الثلاثاء، 15 شعبان 1447| 2026/02/03
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سوال و جواب

 

سیاسی جدوجہد اور فکری کشمکش :

کیا یہ ایک طے شدہ ”طریقہ“ ہیں یا متغیر”اسالیب“؟

 

(عربی سے ترجمہ)

أحمد بکر کے لئے

 

سوال:

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

 

اے ہمارے امیر اور شیخ! اللہ آپ کی حفاظت فرمائے، آپ کی مدد کرے ،آپ کو فتح و نصرت عطا فرمائے اور آپ کے درجات بلند فرمائے۔

 

کیا سیاسی جدوجہد کرنا ”طریقہ“ کے شرعی احکام میں سے ہے یا محض اسالیب میں سے ایک اسلوب ہے؟ اللہ ﷻ آپ کو محفوظ رکھے، آپ کی عزت کو ہمیشہ قائم رکھے، آپ کو کامیابی عطا کرے، آپ کے ذریعے دوسروں کو فائدہ پہنچائے، آپ کے لئے خیر و بھلائی کے دروازے کھو ل دے،اور آپ کے مرتبہ و درجات کو بلند فرمائے۔

 

وضاحت کے طور پر عرض ہے کہ میں یہ بات سمجھتا ہوں کہ سیاسی جدوجہد کرنا اسی طرح ”طریقہ“ کا حصہ ہے، جیسے کہ فکری ٹکراؤ ۔ تاہم، اس مسئلے پر یہاں کے شباب کے درمیان ہماری ایک نشست کے دوران گفتگو اور فہم میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ یہ معاملہ حل نہ ہو سکا، اور اس بات پر چھوڑ دیا گیا کہ سوال آپ کی خدمت میں بھیجا جائے تاکہ ہم آپ کے فیصلہ کن اور واضح جواب کا انتظار کریں۔

 

براہِ مہربانی وضاحت فرما دیں۔

 

جواب:

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

 

ہم اس سے پہلے بھی اسی نوعیت کے ایک سوال کا جواب دے چکے ہیں، جو 14 صفر الخیر 1429ھ بمطابق 20 فروری، 2008ء کو دیا گیا تھا، جس میں یہ بیان کیا گیا تھا:

 

] …سیاسی اور فکری کام طریقہ" کا ہی حصہ ہوتے ہیں، کیونکہ تفاعل کا مرحلہ ان کا تقاضا کرتا ہے، اور ان کے بغیر یہ مرحلہ مکمل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ سیاسی اور فکری کام کے بغیر تفاعل ہی نہیں ہوتا۔

 

رہی بات سیاسی جدوجہد (الکفاح السیاسی) اور فکری کشمکش (الصراع الفکری) کی، تو یہ سیاسی اور فکری عمل کے اندر ایک نمایاں اور جرات مندانہ چیلنج  کی صورت رکھتے ہیں۔ یہ چیلنج (تحدي) ایک اسلوب ہے، جو کسی ایک حالت میں مطلوب ہو سکتا ہے اور کسی دوسری حالت میں مطلوب نہیں بھی ہو سکتا۔

 

بات کو وضاحت سے سمجھانے کے لئے : ایک پمفلٹ تقسیم کرنا جدوجہد (كفاحي) کے اسلوب میں بھی ہو سکتا ہے، یعنی کھلے عام واضح چیلنج کے طور پر تقسیم کیا جائے… اور یہ عام طریقے سے بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے…

 

لہٰذا، کشمکش اور جدوجہد کا مطلب ہے کہ کھلا چیلنج، اور اس چیلنج سے جو اثرات یا نتائج نکلتے ہیں وہ بھی جدوجہد اور کشمکش میں شامل ہیں۔ اور یہ ایسے اسالیب ہیں جو حالات کے تقاضوں کے مطابق مختلف ہوتے رہتے ہیں۔ اور میں آپ کو اس کی چند مثالیں بھی ذکر کرتا ہوں:

 

رسول اللہ ﷺ نے کافروں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت مختلف طرح کے مضبوط اسالیب اختیار کیے۔ مثال کے طور پر، جب قریش کا ایک سردار، عُتبہ، رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے قوی دلائل اور گہری حکمت کے ساتھ اسلام پیش کیا، اور نہایت پُرسکون اور مؤثر انداز اختیار فرمایا… یہاں تک کہ وہ شخص قریش کے پاس ایسی کیفیت میں واپس گیا جو اس کے آنے کی حالت سے یکسر مختلف تھی، جیسا کہ قریش کے وہ سردار بیان کرتے ہیں جنہوں نے اسے بھیجا تھا، خاص طور پر اس لئے کہ اس نے ان سرداروں کے سامنے رسول اللہ ﷺ کے کلام کی تعریف کی تھی جو اس نے آپ ﷺ سے سنا تھا۔

 

جبکہ قریش کا ایک اور سردار، وائل، رسول اللہ ﷺ سے اس حال میں ملا کہ اس کے ہاتھ میں بوسیدہ سڑی ہوئی ہڈیاں تھیں۔ اس نے وہ ہڈیاں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیں اور پوچھا: کیا تمہارا رب اس کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے؟‘‘، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «نعم ويبعثه حياً» ’’ہاں، اور وہ تمہیں دوبارہ زندہ اٹھائے گا‘‘، پھر مزید فرمایا: «ويدخلك جهنم» ’’اور وہ تمہیں جہنم میں داخل کر دے گا‘‘۔ یہاں رسول اللہ ﷺ نے صرف اس کے سوال کا جواب ہی نہیں دیا بلکہ اس کے ساتھ اسے سخت تنبیہ بھی کی…

 

اسی طرح اسلوب کی شدت یا نرمی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ سامنے والا کون ہے۔

 

اس بات کو مزید بہتر سمجھانے کے لئے :

 

یہ آیت پڑھیں:

 

﴿اذْهَبْ أَنتَ وَأَخُوكَ بِآيَاتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي * اذْهَبَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ * فَقُولَا لَهُ قَوْلاً لَّيِّناً لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ

 

 

’’تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا ٭ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو رہا ہے ٭ اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے‘‘ (سورۃ طٰہٰ:42-44)

 

 

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں مطلوبہ طرزِ گفتگو پُرسکون، نرم اور فکری مکالمہ ہے۔

 

اب یہ دوسری آیت پڑھیں، جو اسی موضوع میں ہے، اور یہ بھی موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ہے، لیکن ایک اور موقع پر، جب فرعون کے سامنے واضح نشانیاں اور دلائل پیش کر دیئے گئے تھے… اس کے باوجود وہ تکبر پر قائم رہا اور سرکشی میں حد سے بڑھتا چلا گیا… اس موقع پر موسیٰ علیہ السلام نے اس سے نرمی کے بجائے سخت لہجہ اختیار کیا اور انہوں نے اسے ﴿مَثبُورًا﴾ (برباد، ملعون) قرار دیا۔

 

اور وہ  آیتِ مبارکہ یہ ہے :

 

﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَىٰ مَسْحُوراً * قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا أَنزَلَ هَٰؤُلَاءِ إِلَّا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُوراً

 

 

’’اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے دریافت کرلو کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا کہ موسیٰ میں خیال کرتا ہوں کہ تم پر جادو کیا گیا ہے ٭ انہوں نے کہا کہ یہ تو تجھے علم ہو چکا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار نے ہی یہ معجزے دکھانے ، (اور وہ بھی تم لوگوں کے) سمجھانے کو نازل کئے ہیں۔ اور اے فرعون میں خیال کرتا ہوں کہ تم یقیناً برباد اور ہلاک ہوجاؤ گے‘‘ (سورۃ الاسراء:101-102)۔

 

 

پس ابتدا میں نرم گفتگو اس لئے تھی کہ دلائل اور واضح نشانیاں پیش کی جائیں، لیکن جب قطعی دلائل اور واضح بصیرتیں پیش کر دی گئیں، اور اس کے باوجود تکبر اور سرکشی جاری رہی، تو اس وقت سخت اندازِ گفتگو اختیار کیا گیا۔

 

مجھے امید ہے کہ میں نے بات کو مکمل طور پر واضح کر دیا ہے۔

 

لہٰذا، آپ ہماری کتابوں میں تفاعل کے مرحلے میں سیاسی اعمال کے بارے میں یہ لکھا پائیں گے کہ: (يبرز في هذه الأعمال السياسية الصراع الفكري والكفاح السياسي...) ’’… ان سیاسی اعمال میں فکری کشمکش اور سیاسی جدوجہد نمایاں ہوتی ہے‘‘۔

 

اس مرحلے میں فکری کشمکش اور سیاسی جدوجہد اس لئے نمایاں ہوتی ہے کہ اکثر اوقات کفر کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ ٹکراؤ ہوتا ہے، اور یہی اسلوب عام طور پر ان کے لئے موزوں ہوتا ہے۔ تاہم، دوسرے کفار کے ساتھ، یا کسی اور موقع پر، سیاسی اور فکری عمل کسی اور مختلف اسلوب کا تقاضا بھی کر سکتا ہے۔

 

اور میں پھر دہراتا ہوں کہ سیاسی اور فکری عمل ’’طریقہ‘‘ میں سے ہے، کیونکہ تفاعل کا مرحلہ ہر حال میں ان کا تقاضا کرتا ہے۔ جبکہ سیاسی اور فکری کام میں شدت یعنی جدوجہد اور اسالیب میں سے ہیں، اور انہیں وقت اور جگہ کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔

 

آپ کا بھائی،

عطاء بن خليل أبو الرشتة

06 شعبان 1447هـ

بمطابق 25جنوری، 2026 عیسوی

                                                                       

Last modified onپیر, 02 فروری 2026 23:53

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک