السبت، 28 رجب 1447| 2026/01/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

[حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے زیرِ اہتمام ہفتہ 21 رجب 1447ھ مطابق 10 جنوری 2026ء کو پارٹی کے چینل (الواقیہ) پر "خلافت امت کا فیصلہ کن مسئلہ ہے" کے عنوان سے منعقدہ سالانہ خلافت کانفرنس کی تقاریر سے اقتباس]

 

غزہ: ایک ایسی چنگاری جو کبھی نہیں بجھے گی

 

 

استاد خالد سعید –  مبارک سرزمین (فلسطین) – غزہ

 

(ترجمہ)

 

 

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

 

امّا بعد،

 

اللہ عزوجل کی یہی مشیت تھی، اور تمام معاملات کا اختیار پہلے بھی اللہ ہی کے پاس تھا اور بعد میں بھی وہی مختارِ کل ہے، کہ سرزمینِ مبارک سے، یعنی عزت و رفعت والے شہر غزہ سے 'طوفانِ اقصیٰ' اپنے تمام تر وزن اور اثرات کے ساتھ برپا ہو، تاکہ اس کے نتائج پوری دنیا میں پھیل جائیں۔ تاریخ میں اس کی حیثیت وہی ہے جو بڑے اور عظیم الشان واقعات کی ہوتی ہے، یہ وہ واقعات ہیں جو خون سے لکھے جاتے ہیں، لیکن اللہ کے حکم سے یہ کچھ وقت گزرنے کے بعد ہی اپنا ثمر دیتے ہیں۔

 

یہ 'طوفان' ایک ایسا عجیب منظر تھا جہاں غزہ کی سرزمین پر ایک طرف مجرمانہ بربریت کھڑی تھی تو دوسری طرف شجاعت و بہادری۔ جہاں ٹینکوں، طیاروں اور جدید ترین اسلحے نے اپنے انتقام اور کمینگی کی آگ کا رخ معصوم بچوں کی طرف کر دیا، ان کے اعضاء کاٹ ڈالے اور ان کے جسموں کو جھلسایا، اور ان پر قابو پانے کے لیے بھوک کا سہارا لیا۔ چنانچہ اس بڑی آزمائش کا مقابلہ بڑے صبر کے ساتھ کیا گیا۔ یہودی وجود کے پیچھے زمین کے لگڑ بگڑ اور ظالموں کے ٹولے صف آرا تھے، یعنی فرعون اور اس کے ساتھی اور جالوت اپنے لشکروں سمیت، جبکہ ان کا مقابلہ محاصرے میں جکڑی ہوئی مومنوں اور مجاہدوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کر رہی تھی، جہاں صابر مائیں اور بہادر مجاہد موجود تھے۔

 

جی ہاں، اس طوفان میں وہ سب کچھ ہوا جو ہونا تھا، یہاں تک کہ جب غزہ کی پٹی میں، جو اس واقعے کا مرکز تھی، جنگ کی شدت تھم گئی، تو بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب معاملہ ختم ہو گیا ہے، معرکہ تمام ہو چکا یا اس کا فیصلہ ہو گیا ہے، اور دشمن نے اس عظیم امت سے کوئی بڑی چیز حاصل کر لی ہے یا اس پر فتح پا لی ہے۔ لیکن یہ ان کی سراسر خام خیالی ہے۔

 

چنانچہ جو یہ سمجھتا ہے کہ طوفان کی لہریں بیٹھ گئی ہیں وہ غلطی پر ہے، اور جو یہ خیال کرتا ہے کہ معرکہ ختم ہو چکا ہے وہ وہم میں مبتلا ہے۔

 

ہاں، مجرم ظالموں نے تو یہی چاہا تھا کہ یہ طوفان تھم جائے اور ٹوٹ جائے، لیکن انہوں نے غلط اندازہ لگایا، اور شاید ان کا یہی گمان انہیں ہلاکت کے گڑھے میں گرا دے گا۔ اس مبارک 'طوفانِ اقصیٰ' کی جنگ کے اثرات ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ گہرے ہیں، اس کی وسعت میدانِ جنگ سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہے، اور اس کی تاثیر اس وقت سے کہیں زیادہ طویل ہے جتنا بہت سے لوگ گمان کرتے ہیں۔

 

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ جنگ اس معرکے کے میدان سے کہیں زیادہ وسیع ہے جو غزہ کی سرزمین پر لڑا گیا، تو ہر صاحبِ بصیرت نے پوری دنیا میں اس طوفان کے اثرات کو دیکھ لیا ہے۔ اس طوفان نے سب سے پہلے اس  یہودی وجود کی ہیبت کو خاک میں ملا دیا، اس کی کمزوری کے عیب کو اس طرح بے نقاب کیا کہ اب وہ چھپائے نہیں چھپتا، اور اس کی طاقت کے رعب اور تکبر میں ایسی دراڑ ڈال دی جس کی تلافی ممکن نہیں۔ اس کی درندگی کا جنون محض اپنے رعب کو بحال کرنے کی ایک ناکام کوشش تھی، جس کا موقع اسے ان حکمرانوں نے فراہم کیا،اللہ انہیں غارت کرے۔

 

پھر اس طوفان کے واقعات نے اس وجود کے اس عکس کو تباہ کر دیا جو اس نے اپنی بنیاد کے وقت سے جھوٹ اور مظلومیت کے ڈھونگ پر قائم کیا تھا، یہاں تک کہ دنیا کے عوام اب اسے ایک راندہِ درگاہ شیطان کے طور پر دیکھتے ہیں، اور وہ ان اقوام کی نظر میں اچھوت بن چکا ہے۔ وہ اپنے سرپرستوں کے ملکوں اور پناہ دینے والے ٹھکانوں میں بھی ناپسندیدہ قرار پایا، اور اس کی حمایت کرنے والی حکومتیں اپنے ہی عوام کے سامنے الزام، انکار اور احتساب کی زد میں آ گئیں؛ اس معاملے میں یورپ اور امریکہ میں کوئی فرق نہیں رہا، اور نہ ہی دائیں اور بائیں بازو کی سیاست میں کوئی امتیاز باقی رہا۔ اب یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ صحافی، سیاست دان اور معاشرے کے وسیع طبقات بھی اس لہر میں شامل ہو چکے ہیں۔

 

جی ہاں، یہ وجود عالمی سطح پر گر چکا ہے، گویا وہ اپنے جرائم کے ذریعے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی جڑیں کاٹ رہا ہے اور خود ہی اپنے زوال کی بنیادیں رکھ رہا ہے۔ حالانکہ اپنی بقا کے لیے اس کا سارا انحصار بیرونی قوتوں پر ہے، تاکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول سچ ثابت ہو: ﴿يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ﴾"وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں سے اجاڑ رہے ہیں، پس اے بصیرت والو! عبرت حاصل کرو" (سورۃ الحشر: آیت 2)۔ اس نے اپنے ساتھ ساتھ مغربی جھوٹی اقدار اور ان اداروں کو بھی گرا دیا ہے جن پر وہ قائم تھے؛ اور میری زندگی کی قسم! اللہ کے حکم سے یہ سب زوال کے ہی آثار ہیں۔

 

اورجہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس طوفان کے اثرات ان کے گمان سے کہیں زیادہ طویل ہوں گے، تو ان جرائم کی تصاویر جنہیں پوری دنیا نے دیکھا اور اسکرینوں کے ذریعے ان کی گواہ بن گئے، وہ تصاریر اتنی آسانی سے یادوں سے مٹ نہیں سکیں گی۔ مجرموں کے چہرے ذہنوں پر نقش ہو چکے ہیں، اور ساتھ چھوڑ دینے والے سازشیوں پر مہر لگ چکی ہے، اور اب تاریخ کا پیچھے مڑنا ممکن نہیں رہا۔ خاص طور پر جب کہ یہ وجود اب بھی اپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہے، اور اس کی ہٹ دھرمی، غرور اور فساد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، تاکہ اس کی ہلاکت اس کے اپنے ہی نادان لوگوں کے ہاتھوں ہو؛﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ﴾ "یہ اس لیے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے" (سورۃ الحشر: آیت 14

 

اور جہاں تک اس کے گہرے اثرات کا تعلق ہے، تو اس طوفان نے امت کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسلام کا عقیدہ اس کے فرزندوں کے دلوں میں اب بھی زندہ ہے اور اب بھی اپنے ثمرات دے رہا ہے۔ یہ ثمرات قربانی، جہاد اور شہادت کی صورت میں ہیں، اور ایسی بہادری کی شکل میں جس کے سامنے دنیا حیرت اور تعریف کے ساتھ کھڑی رہ جائے، بالکل ویسے ہی جیسے ان کے آباؤ اجداد صحابہ کرامؓ اور پوری تاریخ میں ان کے اسلاف تھے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ امتِ محمدﷺ میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جانوں کا سودا کرتے ہیں؛ ان مجاہدین نے شہادت کے تصور کو پھر سے زندہ کیا اور جہاد کی قدر و منزلت کو دوبارہ بحال کر دیا۔ چنانچہ (دنیا کے سامنے) اس نڈر مومن کی تصویر آئی جو ٹینکوں پر ننگے پاؤں چڑھا ہوا تھا، اور اللہ کی کتاب کے اس حافظ کی جو میدانِ جنگ میں لڑ رہا تھا، اور اس شہید کی جو سجدے کی حالت میں تھا۔

 

جی ہاں، اس طوفان کے اثرات نہایت عظیم تھے، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ اس امت کا جسم اب بھی زندہ ہے، جس میں فخر اور درد کا احساس ایک ساتھ دوڑ رہا ہے۔

 

لیکن اس نے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ یہ زندہ جسم بیمار ہے۔ یہ سچ ہے کہ غزہ اس درد کا مرکز اور زخم اور خون بہنے کی جگہ تھی، لیکن اصل میں تو پوری امت کا جسم ہی زخمی ہے۔

اس نے یہ حقیقت کھول کر رکھ دی کہ امت کا مسئلہ غزہ کی اس آزمائش سے کہیں زیادہ بڑا ہے؛ ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ ان ہیروز کو تنہا چھوڑ دیا جائے اور مجاہدین تک کوئی مدد نہ پہنچنے دی جائے؟! بچوں کو کیسے بھوکا رکھا گیا اور وہ آگ کے شعلوں، سردی کی شدت اور سخت محاصرے میں کیوں تڑپ کر جان دے گئے؟! معزز مائیں اور بہنیں کیوں روئیں؟! اور کیوں پاکدامن خواتین کو سڑکوں پر سونے کے لیے دربدر کیا گیا، جبکہ کمینہ دشمن اپنے جرم اور انتقام پر غرور سے پھولے نہیں سما رہا تھا؟! یہ سب کچھ غزہ میں ہو رہا ہے، وہ غزہ جو کوئی دور دراز کا علاقہ نہیں بلکہ اپنی امت کے عین قلب میں واقع ہے جس نے اسے ہر طرف سے ایسے ہی گھیر رکھا ہے جیسے کلائی کو کنگن نے گھیرا ہوتا ہے!!

 

اس طوفان نے امت پر بغیر کسی شک و شبہ کے یہ واضح کر دیا کہ وہ کیا چیز ہے جو اسے اپنی نصرت کرنے، اپنے زخموں کا مداوا کرنے اور اپنے بیٹوں کی مدد کرنے سے روک رہی ہے؛ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کے ایجنٹ حکمران اور بزدل و سازشی غدار ہیں۔

ان حکمرانوں نے تو یہی چاہا تھا کہ اس طوفان کی لہریں ٹوٹ جائیں، کیونکہ اس نے انہیں خوفزدہ کر دیا تھا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے امت کے سابقہ انقلابات کے خلاف سازشیں کیں اور یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ انہوں نے امت کی سانسیں روک دی ہیں، لیکن امت میں زندگی کی چنگاری کو دوبارہ دیکھ کر ان پر ہیبت طاری ہو گئی۔ انہیں اس بات نے ڈرا دیا کہ کہیں یہ طوفان ان کے تخت و تاج کو نہ ہلا دے، چنانچہ انہوں نے دشمن کے ساتھ مل کر اس کا محاصرہ کیا اور سازشیں کیں، افواج کو قید کر دیا اور سرحدوں کو تالے لگا دیے۔

ان بزدلوں نے اپنی بے وفائی کا عذر کمزوری اور دشمن کے مقابلے کی سکت نہ ہونے کو بنایا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ غزہ کے انجام کو باقی عوام کے لیے عبرت اور سزا کی مثال بنا دیا جائے۔ یہ لوگ اس بات سے غافل ہو گئے کہ انجام تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے:﴿وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ﴾ "اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے"(سورۃ الحج: آیت 41)۔ اسی طرح وہ ان لوگوں کے انجام سے بھی بے خبر رہے جو اللہ کے دشمنوں کو اپنا دوست بناتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر سازشیں کرتے ہیں، گویا انہوں نے اللہ کا یہ فرمان نہیں پڑھا:

 

 

﴿فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰ أَن تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ فَعَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا أَسَرُّوا فِي أَنفُسِهِمْ نَادِمِينَ

 

 

"تو آپ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے کہ وہ ان (یہود و نصاریٰ) میں دوڑ دوڑ کر شامل ہوتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہم پر کوئی مصیبت نہ آ پڑے، سو قریب ہے کہ اللہ فتح بھیج دے یا اپنی طرف سے کوئی اور معاملہ کر دے، پھر یہ لوگ اس پر نادم ہوں گے جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھا تھا"(سورۃ المآئدہ: آیت 52

 

اور آخر میں:

 

طوفانِ اقصیٰ کے جو اثرات ہم نے بیان کیے ہیں، وہ اس قابل ہیں کہ ان پر (آگے کی منزل کی) بنیاد رکھی جائے؛ اور یہی علماء کا اصل کردار اور ان کا فرض ہے، اور امت کی بیداری اور نجات کے لیے کام کرنے والی تحریکوں اور اہلِ اثر کی ذمہ داری بھی یہی ہے۔ طوفان نے جو عظیم توانائی پیدا کی ہے اسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے بلکہ اسے درست سمت میں استعمال کرنا چاہیے، اور یہ ایک ایسا موقع ہے جو علماء اور کارکنوں کے سامنے رکھ دیا گیا ہے جسے ہر صورت غنیمت جاننا چاہیے۔ اس کے لیے امت سے بالکل ویسے ہی صاف اور واضح لہجے میں خطاب کیا جائے جیسے یہ واقعات واضح ہیں، اس میں کسی جھجھک یا شرم کی گنجائش نہیں۔ ان واقعات کو اس بلند مقام پر بروئے کار لایا جائے جو ان پاکیزہ خونوں کے شایانِ شان ہو، تاکہ امت کو متحد کیا جائے، اس کے دین اور اس کی ریاست کو قائم کیا جائے، جہاد کا احیاء ہو، ان غدار حکمرانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے، اور قوت کے حامل لوگوں،بالخصوص افواج،کو متحرک کیا جائے تاکہ مکمل آزادی تک اس معرکے کو جاری رکھا جائے۔

 

بے شک اہل غزہ کے ایمان، ان کے جہاد اور ان کے خون کو اللہ کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ شاید وہ پاکیزہ خون جس نے غزہ کی ریت کو سیراب کیا ہے، وہ ایک طرف برکت بن گیا جب وہ بہت سے غیر مسلموں کے لیے اسلام کا دروازہ بنا جب  انہوں نے وہاں کے لوگوں کا عجیب و غریب صبر اور ایمان دیکھا؛ اور دوسری طرف یہی خون  یہودی وجود اور اس کے ساتھ تمام ظالموں، سازشیوں اور پیٹھ دکھانے والوں کے لیے لعنت بن گیا۔

 

 

﴿فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

 

"پس صبر کرو، یقیناً بہتر انجام تقویٰ والوں ہی کے لیے ہے"(سورۃ ھود: آیت 49

﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰ أَمْرِهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

 

"اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"(سورۃ یوسف: آیت 21

 

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

Last modified onہفتہ, 17 جنوری 2026 21:14

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک