الثلاثاء، 26 ربيع الأول 1448| 2026/09/08
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا) 

31/08/2026

 

 

معیشت کی ناکامی انتظامی نہیں بلکہ قانون سازی کا مسئلہ ہے

“وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا۔۔۔ پاکستان کو معیشت کو پیداواری صلاحیت اور برآمدات کے گرد ازسرِنو تشکیل دے کر ‘ترقی، بیرونی کھاتوں پر دباؤ، استحکام اور معاشی سست روی’ کے بار بار آنے والے چکر کو توڑنا ہوگا۔”

 

28 اگست 2026

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، پاکستان

https://pid.gov.pk/site/press_detail/33742

تبصرہ:

وفاقی وزیر کا خطاب پاکستان کے حکمران طبقے کی فکری دیوالیہ پن کی ایک واضح مثال ہے۔ معیشت کی ناکامی کوئی انتظامی خرابی نہیں جسے بہتر مشاورت یا انتظامی اصلاحات کے ذریعے دور کر لیا جائے، بلکہ یہ سرمایہ دارانہ اور استعماری قوانین کو اختیار کرنے کا نتیجہ ہے۔

 

کرنسی کی قدر میں کمی، توانائی اور معدنی وسائل کی نجکاری، سرکاری صنعتی اداروں کی نجکاری، سود (ربا) کی ادائیگی کے لیے قرضوں کی سروسنگ پر بجٹ کے بڑھتے ہوئے حصے مختص کرنا، سکیورٹی، صحت اور تعلیم کے لیے بجٹ مختصات میں کمی کرنا، اور سب پر یکساں طور پر لاگو ہونے والے رجعتی ٹیکسوں میں اضافہ کرنا، یہ سب معیشت کے استحکام اور خودمختاری کو کمزور کرتے ہیں۔ جہاں تک برآمدات پر توجہ دینے کا تعلق ہے، یہ بھی استعماری نظام کا ایک اور ہتھیار ہے، جو بین الاقوامی یا کثیرالقومی معیشت کے ماڈل پر مبنی ہے، جس میں پاکستان کم قدر کی اشیاء برآمد کرتا ہے، جبکہ زیادہ قدر والی گاڑیاں، مشینری اور الیکٹرانکس درآمد کرتا ہے۔

 

اس کے برعکس، شریعت کی قانون سازی سونے اور چاندی پر مبنی ایک مستحکم کرنسی قائم کرتی ہے، توانائی اور معدنی وسائل کو عوامی ملکیت قرار دیتی ہے، جن سے حاصل ہونے والی دولت کو معاشرے کی ضروریات پر خرچ کیا جاتا ہے۔ یہ درآمدات کے متبادل اور زیادہ قدر والی برآمدات کو یقینی بنانے کے لیے مشین سازی کی صنعت پر ریاستی توجہ قائم کرتی ہے، ربا (سود) کی ادائیگی کو ممنوع قرار دیتی ہے، اور سکیورٹی، صحت اور تعلیم کو بیت المال پر عائد شرعی ذمہ داریاں قرار دیتی ہے۔ ریاست ان ضروریات پر شرعاً مقررہ آمدنی کے ذرائع سے خرچ کرتی ہے، جیسے عوامی ملکیت سے حاصل ہونے والی آمدنی، زرعی زمین پر خراج، اور صنعتی پیداوار پر زکوٰۃ، جبکہ غریب اور مقروض افراد پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔

 

پاکستان کے مسلمانوں کو ان سیکولر حکمران اشرافیہ سے منہ موڑ لینا چاہیے جو سرمایہ دارانہ اور استعماری قانون سازی کے نفاذ پر اصرار کرتے ہوئے کئی دہائیوں سے بڑھتی ہوئی معاشی تباہی کو جنم دے رہی ہے۔ پاکستان کو ایسی نئی قیادت درکار ہے جو اللہ ﷻ کے نازل کردہ اور پسندیدہ شرعی احکامات کے مطابق نظامِ حکومت چلائے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے حزب التحریر کے شباب کے ساتھ جدوجہد کریں۔

 

 

عسکری ہتھیاروں کے حوالے سے سنتِ نبویؐ اہم دفاعی کمزوریوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے

ڈھاکہ، 25 اگست (رائٹرز): بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے مشیر برائے اطلاعات و نشریات زاہد الرحمٰن نے منگل کے روز بتایا کہ بنگلہ دیش چین سے J-10CE جنگی طیاروں اور حملہ آور ہیلی کاپٹروں کی ممکنہ خریداری کے لیے باضابطہ مذاکرات کے قریب پہنچ گیا ہے، جبکہ ایک سرکاری پینل اس معاہدے کا مسودہ تیار کر رہا ہے۔

 

https://www.reuters.com/world/asia-pacific/bangladesh-talks-buy-chinese-j-10ce-fighter-jets-2026-08-25/

 

نبوی سنت کفار سے عسکری ٹیکنالوجی کے حصول کی اجازت دیتی ہے، تاہم مسلمانوں کو ان پر منحصر ہونے سے روکتی ہے۔ الواقدی نے اپنی کتاب «كتاب التاريخ والمغازي» میں بیان کیا ہے: «وَيُقَالُ: خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ قَدِمَ مِنْ جُرَشَ بِمَنْجَنِيقٍ وَدَبّابَتَيْنِ» "یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خالد بن سعید جُرَش سے ایک منجنیق اور دو دبابات (محاصرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ڈھال نما گاڑیوں) کے ساتھ آئے"۔ یہ واقعہ طائف کے محاصرے کے دوران پیش آیا، اور یمن کی اسلامی فتح سے قبل کا ہے۔ جُرَش یمن میں واقع تھا اور ہتھیار سازی کے لیے مشہور تھا۔

 

اس کے بعد مسلمانوں نے کفار پر مستقل انحصار کیے بغیر دبابوں، منجنیقوں اور دیگر فوجی آلات کی مقامی سطح پر تیاری کا آغاز کیا۔ اس صنعتی و عسکری صلاحیت نے مسلمانوں کو مزید فتوحات کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی اور بالآخر یمن کی فتح کی راہ بھی ہموار ہوئی۔

 

صدیوں تک مسلمان فوجی ٹیکنالوجی اور عسکری صنعت میں دنیا کی قیادت کرتے رہے۔ وہ کفار پر انحصار کیے بغیر اپنے دفاع اور دشمن کے مقابلے میں جنگ لڑنے کے قابل تھے۔ یہاں تک کہ بعض ادوار میں چین جیسی بڑی طاقت بھی خلافت کو جزیہ ادا کرنے پر مجبور ہوئی۔

 

تاہم آج حکمران ایسے استعماری طاقتوں سے ہتھیار خریدتے ہیں جو اسلام کے خلاف جنگ برپا کرتی ہیں اور مسلم علاقوں پر قابض ہیں، جیسا کہ چین نے مشرقی ترکستان (تركستان الشرقية، سنکیانگ ایغور خودمختار خطہ) میں کیا ہے۔

 

یوں یہ رُوَیْبِضَہ (نااہل) حکمران مسلمانوں کی مسلح افواج کے اندر خطرناک دفاعی انحصار پیدا کر دیتے ہیں، خواہ معاملہ جیٹ انجنوں کی درآمد کا ہو، انتہائی دقیق پرزہ جات کا یا فوجی نوعیت کے سافٹ ویئر کا۔ جہاں تک صنعتی خود انحصاری کا تعلق ہے، امتِ مسلمہ کے پاس نہ تو باصلاحیت اور ذہین بیٹوں اور بیٹیوں کی کمی ہے، اور نہ ہی توانائی کے وسائل اور معدنیات کی فراوانی میں کوئی کمی ہے۔ کمی صرف ایسے امام کی ہے جو اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق حکمرانی کرے۔ خلافتِ راشدہ اللہ کے اذن سے فوری بنیادوں پر مقامی مشینری سازی کی صنعت قائم کرے گی۔ خلافتِ راشدہ اللہ کے حکم سے ہنگامی بنیادوں پر مقامی مشینری، دفاعی صنعت اور جدید صنعتی ڈھانچے کے قیام کو یقینی بنائے گی، تاکہ امتِ مسلمہ فوجی ٹیکنالوجی اور دفاعی ضروریات کے معاملے میں بیرونی طاقتوں کی محتاج نہ رہے۔

 

 

امت مسلمہ کو دین کے مطابق حکمرانی کرنے والے ایک امام کے تحت وحدت کی دعوت

نیویارک، IRNA: اقوامِ متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور نائب مستقل نمائندے، غلام حسین درزی نے “تمام ریاستوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے یک طرفہ جبری اقدامات کے بیرونِ ملک اطلاق کو مسترد اور اس کی مذمت کریں، جن کا مقصد رکن ممالک کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ اپنے خودمختار حقوق اور قانونی پالیسیوں کو کسی دوسری ریاست کے مفادات کے تابع کر دیں۔”

 

(اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی (IRNA)، 26 اگست 2026)

https://en.irna.ir/news/86246336/Iran-urges-all-countries-to-denounce-extraterritorial-application

 

اگرچہ امریکہ نے ایران کے بائیکاٹ پر ریاستوں کو مجبور کرنے کے لیے آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ (Operation Economic Outcast) شروع کیا ہے، لیکن ایران کی حکومت قوم پرستی اور فرقہ واریت پر اصرار جاری رکھ کر ایک سنگین اور تباہ کن غلطی کر رہی ہے۔ ایران کے حکمرانوں کو بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر تمام ریاستوں سے مطالبہ کرنے کے بجائے، تمام مسلم ریاستوں کو ایک امام کی قیادت میں متحد کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔

 

پہلا قدم ایران میں خلافتِ راشدہ کا قیام ہے، جو اللہ ﷻ کے شرعی قانون کو نافذ کرے، پوری اُمت کے تمام معاشی اور عسکری وسائل کو ایک امام کی قیادت میں متحد کرے، اور دعوت و جہاد کے ذریعے اللہ کے کلمے کو سربلند کرے۔ اس سے کم کوئی چیز ایران کو فرعون ٹرمپ کے ہاتھوں تباہی سے نہیں بچا سکتی، اور نہ ہی ٹرمپ کے نئے مشرقِ وسطیٰ (New Middle East) کے منصوبے کے تحت دیگر مسلم ریاستوں کو تباہی سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

 

اللہ ﷻ نے فرمایا: ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ “اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو” [TMQ سورۃ آلِ عمران: 103]۔ ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے: «أَمَرَهُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَنَهَاهُمْ عَنِ التَّفَرُّقَةِ» “اللہ ﷻ نے مسلمانوں کو ایک جماعت بن کر رہنے کا حکم دیا ہے اور انہیں تفرقے سے منع فرمایا ہے”۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ متحد ہو کر ایک ہی وحدت میں جمع ہوں۔ لہٰذا ایران امت مسلمہ کی قیادت کرتے ہوئے قوم پرستی اور فرقہ واریت کے بتوں کو پاش پاش کرنے کی طرف قدم بڑھائے۔

 

 

مستقل آزادی کے لیے اللہ ﷻ کے شرعی قانون کا نفاذ ضروری ہے

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ خطے کے ممالک اپنا مستقبل خود طے کریں گے، اور اس بات پر زور دیا کہ خطے کے مستقبل میں امریکہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

 

(ایرانی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی، 25 اگست 2026)

 

https://en.isna.ir/news/1405060302187/Rezaei-US-will-have-no-place-in-region-s-future

 

اللہ ﷻ کے شرعی قانون کا نفاذ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو مستقل بنیادوں پر مسلم دنیا کے مستقبل میں غیر ملکی ریاستوں کی مداخلت کو روکتا ہے۔ مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی جانب سے اسلامی ریاست قائم کیے جانے کے بعد، نظامِ حکمرانی، عدلیہ، فوج، بیت المال کی آمدنی و اخراجات اور خارجہ تعلقات، سب اللہ ﷻ کے شرعی قانون کے مطابق تھے۔ خلفائے راشدین نے اسلام کے نفاذ کے ذریعے رومیوں اور فارسیوں کے اثر و رسوخ کو روک دیا۔ صدیوں تک مسلمانوں کی سرزمینوں میں شرعی قانون کے علاوہ کسی اور قانون کا تصور نہ تھا، یہاں تک کہ موجودہ ایران کے علاقے اسلامی فقہ کے مراکز بن گئے اور اس کی علمی زبان عربی تھی۔ فقہ کے وسیع ذخیرے نے کسی ایسے قانونی خلا کو پیدا نہیں ہونے دیا جسے کفار کے قوانین سے پُر کیا جا سکے۔ آزادی کے لیے ضروری قوت، یعنی شریعت کے نفاذ سے مسلح ہو کر، خلافت تیزی سے پھیلتی گئی؛ اس نے ظالم حکمرانوں کو ہٹایا اور دینِ اسلام کے نفاذ کے ذریعے مظلوموں کے بوجھ ہلکے کیے۔

 

تو آج کوئی بھی مسلم ریاست، بشمول ایران، کفار سے آزادی کی امید کیسے کر سکتی ہے، جبکہ اس کی معیشت کفار کے سرمایہ دارانہ نظام پر مبنی ہو، اس کا نظامِ حکمرانی کفار کی جمہوری طرزِ حکومت پر قائم ہو اور اس کے خارجہ تعلقات کفار کے بین الاقوامی قانون پر مبنی ہوں؟ جب تک آئین، قوانین اور پالیسیاں قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی مضبوط بنیاد سے ماخوذ نہ ہوں، آزادی کی بات محض گمراہ کن بیان بازی ہے۔ مادی قوت کفار سے آزادی کا دروازہ کھولتی ہے، لیکن دین کا نفاذ اس دروازے کو دہائیوں اور صدیوں تک کھلا رکھتا ہے۔

 

پاکستان اور ایران کو دوسری خلافتِ راشدہ کا مرکز بنائیں

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، این آئی (ایم)، ایچ جے، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک روزہ دورہ مکمل کیا۔ یہ دورہ امریکہ۔ایران تنازع میں ہونے والے پیش رفت میں تعطل کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا۔

 

(آرمڈ فورسز آف پاکستان کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز، راولپنڈی — 25 اگست 2026، نمبر PR-190/2026-ISPR)

 

https://ispr.gov.pk/press-release-detail?id=7765

 

کوئی تعطل نہیں ہے۔ امریکہ نے ایران کے خلاف قتل، تباہی اور بمباری کے اپنے معمول کے ہتھکنڈے اختیار کیے۔ جب یہ طریقے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے تو اس نے پاکستان کے حکمرانوں کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی۔

 

کوئی تعطل نہیں ہے۔ ایران کے خلاف جنگ نے امریکہ کے اندر موجود گہری سیاسی اور فوجی تقسیم کو مزید بگاڑ دیا، جس کے نتیجے میں متعدد برطرفیاں اور استعفے سامنے آئے۔ توانائی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے سے ہونے والے معاشی نقصان کے باعث امریکہ میں جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والا شدید عوامی احتجاج جاری ہے۔ امریکی صنعتی شعبے کو گولہ بارود کے ذخائر میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے کئی سال درکار ہوں گے۔

 

کوئی تعطل نہیں ہے۔ اگرچہ امریکہ کے پاس فیصلہ کن اور بڑے پیمانے پر فوجی حملہ کرنے کی فوجی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے نتیجے میں اسے ایسی تھکن کا سامنا کرنا پڑے گا جو دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی حیثیت کو خطرے میں ڈال دے گی۔ مزید برآں، امریکہ خلیج کو ایرانی جوابی حملوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتا، جو ایسے علاقائی، بلکہ عالمی، انتشار کو جنم دے سکتے ہیں جو امریکہ کے قابو سے باہر ہو۔

 

لہٰذا، پاکستان کے حکمران امریکہ کو اس دلدل سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، نہ کہ پیشرفت میں تعطل کو ختم کرنے کی۔ تاہم، اگر انہوں نے ابتدا ہی سے ایران کا ساتھ دیا ہوتا تو مسلمان امریکہ کو مسلم دنیا سے اپنی فوجی موجودگی مستقل طور پر ختم کرنے پر مجبور کر سکتے تھے۔

 

اے مسلمانو! ایران کے مسلمانوں نے تنہا امریکہ اور اس کے پروردہ، یہودی وجود، کے خلاف حملے کیے، انہیں حقیقی تکلیف پہنچائی اور ان کی کمزوری اور ذلت کو بے نقاب کر دیا؛ کیونکہ بے پناہ فوجی سازوسامان رکھنے کے باوجود ان میں حقیقی مردوں جیسا حوصلہ نہیں ہے۔ تو پھر کیا ہو، اگر ایران اور پاکستان کے مسلمان فرقہ واریت اور قوم پرستی کو ترک کر دیں اور دوسری خلافتِ راشدہ قائم کریں، جو پوری مسلم دنیا کے اتحاد کا مرکز بنے؟

یہ محض اقتدار (سلطان) کا نہیں بلکہ حاکمیت (سیادت) کا مسئلہ ہے

اسلام آباد، 22 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ہفتے کے روز کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) اور اس کے بانی کی بہنیں ان کی صحت کو سیاسی رنگ دے کر اور ان کے طبی علاج میں خلل ڈال کر مسلسل توہینِ عدالت کی مرتکب ہو رہی ہیں۔

 

https://www.app.com.pk/national/atta-tarar-slams-pti-its-founders-sisters-for-contempt-of-court/

 

تبصرہ:

حالیہ ہفتوں میں پاکستان میں عسکری دھڑوں اور سول دھڑوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کر گئی ہے، جو میڈیا، سیاسی میدان، سکیورٹی کے معاملات اور عدلیہ تک پھیل چکی ہے۔ تاہم، موجودہ کشمکش کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو، پاکستان کے مسلمانوں کی حالت معاشی بدحالی، بیرونی ذلت اور اپنے دین سے محرومی کے اعتبار سے مزید خراب ہی ہوگی۔ یہ وہی افسوس ناک داستان ہے جس کا سامنا پاکستان کے مسلمان قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک کرتے آئے ہیں۔

دین کے نقطۂ نظر سے پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف سلطان یعنی اقتدار کا نہیں بلکہ سیادت یعنی حاکمیت کا ہے۔ مسئلہ محض یہ نہیں کہ حکمرانی کون کرتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کس قانون کے مطابق حکمرانی کرتا ہے۔ سیادت قانون کے ماخذ اور خود قانون کا تعین کرتی ہے، جبکہ سلطان حکمران کے انتخاب اور اس کے اختیار سے متعلق ہے۔ سیادت (تشریع) یعنی اس امر کے تعین سے وابستہ ہے کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، جبکہ سلطان حکمرانی کے لیے لوگوں کی رضامندی اور انتخاب سے وابستہ ہے۔

 

موجودہ مسلم ریاستوں، بشمول پاکستان، میں سیادت عوام کے لیے ہے، جو مغربی جمہوریت سے ماخوذ تصور ہے۔ جمہوریت انسانوں کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ طے کریں کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز۔ چنانچہ جمہوری نظام میں قوانین پارلیمنٹ کے ارکان کے فیصلوں، خواہشات اور رجحانات کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلام میں سیادت صرف اللہ ﷻ کے لیے ہے، یعنی حلال اور حرام کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اللہ ﷻ کے پاس ہے۔ اللہ ﷻ نے فرمایا: ﴿وَأَنِ ٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡ وَٱحۡذَرۡهُمۡ أَن يَفۡتِنُوكَ عَنۢ بَعۡضِ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ﴾ “اور ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے، اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو، اور ان سے بچتے رہو کہ کہیں وہ تمہیں اللہ کی نازل کردہ بعض چیزوں سے پھیر نہ دیں”[سورۃ المائدہ: 49]۔ لہٰذا خلافت میں قوانین قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ سے ان کے دلائل کی بنیاد پر اخذ کیے جاتے ہیں، نیز ان دونوں سے ماخوذ اجماعِ صحابہؓ اور قیاس کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ مجلسِ اُمت کے منتخب نمائندے اکثریتی ووٹ کے ذریعے حلال کو حرام قرار نہیں دے سکتے، اور نہ ہی منتخب خلیفہ اپنی اطاعت پر اصرار کرتے ہوئے حرام کو حلال قرار دے سکتا ہے۔

 

اے پاکستان کے مسلمانوں! اس بے نتیجہ کشمکش سے منہ موڑ لو کہ تم پر ناقص انسانی قوانین کے ذریعے کون حکمرانی کرے گا۔ اخلاص کے ساتھ اسلام کو دوبارہ ایک نظامِ حکمرانی کے طور پر قائم کرنے کی جدوجہد کرو، تاکہ تم پر نافذ ہونے والا ہر قانون اس مضبوط بنیاد پر قائم ہو جو اللہ نے ہمارے لیے دین کی صورت میں پسند فرمایا ہے۔

 

 

 

 

Last modified onمنگل, 08 ستمبر 2026 15:12

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک