بسم الله الرحمن الرحيم
[حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے زیرِ اہتمام ہفتہ 21 رجب 1447ھ مطابق 10 جنوری 2026ء کو پارٹی کے چینل (الواقیہ) پر "خلافت امت کا فیصلہ کن مسئلہ ہے" کے عنوان سے منعقدہ سالانہ خلافت کانفرنس کی تقاریر سے اقتباس]
اقلیتیں: غربت اور امتیاز کے شکنجے میں
مادیت کی گمراہی سے خلافت کے نظام اور عدلِ الٰہی تک
استاد ڈاکٹر محمد ملکاوِی
(ترجمہ)
ہم آج "مادی برتری" کے دور میں جی رہے ہیں، جہاں مغربی تہذیب اپنی تکنیکی معراج کو تو پہنچ چکی ہے، لیکن اس کے برعکس وہ "اخلاقی دیوالیہ پن" کا شکار ہے۔ آج دنیا جن مصائب کا سامنا کر رہی ہے وہ وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان عقلوں اور نظاموں کی خرابی کا نتیجہ ہے جنہوں نے ان وسائل کا انتظام سنبھالا۔ مغربی انسان نے اپنی عقل کو "مادیت کی مٹی" میں دفن کر دیا ہے، چنانچہ وہ اب دنیا کو صرف اسٹاک ایکسچینج کے نمبروں اور ترقی کے اشاریوں کی نظر سے دیکھتا ہے، اور اس "انسان" کو نظر انداز کر دیتا ہے جو اس کائنات کا اصل محور ہے۔
اقلیتوں سے متعلقہ بحرانوں کا تجزیہ شروع کرنے سے پہلے، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کون لوگ ہیں جنہیں مغرب "اقلیت" کہتا ہے۔ مغربی سیاسی تصور میں اقلیت سے مراد وہ گروہ ہے جو اپنی نسل، مذہب یا زبان کی بنیاد پر غالب طبقے سے مختلف ہو۔ لیکن آج امریکہ میں ایک حیران کن تضاد یہ ہے کہ "اقلیتیں" مجموعی طور پر (سیاہ فام، لاطینی، ایشیائی اور دیگر) کئی ریاستوں اور بڑے شہروں میں اعداد و شمار کے لحاظ سے آدھی سے زیادہ آبادی بن چکی ہیں، اس کے باوجود مالیاتی اور سیاسی فیصلے کرنے والے مراکز میں اب بھی ان کے ساتھ "حاشیہ پر موجود" طبقات جیسا سلوک کیا جاتا ہے!۔ بلکہ امریکہ پر قابض طبقے کے مقابلے میں ان کی ملکیت میں موجود دولت کے تناسب کا حال بھی یہی ہے۔
جب لوگ امریکہ میں اقلیتوں کی بات کرتے ہیں تو فوراً نئے آنے والے مہاجرین کا خیال ذہن میں آتا ہے، لیکن وہ اس عظیم جرم کو بھول جاتے ہیں جس کی بنیادوں پر "وال اسٹریٹ" کی فلک بوس عمارتیں کھڑی کی گئی ہیں۔ یہ امریکہ کے اصل باشندوں کی داستان ہے، جو کوئی اقلیت نہیں تھے بلکہ ایک مکمل قوم تھے جن کی اپنی زمین، پانی اور تاریخ رکھتے تھے۔
امریکہ کی بنیاد نام نہاد "مقدرِ آشکار" (Manifest Destiny) کے نظریے پر رکھی گئی، یہ ایک ایسا استکباری تصور تھا جس نے مغربی عقل کو "نسلی برتری" کے وہم میں دفن کر دیا۔ اسی تصور نے اس ملک کے لاکھوں اصل باشندوں، جنہیں ’ریڈ انڈینز‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کی نسل کشی اور بچ جانے والوں کی ان کی زمینوں سے جبری بے دخلی کو جائز قرار دیا، جسے تاریخ میں "آنسوؤں کی شاہراہ" (Trail of Tears) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ان سے سب کچھ چھین لیا، یہاں تک کہ زمین کے اوپر ان کے وجود کا حق بھی، اور انہیں ایسی "پناہ گاہوں" میں دھکیل دیا جو حقیقت میں کھلی جغرافیائی جیلیں ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ ناانصافی صرف اس دردناک تاریخ پر ختم نہیں ہوئی جس میں لاکھوں امریکی باشندوں کو ختم کیا گیا تھا۔ چنانچہ آج جب ہم سال 2026 میں ہیں، تو دنیا کے امیر ترین ملک کے قلب میں اب بھی نیواڈا اور کیلیفورنیا جیسی ریاستوں کے کچھ علاقوں میں ایسے مقامی باشندے موجود ہیں جو انتہائی ہولناک اور قدیم حالات میں زندگی گزار رہے ہیں!۔ ان ظالمانہ قوانین کی وجہ سے جو انہیں اپنی اصل زمینوں سے فائدہ اٹھانے سے روکتے ہیں، اور دانستہ مالیاتی نظر اندازی کی وجہ سے۔"پایوٹ" اور "شوشونی" قبائل کے خاندان ایسے گھروں میں رہ رہے ہیں جو پہاڑی غاروں سے مشابہ ہیں، یا پھر وہ خستہ حال ٹریلرز میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں بجلی اور صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ یہ لوگ اتفاقاً غریب نہیں ہوئے، بلکہ یہ اس "ساختی نسل پرستی" کے شکار ہیں جو یہ چاہتی تھی کہ یہ لوگ یاداشتوں سے مٹ جائیں تاکہ کوئی بھی ان کے چھینے ہوئے حقوق کا مطالبہ نہ کر سکے۔
چنانچہ جہاں امریکہ خلا کی تسخیر پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے، وہیں اس زمین کے اصل مالکان "غاروں" میں زندگی گزار رہے ہیں، اور یہی "تہذیبی اندھے پن" اور عقل کو مادیت میں دفن کرنے کی انتہا ہے۔ وہ بڑی بڑی کمپنیوں کے "حقوقِ ملکیت" کا تحفظ کرتے ہیں، اور مقامی اقلیتوں کے "حقِ وجود" کو پامال کرتے ہیں!۔
یہ منظر ہمیں نبی کریم ﷺ کے ان ارشاداتِ گرامی کی یاد دلاتا ہے کہ: «اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»"ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب بنے گا"۔ اسلام میں جنگ کی حالت میں بھی زمین اس کے اصل مالکوں سے چھیننا جائز نہیں ہے، اور اس پر سب سے بڑی دلیل وہ "معاہدہِ عمریہ" ہے جس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فتحِ قدس کے وقت وہاں کے حکمرانوں کے ساتھ دستخط کیے تھے، جو آج بھی دنیا کی تاریخ میں ایک درخشندہ مثال ہے۔ اسی طرح، اسلام میں "احیائے موات" (بنجر زمین کو آباد کرنے) کا نظام اس شخص کو زمین کا حق دیتا ہے جو اسے آباد کرے، نہ کہ اس کو جو اسے زبردستی غصب کرے۔ اسلام کے معاشی نظام میں موجود عدلِ الٰہی کسی ایسے "حقِ فتح" کو تسلیم نہیں کرتا جو نسل کشی کا جواز فراہم کرے، بلکہ یہ "انسان کے ملکیت کے حق اور بنجر زمین کو آباد کرنے کے حق" کو تسلیم کرتا ہے۔
یہ وہی تاریخی ظلم ہے جو امریکہ میں گورے "کاؤ بوائے" گروہوں نے ڈھایا، جس نے اس راستے کی بنیاد رکھی جس پر بعد میں امریکہ نے سیاہ فاموں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف قدم بڑھایا۔ جب اجتماعی شعور اس بات کا عادی ہو گیا کہ زمین کے اصل باشندوں کو "غاروں" میں زندگی گزارتے دیکھے، تو اس کے لیے سیاہ فاموں کو "یونیورسٹی" یا "ریستوران" میں داخلے سے روکنا آسان ہو گیا۔ یہ دراصل "نسلی برتری" کے اس تسلسل کا حصہ ہے جسے صرف "ایمانی عجز و انکساری" اور اسلام کا وہ عادلانہ نظام ہی توڑ سکتا ہے جس نے حبشہ کے سیاہ فام حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ،جو زمانہ جاہلیت میں غلام تھے، اس قابل بنایا کہ وہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر دنیا کو یہ پیغام دیں کہ: لا فضل لعربي على أعجمي ولا لأبيض على أسود إلا بالتقوى "کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کی بنیاد پر"۔
وحی کے نور سے منور اسی عقل کے ذریعے ہی ہم "نسل پرستی کے غاروں" سے نکل کر اسلامی عدل کی اس وسعت میں قدم رکھ سکتے ہیں جو زمین کے مالک اور مہاجر، امیر اور غریب، یا گورے اور کالے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتی۔
ہم اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اقلیتوں کے خلاف ماضی اور حال میں ہونے والی یہ نسل پرستی اور درندگی محض جذبات کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے ظالم نظام کی پیداوار ہے جس میں نسل پرستی ایک بنیادی عنصر ہے نہ کہ کوئی ہنگامی صورتحال۔ ابھی حال ہی تک امریکہ کی "مسیسیپی" اور "الاباما" جیسی قدیم اور نامور یونیورسٹیوں میں سیاہ فاموں کا داخلہ ممنوع تھا اور ان کے دروازے صرف فوج اور نیشنل گارڈ کے زور پر ہی کھل سکے۔ یہاں تک کہ انسان کے بنیادی ترین حقوق، جیسے ریستورانوں میں داخلہ، وہاں بھی واضح طور پر تختیاں لگی ہوتی تھیں کہ "صرف گوروں کے لیے"!۔ آج اگرچہ وہ تختیاں ہٹ چکی ہیں، لیکن "غیر مرئی (پوشیدہ) تختیاں" آج بھی موجود ہیں؛ حالیہ تحقیق کے مطابق، گہری رنگت اور عربی نام رکھنے والوں کو ملازمتوں اور اعلیٰ یونیورسٹیوں میں "بلا جواز انکار" کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حال ہی میں "مثبت امتیازی سلوک" کے ان قوانین کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے جو یونیورسٹیوں میں اقلیتوں کے لیے ایک مخصوص تناسب کو یقینی بناتے تھے، جس نے اقلیتوں کو مواقع کی دوڑ میں دوبارہ نقطہ آغاز پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب مواقع صرف ان کے لیے ہیں جن کے پاس دولت اور طاقت ہے، اور وہ لوگ دوبارہ محرومی کا شکار ہو گئے ہیں جنہیں پہلے ہی مال و دولت سے محروم رکھا گیا تھا۔
اقلیتوں کے خلاف یہ نسل پرستی کوئی اتفاقی چیز نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد ایک مغربی معاشی فلسفے پر ہے جسے "نسبتی قلت" (Relative Scarcity) کہا جاتا ہے۔ ایڈم اسمتھ کا کہنا ہے کہ وسائل محدود ہیں اور وہ کسی ملک کی پوری آبادی کے لیے کافی نہیں ہو سکتے، اور اسی نظریے سے وسائل کے حصول کی جنگ نے جنم لیا تاکہ وہ ختم ہونے سے پہلے حاصل کر لیے جائیں۔ یہی وہ فلسفہ ہے جو آج اقلیتوں اور غریبوں کو محروم رکھنے کا جواز بنتا ہے؛ کیونکہ ان کی نظر میں "حصہ" سب کے لیے کافی نہیں ہے، لہٰذا طاقتور یا امیر پہلے وسائل پر قبضہ کر لیتا ہے اور باقیوں کو محروم کر دیتا ہے۔
آکسفیم (Oxfam) کی رپورٹوں کے مطابق، دنیا کے صرف 1 فیصد امیر ترین افراد کے پاس 7 ارب انسانوں کی کل دولت سے دگنا زیادہ مال و دولت ہے! یہ فرق وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اجارہ داری اور انسانی عقلوں کے پسماندہ ہونے کا نتیجہ ہے۔
امریکہ میں تین امیر ترین افراد اتنی دولت کے مالک ہیں جو امریکہ کی نصف غریب ترین آبادی کی کل دولت کے برابر ہے۔ یہ اس سرمایہ دارانہ نظام کا ناگزیر نتیجہ ہے جس نے "نسبتی قلت" کا تصور مسلط کیا، گویا وہ طاقتور مالداروں سے یہ کہہ رہا ہے کہ غریبوں کے حصہ لینے سے پہلے تم مال کو ہڑپ کر لو۔
اسی مقام پر اسلامی قانون سازی "ملکیت" کے تصور کو بدلنے کے لیے آئی ہے۔ اسلام میں مال "اللہ کا مال" ہے اور انسان اس میں صرف ایک خلیفہ (نائب) ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ﴾
"اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اس نے تمہیں اپنا نائب بنایا ہے"(سورۃ الحدید: آیت 7)۔
خلافت یا نیابت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس سے "فائدہ اٹھانے" کا حق ہے نہ کہ "ذخیرہ اندوزی" کرنے کا۔ چنانچہ جب اسلام "ذخیرہ اندوزی" کو حرام قرار دیتا ہے، تو وہ معیشت کی رگیں سب کے لیے کھول دیتا ہے، جس میں اکثریت اور وہ لوگ بھی، جنہیں جھوٹ اور بہتان کے طور پر اقلیت کہا جاتا ہے، سب برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
مغربی دنیا میں غربت کو کسی فرد کی سستی یا کسی مخصوص نسل کی وسائل کے حصول میں ناکامی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک وسائل "محدود" ہیں۔ اس کے برعکس، اسلام یہ کہتا ہے کہ غربت دراصل معاشی نظام کی اس خرابی کا نتیجہ ہے جسے جڑ سے اکھاڑنا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی ریاست (خلافت) میں غربت کا تین دہائیوں سے بھی کم عرصے میں مکمل خاتمہ کر دیا گیا، جبکہ سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) کے دو سو سال گزرنے کے باوجود آج بھی امریکہ میں سیاہ فاموں میں غربت کی شرح تقریباً 17.1 فیصد اور سفید فاموں میں 8.2 فیصد ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام نہ صرف لازمی طور پر غربت پیدا کرتا ہے، بلکہ یہ اقلیتوں کو لوگوں میں سب سے زیادہ غریب اور مصیبت زدہ بنا دیتا ہے۔
اسلام فقیروں کو ختم کرنے کے بجائے خود "غربت" کو قتل کرتا ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لو كان الفقر رجلاً لقتلته"اگر غربت ایک مرد کی شکل میں ہوتی تو میں اسے قتل کر دیتا"۔
اسلام نے کام کرنے کی بھرپور ترغیب دے کر غربت کا خاتمہ کیا۔ اسلام میں محنت کرنے والے اور پیداوار بڑھانے والے کی اجرت اس شخص سے زیادہ رکھی گئی ہے جو قدرت رکھنے کے باوجود کام سے جی چراتا ہے۔ اسلام نے لوگوں کے درمیان ملازمت کے مواقع میں نسلی امتیاز یا حکمرانوں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے فرق کو حرام قرار دیا ہے، جیسا کہ آج کل عام ہے کہ وزیر کا بیٹا ہی وزیر اور حاکم کا بیٹا ہی دولت مند بن جاتا ہے۔
پھر اسلام نے زکوٰۃ کا نظام وضع کیا، جو مالداروں سے لے کر فقراء کو ایک منظم طریقے سے لوٹایا جانے والا مال ہے۔ اگر کوئی زکوٰۃ دینے سے انکار کرے تو امام (خلیفہ) ان سے اس وقت تک قتال کرے گا جب تک وہ زکوٰۃ ادا نہ کریں، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد کیا تھا۔
اس کے بعد اسلام نے ملکیت کی اقسام کو قانون کی شکل دی۔ اسلام نے "انفرادی ملکیت"، "عوامی ملکیت" اور "ریاستی ملکیت" کے واضح قوانین بنائے۔ ان بنیادی ضروریات اور سہولیات کو جن کی عام لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے "عوامی ملکیت" قرار دیا گیا، جن پر کسی کمپنی یا فرد کو اجارہ داری (Monopoly) قائم کرنے یا اسے انفرادی مفاد کے لیے استعمال کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ غربت کے خلاف حتمی ضمانت ہے؛ کیونکہ اگر کوئی شخص اپنی محنت اور کوشش سے اپنی ضرورتیں پوری نہیں کر پاتا، تو پہلے مالداروں کی زکوٰۃ سے اس کی دیکھ بھال کی جاتی ہے، اور اگر وہ بھی کافی نہ ہو تو عوامی ملکیت کے مال سے اس کی کفالت کی جاتی ہے جس میں اس کا باقاعدہ حق ہے، نہ کہ یہ کسی کا احسان ہے جس کی وجہ سے وہ خود کو ایک حقیر یا نظر انداز کی گئی اقلیت محسوس کرے۔
اسلام اپنے قیام کے 30 سال سے بھی کم عرصے میں غربت کا مکمل خاتمہ کرنے میں کامیاب رہا، یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے دور میں زکوٰۃ وصول کرنے والے اہلکار گشت کرتے تھے مگر انہیں کوئی ایک فقیر بھی نہیں ملتا تھا جو زکوٰۃ لے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حکمرانی کرنے والے قانون کی توجہ "ذخیرہ اندوزی" اور دولت کے انبار لگانے پر نہیں بلکہ "ضروریات کو پورا کرنے" پر تھی۔ اسی لیے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنا مشہور قول فرمایا تھا: انثروا الحب في الجبال حتى لا يقال جاع طير في بلاد الإسلام"پہاڑوں کی چوٹیوں پر غلہ بکھیر دو تاکہ یہ نہ کہا جائے کہ اسلامی ریاست میں کوئی پرندہ بھی بھوکا رہا"۔
اسلام نے رنگ، نسل اور جنس سے بالاتر ہو کر ایک "جامع انصاف" فراہم کیا۔ اسلام نے وراثت میں عورت کا حصہ مقرر کیا جبکہ سرمایہ دارانہ نظام اس طرح کے معاملات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ وہاں اکثر مرد ہی ساری وراثت لے اڑتا ہے، جیسا کہ برطانیہ میں نام نہاد "لارڈز" کی دولت صرف بڑے بیٹے کو ملتی ہے اور باقی سب کو محروم کر دیا جاتا ہے۔
جب اسلام نے وہ نظام وضع کیے جو غربت مٹاتے اور رنگ، نسل یا مذہب سے قطع نظر لوگوں کو برابر کرتے ہیں، تو اس کے ساتھ "حسنِ اخلاق" کو بھی لازم کیا تاکہ ضرورت مند اپنی ضرورت لیتے وقت کسی بھی قسم کی کمی یا ذلت محسوس نہ کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ» "بے شک مجھے اس لیے بھیجا گیا تاکہ میں اخلاق کی بلندیوں کی تکمیل کروں"۔
آج مغرب مادی چمک دمک کے پردے کے پیچھے "اخلاقی موت" کے دہانے پر کھڑا ہے۔ انہوں نے اپنی عقلوں کو "مادیت کی مٹی" میں دفن کر دیا ہے اور "مادے کے رب" کو بھلا بیٹھے ہیں۔ آنے والا مالیاتی انہدام ٹیکنالوجی کا بگاڑ نہیں، بلکہ دراصل "انصاف" کا جنازہ نکلنا ہوگا۔
آج کا حل اس مادی گندگی میں ڈوبے ہوئے ماڈل کی نقالی کرنے میں نہیں، بلکہ اس نظام کی طرف واپسی میں ہے جو اقلیتوں کو "ذمہ اللہ" (اللہ کے عہد) کے ذریعے تحفظ دیتا ہے، "حقِ زکوٰۃ، حقِ ملکیت اور حقِ کفالت" کے ذریعے غربت کا قلع قمع کرتا ہے، اور "مکارمِ اخلاق" کے ذریعے معاشرے کی حفاظت کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نہ صرف مسلم ممالک سے بلکہ پوری دنیا سے اس ظلم کا خاتمہ کریں جس کی اکثریت آج دولت مندوں کی غلام بن چکی ہے۔
یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالتیں اور پیغامات محض اس لیے نازل فرمائے تاکہ لوگ ایک عادلانہ نظام کے سائے میں زندگی گزار سکیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحدید میں ارشاد فرمایا ہے:
﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾
"بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور ترازو (عدل کا معیار) نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں"(سورۃ الحدید: آیت 25)۔
اور اس مقصد پر مزید زور دینے کے لیے ایک ایسے نظام کے وجود کی ضرورت بھی بیان فرمائی جو اس انصاف کو نافذ کرنے کے لیے ضروری قوت کا مالک ہو، جہاں کہیں اس کی ضرورت پڑے، چنانچہ فرمایا:
﴿وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾
"اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں سخت قوت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں"(سورۃالحدید: آیت 25)
چنانچہ ہم تمام انسانوں کو "خلافت علیٰ منہاج النبوۃ" کے اس نظام کی طرف بلاتے ہیں جو اس موجودہ نظام کا جڑ سے خاتمہ کر دے جو لوگوں کے درمیان ان کے رنگ، نسل اور دین کی بنیاد پر امتیاز کرتا ہے؛ اور انہیں ایک ایسے نظام کی طرف لے آئے جو ان سے کہتا ہے کہ اللہ نے ان سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے اور انہیں قومیں اور قبیلے اس لیے بنایا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، نہ کہ اس لیے کہ وہ اپنے رنگ اور نسل کی بنیاد پر ایک دوسرے سے برتری جتلائیں۔
یہ ایک ایسا نظام ہے جو غریبوں، سیاہ فاموں، لاطینی باشندوں یا کسی بھی دوسرے طبقے کو کسی انقلابی تحریک کا محتاج کئے بغیر ہی حقوق ان کے اصل حقداروں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ نظام ان امیر اور طاقتور حکمرانوں کی دھونس اور بدتمیزی سے پاک ہے جیسا کہ آج کل ٹرمپ جیسے لوگ کرتے ہیں، جب وہ کسی صومالی خاتون کو "گندگی" قرار دیتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ لاطینی باشندے گندگی اور جرائم کا ذریعہ ہیں، اور عرب یا اسلامی پس منظر رکھنے والے لوگ امریکہ کے لیے ایک وبال اور مصیبت ہیں۔
یہ وہ نظام ہے جو بلال حبشی (رضی اللہ عنہ) کو "سید" (سردار) بنا دیتا ہے، عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کو "خادم" بنا دیتا ہے، اور اسامہ بن زید (رضی اللہ عنہ) (جو کہ ایک آزاد کردہ غلام کے بیٹے تھے) کو رسول اللہ ﷺ کا "محبوب اور محبوب کا بیٹا" بنا دیتا ہے۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم پر اور پوری دنیا پر جلد از جلد "خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ" کے قیام کا احسان فرمائے، تاکہ پوری دنیا اس عدل سے فیضیاب ہو سکے جسے انہوں نے کبھی جانا ہی نہیں، اور ایسی بھلائی دیکھے جس جیسی خیر اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو، اور اس امن و سکون کا ذائقہ چکھے جس سے وہ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے محروم ہیں۔






