الأربعاء، 18 رجب 1447| 2026/01/07
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال و جواب

رعایت  و عزیمت (الرخصة والعزيمة)

زاہد طالب نعیم کے لئے

(عربی سے ترجمہ)

سوال:

ہمارے محترم اور جلیل القدر عالمِ دین، شیخ عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

 

امید ہے کہ میرا یہ سوال آپ تک اس حال میں پہنچے کہ آپ مکمل صحت اور خیر وعافیت سے ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ اپنے مؤمن بندوں کو جلد زمین میں خلافت اور اقتدار عطا فرمائے، اور تمام مسلمانوں کی  اور بالخصوص ہمارے اہلِ غزہ کی مشکلات اور مصیبتوں کو دور فرمائے۔

 

کتاب شخصیہ اسلامیہ کی جلد 3، صفحہ 64 میں یہ بیان کیا گیا ہے: (وذلك أن العمل بالعزيمة، وهو الامتناع عن الأكل، مباح، ولكنه مباح صار يؤدي حتماً إلى الحرام، وهو هلاك النفس، فصار حراماً عملاً بالقاعدة الشرعية "الوسيلة الى الحرام حرام" فعمل العزيمة هنا صار حراماً، فيصبح العمل بالرخصة واجباً، لسبب عارض وهو تحقق الهلاك) اور یہ اس لئےہے کہ عزیمت (ارادہ) پر عمل کرنا، یعنی (مردار) کھانے سے رک جانا، فی نفسہٖ مباح ہے، لیکن یہ مباح عمل لازماً ایک حرام نتیجے کی طرف لے جاتا ہے، اور وہ ہے جان کا ہلاک ہو جانا۔ لہٰذا یہ عمل اس شرعی قاعدے کے مطابق حرام ہو جاتا ہے، »الوسيلة الى الحرام حرام» جو چیز حرام تک پہنچانے کا ذریعہ بنے، وہ خود بھی حرام ہے۔ پس یہاں عزیمت پر عمل کرنا حرام ہو گیا، اور ایک سبب العارض یعنی ہلاکت کے یقینی ہونے کی وجہ سے رخصت پر عمل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔

 

تو کیا رخصت کو ترک کر کے عزیمت پر عمل کرنا حرام ہے؟ کیا عزیمت کو ترک کر کے رخصت پر عمل کرنا واجب ہے؟ کیا یہ اس شرعی قاعدے کے خلاف ہے کہ: «الأمر بالشيء ليس نهياً عن ضده، والنهي عن الشيء ليس أمراً بضده» کسی معاملے کا حکم ہونا اس کے مخالف سے منع کرنا نہیں ہوتا، اور کسی چیز سے منع کرنا اس کے مخالف کا حکم دینا نہیں ہوتا؟ کیا کھانے سے پرہیز کرنا (یعنی عزیمت پر عمل کرنا) حرام کے زمرے میں آتا ہے، یا یہ صرف واجب کو چھوڑنے کے مترادف ہے؟ اور کیا اس حالت میں کھانے والے کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے واجب کو پورا کر لیا اور حرام سے بچ گیا ہے؟

 

براہِ مہربانی وضاحت فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو اجرِکریم عطا کرے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سب کے نیک اعمال قبول فرمائے اور آپ پر اپنی برکتیں نازل فرمائے۔ آمین۔

23 جون، 2024ء

زاہد طالب نعیم – اختتام سوال

 

جواب:

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 

آپ کی پرخلوص دعاؤں کے لئے اللہ آپ کو جزائے خیر دے، اور ہم بھی آپ کی خیریت و عافیت کی دعا کرتے ہیں۔

 

کتاب شخصیہ اسلامیہ جلد سوم میں جس حصے کے بارے میں آپ سوال کر رہے ہیں، وہ عزیمت اور رخصت کے باب میں ہے۔ اس کا مکمل متن درج ذیل ہے:

 

یہ بات رخصت اور عزیمت کی شرعی حقیقت کے اعتبار سے ہے۔ جہاں تک رخصت یا عزیمت پر عمل کرنے کا معاملہ ہے، تو ان دونوں میں سے جس پر بھی عمل کیا جائے وہ مباح ہے؛ یعنی انسان کو اختیار ہے کہ وہ رخصت پر عمل کرے یا عزیمت پر، کیونکہ رخصت کے دلائل اسی بات پر دلالت کرتے ہیں ……

 

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ، كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ» بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دی ہوئی رخصتوں پر عمل کیا جائے، جس طرح وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دی ہوئی عزیمتوں پر عمل کیا جائے۔ (اسے ابن حبان نے روایت کیا ہے)، یہ ایک طلب (امر) ہے، لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مندوب عمل ہے۔ البتہ اگر مجبور شخص کو موت کا خوف لاحق ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ مردار کھا لے، اور اس کے لئے اسے کھانے سے رک جانا حرام ہے۔ اور اگر حلق میں کوئی شے اٹک جائے اور اس شخص کو شراب (خمر) کے سوا کچھ نہ مل سکے تو اگر اسے موت کا اندیشہ ہو تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے پی لے تاکہ جان بچا سکے، اور اس کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ اس سے رک جائے اور مر جائے۔ اسی طرح اگر کوئی روزہ دار اس حد تک نڈھال ہو جائے کہ موت کا خطرہ لاحق ہو جائے، تو اس پر لازم ہے کہ وہ روزہ توڑ دے، اور اس کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ روزہ رکھے رہے اور مر جائے۔ یہ تمام مثالیں اس بات کی دلیل ہیں کہ رخصت پر عمل کرنا کبھی فرض، کبھی مندوب اور کبھی مباح ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں گفتگو رخصت کے بارے میں بطورِ رعایت ہو رہی ہے۔ اور رخصت بطورِ رعایت قطعاً ایک مباح عمل ہے، جیسا کہ درج بالا دلائل سے ثابت ہے۔ پس شرعی اعتبار سے رخصت کاحکم اباحت ہی ہے۔

 

رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کے بارے میں: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ» بے شک اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اس کی دی گئی رخصتوں پر عمل کیا جائے … تو اس حدیث میں ندب (یعنی مندوب ہونے) پر کوئی دلالت نہیں پائی جاتی، بلکہ یہ اباحت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئےکہ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس کی دی گئی رخصتوں پر عمل کیا جائے، اور وہ اس بات کو بھی پسند فرماتا ہے کہ اس کی عزیمتوں پر عمل کیا جائے، اور ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح حاصل نہیں۔ اور یہ بات خود حدیث کے متن میں موجود ہے: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ، كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ» بے شک اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے، جس طرح وہ اس بات کو بھی پسند فرماتا ہے کہ اس کی عزیمتوں پر عمل کیا جائے۔ لہٰذا اس حدیث میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ رخصت پر عمل کرنا مندوب ہے۔ جہاں تک مردار کا گوشت کھانے کے مسئلے کا تعلق ہے، تو مضطر (مجبور شخص) سے مراد وہ شخص نہیں جو یقینی طور پر موت کو پہنچ چکا ہو، بلکہ وہ شخص بھی مضطر شمار ہوتا ہے جو صرف موت کے خدشے میں مبتلا ہو؛ ایسے شخص کے لیے مردار کھانا جائز تو ہے،مگر لازم نہیں۔ لیکن اگر یہ بات یقینی ہو جائے کہ اگر وہ نہ کھائے تو اس کی موت واقع ہو جائے گی، تو اس کے لئے اسے کھانے سے رکنا حرام ہو جاتا ہے، اور اس پر اسے کھانا شرعاً واجب ہو جاتا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ یہ رخصت ہے، بلکہ اس لئے کہ اس صورت میں اسے کھانا بذاتِ خود واجب بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عزیمت پر عمل کرنا، یعنی کھانے سے رکنا، اگرچہ فی نفسہٖ جائز ہے، لیکن وہ یقینی طور پر ایک حرام چیز (یعنی موت) کی طرف لے جاتا ہے۔ چنانچہ اس حالت میں عزیمت پر عمل کرنا شریعت کے اس اصول کے مطابق حرام ہو جاتا ہے کہ: «الوسيلة إلى الحرام حرام» جو چیز حرام تک پہنچانے کا ذریعہ بنے، وہ بھی حرام ہے۔ اور اس صورت میں رخصت پر عمل کرنا واجب ہو جاتا ہے، اس عارض (حتمی) یعنی موت کے یقینی ہونے کی وجہ سے۔ یہ رخصت کے حکم کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ یہ ان صورتوں میں سے ایک ہے جہاں شریعت کا عمومی اصول «الوسيلة إلى الحرام حرام» جو چیز حرام تک پہنچانے کا ذریعہ بنے، وہ بھی حرام ہے لاگو ہو جاتا ہے۔ یہ اصول صرف رخصت کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ہر مباح پر عام ہے۔ مثلاً: حلق میں کوئی شے اٹک جائے اور ایسے شخص کے لئے نشہ آور چیز پینا، یا اس شخص کے لئے روزہ توڑنا جس کی یقینی موت کا خطرہ لاحق ہو چکا ہو، اور اسی طرح کی دیگر مثالیں۔ چنانچہ رخصت کا اصل حکم اور اس کی تشریع کے اعتبار سے وہ مباح ہی ہوتا ہے۔ البتہ اگر اس سے رکنا اور عزیمت پر عمل کرنا لازماً کسی حرام نتیجے کی طرف لے جائے، تو پھر اس مباح پر عمل کرنا حرام ہو جاتا ہے[اختتام اقتباس]

 

اور آپ نے پوچھا ہے کہ،

تو کیا رخصت کو ترک کر کے عزیمت پر عمل کرنا حرام ہے؟ کیا عزیمت کو ترک کر کے رخصت پر عمل کرنا واجب ہے؟ کیا یہ شرعی قاعدے کے خلاف ہے کہ: «الأمر بالشيء ليس نهياً عن ضده، والنهي عن الشيء ليس أمراً بضده» کسی چیز کا حکم دینا اس کے مخالف سے منع کرنا نہیں ہوتا، اور کسی چیز سے منع کرنا اس کے مخالف کا حکم دینا نہیں ہوتا؟ کیا کھانے سے پرہیز کرنا حرام کے زمرے میں آتا ہے، یا یہ صرف واجب کو چھوڑنے کے مترادف ہے؟ اور کیا اس حالت میں کھانے والے کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے واجب کو پورا کر لیا اور حرام سے بچ گیا ہے؟ [ اختتام اقتباس سوال]۔

 

تو اس کا جواب یہ ہے:

 

1- جیسا کہ کتاب شخصیہ اسلامیہ (جلد سوم) میں بیان کیا گیا ہے، رخصت پر بذاتِ خود عمل کرنا مباح ہے۔ یہ رخصت کے بارے میں اصل شرعی حکم ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ حکم اس وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک کوئی تفصیلی دلیل موجود نہ ہو جو یہ ثابت کرے کہ کسی خاص صورت میں رخصت پر عمل کرنا مندوب اور عزیمت سے بہتر ہے، یا یہ کہ کسی خاص صورت میں عزیمت پر عمل کرنا مندوب اور رخصت سے بہتر ہے... اور ہم نے ان صورتوں کو کتاب "تيسير الوصول إلى الأصول" میں واضح کیا ہے۔ جہاں (عربی ورڈ فائل کے مطابق) صفحات 42 تا 44 میں یہ مذکورہے:

 

رخصت اپنی تشریع کے اعتبار سے ایک رعایت ہوتی ہے، اور اس کا حکم اباحت کے ساتھ ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص عزیمت کے مطابق عمل کرتا رہے تو وہ بھی جائز ہے، اور اگر کوئی رخصت کے مطابق عمل کرے تو وہ بھی جائز ہے۔

 

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عزیمت اور رخصت دونوں شرعی حکم کے اعتبار سے اباحت میں مساوی کیوں ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ، كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ» بے شک اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر عمل کیا جائے، جس طرح وہ اس بات کو بھی پسند فرماتا ہے کہ اس کی عزیمتوں پر عمل کیا جائے۔ یہ حدیث اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے اعتبار سے رخصت اور عزیمت دونوں پر عمل کرنا برابر ہے۔

 

یہ حکم اس صورت میں ہے جب کوئی ایسی شرعی نص موجود نہ ہو جو کسی خاص حالت میں یہ بتاتی ہو کہ رخصت یا عزیمت میں سے کون سی چیز اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے۔

 

مثال کے طور پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:

 

﴿أَيَّامٗا مَّعۡدُودَٰتٖۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضاً أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدۡيَةٞ طَعَامُ مِسۡكِينٖۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيۡرٗا فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥ وَأَن تَصُومُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ

 

(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ (رمضان کے بعد) دوسرے دنوں میں اتنی ہی گنتی پوری کرے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، ان پر ایک مسکین کا کھانا فدیہ ہے۔ پھر جو شخص اپنی خوشی سے زیادہ نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اور اگر تم روزہ رکھو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے (البقرۃ؛ 2:184)۔

 

 

اس سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ جو شخص کسی شرعی عذر کی بنا پر روزہ چھوڑنے کی اجازت رکھتا ہو، لیکن (اس عذر کے باوجود) روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو، تو اسے رخصت (اجازت) حاصل ہے۔ اگر روزہ رکھنا مشقت کا باعث ہو (مگر ناقابلِ برداشت نہ ہو)، تو اس کے لیے روزہ رکھنا، روزہ چھوڑنے سے بہتر ہے۔ جیسے اس شخص کی مثال جو ایسی مسافت پر سفر کر رہا ہو جس میں رخصت کی اجازت ہوتی ہے، لیکن وہ آرام دہ ہوائی جہاز یا گاڑی میں سفر کر رہا ہو۔ ایسے شخص کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہے، لیکن اس حالت میں روزہ رکھنا افضل ہے، جیسا کہ اس آیت سے واضح ہوتا ہے:

 

﴿فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥ وَأَن تَصُومُواْ خَيۡرٞ لَّكُمۡ

 

اور اگر تم روزہ رکھو تو وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔

 

اسی طرح مستند روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ» سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔ یہ بات آپ ﷺ نے اس وقت فرمائی جب آپ نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو سفر میں روزہ رکھے ہوئے تھا اور روزے نے اسے سخت نڈھال کر دیا تھا۔ اس حدیث سے یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ جس شخص کا سفر مشقت طلب اور تھکا دینےوالا ہو، تو اس کے لئے روزہ نہ رکھنا بہتر ہے۔

 

پہلی صورت میں (یعنی آرام دہ سفر میں)، اس آیت سے یہ سمجھ آتا ہے کہ روزہ رکھنا بہتر ہے، یعنی عزیمت پر عمل کرنا افضل ہے۔ اور دوسری صورت میں (یعنی مشقت بھرے سفر)، اس حدیث سے یہ سمجھ آتا ہے کہ روزہ نہ رکھنا بہتر ہے، یعنی رخصت اختیار کرنا افضل ہے۔

 

لیکن اگر کسی خاص حالت میں عزیمت اور رخصت میں سے کسی ایک کی ترجیح پر کوئی صریح شرعی نص موجود نہ ہو، تو پھر رخصت اختیار کرنا یا عزیمت پر عمل کرنا دونوں برابر طور پر جائز ہیں، جیسا کہ اس موضوع میں پہلے ذکر کی گئی رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے [اقتباس ختم ہوا]۔

 

2- شدید ترین ضرورت کی حالت میں کسی ممنوع چیز کے کھانے یا پینے کی رخصت کے معاملے میں، جیسا کہ ہم اوپر وضاحت کر چکے ہیں، یعنی: مردار کا گوشت کھانے کے مسئلے میں، مضطر (مجبور شخص) سے مراد وہ شخص نہیں جس کی موت یقینی ہو چکی ہو، بلکہ وہ شخص بھی مضطر شمار ہوتا ہے جو صرف موت کے خدشے میں مبتلا ہو۔ ایسی حالت میں (مردار) کھانا جائز ہو جاتا ہے، لازمی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس صورت میں رخصت کا شرعی حکم اباحت ہی ہے، بالکل دیگر تمام رخصتوں کی طرح۔

 

3- اگر یہ یقینی ہو کہ ممنوع شے کو کھائے یا پئے بغیر موت واقع ہو جائے گی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ:

 

الف- ایسی صورت میں عزیمت (عدم أكل المحرم) یعنی حرام چیز کو نہ کھانے پر قائم رہنا، اس شرعی قاعدے کے تحت آ جاتا ہے، (الوسيلة إلى الحرام حرام) جو چیز حرام تک پہنچانے کا ذریعہ بنے، وہ بھی حرام ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حرام سے رکنے کی عزیمت ابتداءً اس مضطر شخص کے لئے جائز تھی جو حرام شے کو نہ کھانے یا نہ پینے کی صورت میں صرف موت کے خدشے میں مبتلا ہو۔ البتہ ایسا شخص جس کے بارے میں یہ بات یقینی ہو کہ اگر وہ ممنوع شے کو نہ کھائے یا نہ پئے تو وہ مر جائے گا، اس کے لئےحرام سے رکے رہنے کی وہی عزیمت، جو پہلے جائز تھی، اب حرام ہو جاتی ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی اور مباح کام، جب اس پر شریعت کا یہ اصول لاگو ہو جائے کہ (الوسيلة إلى الحرام حرام) تو وہ بھی حرام ہو جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق، جو مباح عمل کسی حرام نتیجے تک پہنچا دے، تو وہ خود بھی حرام ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اسی شرعی اصول کی بنا پر، حرام چیز سے رکنے کی عزیمت جو اس اصول کے لاگو ہونے سے پہلے جائز تھی، اب حرام ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ ایک حرام عمل یعنی خود کو ہلاکت میں ڈالنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ اور خود کو ہلاکت میں ڈالنے کی ممانعت پر واضح شرعی دلائل موجود ہیں۔

 

ب- اسی طرح، اس شخص کے لئے جسے یہ اندیشہ ہو کہ اگر وہ ممنوع چیز نہ کھائے یا نہ پیے تو اس کی موت واقع ہو سکتی ہے، کھانے کی رخصت کا حکم رعایت کے اصل حکم کے مطابق اباحت ہی رہتا ہے... لیکن اگر موت قریب اور یقینی ہو جائے، تو شرعی حکم وجوب میں بدل جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی جان کو بچانا شرعاً واجب ہے، اور ایسی حالت میں اپنی جان بچانا حرام چیز کو کھائے یا پیے بغیر ممکن نہیں رہتا۔ لہٰذا اس مخصوص صورت میں اپنی جان بچانے کے شرعی فریضے کو ادا کرنا لازماً اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ممنوع چیز کھا لی جائے یا اسے پی لیا جائے۔ چونکہ جان بچانے کا واجب حرام چیز کے استعمال کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا، اس لیے یہ عمل اس اصول کے تحت واجب ہو جاتا ہے: «ما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب» جس چیز کے بغیر واجب پورا نہ ہو سکے، وہ چیز خود بھی واجب ہو جاتی ہے۔ پس اس مخصوص حالت میں رخصت کو اختیار کرنا شرعاً واجب بن جاتا ہے۔

 

4- مذکورہ بالا تفصیل شریعت کے اس اصول کے خلاف نہیں ہے کہ: «الأمر بالشيء ليس نهياً عن ضده، والنهي عن الشيء ليس أمراً بضده» کسی چیز کا حکم دینا اس کے مخالف سے منع کرنا نہیں ہوتا، اور کسی چیز سے منع کرنا اس کے مخالف کا حکم دینا نہیں ہوتا۔ یہ کہنا کہ موت کے یقینی ہونے کی مخصوص حالت میں عزیمت پر عمل کرنا حرام ہے، اس کی بنیاد شریعت کے اس اصول پر ہے: «الوسيلة إلى الحرام حرام» جو چیز حرام تک پہنچانے کا ذریعہ بنے، وہ بھی حرام ہے۔ اسی طرح یہ کہنا کہ اس حالت میں رخصت اختیار کرنا واجب ہے، اس کی بنیاد شریعت کے اس اصول پر ہے: «ما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب» جس چیز کے بغیر کوئی شرعی واجب پورا نہ ہو سکے، وہ چیز خود بھی واجب ہوتی ہے۔ حرام چیز کو کھانے یا پینے کا واجب ہونا اس بنا پر نہیں ہے کہ اس سے رکنا بذاتِ خود حرام ہے، بلکہ اس کی بنیاد شریعت کے اسی اصول پر ہے کہ: «ما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب» اسی طرح حرام چیز سے رکنے کی عزیمت پر عمل کرنے کی ممانعت اس بنا پر نہیں ہے کہ رخصت اختیار کرنا واجب ہے، بلکہ اس کی بنیاد شریعت کے اس اصول پر ہے کہ: «الوسيلة إلى الحرام حرام» لہٰذا یہاں بحث لغوی نہیں ہے کہ امر اور نہی کے معانی کیا ہیں، بلکہ یہ ایک ایسی بحث ہے جو تفصیلی شرعی دلائل پر قائم ہے۔ رخصت اختیار کرنے کا وجوب، عزیمت پر عمل کرنے کی ممانعت سے اخذ کردہ کسی لغوی دلالت (الدلالة اللغوية المأخوذة) پر مبنی نہیں، اور نہ ہی عزیمت پر عمل کی ممانعت، رخصت اختیار کرنے کے حکم سے اخذ کردہ کسی لغوی دلالت (الدلالة اللغوية المأخوذة) پر مبنی ہے۔

مجھے امید ہے کہ یہ وضاحت کافی ہو گی۔

 

 

آپ کا بھائی،

عطاء بن خليل أبو الرشتة

06 رجب 1447هـ

بمطابق 26 دسمبر، 2025 عیسوی

 

Last modified onاتوار, 04 جنوری 2026 20:52

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک