الأحد، 04 ربيع الأول 1448| 2026/08/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

متفرقات الرايہ – شمارہ 612

 

 

صفحہ اول کی سرخیاں 

 

اے امتِ اسلام! یہود نے بہت بڑی سرکشی اختیار کر رکھی ہے، اور دیکھو! وہ آپ سب کی آنکھوں کے سامنے اور کانوں کے سنتے ہوئے، آواز اور تصویر کے ساتھ، مغربی کنارے، غزہ اور قدس میں ارضِ مبارک  کے باسیوں کے خلاف وحشیانہ قتلِ عام اور بھیانک جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں، اور ان پر محاصرہ اور گھیرا سخت کر دیا گیا ہے، اور ان جرائم کی وجہ سے آنکھیں پتھرا گئی ہیں اور دل حلق کو آ پہنچے ہیں، تو آخر کب تک آپ لوگ خاموش رہیں گے اور انہیں یوں بے یارومددگار چھوڑے رکھیں گے؟! کیا آپ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آپ کے نبی ﷺ کی جائے معراج (مسجدِ اقصیٰ) کو ڈھادیا جائے اور اس کی جگہ ان کا خود ساختہ ہیکل تعمیر کر دیا جائے؟! کیا آپ اس انتظار میں ہیں کہ ارضِ مبارک کے تمام باسیوں کا مکمل طور پر صفایا کر دیا جائے؟! یا آپ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ یہودی انہیں وہاں سے زبردستی بے دخل کرنے کے اپنے منصوبے کو نافذ کرنے میں کامیاب ہو جائیں؟!

 

===

 

صفحہ اول کے لیے

 

ایغاد تنظیم اور سوڈان میں اس کا مکروہ کردار

 

مشرقی افریقہ کی بین الحکومتی ترقیاتی اتھارٹی (ایغاد) نے جمعرات 30/07/2026ء کو خرطوم میں اپنے دفتر کے افتتاح کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل ورقنیہ قبیہو نے کہا: "اس دفتر کی سرگرمیاں صرف امن کے عمل کی حمایت تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ان کا دائرہ کار تعمیرِ نو کے منصوبوں میں حصہ لینے تک وسیع ہوگا..."، واضح رہے کہ ایغاد کو ایک افریقی نیم علاقائی بین الحکومتی تنظیم کے طور پر جانا جاتا ہے جو 1996ء میں قائم ہوئی تھی، اس کا ہیڈ کوارٹر جیبوتی میں ہے، اور اس میں سوڈان، جنوبی سوڈان، ایتھوپیا، کینیا، یوگنڈا، صومالیہ، جیبوتی اور اریٹیریا شامل ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ترقی اور صحرا زدگی و قحط سالی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے طور پر قائم کی گئی تھی، جہاں یہ 1986ء میں 'انٹر گورنمنٹل اتھارٹی آن ڈویلپمنٹ اینڈ ڈراؤٹ کنٹرول' کے نام سے قائم ہوئی تھی۔ بعد ازاں سال 1996ء میں اس کی دوبارہ تنظیمِ نو کی گئی تاکہ یہ 'انٹر گورنمنٹل اتھارٹی آن ڈویلپمنٹ' (بین الحکومتی ترقیاتی اتھارٹی) بن جائے، اور اسے ایک وسیع تر مینڈیٹ دیا گیا جس میں ان کے دعوے کے مطابق امن اور سلامتی بھی شامل ہے!!"

 

اسی کی بنیاد پر ولایہ سوڈان میں حزب التحرير کے ترجمان استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل) نے ایک پریس ریلیز میں کہا: ایسی تنظیمیں بڑی استعماری طاقتیں قائم کرتی ہیں تاکہ ان کے ذریعے ہمارے ممالک کے خلاف اپنی سازشوں کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ جنوبی سوڈان کو الگ کرنے میں ایغاد تنظیم نے ایک سرگرم کردار ادا کیا؛ 'ماچاکوس پروٹوکول' اسی کی سرپرستی میں طے پایا تھا، جس میں جنوب کو حقِ خودارادیت دینے کی شق شامل تھی، اور اسی طرح اس نے منحوس 'نیواشا معاہدے' میں بھی اہم کردار ادا کیا جو جنوبی سوڈان کی علیحدگی کا براہِ راست سبب بنا۔

 

انہوں نے مزید کہا: فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز  کے درمیان حالیہ جنگ شروع ہونے کے بعد، اس تنظیم نے جو کردار ادا کرنا شروع کیا وہ بالکل واضح تھا۔ اس نے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کو برابر قرار دیا؛ یہاں تک کہ اس نے ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر حمیدتی کو تنظیم کے سربراہان کے ایک غیر معمولی اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جو جنوری 2024ء میں کمپالا میں منعقد ہوا تھا، جس کی وجہ سے سوڈانی حکومت نے 20 جنوری 2024ء کو تنظیم میں اپنی رکنیت معطل کر دی۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اب اسے واپس آنے کی اجازت دی جا رہی ہے تاکہ وہ اپنا گندہ کردار دوبارہ ادا کر سکے۔

 

استاد ابو خلیل نے سوڈان کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے بیان کا اختتام کیا: نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:«لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ» (مؤمن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا)۔ تو پھر آپ اس قوت کو دوبارہ آنے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں جو امریکہ کے فائدے کے لیے جنوبی سوڈان کی علیحدگی کا باعث بنی تھی، تاکہ وہ امریکہ کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے دارفور کی علیحدگی میں بھی وہی کردار ادا کرے؟! خبردار! جان لو کہ ہمیں استعمار اور اس کے علاقائی و مقامی آلۂ کاروں سے صرف اور صرف اسلامی ریاست ہی نجات دلائے گی، جو نہ تو ایسی تنظیموں کو ملک کے معاملات میں مداخلت کی اجازت دے گی اور نہ ہی بڑی استعماری طاقتوں سے تعلق رکھنے والے ان کے آقاؤں کو، جنہوں نے انہیں بنایا ہے، ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے دے گی۔

 

===

 

خودمختاری تحفے میں نہیں ملتی اور غیرت خریدی نہیں جا سکتی

 

بے شک جو قومیں اپنی تاریخ کا مطالعہ نہیں کرتیں، ان پر یہ مقدر کر دیا جاتا ہے کہ وہ بار بار اس کی بھاری قیمت چکاتی رہیں۔ ہمارے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہم پر یہ فرض کرتا ہے کہ ہم زیادہ بیدار مغز اور با شعور بنیں، اور ہر بیرونی منصوبے کو گہری اور پرکھنے والی نظر سے دیکھیں، اور چمکدار نعروں کے دھوکے میں نہ آئیں اگر ان کے پیچھے اثر و رسوخ اور مفادات کے کھیل چھپے ہوئے ہوں۔

 

اور شاید سب سے اہم سبق جو ہمارے ذہنوں میں ہمیشہ تازہ رہنا چاہیے، وہ یہ ہے کہ خودمختاری کبھی تحفے میں نہیں ملتی اور آزادی کبھی خریدی نہیں جا سکتی۔

 

اور ہماری امت آج جس نازک دور سے گزر رہی ہے، وہ اپنے گریبان میں جھانکنے اور کمزوری و تفرقہ بازی کے اسباب کا گہرائی سے جائزہ لینے کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ امت جو کبھی عدل اور رحمت کا پیغام لے کر کھڑی ہوئی تھی، اور جس نے ایک ایسی تہذیب قائم کی تھی جو انسان کے دین، جان اور مال کا تحفظ کرتی تھی، وہ آج بھی اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، بشرطیکہ وہ اپنی اصل اقدار کی طرف لوٹ آئے اور اپنی تہذیب اور مستقبل کی تعمیرِ نو کا فریضہ بہترین طریقے سے سرانجام دے۔

 

بے شک تاریخ تذبذب کا شکار رہنے والے لوگ نہیں بناتے، بلکہ تاریخ تو وہ مردِ مومن بناتے ہیں جو اپنے مقصد اور مشن پر پختہ ایمان رکھتے ہیں، اور اخلاص کے ساتھ اللہ پر توکل کرتے ہوئے عمل پیرا ہوتے ہیں، تاکہ ان کی امت دوبارہ اٹھ کھڑی ہو، اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرے، اور ویسی ہی بن جائے جیسا اللہ تعالی نے اسے بنانا چاہا ہے؛ یعنی لوگوں پر گواہ بننے والی امت، جو جہانوں کے لیے خیر، عدل اور رحمت لے کر آئے۔

 

===

 

مسجدیں جلائی جا رہی ہیں اور مسلمان قتل کیے جا رہے ہیں اور ہماری افواج ٹس سے مس نہیں ہو رہیں!

 

یہودیوں کے وزیراعظم نتن یاہو نے مغربی کنارے میں اپنی فوج کو کھلی چھوٹ دے دی ہے اور اس سے وہاں جاری فوجی آپریشن کو وسعت دینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ نام نہاد قومی سلامتی کے یہودی وجود کے وزیر بن غفیر نے، ایک آباد کار کی ہلاکت اور تین دیگر کے زخمی ہونے کے بعد، وہاں فوجی اقدامات کو مزید تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ جن دیہاتوں اور قصبوں سے حملے کرنے والے نکلتے ہیں "ان کے ساتھ بالکل وہی سلوک کیا جانا چاہیے جو غزہ پٹی میں بیت حانون کے ساتھ کیا گیا تھا"۔

 

الرايہ: اپنے متعدد فوجیوں اور آباد کاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے پر یہودی وجود کے قائدین کا یہ ردِ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ امتِ مسلمہ اور اس کی افواج کو کس قدر حقیر اور بے وقعت سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ کسی بھی ممکنہ ردِ عمل کے خوف سے بالکل آزاد ہو چکے ہیں، چاہے وہ عارضی ہی کیوں نہ ہو۔ ان کے وحشی آباد کاروں کے ٹولے اور ان کے فوجی صبح و شام فلسطین، غزہ اور مغربی کنارے میں مسلمانوں کے قتلِ عام میں مصروف ہیں، ان کے باشندوں کو بے دخل کر رہے ہیں اور ان کے خاندانوں کا ان کے بچے کھچے گھروں اور زمینوں پر بھی تعاقب کر رہے ہیں، اور ہر موقع پر اور ہر لمحہ رسول اللہ ﷺ کی جائے معراج کی بے حرمتی کرتے ہیں، اور دیکھو! وہ اب جان بوجھ کر مسجدوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور کینے، بغض اور توہین کی نیت سے انہیں نذرِ آتش کر رہے ہیں۔

 

تو آخر کب تک، اے امتِ اسلام! تمہاری افواج میں شامل تمہارے بیٹے، افسران اور جنرل، فلسطین، اس کے باشندوں اور اس کے مقدسات پر ٹوٹنے والی اس قیامت کا تماشہ دیکھتے رہیں گے، گویا ان کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے؟!

 

===

 

حزب التحرير/ ولایہ سوڈان کے وفود معززین اور قبائلی سرداروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں

 

حزب التحرير/ ولایہ سوڈان کے ایک وفد نے، ولایہ سوڈان میں حزب التحرير کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین استاد ناصر رضا محمد عثمان کی امارت میں، جبکہ ان کے ہمراہ حزب التحرير ولایہ سوڈان کے مجلس کے رکن استاد محمد مختار، اور حزب التحرير کے اراکین استاد منتصر کرار اور استاد محمد سراج شامل تھے، پیر 03/08/2026ء کو دو الگ الگ دورے کیے۔ پہلے دورے میں وفد نے کسلا شہر میں واقع ان کے گھر پر 'بنی عامر' قبیلے کے ناظر (قبائلی سردار)، ناظر علی ابراہیم دقلل سے ملاقات کی، اور ملاقات کے دوران استاد ناصر نے کافر استعمار کے اس خطرناک منصوبے میں پھنسنے کی سنگینی پر زور دیا جو قبائلی اور نسلی بنیادوں پر مسلح جتھے بنا کر ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے، اور یہ کہ اسلام کا منصوبہ یعنی 'نبوت کے نقشِ قدم پر  خلافتِ راشدہ' ہی وہ واحد منصوبہ ہے جو امت کو اکٹھا کر سکتا ہے اور صفوں کو متحد کر سکتا ہے۔ ناظر دقلل نے استاد ناصر کی گفتگو کی تائید کرتے ہوئے کہا: "بے شک اسلام کا منصوبہ ہی وہ صحیح منصوبہ ہے جو لوگوں کو متحد کرتا ہے"۔

 

دوسرے دورے میں، وفد نے کسلا شہر میں واقع ان کے گھر پر 'الحلنقہ' کے ناظرِ عام انجینئر علی عبدالقادر شکیلای سے ملاقات کی، اور ان کے ہمراہ ناظر کے قائم مقام عبدالقادر سید احمد، شیخ حسن اسماعیل اور دیگر حضرات موجود تھے۔

استاد ناصر نے ان دنوں میدان میں رونما ہونے والے حالات، یعنی قبائل کو جمع کرنے اور متحرک کرنے پر گفتگو کی، جہاں اب ہر قبیلہ اپنے نوجوانوں کو پکار رہا ہے اور ہر قبیلے نے اپنی ایک مسلح تحریک بنا لی ہے، اور یہ معاملہ دراصل استعمار کا منصوبہ ہے تاکہ لوگوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرے اور ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے تاکہ وہ ریاست کو کمزور اور بے وقعت حصوں میں تبدیل کر سکے۔

 

اور ناصر نے کہا کہ اس سازش سے نجات کی کوئی راہ نہیں ہے سوائے اسلام پر کاربند رہنے کے۔ اور وفد کے امیر نے ناظر کو اس بات پر ابھارا کہ وہ دین کی نصرۃ اور 'نبوت کے نقشِ قدم پر  خلافتِ راشدہ' کے قیام کے لیے قبیلے کے کردار سے فائدہ اٹھائیں، جس کا وعدہ رب العزت نے کیا ہے اور جس کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دی ہے، بالکل اسی طرح جیسے انصار نے اسلام کی نصرت کی تھی اور اللہ سبحانہ و تعالی نے ان کی تعریف فرمائی۔

 

ناظر نے استاد ناصر کے کلام کی تائید کی اور وفد کا تشریف لانے پر شکریہ ادا کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ پھر ناظر کے نائب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "ہم اس راستے پر آپ کے ساتھ ہیں"۔ اور مسجد کے امام شیخ نے بھی ان باتوں کی تعریف کی، نعرہ تکبیر بلند کیا اور کہا: "اللہ کی قسم! ہم دل سے چاہتے ہیں کہ یہ ریاست کل کے بجائے آج ہی قائم ہو جائے"۔

 

اسی طرح استاد ناصر رضا کی امارت میں ایک وفد نے، جس میں استاد محمد مختار اور حزب التحرير کے اراکین اساتذہ منتصر کرار، بلہ محمود، اور عبدالصمد الطيب شامل تھے، جمعہ 7/8/2026ء کو القضارف کے دیہی علاقے کے گاؤں 'عد الطینہ' میں واقع ان کے آباد گھر پر 'المسلمیہ' کے ناظر شیخ محمد مصطفیٰ عبدالکریم مبارک سے ملاقات کی۔

 

استاد ناصر رضا نے ملک کی موجودہ صورتحال اور کافر استعمار کے ان منصوبوں کے بارے میں گفتگو کی جو ملک کے غدار بیٹوں کے ہاتھوں ملک کو پارہ پارہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جنہوں نے اس جنگ کو بھڑکایا ہے۔

پھر انہوں نے قبائل کو اکٹھا کرنے اور انہیں مسلح کرنے کے خلاف خبردار کیا اور کہا: یہ ملک کو تباہ کرنے اور اس کے بچے کھچے حصوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا نیا منصوبہ ہے۔

 

اور وفد کے امیر نے ان اولین قائدین کے کردار کا تذکرہ کیا جن کی اللہ نے تعریف کی ہے، اور جن کے کندھوں پر پہلی اسلامی ریاست یعنی نبی کریم ﷺ کی ریاست قائم ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا: آج ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اللہ کے دین کی نصرت کرے تاکہ وہ جاہلیت کی موت سے بچ سکے۔

 

پھر ناظر نے گفتگو کی اور استاد ناصر کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا: "ایسی باتوں کا منبروں اور اجتماعات میں تذکرہ ہونا بہت ضروری ہے، اور یہ کہ صرف اسلام ہی ہمیں متحد کر سکتا ہے"۔

 

اسی طرح ہفتہ 8/8/2026ء کو، استاد ناصر رضا کی امارت میں ایک وفد نے، جس میں استاد محمد مختار اور پارٹی کے اراکین اساتذہ منتصر کرار اور عبدالصمد الطيب شامل تھے، القضارف شہر میں پارٹی کے دفتر میں 'بیت معلا' (بنی عامر قبیلے کی ایک شاخ) کے عمدة (سربراہ) شیخ حسب اللہ الطاہر سے ملاقات کی، اور ان کے ہمراہ محترم عمدة کے سیکرٹری استاد محمد حسین بھی موجود تھے۔

 

ملاقات کے آغاز میں استاد ناصر رضا نے سوڈان کی موجودہ صورتحال اور قبائل کو اکٹھا کر کے اور انہیں مسلح کر کے سوڈان کو تقسیم کرنے کے امریکی منصوبوں پر گفتگو کی جو اس کے ناپاک منصوبے کی خدمت کے لیے ہے، اور جس میں کٹھ پتلی حکمران اس کی مدد کر رہے ہیں۔ ناصر نے عمدة کو ان قبائلی سرداروں کے مؤقف کی یاد دہانی کروائی جن کی اللہ نے اسلام کی نصرت اور اس کی عظیم الشان عمارت یعنی نبی کریم ﷺ کی ریاست قائم کرنے پر تعریف فرمائی تھی، اور یہ کہ آج قبائلی سرداروں پر لازم ہے کہ وہ اسلام کی نصرت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تاکہ وہ جاہلیت کی موت کے گناہ سے بچ سکیں۔

 

پھر بیت معلا کے عمدة شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے استاد ناصر رضا کی بات کی تصدیق کی اور کہا: "ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کی پشت پناہی کریں گے"۔

 

اسی طرح اتوار 9/8/2026ء کو، استاد ناصر رضا کی امارت میں ایک وفد نے، جس میں استاد محمد مختار اور پارٹی کے اراکین اساتذہ منتصر کرار اور عبدالصمد الطيب شامل تھے، القضارف شہر میں واقع ان کے گھر پر 'الحباب' قبیلے کے ناظر شیخ محمد علی محمد سعید سے ملاقات کی۔

 

استاد ناصر نے سوڈان کی تقسیم کے منصوبے پر گفتگو کی، اور کہا کہ اس معاملے کا سب سے برا پہلو یہ ہے کہ انہوں نے بعض قبائل کا استحصال کیا ہے اور وہ انہیں مسلح کرنے پر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ سوڈان کو تقسیم کرنے کے لیے 'ٹروجن ہارس'  بنیں، جبکہ اصل بات یہ ہے کہ قبائل کا کام اسلام کی نصرت کرنا اور اس کی ریاست قائم کرنا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اسلام کے آغاز میں قبائل نے کیا تھا جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نصرت کی اور مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی پہلی ریاست قائم کی، اور اب آپ کا فرض ہے کہ آپ اسلام کی نصرت کریں اور نبوت کے نقشِ قدم پر  خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے کام کریں۔

 

پھر ناظر نے پارٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے اور وفد کا تشریف لانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: "جب تک آپ کا یہ طریقہ کار ہے، ہم تن من دھن سے آپ کے ساتھ ہیں"، اور انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا: "مجھے اپنے ساتھ ایک اعزازی رکن تصور کریں"۔

 

===

 

25 جولائی جدید ریاست کی ناکامی کا ایک واضح مظہر

 

25 جولائی کی تاریخ اس گہرے بحران کو ظاہر کرنے والا ایک اہم سنگِ میل ہے جس کا سامنا تیونس کو نفرت انگیز استعماری دور سے ہے۔ جدید دور کی اس ریاست نے، جو آمریت اور جمہوریت کے درمیان ہچکولے کھاتی رہی ہے، یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ اسی نظام کا تسلسل ہے جسے استعمار نے خلافت کے انہدام کے بعد قائم کیا تھا، چنانچہ یہ استعمار کے مفادات اور اس کی لٹیری کمپنیوں سے جڑ گئی، اور ساتھ ہی ساتھ اسلام کو حکومت اور قانون سازی سے بے دخل کر دیا گیا۔

 

اور مہنگائی، بجلی اور پانی کی بندش اس تزویراتی (اسٹریٹجک) ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، باوجود اس کے کہ سرسبز تیونس پوشیدہ خزانوں، عظیم وسائل اور بے پناہ توانائیوں سے مالا مال ہے، لیکن یہ وسائل اہل ملک کی خدمت، ان کے فیصلوں کی آزادی اور ان کی ترقی کے لیے استعمال ہونے کے بجائے کفار کی لوٹ مار کا شکار بنے ہوئے ہیں۔

 

دوسری طرف حزب التحرير/ ولایہ تیونس کے میڈیا آفس نے کہا ہے: صدر مملکت اور ان کے مخالفین کے درمیان جاری حالیہ کشمکش ملک کے حالات کو بدلنے یا اس کے بحرانوں کی جڑوں کے علاج کے گرد نہیں گھوم رہی، بلکہ یہ کشمکش صرف اسی خود ساختہ نظام کے اندر اقتدار سنبھالنے کی جنگ تک محدود ہے۔ اسی لیے بحران بار بار جنم لیتے ہیں اور لوگوں کی حالت زار مسلسل بگڑتی جا رہی ہے؛ کیونکہ انسان کے بنائے ہوئے خود ساختہ نظاموں نے، اپنی تمام تر شکلوں کے باوجود، غربت، ظلم اور کرپشن کے سوا کچھ پیدا نہیں کیا، اور ساتھ ہی بنیادی خدمات میں مسلسل گراوٹ آئی ہے۔ محض حکمرانوں کو تبدیل کرنے سے ملک کے حالات نہیں بدلیں گے جب تک کہ وہ بنیادیں جن پر یہ نظام قائم ہے اپنی جگہ برقرار رہیں۔

 

اور اسی نقطہ نظر سے، حقیقی اور نتیجہ خیز تبدیلی صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب انقلاب کے مقاصد کا ساتھ دیا جائے، اور وہ اس انسان کے بنائے ہوئے خود ساختہ نظام کو اس کی تمام شکلوں، ستونوں اور علامتوں سمیت جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور اس کے کھنڈرات پر اسلام کے نظامِ حکومت کو قائم کرنے سے ہی ممکن ہے۔

 

===

 

ہجرت اور موت کے قافلے

حکمرانوں کی پیشانی پر بدنامی کا داغ

 

مراکش کے 50 ہزار سے زائد مسلمانوں کی ہسپانوی مقبوضہ شہر 'سبتہ' کی طرف ہجرت کے مناظر، اس امید پر کہ وہ اسپین میں داخل ہو سکیں، انتہائی تکلیف دہ اور دردناک تھے، جنہوں نے اس ذلت اور بے بسی کی تصویر پیش کی جس کا شکار یہ تارکین وطن تھے جب وہ کھلے آسمان تلے زمین پر سونے پر مجبور تھے اور انہیں بھوک مٹانے کے لیے نوالہ تک میسر نہ تھا، جس کے بعد 68 سے زائد افراد لقمہ اجل بنے اور 48 ہزار سے زائد لوگ کئی دنوں کی تکلیف، تذلیل اور ٹوٹ پھوٹ کے بعد واپس لوٹ آئے۔

 

بے شک مسلمانوں کے ممالک خلافت کے دور میں علم، رزق اور عزت کی تلاش میں دنیا کا قبلہ اور پناہ گاہ ہوا کرتے تھے، کیونکہ وہاں ان کے رب کے برحق اور عادل قوانین کے مطابق حکومت کی جاتی تھی، پھر جب کافر استعمار نے اسے منہدم کر دیا اور امت کے معاملات ایسے حکمرانوں کے سپرد کر دیے جنہوں نے اللہ کے قوانین کو معطل کر دیا، تو حالات بدل گئے، اور ہم پر غربت، عذاب اور ذلت مسلط ہو گئی، جو کہ اللہ تعالی کے اس فرمان کی تصدیق ہے:

 

﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾

"اور جس نے میری یاد (نصیحت) سے منہ موڑا تو اس کے لیے زندگی تنگ ہوگی، اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے" (سورة طه:آیت 124

 

اور اسی لیے امت کو آج شدید ضرورت ہے کہ وہ 'نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت' قائم کرے تاکہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں عظیم الشان اسلام کو اسی طرح نافذ کر سکے جیسے خلفائے راشدین نے نافذ کیا تھا، آج ہی، کل پر ٹالے بغیر۔ کیونکہ واقعات، تاریخ اور تجربات نے وہی ثابت کیا ہے جو اسلام نے پہلے ہی واضح فرما دیا تھا کہ خلافت ہی امتِ مسلمہ کے لیے باعزت زندگی کا واحد راستہ تھی اور ہمیشہ رہے گی۔ خلافت اس کے نوجوانوں کو ایک ایسا اثاثہ بنا دے گی جس پر پوری دنیا ہم سے رشک کرے گی، اور اس کے ساتھ ہی ہمارے ممالک دوبارہ دنیا کا مرکز اور زمین پر اللہ کی جنت بن جائیں گے۔

 

===

 

ہمارا آج کا حال تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے اور اسے بدلنے کا راستہ بالکل واضح اور روشن ہے

 

اے امتِ اسلام! ہم نے گواہی دی ہے کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اور وہی ہمارا پیدا کرنے والا، وجود بخشنے والا، صورتیں بنانے والا اور ہمیں رزق دینے والا ہے، اس نے ہمیں زندگی بخشی اور وہی ہمیں موت دے گا اور وہی ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ ہم اس سے ملاقات کریں اور اس کی اس جنت کو پا لیں جس کا اس نے اپنے مومن، صالح اور مخلص بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے۔ پس ہماری اس گواہی کا تقاضا ہے کہ ہم اسے نافذ کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں تاکہ ہم اللہ کے ساتھ سچے ہو جائیں اور اللہ ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھائے۔

 

ہمارا آج کا حال انتہائی تکلیف دہ اور غم ناک ہے اور اسے تبدیل کرنے کا راستہ بالکل صاف اور نمایاں ہے، پس ہمیں ایک ایسے سیاسی وجود کے سائے میں اپنے عز و شرف اور عظمت کے سرچشمے کی طرف لوٹنا ہوگا جو ہمیں متحد کرے، ہمارے رب کی شریعت کے مطابق ہم پر حکومت کرے، اس کے احکام کو پھیلائے اور اس کے دین کا پرچم بلند کرے تاکہ ہم اپنے خالق کے ساتھ سچے ہو جائیں۔ ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم ایک ایسی ریاست کے سائے تلے متحد ہو جائیں جس پر ایک ایسا امام حکومت کرے جو اللہ کا خوف رکھتا ہو، اس کی تصدیق کرے، اور اس کے دین کو پھیلانے اور اس کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے کام کرے تاکہ اللہ کا کلمہ ہی بلند رہے اور کافروں کا کلمہ سرنگوں ہو جائے، اور حکومت و حاکمیت صرف اللہ ہی کی ہو۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے بیٹوں کو سرحدیں توڑنے، زنجیریں کاٹنے اور استعمار کے چنگل سے آزاد ہونے کے لیے ابھاریں۔

 

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اس عظمت کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں، اور ہم پاک پروردگار سے یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ ہمیں 'دوسری خلافتِ راشدہ کی ریاست' کی دوبارہ بحالی کے لیے کام کرنے والوں میں بنائے، جو امت کو اس کا کھویا ہوا جاہ و جلال اور مقام واپس دلائے گی، جس سے وہ اپنی اس بہترین امت والی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرے گی جس نے اسے دوسری تمام امتوں پر ممتاز اور بلند کیا تھا۔ اے اللہ! اس امت کے افراد کے دلوں کو جوڑ دے، اور ان سے تفرقہ پیدا کرنے والے ہر سبب کو دور فرما، اور انہیں اپنے اس دین کی طرف بہترین طریقے سے لوٹا دے جسے تو نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے۔

 

===

 

دنیا اور آخرت کا ثواب اس کا انتظار کر رہے ہیں جو پکار پر لبیک کہے

 

امتِ مسلمہ ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال ریاست کی تعمیر کے لیے تمام مادی وسائل, آبادیاتی فوائد اور جغرافیائی خصوصیات سے لیس ہے؛ ایک ایسی ریاست جو اپنے وسیع تر امکانات کو ایک ایسا نظامِ حکومت قائم کرنے کے لیے استعمال کرے گی جو اللہ سبحانہ و تعالی اور اس کے رسول ﷺ کو راضی کر دے۔ اور وحی الٰہی سے ماخوذ ایک عادلانہ نظام کے تحت ظلم کو کہیں پناہ نہیں ملے گی، اور نہ ہی مسلمانوں کی حرمتوں یعنی ان کے خون، مال اور آبرو پر کسی بھی قسم کے حملے کی اجازت دی جائے گی۔ اور یہ ریاست اسلام کو دنیا کے سامنے اس واضح فرق کے ساتھ پیش کرے گی جو اسلامی نظامِ حکومت کے عدل و انصاف اور پاکیزگی، اور موجودہ رائج الوقت سیکولر سرمایہ دارانہ نظام کے لالچ، نا برابری اور اخلاقی پستی کے درمیان پایا جاتا ہے۔

 

اور ترقی کا راستہ محض سیاسی اصلاحات یا معاشی ترقی میں نہیں ہے، بلکہ اسلامی طرزِ زندگی کے احیاء اور اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق حکومت قائم کرنے میں ہے، جو 'نبوت کے نقشِ قدم پر  دوسری خلافتِ راشدہ' کے سائے میں ممکن ہے، جو امت کو متحد کرے، اس کی غیرت و وقار کا تحفظ کرے، اور اسے دوبارہ اسی مقام پر لوٹا دے جو اللہ سبحانہ و تعالی نے اس کے لیے پسند فرمایا ہے، یعنی 'بہترین امت جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے'۔ اس لیے امت پر واجب ہے کہ وہ اپنی حقیقی ترقی کے حصول کے لیے قربانیاں دے اور اخلاص کا مظاہرہ کرے، اور مسلسل اللہ سبحانہ و تعالی کی رضا حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف رہے۔ بے شک دنیا میں فتح و نصرت اور آخرت میں اجرِ عظیم ان لوگوں کے منتظر ہیں جو اس پکار پر لبیک کہتے ہیں۔

 

===

 

آل سعود کی مملکت کی قیادت میں ایک مشکوک اتحاد

 

سعودی عرب نے 13 دیگر ممالک کی شرکت کے ساتھ اپنی قیادت میں ایک کثیر القومی دفاعی بحری اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ ایک ایسا قدم ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن میں بڑھتے ہوئے خطرات سے بین الاقوامی جہاز رانی، تجارتی راستوں اور توانائی کی فراہمی کا تحفظ کرنا ہے، اور یہ اقدام ایران کی حلیف حوثی جماعت کے ان حملوں کے بعد سامنے آیا ہے جنہوں نے دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک کو درہم برہم کر دیا ہے۔

 

الرايہ: اس کارروائی پر گہری نظر رکھنے والا شخص بخوبی جانتا ہے کہ اس کا اصل مقصد مغربی کافر استعمار کی معیشت کا تحفظ اور ان تک تیل کی بلا تعطل رسائی کو یقینی بنانا ہے، اور وہ بھی خود تیل کے اصل مالکان یعنی مسلمانوں کے خرچے پر، اور ان کے کٹھ پتلی و غدار حکمرانوں کے ہاتھوں جو کافروں کی معیشت کے پہیے کو چلانے کے لیے خام مال کی رسائی کو یقینی بنا رہے ہیں جو ہر جگہ امت کو کچل رہے ہیں!

 

بے شک بین الاقوامی اتحاد امن اور دوسرے ممالک کے لیے خطرہ ہیں، اور عالمی منظر نامے پر ایک بہت بڑی برائی اور فساد کو جنم دیتے ہیں۔ امریکہ نے بنیادی طور پر اپنے مفادات کے حصول کے لیے 1991ء میں عراق کے خلاف، 2001ء میں افغانستان کے خلاف، اور 2003ء میں دوبارہ عراق کے خلاف بین الاقوامی فوجی اتحادوں کی قیادت کی تھی۔ لہٰذا ان اقوام اور ممالک میں بین الاقوامی اتحادوں کے اس غلط تصور کو تبدیل کرنا ناگزیر ہے جو اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔

 

 

 

===

Last modified onہفتہ, 15 اگست 2026 22:59

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک