السبت، 28 رجب 1447| 2026/01/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

[حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے زیرِ اہتمام ہفتہ 21 رجب 1447ھ مطابق 10 جنوری 2026ء کو پارٹی کے چینل (الواقیہ) پر "خلافت امت کا فیصلہ کن مسئلہ ہے" کے عنوان سے منعقدہ سالانہ خلافت کانفرنس کی تقاریر سے اقتباس]

 

 

سودان اور خون کی نئی سرحدیں

 

استاد ناصر رضا محمد عثمان

سودان میں حزب التحریر کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین

(ترجمہ)

 

 

عظیم اسلام کے سودان سے، قدیم اسلامی ریاستوں کے سودان سے، دنقلا کی اس قدیم مسجد کے سودان سے جسے ابتدائی مسلمانوں نے تعمیر کیا تھا۔ اس سودان سے جو خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہد سے اسلام سے واقف ہے، جب آپ نے مصر میں اپنے گورنر عبداللہ بن سعد بن السرح کو سودان کی فتوحات کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے شمال میں بلادِ نوبہ پر لشکر کشی کی اور ان کے دارالحکومت دنقلا میں داخل ہوئے، جہاں انہیں ایک قدیم مسجد ملی۔ انہوں نے وہاں کے لوگوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے 'معاہدہ بقط' کہا جاتا ہے، جس کی شرائط میں سے ایک شرط مسجدِ دنقلا کا اہتمام اور اس کی دیکھ بھال کرنا تھی۔

 

پھر سودان کی سرزمین کے ساتھ مسلمانوں کی دلچسپی کا سلسلہ حرمین شریفین کے مغربی دروازے کے طور پر برقرار رہا۔ چنانچہ مسلمانوں کے مقدسات کی حفاظت کی خاطر پے در پے مہمات جاری رہیں، اور مسلمان خلافتِ امویہ اور خلافتِ عباسیہ کے عہد میں بھی سودان میں داخل ہوئے۔ اسی طرح مملوکوں کے دور میں بھی، جب ظاہر بیبرس نے لشکروں کی قیادت کی اور سواکن، مصوع اور بربرہ میں فوجی چھاؤنیاں قائم کیں۔ ان کا مقصد بحیرہ احمر کو پرتگالیوں کے ان حملوں سے بچانا تھا جن کا نشانہ کعبہ کو ڈھانا اور نبی کریم ﷺ کی قبرِ مبارک کی بے حرمتی کرنا تھا۔

 

عثمانیوں نے بھی ایسا ہی کیا، اور حرمین کی سرزمین میں مسلمانوں کے مقدسات کی حفاظت کی خاطر اسلامی ریاست کی نظروں میں سودان کی اہمیت برقرار رہی۔جس قدر مسلمان سودان کی سرزمین کے حریص تھے، اسی قدر کافر استعماری مغربی ممالک بھی سودان پر نظریں جمائے ہوئے تھے تاکہ افریقہ کے دل تک اسلام کے نفوذ کا راستہ روکا جا سکے، کیونکہ سودان کو براعظم افریقہ کے دل تک پہنچنے کے لیے اسلام کا دروازہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مشرقی ساحل بحیرہ احمر یا 'بحرِ قلزم' (جیسا کہ اس کا قدیم نام تھا) پر تقریباً 853 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ان عظیم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جو مشرقی افریقہ اور ایشیا کو یورپ سے جوڑتی ہیں، جہاں سے عالمی تجارت کا 13 سے 30 فیصد حصہ گزرتا ہے، اور یہ ملک وسائل اور دولت سے بھی مالا مال ہے۔

 

یہی وہ بات ہے جس کا اظہار 'ہیومن رائٹس واچ' نے گزشتہ صدی کی نوے کی دہائی کے آغاز میں کیا تھا کہ تیل اور مذہب ہی وہ دو چیزیں ہیں جنہوں نے سودان کو امریکی انتظامیہ کی ترجیحات کی فہرست میں لا کھڑا کیا ہے۔

 

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ دنیا کا اکیلا قائد بن گیا اور وہ پوری دنیا میں من مانی کرنے لگا۔ وہ دنیا کی ریاستوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگا اور اس 'قومی ریاست'  کے تصور کے خلاف باغی ہو گیا جو یورپ نے 1648ء میں ویسٹ فیلیا کے معاہدے میں طے کیا تھا۔ 1884ء میں یورپی ممالک نے برلن میں ایک کانفرنس منعقد کی تاکہ افریقہ کو نوآبادی بنانے کی دوڑ کو منظم کیا جا سکے، کیونکہ بسمارک نے نوآبادیات پر یورپی جنگ کے آثار دیکھ لیے تھے۔ چنانچہ انہوں نے افریقی ممالک کو استعماری طاقتوں کے مفاد میں تقسیم کر دیا اور وہاں اسی طرح یورپی خنجر چلایا گیا جس طرح 1916ء میں 'مارک سائیکس' اور 'فرانسوا پیکو' معاہدے کے ذریعے عرب ممالک کو تقسیم کر کے نئی استعماری سرحدیں قائم کر دی گئی تھیں۔

 

اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنے پروردہ ناجائز یہودیوجود کی حفاظت کی خاطر، جو مسلم ممالک کی تقسیم اور خلافت کی واپسی کو روکنے کے اس کے مجرمانہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے، امریکہ نے بحیرہ احمر کے خطے کی ریاستوں کو بکھیرنے پر کام کیا۔ چنانچہ اس نے صومالیہ کو تین ریاستوں میں، ایتھوپیا کو دو اور سودان کو دو ریاستوں میں تقسیم کر دیا، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اب یمن کو تین ریاستوں میں تقسیم کرنے کے بادل افق پر منڈلا رہے ہیں، اور پھر لیبیا کو دو ریاستوں میں بانٹا جائے گا۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے تاکہ امریکہ بحیرہ احمر کے پورے خطے پر مکمل طور پر قابض ہو جائے، یہاں تک کہ اس کے پاس صیہونی شیطان برنارڈ لیوس کا وہ نظریہ پروان چڑھا جسے "مشرقِ وسطیٰ کا جلاّد" کہا جاتا ہے۔ اس شخص نے سائیکس پیکو کے ذریعے پہلے سے تقسیم شدہ خطے کو مزید ٹکڑے کرنے اور علاقے کی سرحدوں کی نئی حد بندی کی دعوت دی۔ یہ بعینہ وہی بات ہے جس کا اظہار امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے جون 2006ء میں کیا تھا، جب اس نے کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی ہمہ گیر تبدیلی کا عمل شروع کیا جائے جسے ایک مشکل سرجری سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، اور مشرقِ وسطیٰ کا نیا نقشہ بنانا ہی اس سیاسی اور سماجی استحکام کے حصول کی چابی ہو گا جو خطے میں امریکی معاشی مفادات، اور بالخصوص تیل کے حصول کو یقینی بنائے!!

 

اب سوال یہ ہے کہ امریکہ خطے کی سرحدوں کی نئی حد بندی کس طرح کرے گا؟ اس حوالے سے امریکی فوجی جریدے 'آرمڈ فورسز جرنل' نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا: "خون کی سرحدیں!! مشرقِ وسطیٰ اپنی بہترین حالت میں کیسا نظر آئے گا؟!"۔ اسے امریکی فوجی اسٹریٹجک ماہر رالف پیٹرز نے لکھا تھا، جس میں نسلی اور مسلکی بنیادوں پر خطے کا ایک نیا نقشہ پیش کیا گیا تھا۔ رالف پیٹرز کے 'خون کی سرحدوں' کے نقشوں کے ایک سال بعد، 'دی اٹلانٹک' جریدے نے امریکی صیہونی جیفری گولڈ برگ کے مضامین کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی نئی سرحدوں کے نقشے شائع کیے؛ یہ وہی جیفری گولڈ برگ ہے جو امریکی سیاست میں رالف پیٹرز کے ہی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہے۔

 

یہی وجہ ہے کہ سودان میں یہ بے مقصد اور ملعون جنگ چھیڑی گئی، جسے امریکہ نے سودان سے برطانوی اثر و رسوخ کو ختم کرنے، دارفور کے علاقے کو الگ کرنے اور جنوب کو شمال سے علیحدہ کرنے کے بعد باقی ماندہ سودان کو پارہ پارہ کرنے کے لیے بھڑکایا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سودان کی جنگ ایک طویل سلسلے کی کڑی ہے جس کا ہدف صرف سودان نہیں بلکہ پورا خطہ ہے۔ یمن کی جنگ میں ایندھن کا کام کرنے والے ہتھیاروں کی بمباری کے بعد، جب متحدہ عرب امارات نے یمن سے نکلنے کا اعلان کیا تو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایلی کوہن نے ایک ٹویٹ کیا جس میں اس نے انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے کہا: "ہم نہ سرت سے نکلیں گے، نہ فاشر سے، نہ بربرہ سے اور نہ مہرہ سے"۔ اس طرح اس نے خطے میں تقسیم کی جنگوں اور امریکہ کے حق میں 'خون کی سرحدوں' کے قیام میں یہودی وجود کے مکروہ کردار کی تصدیق کر دی۔

 

امت جس شرمناک صورتحال سے گزر رہی ہے، جہاں بھیڑیے اسے چیر پھاڑ رہے ہیں اور اس کی سرزمین، عصمت، غیرت اور دین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کے پیشِ نظر ہم کہتے ہیں کہ:

 

بھیڑیے اپنے شکار کے گوشت سے کب باز آئے ہیں جبکہ انہیں ایسے نہتے مل جائیں جنہیں وہ چیر پھاڑ سکیں

آگاہ رہو کہ جس قوم کے حق کی تائید کے لیے بھاری توپ خانہ (قوت) نہ ہو، اس کا حق یونہی ضائع ہو جاتا ہے

 

رالف پیٹرز نے اس بات کی کوشش کی، اور اسی طرح ہمارے ملکوں پر نظریں جمائے ہوئے بڑی استعماری طاقتیں بھی یہی کرتی ہیں،کہ موجودہ ریاستوں کی تقسیم اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے عمل کو اقلیتوں پر ہونے والے مظالم یا نسلی و مسلکی اختلافات کا جواز بنا کر پیش کیا جائے۔ تو کیا تقسیم اور علیحدگی ہی ان مسائل کا حل ہے؟!

 

اپنے موضوع، یعنی سودان اور 'خون کی سرحدوں' سے دور نہ  جاتے ہوئے، ہم اس جنوبی ریاست کی مثال دیتے ہیں جو سودان سے الگ ہوئی، اور اس سے پہلے خود سودان کی مثال پیش کرتے ہیں جو مصر سے الگ ہوا تھا، جبکہ مصر اور سودان اسلامی ریاست میں ایک ہی صوبہ (ولایت) تھے۔ انگریزوں نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا، پھر امریکی آئے اور انہوں نے جنوبی سودان کو شمالی سودان سے کاٹ دیا، تو کیا اس کے بعد سودان کے شمال یا جنوب میں حکمرانی کو استحکام نصیب ہوا؟ جنوبی سودان میں ایک بار پھر بدبودار قبائلی رنگ کے ساتھ خانہ جنگی بھڑک اٹھی جس نے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، اسی طرح کرپشن نے اس نوائیدہ ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کی وجہ سے اسے نہ تو لاکھوں بیرل تیل سے کوئی فائدہ پہنچا اور نہ ہی مچھلیوں، زراعت یا مویشیوں کی بے پناہ دولت اس کے کام آئی۔ جنوب کی آبادی تقریباً 80 لاکھ ہے اور وہاں مویشیوں کی تعداد بھی تقریباً 80 لاکھ ہی ہے، لیکن اس کے باوجود وہاں کے لوگ شدید ترین غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جنہیں جنگوں، افلاس اور بیماریوں نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ یہی حال شمال کا بھی ہے جہاں سودان کی حکومت جنوب کی علیحدگی اور تیل کے کنویں ہاتھ سے نکل جانے کے باعث اپنی آمدنی کا 70 سے 80 فیصد حصہ کھو چکی ہے، چنانچہ 2011 میں ہونے والی اس علیحدگی کے بعد سے وہ ایک سنگین معاشی بحران کی زد میں ہے، جس کی شدت میں دارفور کی اس باغیانہ جنگ نے مزید اضافہ کر دیا ہے جو 2003 سے مسلسل بھڑک رہی ہے۔

 

اسی طرح 'پیپلز موومنٹ' کے شمال کی طرف منتقل ہونے اور جبالِ نوبہ (جنوبی کردفان) اور نیلِ ازرق کے علاقوں پر قابض ہو جانے سے جنگ اور کشیدگی سودان کے 'نئے جنوب' تک پہنچ گئی، یہاں تک کہ 2023 میں امریکہ کے حکم پر حالیہ جنگ چھڑ گئی۔ انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ جنگ 'فورتھ جنریشن وار'  کے طریقے پر لڑی جا رہی ہے، جیسا کہ میکس مینورنگ نے اپنے مشہور لیکچر میں اس کی وضاحت کی تھی جس میں اس نے چوتھی نسل کی جنگوں کی تعریف یہ کی تھی کہ ملک کے اپنے ہی لوگوں پر مشتمل ایک ملیشیا مسلط کر دی جائے جو اندرونی جنگ چھیڑ دے، ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دے اور شہریوں کو ان کے گھروں اور علاقوں سے مہاجرین کی قطاروں کی صورت میں نکال باہر کرے۔ وہ ایک علاقے میں آگ لگاتے ہیں اور دوسرے میں بجھاتے ہیں، اور یہ سلسلہ تب تک چلتا رہتا ہے جب تک وہ مقصد حاصل نہ ہو جائے جس کا اس نے ذکر کیا، یعنی ریاست کو آہستہ آہستہ اندر سے اس طرح کھوکھلا کر دینا کہ وہ دوبارہ کبھی اپنے پیروں پر کھڑی نہ ہو سکے اور نہ ہی اس منحوس جنگ کے اثرات سے نکل سکے، اور یہ صورتحال سودان میں ان کی جاری لعنتی جنگ کے عین مطابق ہے۔

 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم تقسیم کی اس مشین کو کیسے روک سکتے ہیں، اور دارفور کی علیحدگی اور بقیہ سودان کو مزید ٹکڑے ہونے سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

ہم کہتے ہیں کہ: امریکہ اور اس کی پروردہ یہودی وجود کی یہ مجال ہرگز نہ ہوتی کہ وہ ہمارے ملکوں کے ساتھ کھلواڑ کریں اور انہیں پارہ پارہ کریں، اگر یہاں ایسے ایجنٹ اور غدار حکمران موجود نہ ہوتے جو تقسیم کے ان منصوبوں کو نافذ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بالکل ویسا ہی جیسا کہ عمر البشیر اور اس کی حکومت نے جنوب کو الگ کر کے کیا، جبکہ بشیر خود ایک اخباری انٹرویو میں یہ اعتراف کر چکاتھا کہ: "ہمارے پاس ایسی معلومات ہیں کہ امریکہ سودان کو پانچ ریاستوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے اور وہ جنوب کو الگ کرنے کے لیے سرگرم ہے"۔ لیکن بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ خود بشیر ہی الگ ہونے والی اس چھوٹی سی جنوبی ریاست کو مبارکباد دینے والے پہلے لوگوں میں شامل تھا، اور اس نے لفظ بہ لفظ یہ کہا تھا کہ: "ہم نے انہیں ان کے لوگوں اور تیل سمیت ایک مکمل ریاست دے دی ہے..."۔

 

اور اب برہان بھی اسی نقشِ قدم پر چل رہا ہے تاکہ امریکہ اور دارفور کو الگ کرنے کے اس کے مجرمانہ منصوبے کی خدمت کر سکے۔ اس نے "ریپڈ سپورٹ فورسز" کو اسلحہ، افرادی قوت اور ریاست کے اہم ترین معاملات پر قبضہ دے کر اتنا طاقتور بنا دیا کہ وہ ایک ایسا عفریت بن گیا جو پورے ملک کو ہڑپ کر سکتا تھا، اگر اللہ کا فضل اور امت کے ان مخلص و وفادار مجاہد نوجوانوں کی ہمت شاملِ حال نہ ہوتی جنہوں نے ان کے جرائم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور برہان اور اس کی فوج کے جرنیلوں کو مشکل میں ڈال دیا۔ اب حقیقت بالکل واضح ہو چکی ہے، اور نجات کا راستہ یہ ہے کہ ملک کے اندر موجود ایجنٹوں اور غداروں سے پیچھا چھڑایا جائے، بیرونی مداخلتوں کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور حکمرانی کے ایک ایسے منصوبے کو اپنایا جائے جس کی بنیاد امت کے عقیدے یعنی اسلام پر ہو۔ ایسا نظام جو ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دے اور عدل و انصاف پر مبنی ریاست قائم کرے، اور وہ بلا شبہ 'خلافتِ راشدہ علیٰ منہاج النبوۃ' کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کا راستہ یہ ہے کہ مسلح افواج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے مخلص سپوت پکارِ حق پر لبیک کہیں، اقتدار ایجنٹوں اور غداروں کے ہاتھوں سے چھین لیں اور امت کو اس قابل بنائیں کہ وہ ایک ایسے امام کی بیعت کرے جو ان میں اللہ کے دین اور شریعت کو نافذ کرے، اور وہ حزب التحریر کے ان نوجوانوں کو نصرۃفراہم کریں جو  نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کو قائم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

 

کیونکہ صرف خلافت ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اللہ کی اطاعت میں اسلامی زندگی گزار سکتے ہیں، صرف خلافت ہی سے عزتوں کی حفاظت اور وقار کا حصول ممکن ہے، صرف خلافت ہی امت کو متحد کر سکتی ہے اور اس کی سرزمین کا تحفظ کر سکتی ہے، اور صرف خلافت کے ذریعے ہی ہم امت کی لوٹی ہوئی دولت اور غصب شدہ حقوق واپس لے سکتے ہیں۔ پس اے امت کے جوانو! حزب التحریر کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جاؤ، وہ قائد جو اپنے لوگوں سے نہ جھوٹ بولتا ہے، نہ خیانت کرتا ہے اور نہ ہی دھوکہ دیتا ہے، تاکہ یہ جدوجہد امتِ اسلامیہ کی فتح، غلبے اور دین کے قیام کی صورت میں کامیاب ہو۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

 

"اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے پکارنے پر حاضر ہو جاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اسی کی طرف تم سب جمع کیے جاؤ گے" (سورۃ الانفال:آیت 24)

Last modified onہفتہ, 17 جنوری 2026 21:14

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک