا استحصال، خون کو دیگ کی طرح کھولنے اور ان کے سر کے ایک بھی بال بیکا کرنے کے جواب میں افواج کو متحرک کرنے سے ہونا چاہئیے۔

 

بن گویر کا اس گھناؤنے فعل پر اترانا غصے کے ایک ایسے آتش فشاں کو بھڑکا دینے کے لیے کافی ہونا چاہیے جو ریاستوں کو الٹنے اور حکومتوں کو پاش پاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، تاکہ اس سے اور اس کے پشت پناہوں سے بدلہ لیا جا سکے، اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک ہر آزاد عورت کو انصاف نہ مل جائے اور اس کی روح کی اس پکار کو تسکین نہ پہنچ جائے، چاہے وہ زبان پر نہ ہی آئی ہو: "اسلام کی خاطر! اے خلیفہ!"

 

جہاں تک اس کافرہ عورت کے بیٹے کی اس ویڈیو کو شائع کرنے اور اپنے اس ذلیل فعل پر اترانے کا تعلق ہے، تو اس کا صرف ایک ہی جواب ہے: فوری اور ہنگامی بنیادوں پر نصرت و آزادی کیلئے حرکت۔ یہ وہ لمحہ ہے جو کسی تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور جس کے لیے اسی عزیمت و ثبات کی ضرورت ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کے ان الفاظ میں ملتی ہے جب آپ نے فرمایا:

 

«مَنْ كَانَ سَامِعاً فَلَا يُصَلِّيَنَّ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ»

"جو تم میں سے (پکار) سن رہا ہو، وہ عصر کی نماز بنو قریظہ پہنچ کر پڑھے۔"

 

پھر بھی، اس کافرہ عورت کا بیٹا مَردوں کی جانب سے کسی قسم کے انتقام سے خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے؛ کیونکہ اس کے مجرمانہ یہودی وجود نے اس مصنوعی غصے کے اظہار کے سوا، جو کبھی عمل میں تبدیل نہیں ہوتا، اور ایسی آوازوں کے سوا جو ہر حرکت سے خالی ہو، مَردوں کی جانب سے کسی حقیقی مزاحمت کا سامنا نہیں کیا۔ اور اس مجرمانہ صیہونی وجود کے ہاتھ فلسطین کے لوگوں کے خون میں ہولناک حد تک رنگے ہیں۔ پھر، اپنے کفر کے زعم میں، اس نے رسول اللہ ﷺ کے معراج کے مقام یعنی مسجدِ اقصی کی بے حرمتی کی جسارت کی۔ مَردوں کی جانب سے کوئی مزاحمت اور امت میں کوئی جنبش نہ پا کر، اس کی جرات بڑھتی گئی۔

 

اسے لگا جیسے امت اپنے حکمرانوں کی مانند ہے اور افواج اپنے حکمرانوں کا عکس ہیں؛ چنانچہ وہ کسی بھی انتقام سے بے خوف ہو گیا۔ وہ دنیا کے ہر کونے میں جہاد کے گونجتے نعروں سے بہرہ بن گیا، اہل الشام نعرے لگا رہے ہیں کہ "ہم آ رہے ہیں، ہم آ رہے ہیں"؛ اہل مصر اعلان کر رہے ہیں کہ "ہم جہاد کرنا چاہتے ہیں"؛ اور اہل اردن مطالبہ کر رہے ہیں کہ "ہمارے لیے سرحدیں کھول دو"۔ وہ المغرب کے ان سپاہیوں کو بھول گیا، جو یوسف بن تاشفین کی اولاد ہیں، جو آزادی کے لیے تڑپ رہے ہیں، اور ترکی کے ان سپاہیوں کو، جو سلطان محمد فاتح اور عبدالحمید کی اولاد ہیں، جو شائقانہ آہوں سے رو رہے ہیں اور بے عملی سے ہٹ کر عمل پیرا ہونے کے بہت زیادہ قریب ہیں۔

 

حقیقت میں، اس کافرہ کے بیٹے کو ہمارے خلاف جسارت کی وجہ یہ نہیں کہ اس کا خیال ہے کہ امت یوں ہی جمود کا شکار رہے گی یا سپاہیوں میں آزادی کی تڑپ ختم ہو چکی ہے۔ درحقیقت، الشام اور دیگر مقامات پر امت کے خلاف ہر قسم کے ہتھیار کا استعمال اس کا اس حتمی نتیجے کے علم کی وجہ سے ہے کہ وہ جانتا ہے کہ جنگ تو ناگزیر ہے اور یہ معرکہ آ کر رہے گا۔ لیکن، ان کافروں کی اولاد نے یہ گمان کر لیا کہ وہ حکمران طبقے، جنہوں نے ان سے اور امت کے دشمنوں سے اتحاد کر رکھا ہے، امت کو روک لیں گے اور اس کے اندر بھڑکتی ہوئی تڑپ اور بپھرے ہوئے جذبات کو بجھا دیں گے۔ یہی خام خیالی ان کی تباہی و بربادی کا سبب بنے گی، بااذن اللہ۔

 

وہ یہ سمجھنے میں ناکام ہے کہ شیر اپنے طوق و سلاسل توڑنے کے قریب ہیں، امت اپنے حکمرانوں کی گردن ناپنے کو تیار ہے، اور منہجِ نبوی خلافت کا قیام عمل میں آنے والا ہے، جس کی ضمانت اللہ ﷻ کے وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت سے دی گئی ہے۔

 

اسی دن لشکر کا سالار یہ جواب دے گا: "لبیک اے بہن! تمہارا بدلہ لے لیا گیا ہے۔" اس کافرہ کے بیٹے کو اس کا جواب اس شکل میں ملے گا جس کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے، نہ کہ صرف اس شکل میں، جو بس صرف اسے سنائی دے: وہ ہر آزاد عورت کے آنسو پونچھے گا، اس سے معذرت کرے گا، اور اس کی طرف سے سخت ترین بدلہ لے گا۔ معرکہ بلاشبہ آنے والا ہے، اور ارضِ مقدس فلسطین کو عنقریب یہودیوں کی نجاست سے پاک کر دیا جائے گا، یہ ایسے یقینی ہے جیسے سورج کا مشرق سے طلوع ہونا یقینی ہے۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کا رایہ (پرچم) مسجدِ اقصی کے اوپر بلندی پر لہرائے گا۔ امت اور اس کے سپاہیوں کو بس اس بات میں جلدی کرنی ہے کہ وہ بے ہوش و سکتہ زدہ حکمران طبقوں کو دفن کر دیں اور نظامِ حکومت، جہاد، فتوحات اور آزادی کے طور پر اسلام کو بحال کریں؛ اسی دن آزاد خواتین کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی، ایک ایسا دن جو اللہ ﷻ کے اذن سے قریب ہی ہے۔

 

وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ

"اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام کی طرف لوٹائے جا رہے ہیں۔" (سورة الشعراء:227)

 

 

ارض مقدس فلسطین میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

 

 

 

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
فلسطين
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
www.pal-tahrir.info
E-Mail: info@pal-tahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک