بسم الله الرحمن الرحيم
منشیات اور نشہ آور اشیاء کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر
منشیات اور نشہ آور اشیاء کا استعمال مغرب اور مسلم دنیا میں مسلمان نوجوانوں کے درمیان پھیل رہا ہے، مصر اور سوڈان سے لے کر پاکستان اور انڈونیشیا تک، بلکہ اس سے بھی آگے۔ خود بعض مسلمان بھی منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں اور دوسروں کی تباہی سے پیسہ کما رہے ہیں۔ نشے کے عادی افراد کے لیے معمول کی زندگی کی طرف واپس آنا ایک سخت جدوجہد ہے اور اکثر وہ دوبارہ نشے کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ماریجوانا (Marijuana) اب تعلیمی اداروں میں بھی باآسانی دستیاب ہے، جبکہ آئس (ICE) کا استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ ہمارے مستقبل، یعنی نوجوان نسل، کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے، کیونکہ یہ انہیں اللہ ﷻ کی اطاعت سے دور کر دیتا ہے۔ درج ذیل سات نکات نوجوانوں، والدین، اساتذہ، نرسوں اور مشیروں کے لیے غور و فکر کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں:
پہلا، خمر ہر وہ چیز ہے جو نشہ آور اور حرام ہے جس میں شراب کے علاوہ دیگر نشہ بھی شامل ہے۔ خمر (شراب) کو المائدۃ کی آیت کے ذریعہ حرام قرار دیا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ٱلشَّيْطَـٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ "اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ "(المائدۃ 5:90)۔ آیت میں جولفظ خمر آیا ہے وہ ہر نشہ آور مشروب کیلئے ہے، خاص طور پر وہ نہیں جو صرف انگور سے لیا گیا ہو، بلکہ اس میں وہ بھی ہے جو نشہ آور مشروبات کے انگوروں کے علاوہ لیا جاتا ہے۔ بخاری اور مسلم نے ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے عمر ؓ کو رسول اللہﷺ کے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: أَمَّا بَعْدُ أَلاَ وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالْعَسَلِ . وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ "اس کے بعد، جب خمر کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو اسے پانچ چیزوں سے تیار کیا جاتا تھا: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو۔ خمر وہ چیز ہے جو ذہن کو دھندلا دیتی ہے"۔ بخاری اور مسلم نے ابو موسیٰ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے اور معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہماری سرزمین میں ایک مشروب ہے جسے المزر کہتے ہیں، جو کہ جو سے بنتا ہے، اور ایک اور مشروب جسے البیت کہتے ہیں، جو شہد سے بنایا جاتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے"۔ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں: واستُدل بمطلق قوله : (كل مسكر حرام) على تحريم ما يسكر ولو لم يكن شرابا، فيدخل في ذلك الحشيشة وغيرها، وقد جزم النووي وغيره بأنها مسكرة، وجزم آخرون بأنها مخدرة، وهو مكابرة؛ لأنها تحدث بالمشاهدة ما يحدث الخمر من الطرب والنشوة، والمداومة عليها والانهماك فيها… "(ہر نشہ آور چیز حرام ہے) کے الفاظ کا عمومی مفہوم اس بات کی دلیل کے طور پر لیا جاتا ہے کہ جو چیز نشہ کا سبب بنتی ہے وہ حرام ہے، چاہے وہ مشروب ہی کیوں نہ ہو۔ تو اس میں چرس اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ نووی وغیرہ کو یقین تھا کہ یہ ایک نشہ آور چیز ہے، اور دوسروں کو یقین تھا کہ یہ حواس کو کمزور کر دیتا ہے، اس کے برعکس کہنا تکبر ہے، کیونکہ اس کے ظاہر ہونے والے اثرات وہی ہیں جو خمر کے ہوتے ہیں، جیسے سرخوشی کی کیفیت اور لت"۔
دوسرا، حشیش کے طور پر تیار شدہ بھنگ ایک نشہ آور شے اور حرام ہے: بھنگ کینابیس کے پودے (کینابیس انڈیکا) سے بنائی جاتی ہے۔ تیار شدہ مال کو حشیش کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ tetrahydrocannabinol کی وجہ سے نشہ آور ہے، جسے THC کہا جاتا ہے۔
تیسرا، بھنگ نشہ آور ہے اور اس لت کو دور کرنے کے لیے طبی علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے: بھنگ کی طلب اس وقت ہوتی ہے جب دماغ اپنے کچھ قدرتی کیمیکلز کی پیداوار، اور ان کی حساسیت کو کم کر کے بھنگ کی بڑی مقدار کو قبول کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ بھنگ کا استعمال نشہ بن جاتا ہے۔ پھر ایک شخص بھنگ کا استعمال روک نہیں سکتا، حالانکہ یہ اس کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں میں مداخلت کرتا ہے۔ بائیو کیمیکل تبدیلیاں اس شخص کو لت سے چھڑانے کے لیے طبی مہارت کو لازمی قرار دیتی ہیں۔ ایک بار جب کوئی شخص نشہ کا عادی ہو جاتا ہے، تو زندگی کے کسی بھی مرحلے پر، کسی بھی بحران میں، اس سے نمٹنے کے طریقے کے طور پر اس کے دوبارہ لگنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔
چوتھا، توبہ نشہ سے بچنے کا عزم بڑھاتی ہے: نبی کریم ﷺنے فرمایا: لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمُ السَّمَاءَ ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ عَلَيْكُمْ "اگر تم گناہ کرتے رہو یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تم توبہ کرو، تمہاری توبہ قبول کی جائے گی" (ابن ماجہ)۔ عادت پر قابو پانے اور مدد کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں کا اعتراف کرے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے توبہ کرے۔ تب ہی ایک مسلمان صحیح راستے پر گامزن ہوتا ہے۔ وہ گناہ سے نفرت کرنے لگے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ گناہ سے نفرت کرتا ہے۔ وہ صحبت اور گناہ کی جگہ سے بھی بچے گا۔ یہاں تک کہ وہ اس لت کے دوبارہ لگنے سے بچنے کے لیے وہ خود کو اس کی رہائش گاہ یا مرکز سے مستقل طور پر دور کر سکتا ہے۔ وہ اپنے دل، دماغ اور وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے بھر دے گا۔ اسے اچھی اور باشعور صحبت مل جائے گی۔ کیونکہ وہ خود کو مایوسی اور پستی کی طرف لے جانے والی چیزوں سے دور رکھنا چاہتا ہے۔
پانچواں، ہیڈونزم(hedonism) کا تصور ، جو نشہ آور اشیاء کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اسلام اس کا علاج کرتا ہے: اس زمانے میں ہیڈونزم کا معاشرے میں ثبت شدہ تصور نشہ آور اشیاء کے دوبارہ استعمال کے رجحان کو بڑھاتا ہے۔ یہ خوشی کے حصول کے لیے کام کرنے کی شدید خواہش ہے، چاہے یہ ہدایت کے راستے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اسلام اس تصور کو براہ راست مخاطب کرتا ہے اور اسے ہر چیز اور ہر شخص سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی خواہش سے بدل دیتا ہے۔ اگر ہم نشہ کے عادی ہو جاتے ہیں، تو ہمیں خواہشات سے متعلق وحی کی تعلیمات پر گہرائی سے غور کرنا چاہیے، یہاں تک کہ ہم اس چیز سے محبت کرنے لگیں جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور جس چیز سے وہ نفرت کرتا ہے، اس سے سچی اور دل کی گہرائیوں سے نفرت کرنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی خواہشات کی پیروی کرنے والوں کو جھوٹے خدا کی پیروی کرنے والوں کے طور پر بیان کیا ، جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ہدایت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ "بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن گیا اور الله نے باوجود سمجھ کے اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا پھر الله کے بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے "(الجاثیہ 45:23)۔ ابو یعلی شداد بن اوسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ اللَّهُ هَوَاهَا ثُمَّ تَمَى عَلَّى "عقلمند وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے کوشش کرے اور کمزور وہ ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اللہ کے بارے میں آرزو مند خیال رکھتا ہے"(ابن ماجہ)۔
چھٹا، اسلام ہمیں نشہ کی لت کو ختم کرنے میں مدد کے لیے دعا کرنے کی طرف ہدایت کرتا ہے: ہم اکیلے نہیں ہیں. ہم کبھی تنہا نہیں ہوتے۔ ہم کبھی بھی کسی بھی چیز ، چاہے چھوٹی یا بڑی کا سامنا اکیلے نہیں کرتے۔ اللہ ٰ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔ جب ہم اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہماری مدد کرتا ہے۔ وہ ان طریقوں سے ہماری مدد کرتا ہے جن کا ہم تصور یا توقع نہیں کرتے ہیں۔ وہی تو وہ ہے جو ہمارے دلوں کو بدل سکتا ہے، ہمیں ہمارے دین میں مضبوط بنا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ " اے ہمارے رب! جب تو ہم کو ہدایت کر چکا تو ہمارے دلوں کو نہ پھیر اور اپنے ہاں سے ہمیں رحمت عطا فرما بے شک تو بہت زیادہ دینے والا ہے "(آل عمران 3:8)۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ "اے دلوں کو بدلنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم کر دے"(ترمذی)۔
ساتواں، نشہ آور اشیاء کے اس سیلاب کو روکنے کے لیے ہمیں اسلامی نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنوں، اساتذہ، والدین اور نوجوانوں کی حیثیت سے ہم مسلم دنیا اور مغرب میں منشیات کے ایک سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس لیے قابو سے باہر ہے کہ اس کی ایک بنیادی وجہ موجود ہے۔ مسلم دنیا کی موجودہ ریاستیں اسلام کے مطابق حکمرانی نہیں کرتیں، اس لیے وہ اس مسئلے کو کبھی جڑ سے حل نہیں کر سکتیں۔ ان کا میڈیا، نظامِ تعلیم اور معاشرتی نظام مغرب کے طرز پر تشکیل دیے گئے ہیں اور سیکولر لبرل ازم پر مبنی ہیں۔ حقیقت میں یہ نظام منشیات کے اس سیلاب کو مزید بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یقیناً، ہم ان لوگوں کی مدد کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں جو اس سیلاب میں بہہ رہے ہیں۔ تاہم، اس سیلاب کو ابتدا ہی میں روکنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم ایک اور شرعی فریضہ ادا کریں۔ وہ شرعی فریضہ منہجِ نبوت پر خلافت کے دوبارہ قیام کی جدوجہد ہے، جو پوری انسانیت کے لیے رحمت فراہم کرنے کا واحد شرعی طریقہ ہے۔ خلافت ایسا اسلامی معاشرہ تشکیل دے گی جو اللہ ﷻ کی رضا کے حصول کے لیے کوشاں اسلامی شخصیات کی تربیت کرے گا، اور جس کا میڈیا، نظامِ تعلیم اور معاشرتی نظام وحیِ الٰہی کی مضبوط بنیاد پر قائم ہوگا۔
مصعب عمیر، ولایہ پاکستان
منشیات اور نشہ آور اشیاء کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر
منشیات اور نشہ آور اشیاء کا استعمال مغرب اور مسلم دنیا میں مسلمان نوجوانوں کے درمیان پھیل رہا ہے، مصر اور سوڈان سے لے کر پاکستان اور انڈونیشیا تک، بلکہ اس سے بھی آگے۔ خود بعض مسلمان بھی منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں اور دوسروں کی تباہی سے پیسہ کما رہے ہیں۔ نشے کے عادی افراد کے لیے معمول کی زندگی کی طرف واپس آنا ایک سخت جدوجہد ہے اور اکثر وہ دوبارہ نشے کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ماریجوانا (Marijuana) اب تعلیمی اداروں میں بھی باآسانی دستیاب ہے، جبکہ آئس (ICE) کا استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ ہمارے مستقبل، یعنی نوجوان نسل، کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے، کیونکہ یہ انہیں اللہ ﷻ کی اطاعت سے دور کر دیتا ہے۔ درج ذیل سات نکات نوجوانوں، والدین، اساتذہ، نرسوں اور مشیروں کے لیے غور و فکر کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں:
پہلا، خمر ہر وہ چیز ہے جو نشہ آور اور حرام ہے جس میں شراب کے علاوہ دیگر نشہ بھی شامل ہے۔ خمر (شراب) کو المائدۃ کی آیت کے ذریعہ حرام قرار دیا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ٱلشَّيْطَـٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ "اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور فال کے تیر سب شیطان کے گندے کام ہیں سو ان سے بچتے رہو تاکہ تم نجات پاؤ "(المائدۃ 5:90)۔ آیت میں جولفظ خمر آیا ہے وہ ہر نشہ آور مشروب کیلئے ہے، خاص طور پر وہ نہیں جو صرف انگور سے لیا گیا ہو، بلکہ اس میں وہ بھی ہے جو نشہ آور مشروبات کے انگوروں کے علاوہ لیا جاتا ہے۔ بخاری اور مسلم نے ابن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے عمر ؓ کو رسول اللہﷺ کے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: أَمَّا بَعْدُ أَلاَ وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ وَهْىَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالْعَسَلِ . وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ "اس کے بعد، جب خمر کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو اسے پانچ چیزوں سے تیار کیا جاتا تھا: انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جو۔ خمر وہ چیز ہے جو ذہن کو دھندلا دیتی ہے"۔ بخاری اور مسلم نے ابو موسیٰ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے اور معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہماری سرزمین میں ایک مشروب ہے جسے المزر کہتے ہیں، جو کہ جو سے بنتا ہے، اور ایک اور مشروب جسے البیت کہتے ہیں، جو شہد سے بنایا جاتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے"۔ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں: واستُدل بمطلق قوله : (كل مسكر حرام) على تحريم ما يسكر ولو لم يكن شرابا، فيدخل في ذلك الحشيشة وغيرها، وقد جزم النووي وغيره بأنها مسكرة، وجزم آخرون بأنها مخدرة، وهو مكابرة؛ لأنها تحدث بالمشاهدة ما يحدث الخمر من الطرب والنشوة، والمداومة عليها والانهماك فيها… "(ہر نشہ آور چیز حرام ہے) کے الفاظ کا عمومی مفہوم اس بات کی دلیل کے طور پر لیا جاتا ہے کہ جو چیز نشہ کا سبب بنتی ہے وہ حرام ہے، چاہے وہ مشروب ہی کیوں نہ ہو۔ تو اس میں چرس اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ نووی وغیرہ کو یقین تھا کہ یہ ایک نشہ آور چیز ہے، اور دوسروں کو یقین تھا کہ یہ حواس کو کمزور کر دیتا ہے، اس کے برعکس کہنا تکبر ہے، کیونکہ اس کے ظاہر ہونے والے اثرات وہی ہیں جو خمر کے ہوتے ہیں، جیسے سرخوشی کی کیفیت اور لت"۔
دوسرا، حشیش کے طور پر تیار شدہ بھنگ ایک نشہ آور شے اور حرام ہے: بھنگ کینابیس کے پودے (کینابیس انڈیکا) سے بنائی جاتی ہے۔ تیار شدہ مال کو حشیش کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ tetrahydrocannabinol کی وجہ سے نشہ آور ہے، جسے THC کہا جاتا ہے۔
تیسرا، بھنگ نشہ آور ہے اور اس لت کو دور کرنے کے لیے طبی علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے: بھنگ کی طلب اس وقت ہوتی ہے جب دماغ اپنے کچھ قدرتی کیمیکلز کی پیداوار، اور ان کی حساسیت کو کم کر کے بھنگ کی بڑی مقدار کو قبول کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ بھنگ کا استعمال نشہ بن جاتا ہے۔ پھر ایک شخص بھنگ کا استعمال روک نہیں سکتا، حالانکہ یہ اس کی زندگی کے بہت سے پہلوؤں میں مداخلت کرتا ہے۔ بائیو کیمیکل تبدیلیاں اس شخص کو لت سے چھڑانے کے لیے طبی مہارت کو لازمی قرار دیتی ہیں۔ ایک بار جب کوئی شخص نشہ کا عادی ہو جاتا ہے، تو زندگی کے کسی بھی مرحلے پر، کسی بھی بحران میں، اس سے نمٹنے کے طریقے کے طور پر اس کے دوبارہ لگنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔
چوتھا، توبہ نشہ سے بچنے کا عزم بڑھاتی ہے: نبی کریم ﷺنے فرمایا: لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمُ السَّمَاءَ ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ عَلَيْكُمْ "اگر تم گناہ کرتے رہو یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تم توبہ کرو، تمہاری توبہ قبول کی جائے گی" (ابن ماجہ)۔ عادت پر قابو پانے اور مدد کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی طرف پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں کا اعتراف کرے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے توبہ کرے۔ تب ہی ایک مسلمان صحیح راستے پر گامزن ہوتا ہے۔ وہ گناہ سے نفرت کرنے لگے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ گناہ سے نفرت کرتا ہے۔ وہ صحبت اور گناہ کی جگہ سے بھی بچے گا۔ یہاں تک کہ وہ اس لت کے دوبارہ لگنے سے بچنے کے لیے وہ خود کو اس کی رہائش گاہ یا مرکز سے مستقل طور پر دور کر سکتا ہے۔ وہ اپنے دل، دماغ اور وقت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے بھر دے گا۔ اسے اچھی اور باشعور صحبت مل جائے گی۔ کیونکہ وہ خود کو مایوسی اور پستی کی طرف لے جانے والی چیزوں سے دور رکھنا چاہتا ہے۔
پانچواں، ہیڈونزم(hedonism) کا تصور ، جو نشہ آور اشیاء کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اسلام اس کا علاج کرتا ہے: اس زمانے میں ہیڈونزم کا معاشرے میں ثبت شدہ تصور نشہ آور اشیاء کے دوبارہ استعمال کے رجحان کو بڑھاتا ہے۔ یہ خوشی کے حصول کے لیے کام کرنے کی شدید خواہش ہے، چاہے یہ ہدایت کے راستے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اسلام اس تصور کو براہ راست مخاطب کرتا ہے اور اسے ہر چیز اور ہر شخص سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی خواہش سے بدل دیتا ہے۔ اگر ہم نشہ کے عادی ہو جاتے ہیں، تو ہمیں خواہشات سے متعلق وحی کی تعلیمات پر گہرائی سے غور کرنا چاہیے، یہاں تک کہ ہم اس چیز سے محبت کرنے لگیں جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور جس چیز سے وہ نفرت کرتا ہے، اس سے سچی اور دل کی گہرائیوں سے نفرت کرنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی خواہشات کی پیروی کرنے والوں کو جھوٹے خدا کی پیروی کرنے والوں کے طور پر بیان کیا ، جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ہدایت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ "بھلا آپ نے اس کو بھی دیکھا جو اپنی خواہش کا بندہ بن گیا اور الله نے باوجود سمجھ کے اسے گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور دل پر مہر کر دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا پھر الله کے بعد اسے کون ہدایت کر سکتا ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے "(الجاثیہ 45:23)۔ ابو یعلی شداد بن اوسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ اللَّهُ هَوَاهَا ثُمَّ تَمَى عَلَّى "عقلمند وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے کوشش کرے اور کمزور وہ ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اللہ کے بارے میں آرزو مند خیال رکھتا ہے"(ابن ماجہ)۔
چھٹا، اسلام ہمیں نشہ کی لت کو ختم کرنے میں مدد کے لیے دعا کرنے کی طرف ہدایت کرتا ہے: ہم اکیلے نہیں ہیں. ہم کبھی تنہا نہیں ہوتے۔ ہم کبھی بھی کسی بھی چیز ، چاہے چھوٹی یا بڑی کا سامنا اکیلے نہیں کرتے۔ اللہ ٰ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔ جب ہم اس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہماری مدد کرتا ہے۔ وہ ان طریقوں سے ہماری مدد کرتا ہے جن کا ہم تصور یا توقع نہیں کرتے ہیں۔ وہی تو وہ ہے جو ہمارے دلوں کو بدل سکتا ہے، ہمیں ہمارے دین میں مضبوط بنا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ " اے ہمارے رب! جب تو ہم کو ہدایت کر چکا تو ہمارے دلوں کو نہ پھیر اور اپنے ہاں سے ہمیں رحمت عطا فرما بے شک تو بہت زیادہ دینے والا ہے "(آل عمران 3:8)۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ "اے دلوں کو بدلنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم کر دے"(ترمذی)۔
ساتواں، نشہ آور اشیاء کے اس سیلاب کو روکنے کے لیے ہمیں اسلامی نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنوں، اساتذہ، والدین اور نوجوانوں کی حیثیت سے ہم مسلم دنیا اور مغرب میں منشیات کے ایک سیلاب کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس لیے قابو سے باہر ہے کہ اس کی ایک بنیادی وجہ موجود ہے۔ مسلم دنیا کی موجودہ ریاستیں اسلام کے مطابق حکمرانی نہیں کرتیں، اس لیے وہ اس مسئلے کو کبھی جڑ سے حل نہیں کر سکتیں۔ ان کا میڈیا، نظامِ تعلیم اور معاشرتی نظام مغرب کے طرز پر تشکیل دیے گئے ہیں اور سیکولر لبرل ازم پر مبنی ہیں۔ حقیقت میں یہ نظام منشیات کے اس سیلاب کو مزید بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یقیناً، ہم ان لوگوں کی مدد کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں جو اس سیلاب میں بہہ رہے ہیں۔ تاہم، اس سیلاب کو ابتدا ہی میں روکنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم ایک اور شرعی فریضہ ادا کریں۔ وہ شرعی فریضہ منہجِ نبوت پر خلافت کے دوبارہ قیام کی جدوجہد ہے، جو پوری انسانیت کے لیے رحمت فراہم کرنے کا واحد شرعی طریقہ ہے۔ خلافت ایسا اسلامی معاشرہ تشکیل دے گی جو اللہ ﷻ کی رضا کے حصول کے لیے کوشاں اسلامی شخصیات کی تربیت کرے گا، اور جس کا میڈیا، نظامِ تعلیم اور معاشرتی نظام وحیِ الٰہی کی مضبوط بنیاد پر قائم ہوگا۔
مصعب عمیر، ولایہ پاکستان
Latest from
- سویڈن: پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کے خطرات!
- الرايہ کی متفرقات – شمارہ 615
- ابو الظہور: کیا اعلانیہ تصادم ، نارملائزیشن کی طرف لے جا رہا ہے؟
- سعودی سودانی رابطہ کونسل: سوڈان کی تقسیم کی کڑیوں میں سے ایک کڑی
- روسی فوجی لاجسٹکس اور معیشت کے خلاف ایک نئی جنگ یا وسطی ایشیا کو روسی اثر و رسوخ سے الگ کرنے کی پالیسی؟






