الخميس، 14 ربيع الأول 1448| 2026/08/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

خصوصی تحریر

 

 

سوال کا جواب

 

 

سہ فریقی اتحاد سعودی، ترکی اور پاکستانی

 

 

(ترجمہ)

 

 

 

سوال:

 

العربیہ نیٹ نے 18/8/2026 کو ٹرمپ کا یہ بیان نقل کیا جس میں انہوں نے ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سہ فریقی معاہدے کا خیرمقدم کیا: (امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا ہے، اور اس اقدام کو بہت بڑا، دلیرانہ اور انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان سیکیورٹی کوآرڈینیشن اور ان کی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کی سمت پیش رفت کی تعریف بھی کی...)۔ العربیہ نیٹ نے ہی 17/8/2026 کو یہ خبر بھی شائع کی تھی کہ: (ٹرمپ نے اپنے "ٹروتھ سوشل" اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ وہ ان تینوں ممالک کی طرف سے معاہدے پر دستخط کیے جانے پر خوش ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تقارب کی عکاسی کرتا ہے)۔ اس سے پہلے سعودی پریس ایجنسی "واس" نے جمعہ 7/8/2026 کو اپنی ویب سائٹ پر یہ اعلان کیا تھا کہ: (سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب ایردگان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جو تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ سلامتی کو فروغ دینے اور خطے اور دنیا میں سلامتی، امن اور استحکام قائم کرنے کی خواہش کا مظہر ہے، تاکہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل حاصل کیا جا سکے)۔

 

اب سوال یہ ہے کہ: ان تینوں ممالک کے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے حقیقی ابعاد اور مقاصد کیا ہیں؟ کیا یہ مسلمانوں کے ممالک پر جارحیت کرنے والوں، مثلاً یہودی وجود کے خلاف جنگ کے لیے کوئی اتحاد ہے؟ یا یہ صرف خلیج کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ایران کے سامنے سعودی عرب کی حمایت کے لیے ہے؟ نیز، امریکہ نے اس معاہدے کی حمایت کا اعلان دس دن کی تاخیر سے کیوں کیا، حالانکہ یہ تینوں ممالک امریکہ نواز ہیں اور امریکی مرضی کے بغیر ان کا کوئی معاہدہ خارج از امکان سمجھا جاتا ہے؟ الغرض، اس معاہدے کا اصل مقصد کیا ہے؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

 

جواب:

 

اس جواب کو واضح کرنے کے لیے ہم درج ذیل امور کا جائزہ لیتے ہیں:

 

1- سعودی پریس ایجنسی "واس" نے جمعہ 7/8/2026 کو یہ خبر شائع کی: (سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب ایردگان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو اپنے مشترکہ تحفظ کو مستحکم کرنے اور خطے اور دنیا میں امن و سلامتی اور استحکام لانے کے لیے تینوں ممالک کی تڑپ کی عکاسی کرتا ہے تاکہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کا حصول ممکن ہو سکے)۔ ایجنسی نے بتایا کہ جمعہ کے روز مکہ میں منعقدہ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں یہ درج ہے کہ (معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے، اور یہ کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، اسی طرح یہ معاہدہ ان کے درمیان باہمی دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو فروغ دینے کا احاطہ کرتا ہے)۔ پس یہ معاہدہ واضح طور پر کہتا ہے کہ یہ خطے کی بڑی سمجھی جانے والی علاقائی قوتوں کے درمیان ایک مشترکہ عسکری اتحاد ہے تاکہ ان میں سے کسی پر بھی ہونے والی جارحیت کا سدِباب کیا جا سکے۔ لیکن یہ اپنے اندر یہ بالواسطہ (ضمنی) اعلان بھی رکھتا ہے کہ دوسرے اسلامی ممالک پر ہونے والی کسی بھی جارحیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، لہذا یہ اسے روکنے کے لیے کوئی مداخلت نہیں کرے گا!

 

2- یہی وجہ ہے کہ یہودی وجود نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ معاہدہ یا یہ اتحاد اس کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے... واضح رہے کہ اگر ان تینوں دستخط کنندہ ممالک میں سے ہر ایک ملک مخلص ہوتا تو وہ بخوبی جانتا کہ وہ اس وجود کو ڈرانے اور اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کی پوری طاقت رکھتا ہے، نہ یہ کہ وہ خاموشی سے تماشا دیکھتا رہے جب کہ وہ (یہودی وجود) غزہ کو تباہ و برباد کر رہا ہے، جس کے لاکھوں باشندوں کو شہید و زخمی کر چکا ہے، ان کے گھر بار مسمار کر کے لاکھوں کو بے گھر کر چکا ہے، انتہائی سنگین جرائم کا ارتکاب کر کے وہاں کے لوگوں کو بھوک اور پیاس سے مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے جہاں بیماریاں انہیں دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں اور زخم انہیں چھلنی کر رہے ہیں، اور وہ اب بھی اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان ممالک نے ان جرائم کو روکنے کے لیے نہ تو مشترکہ طور پر کوئی حرکت کی اور نہ ہی انفرادی طور پر۔ مزید برآں، مغربی کنارے میں بھی اسی طرح کے جرائم کا اضافہ کیا جا رہی ہے جہاں غاصب آباد کاروں کے غول اپنے فوجیوں کی سرپرستی میں زمین پر فساد برپا کر رہے ہیں، کھیتیوں اور نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں، قتل، زخمی اور قید کر رہے ہیں، زمینوں پر زبردستی قبضے کر کے ان کے مالکان کو وہاں سے نکال رہے ہیں اور ان کے گھروں کو منہدم کر رہے ہیں... یہاں تک کہ اس سہ فریقی اتحاد کا متن تو اپنے الفاظ کی رو سے یہودی وجود کے لیے بھی کھلا ہوا ہے! چونکہ ترک صدر ایردگان نے کہا ہے: (یہ معاہدہ کسی بھی ملک کو نشانہ نہیں بناتا، اور یہ ان تمام ممالک کی شرکت کے لیے کھلا ہے جو خطے میں استحکام لانے کا ارادہ رکھتے ہیں)، چنانچہ انہوں نے واضح الفاظ میں یہودی وجود کو مستثنیٰ نہیں کیا، بلکہ بات کو گول مول چھوڑ دیا... اور یہ یہودی وجود کے لیے ایک طرح کا اطمینانِ قلب ہے۔ چونکہ ترکی اس وجود کو تسلیم کرتا ہے اور اس نے غزہ میں وحشیانہ قتلِ عام اور اس کے کچھ حصوں پر مبینہ حفاظتی زونز کے نام پر قبضے کے باوجود اس کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع نہیں کیے ہیں!

 

3- ترک صدر کے اسی بیان کی طرح سعودی وزارتِ خارجہ کے پبلک ڈپلومیسی کے انڈر سیکرٹری  رائد قرملي نے بھی 7/8/2026 کو ایکس پر بیان دیا: (یہ معاہدہ خطے کے کسی بھی ملک کی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کنہی دو ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کا باعث ہے)۔ اور سعودی عرب تو یہودی وجود کے پہلو بہ پہلو ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی دعوت دیتا ہے اور کھلے عام دو ریاستی حل کا اعلان کرتا ہے! یعنی سعودی عہدیدار یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ اتحاد یہودی وجود کے خلاف نہیں بنایا گیا... اسی طرح پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی 7/8/2026 کو ایکس پر اس معاہدے کو "تاریخی" قرار دیتے ہوئے لکھا کہ... "یہ آنے والی نسلوں کے لیے امن کی ایک ڈھال بنے گا اور تینوں ممالک میں خوشحالی لائے گا"۔ یعنی یہ معاہدہ حملہ آوروں کے خلاف جنگ کرنے کے لیے نہیں بلکہ محض ایک امن منصوبہ ہے! مزید یہ کہ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ (مکہ معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے، اور یہ طے کرتا ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ سب پر حملہ سمجھا جائے گا۔ یورو نیوز، 7/8/2026)۔ یعنی سعودی عرب، پاکستان اور ترکی میں امریکی ایجنٹوں اور اس کے پٹھوؤں کی طرف سے اس معاہدے پر دستخط کرنے کا مقصد یہودی وجود کے خلاف لڑائی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، حالانکہ انہوں نے اس سرزمینِ مبارک پر قبضہ کر رکھا ہے اور قبلہ اول میں پے در پے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں!

 

4- سربراہ اجلاس کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ (اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانا اور دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ دستخط کرنے والے ممالک میں سے کسی ایک پر بھی مسلح حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے مابین "تاریخی تعلقات" اور مشترکہ تزویراتی مفادات پر مبنی ہے، اور اس کا مقصد خطے اور دنیا میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ بی بی سی، 7/8/2026)۔ اس وقت ان تینوں ممالک میں سے واحد ملک جس پر حملے ہو رہے ہیں وہ سعودی عرب ہے، اور یہ حملے ایران کی طرف سے ہو رہے ہیں... اور اگر اس بات کو پیشِ نظر رکھا جائے تو ان تینوں ممالک کے بیانات کا مقصد سمجھا جا سکتا ہے! ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس کے مقصد کی طرف اشارہ کیا ہے: (فیدان نے بتایا کہ "مکہ معاہدے" کے تحت کسی مشترکہ خطرے کا تعین نہیں کیا گیا، جبکہ انہوں نے اس بات پر زر دیا کہ "کوئی بھی ملک جو ہم پر حملہ نہیں کرے گا، وہ ہمارا ہدف نہیں بنے گا"۔ سی این این عربی، 9/8/2026)۔ ان کے اس بیان کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اگر ایران نے حملہ کیا—اور وہ بالفعل حملے کر بھی رہا ہے—تو وہ ان کے بیان کے مفہوم کے مطابق ہمارا نشانہ بن جائے گا... فیدان نے اپنے ایک اور بیان میں اس معاہدے کے مقاصد کو خوبصورت رنگ دینے کی کوشش کی کہ یہ خطے میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہے، لیکن وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے اور کہا: ("سعودی عرب، پاکستان اور ترکی توسیع پسند ممالک نہیں ہیں"، انہوں نے اس معاہدے کو "سب سے اہم قدم قرار دیا جو اس خطے میں مستقل استحکام لائے گا جس کا نام گزشتہ سو سالوں سے، جب سے سلطنتِ عثمانیہ یہاں سے رخصت ہوئی ہے، عدم استحکام سے جڑ چکا ہے"۔ سی این این عربی، 8/8/2026)۔ اس کے باوجود یہ عہدیدار سچ بات کو جوں کا توں بولنے سے ڈرتا ہے؛ اس کا یہ کہنا کہ سلطنتِ عثمانیہ اس خطے سے رخصت ہو گئی تھی، دراصل کفار کے ممالک کو ناراض نہ کرنے کی کوشش ہے تاکہ اس حقیقت پر پردہ پڑا رہے کہ کفر کے ممالک نے عرب اور ترکوں کے اندر موجود اپنے غداروں کے ساتھ مل کر پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف سازش کی تھی تاکہ خلافت کو گرایا جا سکے... پھر ان ممالک نے اسلامی خطے میں فساد برپا کرنا شروع کیا، اپنے گماشتوں کو ڈھونڈ کر انہیں بادشاہ اور صدر بنا دیا، اور قوم کے معزز و مخلص لوگوں کو شدت پسند اور دہشت گرد قرار دے کر جیلوں میں ڈال دیا، یوں ہر طرف انارکی پھیل گئی اور عدم استحکام کا دور دورہ ہو گیا کیونکہ مسلم امت کفر کے ممالک کے ان اقدامات کو مسترد کرتی ہے اور ان کے خلاف مزاحمت کرتی ہے... چنانچہ فیدان نے یہ کہنے کے بجائے کہ "...جب سے کفر کے ممالک اور عرب و ترک کے غداروں نے خلافتِ عثمانیہ کو گرانے کے لیے سازش کی تھی" یہ کہا کہ "...جب سے سلطنتِ عثمانیہ یہاں سے رخصت ہوئی ہے"۔ انہوں نے صرف ان ممالک کی ناراضگی کے خوف سے یہ بات کہی! اللہ انہیں غارت کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔

 

5- لیکن امریکہ نے اس معاہدے پر دس دن تک کسی بھی ردعمل کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ اگر یہ معاہدہ امریکہ کے مفاد کے خلاف ہوتا تو وہ فوراً اس کی مخالفت کرتا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ فوراً تائید کا اعلان کر کے یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ خود اس معاہدے کے پیچھے کھڑا ہے، کیونکہ اس طرح معاہدے کی سیاسی چمک دمک پھیکی پڑ جاتی اور یہ عیاں ہو جاتا کہ یہ معاہدہ امریکی حکم پر ہوا ہے، جس سے اس کے ان تینوں ایجنٹوں کی پوزیشن کمزور پڑ جاتی۔ حالانکہ ان تینوں نے اس معاہدے کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ اپنی خود مختاری کے بارے میں فکرمند ہیں اور وہ آزاد ہیں جو اپنی جارحیت کرنے والوں کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں، اسی لیے امریکہ نے تھوڑا انتظار کیا... اور پھر ٹرمپ نے اس معاہدے کی حمایت شروع کر دی، اس پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور تینوں ممالک کے سربراہوں کی تعریفیں کیں! اسی وجہ سے انہوں نے اب یہ بیان دیا ہے جیسا کہ العربیہ نیٹ نے 18/8/2026 کو نقل کیا: (امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاع کے مکہ معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا ہے، اور اس قدم کو انتہائی بڑا، جرات مندانہ اور اہم ترین قرار دیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے مابین سیکیورٹی کوآرڈینیشن اور ان کی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے رحجان کی تعریف کی ہے...)، اور العربیہ نیٹ نے 17/8/2026 کو یہ بھی شائع کیا تھا کہ: (اور ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پلیٹ فارم کے ذریعے مزید کہا کہ وہ تینوں ممالک کے اس معاہدے پر دستخط سے خوش ہیں، اور وہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے مابین بڑھتے ہوئے تقارب کا آئینہ دار سمجھتے ہیں)۔

 

ٹرمپ کی طرف سے ستائش اور تائید میں تاخیر کی یہی اصل وجہ ہے، ورنہ یہ تینوں ممالک تو امریکہ کے وفادار ہیں؛ چاہے وہ سعودی عرب اور پاکستان جیسے ایجنٹ ممالک ہوں جو نیٹو سے باہر امریکہ کے تزویراتی (اسٹریٹجک) شراکت دار ہیں، یا ترکی جیسا ملک ہو جو امریکہ کے زیرِ اثر ہے اور اس کے ساتھ نیٹو کا رکن بھی ہے۔

 

6- درحقیقت امریکہ اپنے ان تینوں وفادار ممالک کو خطے میں اور خاص طور پر ایران اور اس خطے کے رہنے والے مسلمانوں کے خلاف ایک خاص کردار دینا چاہتا ہے... امریکی صدر ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب پزشکیان کے مابین 18/6/2026 کو ویڈیو لنک کے ذریعے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد بھی امریکہ اب تک وہ حاصل نہیں کر سکا جو وہ چاہتا تھا، اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں... چنانچہ وہ خطے کے ان بڑے ممالک کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے! تاکہ وہ ایران کو اپنے حلیف ہمسایہ ممالک کے گھیرے میں لے لے، اور اس طرح ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران نرم پڑے گا اور اس کے شرائط کو تسلیم کر لے گا، جس سے ٹرمپ آنے والے مڈ ٹرم (نصف مدتی) انتخابات میں اپنی پارٹی کو ناکامی سے بچا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریپبلکن امریکی نمائندے جو ولسن نے 8/8/2026 کو ایکس پلیٹ فارم پر اپنے صفحے پر اس معاہدے کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: (سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ امریکی صدر کا ایک اور کارنامہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، امن اور خوشحالی کے فروغ کی راہ ہموار کرے گا)۔ اسی طرح ریاض میں واشنگٹن کے سابق سفیر مائیکل ریٹنی کا خیال ہے کہ (امریکہ اس معاہدے کو خطے کی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اس کے بقول ایران کے مسلسل حملوں سے نمٹنے کے لیے ایک اہم ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے، اور اس طرح مکہ معاہدہ پورے خطے کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو گا، ان کا ماننا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس سہ فریقی بلاک کو اپنے لیے مددگار اور استحکام کے فروغ کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں۔ العربیہ نیٹ، 18/8/2026)۔ یہ سب کچھ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس معاہدے کے پیچھے خود امریکہ کا ہاتھ ہے اور یہ اس کے صدر ٹرمپ کی کامیابی ہے۔ اسی لیے امریکہ نے اپنے وفادار ان تینوں ممالک کو متحرک کیا ہے تاکہ انہیں ایران کے خلاف بالواسطہ دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کر سکے۔

 

7- چونکہ ترکی نیٹو کا رکن ہے، اس لیے وہ اس کے ارکان کی حفاظت کا پابند ہے جن میں امریکہ بھی شامل ہے، تو کیا وہ اپنے ان وعدوں اور ذمہ داریوں کے خلاف کام کر سکتا ہے؟ بلکہ وہ تو امریکہ کے ساتھ اپنی وفاداری کے دائرے میں ہی کام کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے صدر ایردگان نے خاص طور پر امریکہ اور یورپ کے درمیان اتحاد میں آنے والی دراڑوں کو بھرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اسے مضبوط کرنے کے لیے کام کیا، چنانچہ انہوں نے 7 اور 8 جولائی 2026 کو انقرہ میں نیٹو کے رہنماؤں اور بالخصوص ٹرمپ کا استقبال کیا۔ انہوں نے ایئرپورٹ پر ٹرمپ کا استقبال کیا اور پھر انقرہ کے صدارتی محل میں ان کی زبردست پذیرائی کی، اور نیٹو سربراہ اجلاس سے پہلے ان کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کی، اور اس استقبال کے طور طریقوں سے دونوں کے درمیان گہری دوستی اور محبت کا واضح اظہار ہو رہا تھا۔ اس دورے کے دوران ٹرمپ نے یہ بیان دیا تھا: (سچ کہوں تو، اگر ترکی میں نیٹو کا یہ اجلاس نہ ہو رہا ہوتا اور یہاں میرے دوست ایردگان موجود نہ ہوتا، جو کہ ایک انتہائی مضبوط رہنما اور باوقار شخصیت ہیں، تو شاید میں اس اجلاس میں شرکت نہ کرتا)۔ انہوں نے ایران کے معاملے میں ترکی کے غیر جانبدارانہ رویے کی بھی تعریف کی... پس سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ اتحاد میں ایردگان کی شرکت دراصل امریکہ سے ان کی وفاداری اور شمالی اوقیانوس کے دفاعی معاہدے (نیٹو) کے تئیں ان کی وابستگی کے دائرے میں ہی آتی ہے۔

 

8- دوسری جانب، تہران سے سامنے آنے والے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران یہ سمجھ چکا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہونے والا یہ نیا دفاعی معاہدہ اسی کو نشانہ بنانے کے لیے ہے، چنانچہ اس معاہدے پر پہلے ایرانی ردعمل میں (ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے ایکس پر لکھا: "سعودیوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ محض ایک 'کاغذی معاہدہ' انہیں سلامتی فراہم نہیں کر سکتا، بالکل اسی طرح جیسے امریکیوں پر دہائیوں پر محیط یکطرفہ انحصار انہیں تحفظ دینے میں ناکام رہا۔" انہوں نے سعودی عرب کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا: "اپنی پالیسیاں تبدیل کریں تاکہ آپ کو سلامتی کے لیے دوسروں کی منتیں نہ کرنی پڑیں۔" سی این این عربی، 7/8/2026)۔ علاوہ ازیں، ایرانی اخبارات نے بھی، جیسا کہ القدس العربی اخبار نے 9/8/2026 کو نقل کیا ہے، اس معاہدے پر شدید حملے کیے، ایرانی سپریم لیڈر کے دفتر سے وابستہ اخبار "کیہان" کا یہ ماننا ہے کہ اس سہ فریقی معاہدے کا مقصد (یمنی مزاحمت، انصار اللہ، ایران اور مزاحمتی بلاک کا مقابلہ کرنا) ہے، اور اسی طرح پاسدارانِ انقلاب سے قریبی تعلق رکھنے والی نیوز ایجنسی "تسنیم" نے لکھا کہ (سعودی عرب نے جب یہ جان لیا کہ اپنی سلامتی کے لیے امریکہ پر انحصار کرنا بے سود ہے، تو اس نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کے بجائے مکہ میں ہونے والے اس سہ فریقی معاہدے کے ذریعے ترکی اور پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر کے "سیکورٹی خریدنے" کی پالیسی کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا تاکہ "مزاحمتی محاذ" کے ردعمل کے سامنے خود کو محفوظ رکھ سکے)۔ یہ سب کچھ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ایران اس معاہدے کے مقاصد کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے... یعنی یہ ایک ایسا آلہ کار ہے جسے امریکہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

 

9- اصل بات تو یہ ہے کہ یہ تینوں ممالک—ترکی، سعودی عرب اور پاکستان—اور باقی تمام اسلامی ممالک درحقیقت ایک ہی ملک اور ایک ہی ریاست ہونی چاہئیں، جو ایک ہی خلیفہ کے زیرِ سایہ ہوں جو ان پر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق حکومت کرے، نہ کہ یہ الگ الگ آزاد ریاستیں ہوں جو استعماری طاقتوں کے مفادات کے لیے باہمی اتحاد کرتی پھریں اور ان کے بنائے ہوئے عسکری اتحادوں میں شامل ہوں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی واضح اور محکم آیات میں اپنی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا ہے، اور تفرقہ و ملک کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کو حرام قرار دیا ہے، اور کفار کے ساتھ وفاداری اور ان کے مفاد کے لیے کام کرنے کو قطعی طور پر حرام کیا ہے، اور جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کے علاوہ کسی اور قانون کے مطابق حکومت کرنے کو حرام کیا ہے اور اسے کفر، ظلم، فسق یا ان تمام کا مجموعہ قرار دیا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز میں دوسری خلافتِ راشدہ کی واپسی کا وعدہ فرمایا ہے:

 

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾

 

"تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان سے اللہ کا پختہ وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین پر خلافت ضرور عطا فرمائے گا جیسا کہ ان سے پہلے کے لوگوں کو خلافت عطا فرمائی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ قائم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا، وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھهرائیں گے، اور جو اس کے بعد کفر کرے گا تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں"۔ (سورۃ النور، آیت: 55)

 

 

اور اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ان تینوں ممالک اور دیگر تمام مسلم ممالک میں قائم اس جابرانہ دورِ حکومت کے خاتمے اور پھر خلافت کی دوبارہ واپسی کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا ہے:«...ثُمَّ تَكُونُ مُلْكاً جَبْرِيَّةً فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ. ثُمَّ سَكَتَ» "... پھر جابرانہ بادشاہت کا دور ہوگا، اور وہ رہے گی جب تک اللہ چاہے گا کہ وہ رہے، پھر جب اللہ چاہے گا اسے اٹھا لے گا، پھر نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کا دور آئے گا۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے"۔ (رواہ احمد)

 

پس خلافت اللہ کے اذن سے لوٹ کر آنے والی ہے... لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ طے فرمایا ہے کہ ہمارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے آسمان سے فرشتے اتر کر ہمارے لیے خلافت قائم نہیں کریں گے، بلکہ ہمیں خود کام کرنا ہوگا، محنت اور تگ و دو کرنی ہوگی، اور جو کام ہم کریں اس میں سچائی اور اخلاص پیدا کرنا ہوگا، تب جا کر ہمیں اللہ کے وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت کے پورا ہونے کا یقین حاصل ہوگا، اور یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ سے بالکل واضح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کام کیا، ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کی اسی طرح اقتدا کی، اور ہمیں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے، تو پھر اللہ کی مدد و نصرت بلا شبہ آ جائے گی، اسی کے حکم سے:

 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

 

"اور اس دن ایمان والے خوش ہوں گے * اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ نہایت غالب اور بہت رحم کرنے والا ہے"۔ (سورۃ الروم، آیات: 4-5)

 

5 ربیع الاول 1448 ہجری

18/8/2026 عیسوی

Last modified onجمعرات, 27 اگست 2026 19:52

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک