السبت، 28 رجب 1447| 2026/01/17
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

[حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے زیرِ اہتمام ہفتہ 21 رجب 1447ھ مطابق 10 جنوری 2026ء کو پارٹی کے چینل (الواقیہ) پر "خلافت امت کا فیصلہ کن مسئلہ ہے" کے عنوان سے منعقدہ سالانہ خلافت کانفرنس کی تقاریر سے اقتباس]

 

 

شکست اور مغلوبیت کی ثقافت

 

 

استاد ابو نزار الشامی

 

(ترجمہ)

 

 

 

 

جسم پر حملہ کرنے والی بیماریوں میں سب سے خطرناک وہ ہیں جو مدافعت کے نظام کو نشانہ بناتی ہیں۔ کیونکہ اگر مدافعت کا نظام کمزور ہو جائے تو جسم کے راستے جراثیموں کے لشکروں کے لیے کھل جاتے ہیں جو بغیر کسی روک ٹوک اور نگرانی کے اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔ وہ دو نمایاں خوبیاں جو ریاستِ خلافت کے سائے میں زندگی کو ممتاز کرتی تھیں اور آج ہم جن کے کھو جانے کی تلخی محسوس کر رہے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

 

 

پہلی خوبی: وہ فکری تحفظ کی حالت تھی جو ایک مضبوط فکری ڈھال کی مانند تھی جس کے ذریعے ریاستِ خلافت معاشرے کی حفاظت کرتی تھی، تاکہ اسے ہر قسم کی فکری گندگی اور شکوک و شبہات سے بچائے اور اسلامی فکر کو محفوظ، خالص اور پاکیزہ رکھے۔ اسلامی تاریخ اور اس کے عظیم فقہاء نے ایسے مشہور مناظرے دیکھے ہیں جنہوں نے فتنہ پروروں کا خاتمہ کیا، انہیں دفن کر دیا اور فتنہ بھڑکانے والوں کی زبانیں بند کر دیں۔

 

 

دوسری خوبی: لوگوں میں فخر، وابستگی اور بااختیار ہونے کا عمومی احساس تھا؛ وہ احساس جو خلافت کی گلیوں میں چلنے والے ایک مسلمان کو یہ اطمینان دلاتا تھا کہ وہ ایک مضبوط سہارے سے جڑا ہوا ہے۔ اس کا دل اس وقت عزت و وقار سے بھر جاتا جب وہ امیر یوسف بن تاشفین کی الفونسو کی فوج پر اس فتح کی خبر سنتا جس نے طلیطلہ کو آزاد کرایا تھا۔ وہ فتح کے گیت اور جشن دیکھتا جو فاتح لیڈر الپ ارسلان کی ملاذکرد کی جنگ سے واپسی پر منائے جاتے تھے، جس نے اناطولیہ کے راستے کھول دیے تھے۔

 

 

بچے ہوں یا خواتین، وہ اپنے امراء کے سامنے پوری ثابت قدمی سے کھڑے ہوتے، ان کا محاسبہ کرتے یا ان سے سوال کرتے، بغیر اس کے کہ حکمرانوں کی شان و شوکت اور دبدبہ ان کی کمر توڑ دے یا ان کی زبانیں گنگ کر دے۔ وہ حکمران کو محاسبے کے قابل سمجھتے تھے نہ کہ محاسبے سے بالاتر؛ وہ اسے شریعت نافذ کرنے والا سمجھتے تھے نہ کہ شریعت کا مالک، بلکہ شریعت ہی ان پر اور تمام لوگوں پر غالب تھی۔ اسی وجہ سے اکثر خلفاء نظم و ضبط کے پابند رہے اور قائدین، سفراء اور فاتحین کی ایسی نسل پیدا ہوئی جس نے کبھی سر جھکانا یا شخصیات کی خوشامد کرنا نہیں سیکھا، بلکہ ایسی عزت سیکھی جو کجی کو سیدھا کر دیتی اور منحرف شخص کو خوفزدہ کر دیتی تھی۔

 

 

یہ دو عظیم خوبیاں: ایک فکری تحفظ جو اسلامی مفاہیم کو ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک رکھتا ہے، اور اس دین پر فخر کا احساس جو ہر روز فتوحات کی تاریخ رقم کرتا ہے، ہماری اسلامی تاریخ کے ساتھ ساتھ رہیں اور انہوں نے مسلمان کی شخصیت کو اس قدر مضبوط بنایا کہ وہ طاقتور، پروقار بن گئی اور کمزور ہونے یا گمراہ کیے جانے سے محفوظ ہو گئی۔

 

 

کافر استعمار نے ریاستِ خلافت کو منہدم کرنے کے بعد ان دو خوبیوں کو نظر انداز نہیں کیا اور نہ ہی وہ اس بات سے غافل رہا کہ یہ خوبیاں مسلمان مردِ آہن کو گرنے کے بعد دوبارہ جلد بیدار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے اپنی تمام تر فکری طاقت اس پر مرکوز کر دی اور اپنے میڈیا اور ثقافتی بیڑوں کو میدان میں اتار دیا، جنہیں علماءِ سوء، بدعنوان سیاستدانوں اور فتنہ پروروں کی حمایت حاصل تھی۔

 

 

اس سب کا مقصد ایک ایسے مسلمان کا نمونہ تیار کرنا تھا جو اپنے آپ پر اور اپنی امت پر اعتماد کھو چکا ہو، جس کی اپنے دین کے بارے میں سمجھ بوجھ متزلزل ہو، اور نتیجے کے طور پر ایسا مسلمان آسانی سے گمراہ ہو جائے، دھوکہ کھا جائے، دوسروں کے زیرِ اثر آ جائے، مغربی تہذیب میں تیزی سے ضم ہو جائے اور اپنی امت کی حرمتوں کی پامالی پر غیرت کھو بیٹھے۔

 

 

جہاں تک شکست کی ثقافت کو جڑ پکڑوانے کا تعلق ہے، تو اس کا بیڑا بنیادی طور پر ان علماء نے اٹھایا جو خود اندر سے ہارے ہوئے ہیں، یا وہ مفاد پرست ہیں جو لوگوں میں شکست کی ثقافت کو فروغ دینے کے بدلے حکمرانوں کے دسترخوانوں کے ٹکڑے توڑتے ہیں۔

 

 

ایک مسلمان نوجوان وضو کرتا ہے اور پھر جمعہ کی نماز کے لیے جاتا ہے، اس کا دل برما میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم یا چین میں اویغور مسلمانوں کے قتلِ عام پر غم سے بھرا ہوتا ہے۔ وہ اس امید پر مسجد میں داخل ہوتا ہے کہ شاید کوئی ایسی بات سنے جو اس کے حوصلے بلند کرے یا اس کی مایوسی کو دور کرے، لیکن وہ دیکھتا ہے کہ خطیب منبر پر ہاتھ میں ایک بھاری کوڑا لیے ہوئے ہے اور پھر وہ نمازیوں کو بے رحمی سے لتاڑنا شروع کر دیتا ہے کہ: "ہم ایک ایسی امت ہیں جس میں کوئی خیر نہیں، تم ایسی نسل ہو جو نصرت کے مستحق نہیں، تمام قومیں تم سے آگے نکل چکی ہیں...!!"۔ یوں وہ مسلمان مسجد سے اس حال میں نکلتا ہے کہ خطیب کے کوڑوں نے اس کی کھال ادھیڑ دی ہوتی ہے، جس سے اس کی مایوسی مزید تاریک اور اس کی ناامیدی مزید شدید ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس کے پاس امید کی کوئی رمق باقی بچی بھی ہو، تو میڈیا اسے بجھانے اور ختم کرنے کا کام سنبھال لیتا ہے۔

 

 

میڈیا اور علماء کے بعد باقاعدہ تعلیمی نصاب، فاسد سوشل میڈیا سائٹس اور مغرب کے زہر سے متاثرہ دانشوروں کے قافلے آتے ہیں۔ یہ سب مل کر اندرونی طور پر شکست کی ثقافت کو راسخ کرنے اور ایسے شکوک و شبہات پھیلانے کے لیے کام کرتے ہیں جو مسلمان کو اس کے دین کے بارے میں فتنے میں ڈال دیں۔

 

 

بالآخر، ہر کوئی ایک ایسے شکست خوردہ مسلمان کا نمونہ تیار کرنے پر خوشیاں مناتا ہے جو اسلامی غیرت و حمیت سے محروم ہو، اپنے دین کی سیاست اور اس میں اپنے کردار سے ناواقف ہو، اور حکمرانوں کو 'معصوم' سمجھتا ہو؛ یہاں تک کہ ان کے کیے گئے ہر حرام کام کو جائز سمجھنے لگے، چاہے اسے اس جواز کی حقیقت کا علم ہی  نہ ہو۔

 

 

صرف یہی نہیں، بلکہ شکست کی اس ثقافت نے ایک ایسی نسل پروان چڑھائی ہے جو 'نبیِ عزت و سرفرازی' ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں موجود وقار اور سربلندی کے لاتعداد پہلوؤں کو دیکھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے۔ وہ جب سیرت پڑھتے ہیں تو ان کی نظر صرف رخصتوں اور استثنائی صورتوں پر ہی ٹھہرتی ہے۔ ہم ان کی زبان سے صرف یہی جملے سنتے ہیں کہ "ہم نہیں کر سکتے"، "ہم مجبور ہیں"، "مغرب ہم سے زیادہ طاقتور ہے"؛ وہ شموخ اور عزیمت کے صفحات میں (معاہدہِ حدیبیہ کے وقت) "اے علی، اسے مٹا دو" یا "ان سے بچاؤ کے لیے بچنا (تقیہ)" جیسی باتوں کے سوا کچھ نہیں دیکھتے، اور وہ بھی نصوص کے معانی، ان کی شرائط، ان کی بنیادوں، ضوابط اور سیاق و سباق پر غور کیے بغیر۔ اس طرح 'ولاء' (وفاداری) کے تمام اصول اور 'اقتداء' (پیروی) کے تمام اصول مٹ جاتے ہیں، اور ان بنیادی اصولوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے جن کی مضبوطی کے لیے صحابہ کرامؓ نے اپنا خون بہایا تھا۔ نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ بردبار داعی بھی حیران و پریشان رہ جاتا ہے کہ اسے یہ ثابت کرنے کے لیے بھی خطابات اور لیکچرز کا سہارا لینا پڑ رہا ہے کہ حرام، حرام ہے اور واجب، واجب ہے!!۔

 

 

خدا کے لیے بتائیے، ظالم و جابر حکمران (طواغیت) اس جیسی نسل سے بڑھ کر اور کیا تمنا کر سکتے ہیں؟۔

 

ایسے نوجوان جو قاتلوں کے ساتھ تعلقات کی استواری  کو "سیاسی حکمتِ عملی"، مغرب کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کو "مرحلہ وار تدبیر" اور شریعت کی معطلی کو "میکیاولیائی رخصت" سمجھیں۔

 

 

جی ہاں میرے بھائیو!

 

 

یہ شکست خوردہ لوگ ہی ظالموں کے بہترین مددگار اور ان کی لاٹھی ہیں؛ یہ وہ نشہ آور دوا ہیں جو غیرت مندوں کے عزم کو مفلوج کر دیتی ہے اور ان کی بیداری کو کچل دیتی ہے۔

 

 

اے شکست خوردہ لوگو! ہوش میں آؤ اور اپنی آنکھیں کھولو، ہوش میں آؤ کیونکہ تاریخ نشے میں دھت لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتی۔

 

 

اپنے میڈیا سے پوچھو: زمین کے چھ براعظموں میں اللہ کے فضل سے "دعوتِ خلافت" کے زبردست پھیلاؤ کی کوریج کہاں ہے؟! اسٹریٹجک اسٹڈیز کے عالمی مراکز جیسے 'پیو گلوبل' (Pew Global) اور 'پرنسٹن سینٹر' کے ان عالمی سروے کے نتائج کی رپورٹنگ کہاں ہے جن کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مسلم عوام شریعت کے سائے میں جینے کے لیے تڑپ رہے ہیں؟۔ ہمیں یہ سب تو سنائی نہیں دیتا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہی میڈیا ان داعیوں کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی خبریں بڑے ذوق و شوق سے نشر کرتا ہے؛ کیوں؟ کیونکہ گرفتاریوں کی خبریں حوصلے توڑتی ہیں اور نفسیاتی شکست کو مزید گہرا کرتی ہیں۔

 

 

یہ میڈیا ان ہزاروں عیسائیوں، یہودیوں اور دہریوں کے بارے میں خاموش کیوں ہے جو گمراہی کی زندگی چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور کھڑے ہو کر گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ یہاں تک کہ برطانوی اخبار 'دی گارڈین' نے بار بار یہ انتباہ جاری کیا ہے کہ یہ اسلام دنیا کا تیزی سے پھیلتا ہوا مذہب (The Fastest Growing Religion) ہے؛ بلکہ ان کے حساب کتاب کے مطابق محض چار دہائیوں کے اندر ہمارا دین عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کر لے گا اور دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب مسلمانوں کی نہ کوئی خلافت ہے، نہ کوئی مرکز اور نہ کوئی قیادت، بلکہ اس وقت تو ہمیں اسلام کی تصویر بگاڑنے اور اس کے ماننے والوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے ایک منظم عالمی جنگ کا سامنا ہے۔

 

 

ہم اللہ کے واسطے اس اندھے میڈیا اور ان کوڑے برسانے والے 'جلاد' مشائخ سے پوچھتے ہیں: کیا آج ہماری امت میں موجود حفاظ، فقہاء، مجاہدین، داعیوں اور ہیروز کے لشکر تمہاری گفتگو کے زیادہ حقدار نہیں ہیں، بجائے اس کے کہ تم بدکاروں، سمجھوتہ کرنے والوں اور مغرب کے پجاریوں کے قصے سناؤ؟!۔ کیا اپنی امت میں موجود طاقت کے مراکز پر توجہ مرکوز کرنا،جو کہ بہت زیادہ ہیں،تمہارے لیے اس سے بہتر نہیں ہے کہ تم ہر روز ٹی وی اسکرینوں اور منبروں پر ایک بین کرتی ہوئی عورت کا سا کردار ادا کرو؟!۔

 

 

اور ظاہر ہے کہ شکست کے ابواب اس وقت تک مکمل نہیں ہوتے جب تک ایسے شکوک و شبہات نہ پھیلائے جائیں جو مسلمان کی فکر کو متزلزل کر دیں اور اس کے مفاہیم کو خلط ملط کر دیں۔ یہ وہ شکوک و شبہات اور باطل نظریات ہیں جن کا مقصد اسلام کو سیکولر بنانا  ہے اور اسے اس کی عزت، قوت اور اصل جوہر سے خالی کرنا ہے؛ تاکہ اسے محض گھر کی چاردیواری تک محدود رسمی اور پروہتانہ عبادات میں بدل دیا جائے جو منہجِ نبوت، سیرتِ قائد ﷺ اور خلفائے راشدین کی عظیم سیاست سے کوسوں دور ہوں۔

 

 

یہ شکوک و شبہات ان فکری منشیات کی طرح ہیں جو اعصاب کو شل کر دیتی ہیں اور انسان کو عمل سے روک دیتی ہیں:

 

"تبدیلی کی دعوت چھوڑو اور بیٹھ کر مہدی کا انتظار کرو"، "بیٹھ جاؤ اور سیاسی کام چھوڑ دو"، "بیٹھ جاؤ اور اپنے بھائیوں کے ساتھ جماعتی و گروہی تعاون ترک کر دو"، "بیٹھ جاؤ کیونکہ اسلام میں کوئی سیاسی نظام نہیں ہے"، "بیٹھ جاؤ کیونکہ تمہارے یہ ظالم حکمران ہی تمہارے 'ولاة امر' (حکام) ہیں جن کے خلاف تبدیلی کی کوشش جائز نہیں"، "بیٹھ جاؤ کیونکہ غلطی تمہاری ہے حکمرانوں کی نہیں"، "یہ نسل نصرت والی نسل نہیں ہے"، "بیٹھ جاؤ اور اسلام کی کڑیوں کو ایک ایک کر کے ٹوٹتے ہوئے دیکھتے رہو..."۔

 

 

یہ وہ منشیات ہیں جنہوں نے ہمتوں کو پست اور حمیت و غیرت کو کمزور کر دیا ہے، یہاں تک کہ نوجوان حیران و پریشان ہو گئے ہیں؛ وہ اپنے قریب ترین بھائی سے بھی ڈرتے ہیں اور کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

 

خاص طور پر اس لیے بھی کہ اس "ناقص مال" کے بیوپاریوں کے لیے ٹی وی چینلز کے دروازے چوپٹ کھلے ہیں، ان پر لاکھوں ڈالرز خرچ کیے جاتے ہیں، اور انہیں 'مفکرِ اسلام'، 'علم العلامہ' اور 'بحرِ العلوم' جیسے القابات کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ سب مل کر اس بیچارے مسلمان کا پیچھا کرتے ہیں؛ اس کے ٹی وی میں، اس کے موبائل میں، اس کی کتابوں کے صفحات کے درمیان اور اس کی یونیورسٹی اور مسجد کی دیواروں کے اندر!۔

 

 

اے جوانو! اے بھائیو اور بہنو!

 

 

ہمارے دین میں ہونے والی اس تحریف  کو روکنے والا آپ کے سوا کون ہے؟ آپ کے بازوؤں کے سوا کون ہے جو اسلام سے اس تکلیف دہ صورتحال کو دور کرے؟ پیارے نبی ﷺ کا فرمان ہے:«يَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُولُهُ يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ» "اس علم (دین) کو ہر آنے والی نسل کے دیانتدار لوگ سنبھالیں گے، وہ غلو کرنے والوں کی تحریف، باطل پرستوں کی جھوٹی نسبتوں اور جاہلوں کی غلط تاویلات کو اس سے دور کریں گے"۔

 

 

کیا آپ یہ پسند نہیں کریں گے کہ آپ اس نسل کے وہ دیانتدار لوگ بنیں؟ اپنے دین کو اس کے حقیقی علماء سے سیکھیں۔ اور اس کے حقیقی علماء کی اکثریت آپ کو نہ تو سیٹلائٹ چینلز پر ملے گی اور نہ ہی حکمرانوں کے دسترخوانوں پر۔ ہر اس پکار سے ہوشیار رہیں جو آپ کو بیٹھ جانے ، مایوس ہونے یا ان مسلمہ اصولوں  کو متزلزل کرنے کی دعوت دے جنہیں آپ کے بزرگ فقہاء نے اپنی روشنائی سے لکھا اور آپ کے خلفاء و امراء نے اپنے خون سے ان کا دفاع کیا۔

 

 

آپ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے:«لَا تَفُتُّوا فِي أَعْضَادِ النَّاسِ» "لوگوں کے حوصلے پست نہ کرو"؛ آپ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں: «بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ، وَالدِّينِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ» "اس امت کو بلند مرتبے، رفعت، دین، نصرت اور زمین میں غلبے و تمکین کی خوشخبری سنا دو"۔

 

 

اللہ کے اذن سے وہ ہم ہی ہوں گے، کوئی اور نہیں، اور ہماری ہی نسل ہوگی کوئی اور نہیں، جو اللہ کے فضل اور اس کی قوت سے اس تبدیلی کا مشاہدہ کرے گی۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اپنی امت پر اعتماد کریں جس کی بیداری سے مغرب اور اس کے بڑے بڑے ستون لرز رہے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ امت کتنے ہی ہیروز اور نیک لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔

 

 

آپ کوڑا کرکٹ  نہیں ہیں، ورنہ مغرب اور اس کے ایجنٹ آپ کے خلاف کیوں لڑتے اور آپ کے اتحاد سے کیوں خوفزدہ ہوتے؟ آپ وہی ہیں جنہوں نے امریکہ کو شکست دی اور افغانستان کی مٹی میں بارہا اس کی ناک رگڑی۔ آپ ہی وہ ہیں جنہوں نے چار ایسے نظاموں کو گرا دیا جن کے بارے میں لوگ سمجھتے تھے کہ انہیں کبھی زوال نہیں آئے گا۔ آپ ہی وہ ہیں جو فلسطین میں قربانیاں دے رہے ہیں اور وہاں کے مجاہدین نے غزہ کی مٹی میں یہودیوں کی ناک رگڑ دی ہے۔

 

 

آپ کتنے عظیم ہیں اور آپ کی امت کتنی عظیم ہے! یہ اپنی اس ہمہ گیر، پرکشش اور دلائل سے بھرپور عقیدے کی وجہ سے کتنی عظیم ہے، جس کی کمی کی وجہ سے دنیا کے دیگر نظام بدحالی کا شکار ہیں اور اوندھے منہ گرے ہوئے ہیں۔

 

امت اپنے نوجوان بیٹوں کی وجہ سے کتنی عظیم ہے! مغرب، جس کی کمر بوڑھوں کی کثرت کی وجہ سے جھک چکی ہے، وہ کتنی تمنا کرتا ہے کہ اس کے پاس بھی وہی جوانی، ہمت اور تازگی ہوتی جو آپ کے پاس ہے۔

 

 

ہماری امت اپنے جغرافیائی مقام اور خشکی و تری کے ان خزانوں کی وجہ سے کتنی عظیم ہے جو اللہ نے ہمیں عطا کیے اور جن سے زمین کے بدنصیب اور آوارہ گرد محروم رہے۔

 

 

ہم اپنے رب کی اس شریعت کی وجہ سے کتنے عظیم ہیں جس نے ماضی میں انسانیت کی قیادت کی اور جو آج تنہا ہمیں نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے، بلکہ امریکہ، یورپ اور روس کو بھی سرمایہ داریت (کیپٹلزم) کی اس دلدل سے نکال سکتی ہے جس میں خود وہاں کے رہنے والے بھی بدحال ہیں۔

 

 

اللہ کی قسم! آپ کے پاس صرف ایک حقیقی ربانی قائد کی کمی ہے، جس کے گرد آپ اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت پر بیعت کر کے اکٹھے ہو جائیں، تاکہ وہ اس زمین کو عدل و انصاف اور نور سے بھر دے جس طرح یہ ظلم و جور سے بھر چکی ہے۔

 

 

اے اللہ! (ہمارے اوپر) اس دور کو مزید طویل نہ فرما اور ہمیں اس (تبدیلی) کے گواہوں، اس کے سپاہیوں اور اس کے مددگاروں میں شامل فرما۔ اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔

 

Last modified onہفتہ, 17 جنوری 2026 21:27

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک