الإثنين، 25 ربيع الأول 1448| 2026/09/07
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اچھا انسان وہ ہے جو اللہ ﷻ کی اطاعت کرے اور ان چیزوں کے حصول کے لیے کوشش کرے جو اسے پسند ہیں

 

 

بعض لوگوں کا کہنا ہے، میرا گمان ہے  کہ میں ایک اچھا انسان ہوں۔ میں وہی کرتا ہوں جسے میں درست تصور کرتا ہوں۔ میں اپنے آپ کو دوسروں کی جگہ رکھ کر دیکھتا ہوں۔ میں اس فعل سے رک جاتا ہوں جس کے متعلق مجھے یہ لگے کہ اس سے دوسرے لوگ برا محسوس کریں گے۔ کیا یہ کافی نہیں ہے؟ مجھے اپنی زندگی میں اس صورتحال سے بڑھ کر اسلامی قوانین کی پابندی کرنا کیوں ضروری ہے؟

 

شریعت کی رو سے ہمارے رب، اللہ ﷻ کی عبادت کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ کس چیز کو ہم اچھا یا برا محسوس کرتے ہیں۔ بنیاد یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں کیا کرنے کے لیے کہا ہے۔ اللہ نے ہمیں اس بات سے خبردار کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ہم کسی چیز کو اچھا سمجھ رہے ہوں مگر وہ اچھی نہ ہو۔ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے: قُلۡ هَلۡ نُـنَبِّئُكُمۡ بِالۡاَخۡسَرِيۡنَ اَعۡمَالًا ؕ‏ * اَ لَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا‏  "(اے محمد) کہہ دیجئے کہ کیا ہم تمہیں بتائیں کہ کون عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں. وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی۔ اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں" (الکھف 103-104)۔ یہ آیت عام ہے۔ یہ ہر اس شخص کے متعلق ہے کہ جو اس انداز سے اللہ کی عبادت کر رہا ہے کہ جو اللہ کو قابل قبول نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ ہم اپنے آپ کو درست سمجھتے ہوں تاہم اگر ہمارے عمل اس کے مطابق نہیں ہیں جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے طے کیا ہے، تو ہم خسارے میں ہیں۔ جنت میں جانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم وہ عمل کریں جو اللہ نے ہمارے لیے طے کیے ہیں نہ کہ جو ہم نے خود اپنے لیے طے کر رکھے ہیں۔ پس بطور مسلمان ہم مغرب کا سیکولر نقطہ نظر نہیں اپنا سکتے جو یہ قرار دیتا ہے کہ انسان خود اپنی پسند و ناپسند کے مطابق، اخلاقیات اور اچھے و برے سلوک کا تعین کرے گا۔

 

ہمیں غور کرنا چاہیے کہ انسان کے جذبات و احساسات غلط رہنمائی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ ہم اپنی خواہشات کی پیروی نہ کریں کہ کہیں یہ ہمیں حق سے بھٹکا نہ دیں۔ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ "اور (اے محمد) ان کے درمیان اللہ کے نازل کردہ احکامات کے ذریعے فیصلہ کریں اور ان کی خواہشات کی پیروی کبھی نہ کریں" (المائدہ 49)۔ اللہ تعالیٰ نے دنیاوی خواہشات کی پیروی کرنے والوں کو جھوٹے معبودوں کی پیروی کرنے والوں کے طور پر بیان کیا اور یہ ثابت کیا کہ یہ ہدایتِ الہی کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ "کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے، اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگا دی اور اس کی بینائی پر پردہ ڈال دیا۔ تو اللہ کے بعد اس کی رہنمائی کون کرے گا؟ پھر تم کیوں نہیں سمجھتے؟" [سورة الجاثیہ 45:23]۔ ہم ایسے نہ بنیں جو اپنی خواہشات کے پابند ہیں۔ ہمیں یہ نہیں سمجھمنا چاہیے کہ جس چیز کی طرف ہمارا رجحان ہے وہ اچھا ہے، جب کہ جس چیز کو ہم ناپسند کرتے ہیں یا جسے اپنے لیے مشکل محسوس کرتے ہیں وہ غلط ہے۔ اس کے بجائے ہم اسلام کے اوامر و نواہی کے مطابق اپنا محاسبہ کریں۔

 

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وحی کو ہمارے احساسات اور اعمال پر بالادستی ہونی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کی بابت خبردار کیا ہے جو خواہشات کی پیروی کرنے والا ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے شخص کا اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید لگانا ایک لاحاصل امر ہے۔ ابو یعلَی شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا ثُمَّ تَمَنَّى عَلَى اللَّهِ "عقلمند وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے کوشش کرے۔ اور وہ شخص کمزور ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور پھر اللہ کے بارے میں آرزوئیں کرتا ہے" [ابن ماجہ]۔ پس عقلمند وہ ہے جو اخروی زندگی میں کامیابی کے لیے اسلام کے معیار کے مطابق اپنا محاسبہ کرے۔

 

مزید برآں، جیسے جیسے ہم اسلام کے علم اور عمل میں ترقی کرتے ہیں، ہمارے میلانات بدل جاتے ہیں۔ شروع میں، ہم نماز پڑھنا یا عبایا پہننا پسند نہیں کرتے۔ تاہم، علم اور عمل کے ساتھ، ہمارے میلانات بدل جاتے ہیں۔ علم اور عمل ہمیں مضبوط کرتے ہیں۔ تو انسان خواہشات کے پیروکار ہونے کی سطح سے بلند ہو جاتا ہے۔ مسلمان وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں، خواہ وہ ایسا کرنے میں تکلیف اور مشقت محسوس کریں۔ مومنین وہ ہیں جو خوشی سے اطاعت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا "لیکن نہیں، آپ ﷺ کے رب کی قسم، وہ اس وقت تک ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ آپ ﷺ  کو اس بات کا فیصلہ کرنے والا نہ بنا لیں جس پر وہ آپس میں جھگڑتے ہیں اور پھر آپ کے فیصلے سے اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور آپ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں" [سورہ النساء 4:65]۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز کے تابع نہ ہو جائیں جو میں لایا ہوں‘‘ [امام نووی]۔

 

لہٰذا شریعت کی رو سے اچھا انسان وہ ہے جو اللہ ﷻ کی اطاعت کرے اور ان چیزوں کی خواہش پیدا کرنے کی کوشش کرے جو اللہ ﷻ کو پسند ہیں۔

 

 

مصعب عمیر، ولایه پاکستان



Last modified onپیر, 07 ستمبر 2026 19:24

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک