الجمعة، 25 شعبان 1447| 2026/02/13
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال و جواب

 

 

آخری زمانے کی نشانیاں اور عیسیٰ علیہ السلام کا نزول

 

 

(عربی سے ترجمہ)

حمزہ  شحادۃ کے لئے

 

سوال:

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

 

اے ہمارے شیخ! ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ آپ صحت و عافیت میں ہوں، اور اللہ آپ کو، ہمیں اور تمام مسلمانوں کو نبوت کے طریقے پر خلافت کی نعمت عطا فرمائے۔

 

آخری زمانے میں نبی عیسیٰ علیہ السلام کے نزول، مہدیِ کے ظہور،ایک آنکھ والے دجال کے متعلق روایات اور یاجوج و ماجوج کی قوم سے متعلق خبروں نے ہمیں الجھن میں ڈال دیا ہے۔ ان خبروں اور روایات میں سے کون سی مستند ہیں اور کون سی من گھڑت ہیں؟

 

براہِ مہربانی وضاحت فرما دیں۔

 

جواب:

 

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته،

 

آپ کی اس نیک دعا پر اللہ آپ کو جزائے خیر دے، اور ہم بھی آپ کے لئے خیروعافیت  کی دعا کرتے ہیں۔

 

سب سے پہلے یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ شرعی نصوص میں وارد ہونے والی خبریں، خواہ وہ ماضی کے واقعات سے متعلق ہوں یا مستقبل کے امور کے متعلق، اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوتیں جب تک وہ درست ثابت نہ ہوں، یعنی وہ شرعی نصوص ضعیف یا من گھڑت نہ ہوں۔ میں آپ کے سوال کے موضوع سے متعلق تمام دلائل کا حوالہ دئیے بغیر چند مستند دلائل ضرور ذکر کروں گا، آپ ان کے مزید مطالعہ کے حوالے سے متعلقہ فقہی اور احادیث کی کتب سے رجوع کر سکتے ہیں:

 

الف-) یاجوج و ماجوج کے بارے میں:

 

ان کا ذکر قرآنِ کریم میں آیا ہے۔

 

سورۃ الکہف میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 

﴿قَالُوا يَا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجاً عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدّاً * قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْماً * آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَاراً قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْراً * فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْباً * قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقّاً * وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعاً

 

انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! یاجوج و ماجوج زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں، تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ خراج  مقرر کر دیں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں؟ ذوالقرنین نے کہا: جو میرے رب نے مجھے دیا ہے وہ کہیں بہتر ہے، تم بس اپنی قوت اور وسائل سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان مضبوط آڑ بنا دوں گا۔ میرے لیے لوہے کی بڑی بڑی چادریں لاؤ، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں  کے درمیان خلا کو بھر دیا تو کہا: تیز (آگ) پھونکو! یہاں تک کہ جب لوہا آگ کی طرح سرخ ہو گیا تو کہا: لاؤ، میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیل دوں۔ پس نہ وہ اس پر چڑھ سکیں گے اور نہ اس میں نقب لگا سکیں گے۔ ذوالقرنین نے کہا: یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آ جائے گا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر دے گا، اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔ اور اس دن ہم انہیں چھوڑ دیں گے کہ ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جائیں، اور صور پھونکا جائے گا، تو ہم سب کو اکٹھا کر لیں گے“۔ (سورۃ الکہف: آیات: 94 تا 99)

 

ب- جہاں تک آخری زمانے میں نبی عیسیٰ علیہ السلام کے نزول، مہدیِ کے ظہور اور ایک آنکھ والے دجال کی خبروں کا تعلق ہے:

 

ہم ان امور پر گزشتہ جوابات میں بیان کر چکے ہیں، انہی میں سے چند باتیں میں یہاں نقل کر دیتا ہوں:

 

یکم فروری، 2014ء کو ایک سوال کے جواب میں یہ بیان کیا گیا :

 

...احمد نے اپنی مسند میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَزَلَازِلَ، فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَعَدْلاً، كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَظُلْماً، يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ، يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحاً» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا صِحَاحاً؟ قَالَ: «بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ.... »

 

میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں، وہ میری امت میں ایسے وقت میں بھیجا جائے گا جب لوگوں میں اختلاف اور زلزلے ہوں گے، پھر وہ زمین کو بالکل ویسے ہی عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و ناانصافی سے بھری ہوئی تھی۔ اس سے آسمان والے بھی راضی ہوں گے اور زمین والے بھی، اور وہ مال برابر برابر تقسیم کرے گا۔ ایک شخص نے پوچھا: 'برابر برابر کا کیا مطلب ہے؟ '، آپ ﷺ نے فرمایا، «بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ.... » لوگوں کے درمیان مساوات کے ساتھ

 

یکم اپریل، 2016ء کو ایک سوال کے جواب میں یہ بیان کیا گیا :

 

...مہدی کے بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں صحیح بھی ہیں، حسن بھی، ضعیف بھی اور من گھڑت بھی۔ تاریخ میں بہت سے لوگوں نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ مہدی ہیں۔ اس معاملے میں حق و باطل کی پہچان کرنا چنداں مشکل نہیں۔ صحیح احادیث سے اتنا جان لینا کافی ہے کہ مہدی ایک عادل حکمران ہوں گے جو آخری زمانے میں آئیں گے، جب ظلم غالب ہوچکا ہو گا، وہ عدل قائم کریں گے اور ظلم کو ختم کر دیں گے۔ ان کا نام رسول اللہ ﷺ کے نام کے موافق ہو گا اور ان کے والد کا نام بھی رسول اللہ ﷺ کے والد کے نام کے موافق ہوگا، یعنی محمد بن عبداللہ اور ان کی بیعت رکن یمانی اور مقامِ ابراہیم کے درمیان ہو گی۔ ممکن ہے وہ خلافتِ راشدہ ثانیہ کے خلفاء میں سے ہوں، اور اللہ ہی بہتر جاننے والا اور حکمت والا ہے ۔

 

نعيم بن حماد نے الفتن میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ: «يُبَايعُ الْمَهْدِيُّ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، لَا يُوقِظُ نَائِماً، وَلَا يُهْرِيقُ دَماً» مہدی کی بیعت رکن اور مقام کے درمیان کی جائے گی، وہ نہ کسی سوئے ہوئے کو جگائیں  گے اور نہ کسی کا خون بہائیں گے۔

 

اور ایک دوسری روایت میں قتادہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَيَسْتَخْرِجُهُ النَّاسُ مِنْ بَيْنِهِمْ، فَيُبَايعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَهُوَ كَارِهٌ» وہ مدینہ سے مکہ کی طرف نکل جائیں گے، لوگ انہیں تلاش کر کے لائیں گے اور رکن و مقام کے درمیان ان کی بیعت کریں گے، جبکہ وہ اس بات کے لئے راضی نہ ہوں گے

 

ابن حبان نے اپنی صحیح میں عاصم سے، انہوں نے زِرٍّ سے، اور انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ النَّاسَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي، فَيَمْلَؤُهَا قِسْطاً وَعَدْلاً» قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک لوگوں پر میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص حکومت نہ کرے، اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام کے موافق ہو گا، پھر وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔

 

اور حاکم نے المستدرک میں  ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يَخْرُجُ فِي آخِرِ أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ يَسْقِيهِ اللَّهُ الْغَيْثَ، وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا، وَيُعْطِي الْمَالَ صِحَاحاً، وَتَكْثُرُ الْمَاشِيَةُ وَتَعْظُمُ الْأُمَّةُ، يَعِيشُ سَبْعاً أَوْ ثَمَانِياً» میری امت کے آخر میں مہدی ظاہر ہوں گے، اللہ ان کے لیے بارش برسائے گا، زمین اپنی نباتات نکالے گی، وہ مال برابر تقسیم کریں گے، مویشی زیادہ ہو جائیں گے اور امت شان و شوکت پا لے گی۔ وہ سات یا آٹھ سال زندہ رہیں گے یعنی حج کے سال۔

 

اور اس کے علاوہ بھی دیگر احادیث ہیں۔

 

جب ہم ایسے اوصاف والا کوئی شخص دیکھیں تو یہ تحقیق کی جا سکتی ہے کہ آیا وہ مہدی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ کسی کے بارے میں مہدی ہونے کی بحث ہی نہیں کی جائے گی، بلکہ وہ دھوکہ اور باطل دعویٰ کے زمرے میں آئے گا۔

 

17اپریل، 2014ء کو ایک سوال کے جواب میں یہ بیان کیا گیا : 

 

جہاں تک عیسیٰ علیہ السلام کے زمین پر نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے کا تعلق ہے، اس موضوع پر صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال ایک گمراہ شخص ہوگا اور گمراہ کرنے والا ہو گا جو آخری زمانے میں نکلے گا، وہ جھوٹ اور بہتان کے ذریعے کبھی خدائی کا دعویٰ کرے گا اور کبھی مسیح ہونے کا، وہ لوگوں کے سامنے جنت اور جہنم جیسی چیزیں ظاہر کرے گا، مگر جو چیز لوگوں کو جنت نظر آئے گی وہ حقیقت میں آگ ہو گی، اور جو آگ نظر آئے گی وہ حقیقت میں ٹھنڈا میٹھا پانی ہو گا۔ وہ اپنی نافرمانی کرنے والوں کو سخت سزا دے گا اور اپنی اطاعت کرنے والوں کو دنیاوی نعمتیں جیسے کھانا، گوشت اور پانی دے گا، اور مومن سے یہ نعمتیں روک لے گا۔

 

لیکن ان دنیاوی نعمتوں کا یہ روکنا مومن کو نقصان نہیں دے گا، کیونکہ دجال اللہ کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ حقیر ہے کہ وہ مومن کو فتنے میں ڈال سکے۔بہرحال، وہ لوگوں کے لئے ایک فتنہ اور آزمائش ہو گا۔ مومن جان لے گا کہ وہ دجال جھوٹا ہے، اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے گا، خواہ اسے دجال کی جانب سے کتنی ہی سختی کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

 

دجال کے اسی فتنے کے دوران، جب وہ مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا، تو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کر دیں گے۔

 

مسلم نے عُقبہ بن عمرو، ابو مسعود انصاریؓ سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ حذیفہ بن یمانؓ کے پاس گیا، تو عُقبہ نے ان سے کہا :

 

’’مجھے وہ باتیں بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے دجال کے بارے میں سنی ہیں، انہوں نے کہا «إِنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ، وَإِنَّ مَعَهُ مَاءً وَنَاراً، فَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ مَاءً، فَنَارٌ تُحْرِقُ، وَأَمَّا الَّذِي يَرَاهُ النَّاسُ نَاراً، فَمَاءٌ بَارِدٌ عَذْبٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَاهُ نَاراً، فَإِنَّهُ مَاءٌ عَذْبٌ طَيِّبٌ» ’’دجال نکلے گا، اس کے ساتھ پانی اور آگ ہو گی۔ جسے لوگ پانی سمجھیں گے وہ جلانے والی آگ ہو گی، اور جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہو گا۔ تم میں سے جو اسے پائے، وہ اسی میں گرے جسے آگ سمجھتا ہو، کیونکہ وہی میٹھا اور پاکیزہ پانی ہو گا۔ عُقبہ نے حذیفہؓ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی یہ بات خود سنی ہے‘۔

 

اور مسلم ہی کی روایت میں انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، «مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَمَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر» ’’کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو ایک آنکھ والے جھوٹے (دجال) سے خبردار نہ کیا ہو۔ خبردار! وہ ایک آنکھ والا ہے جبکہ تمہارا رب ایک آنکھ والا نہیں، اور اس (دجال) کی آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہو گا‘‘۔

 

مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ «مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ، كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ» ’’اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا، ہر مومن اسے پڑھ لے گا، خواہ وہ لکھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو‘‘۔

 

اور مسلم کی ایک روایت میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی جگہ اور دجال کے قتل کئے جانے کی جگہ بیان ہوئی ہے: «فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعاً كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ، وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ، فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ، فَيَقْتُلُهُ...» ’’جب وہ (دجال) اسی حال میں ہو گا، تو اللہ مسیح ابنِ مریم کو بھیجے گا، وہ دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس، دو زرد کپڑوں میں، اپنے ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے نازل ہوں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو قطرے ٹپکنے لگیں گے، اور جب وہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اس میں سے موتیوں کی طرح قطرے گریں گے۔ کوئی کافر ایسا نہ ہو گا جو ان کی سانس کی خوشبو پائے اور زندہ رہے، اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نگاہ پہنچے گی۔ پھر وہ دجال کا پیچھا کریں گے یہاں تک کہ اسے بابِ لُد کے پاس پا کر قتل کر دیں گے‘‘

 

ج- آخری زمانے میں دجال کے ظہور ہونے کا ہمارے اعمال پر اثر:

 

دجال، مومن پر اثر انداز نہیں ہو گا، کیونکہ اس کی وجوہات ذیل میں ہیں :

 

- اس کا باطل پن ہر صاحبِ عقل و بصیرت پر واضح ہو گا۔ اس کا خدائی کا دعویٰ سراسر باطل ہے جسے کوئی صاحب ِ عقل تسلیم نہیں کر سکتا کیونکہ وہ جسمانی طور پر محدود، ناقص بلکہ انتہائی ناقص ہے، چونکہ وہ کانا ہے، لہٰذا وہ مخلوق ہے، اور یہ بات ہر ذی شعور کے لئے واضح ہے۔

 

اس کا یہ دعویٰ کہ وہ مسیح عیسیٰ ابنِ مریم ہے، یہ بھی باطل ہے، کیونکہ وہ ایک آنکھ والا ہے، جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کے اوصاف میں آیا ہے کہ وہ کامل اور حسن وجمال والے ہوں گے۔ بخاری نے اپنی صحیح میں عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ «أُرَانِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلاً آدَمَ، كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا، فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً، مُتَّكِئاً عَلَى رَجُلَيْنِ، أَوْ عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ، يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: المَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ.. وَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ، أَعْوَرِ العَيْنِ اليُمْنَى، كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: المَسِيحُ الدَّجَّالُ» ’’میں نے کل رات اپنے آپ کو کعبہ کے نزدیک دیکھا ، تو میں نے ایک گندمی رنگ کے آدمی کو دیکھا، جو گندمی رنگ کے مردوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا۔ اس کے بال کندھوں تک تھے، جیسے تم سب سے خوبصورت بال دیکھتے ہو، وہ بالوں میں کنگھی کیے ہوئے تھا اور ان سے پانی ٹپک رہا تھا۔ وہ دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے، یا دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے، بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا: ’’یہ کون ہے؟ ‘‘کہا گیا: ’’یہ مسیح ابنِ مریم ہے‘‘۔ اور پھر میں نے ایک گھنگریالے، بہت سخت گھنگریالے بالوں والے آدمی کو دیکھا، جس کی دائیں آنکھ کانی تھی، گویا وہ ابھرا ہوا انگور ہو۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: یہ مسیح دجال ہے۔

 

اسی طرح دجال کی آنکھوں کے درمیان لفظ کافر لکھا ہو گا، اور جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، مومن خواہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا، اسے پڑھ لے گا۔ اس طرح دجال اپنی تکذیب(تردید) خود اپنے ساتھ لیے پھرے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دجال کے بارے میں خبردار کیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ وہ مومنوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی اصل حقیقت واضح کر دی ہے کہ وہ محض ایک فتنہ اور آزمائش ہے جس سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے مومن نجات پا لیں گے۔

 

یہی بات مجھے زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے، اور اللہ ہی سب سے بہتر جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

 

دجال کے موضوع میں اس سے زیادہ بحث کی ضرورت نہیں، کیونکہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ ان شاء اللہ کافی ہے۔

 

آپ کا بھائی

 

عطاء بن خليل أبو الرشتة

 

18 شعبان 1447هـ

 

بمطابق 06 فروری، 2026ء

 

 

Last modified onجمعرات, 12 فروری 2026 19:27

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک