بسم الله الرحمن الرحيم
ایران پر امریکہ کی جنگ کے نسبتی سکون پر ایک نظر
تحریر: ڈاکٹر عبدالالہ محمد – ولایہ اردن
(ترجمہ)
ایران اور امریکہ کے درمیان قائم نازک سکون اپنے دامن میں کئی پہلو رکھتا ہے، خاص طور پر فوجی اور سیاسی کشیدگی کے تسلسل کے سائے میں، جو ایران پر امریکی جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کی سطح پر پیدا ہوئی ہے۔ اس جنگ کے ساتھ ہی توانائی کی منڈیوں اور سمندری گزرگاہوں میں عدم استحکام بھی پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سیکیورٹی، معاشی اور سیاسی حساب کتاب، ان کے اثرات اور علاقائی و بین الاقوامی ممالک کے مفادات کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ اس لیے اس سکون کو متعدد اور باہم جڑے ہوئے زاویوں سے دیکھنا ضروری ہے، جو اس واقعے کو نہ صرف امریکہ کے نقطہ نظر سے دیکھے، بلکہ ایران، خطے کے ممالک، چین، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک کے نقطہ نظر سے بھی دیکھے، کیونکہ اس جنگ کے نتیجے میں ان سب کو نقصانات پہنچے ہیں۔
امریکہ نے انتہائی تکبر اور فرعونیت کے ساتھ 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جس کا مقصد اسے ایک ایسے ملک سے جو امریکی مدار میں گھومتا ہے، ایک ایسے ملک میں تبدیل کرنا تھا جوایک کٹھ پتلی ملک ہو اور جو اس کے نئے مشرقِ وسطیٰ کے تصورات کو پورا کرے، اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ جنگ اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف چند گنتی کے دنوں تک ہی جاری رہے گی۔
تاہم، پاسدارانِ انقلاب کے اندر سے اٹھنے والی بعض آوازوں کا خیال تھا کہ امریکہ نے جو کچھ کیا، اور اس کے ہاتھوں صفِ اول اور صفِ دوم کی قیادت کا قتل عام، ایران کی ان خدمات کا صلہ نہیں تھا جو اس نے چالیس سال سے زائد عرصے تک امریکہ کو فراہم کی تھیں۔ پاسدارانِ انقلاب اس دھچکے کو برداشت کرنے میں کامیاب رہے، اندرونی اضطراب پر قابو پایا، اور ایک نئے رہبر کا تعین کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ چنانچہ انہوں نے امریکی مدار میں گھومنے سے آزادی حاصل کرنے کے امکان کو دیکھا۔ ان آوازوں کا امریکی خواہشات کی موافقت کرنے والے سیاسی طبقے پر نمایاں اثر قائم ہو گیا، جس کے بعد انہوں نے امریکی فوجی اڈوں اور یہودی وجود پر دردناک ضربیں لگائیں جس سے انہیں شدید نقصان پہنچا، اور انہوں نے اپنے پاس موجود ایک پتے کا استعمال کیا جو کہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جس کی وجہ سے اس جنگ کے اثرات اور دائرہ کار دنیا کے تمام ممالک تک پھیل گیا۔
یہ رائے جنگ کے دنوں اور اس کے بعد ہونے والے ادوار اور مذاکرات کے دوران حالات کے مطابق ابھرتی اور دبتی رہی۔ ان مذاکرات کے ایک دور میں ایران کا سیاسی دھڑا امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے ایک معاہدے کے فریم ورک پر دستخط کرنے میں کامیاب ہو گیا، جس کی کوشش امریکہ نے اپنے بحران سے نکلنے کے لیے کی تھی، اور اس مقصد کے لیے پاکستان اور دیگر ممالک میں موجود اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ایران پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ اس وقت حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ نے ایک سوال کا جواب جاری کیا جس میں انہوں نے اس معاہدے کی دفعات میں موجود مخفی خطرات کو واضح کیا، اور اس کی تصدیق جنگ کے مزید کچھ دنوں کے لیے دوبارہ شروع ہونے سے ہو گئی۔
اس جنگ نے امریکہ کے اعلانیہ اہداف میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا، بلکہ اس نے اس کی کمزوری اور ناتوانی کو ظاہر کر دیا۔ اس کی مدت چھ ماہ سے زیادہ ہو گئی جس کے دوران سیاسی اور فوجی سطح پر امریکہ کے اندر شدید تقسیم کھل کر سامنے آئی، جس کے نتیجے میں متعدد برطرفیاں اور استعفے ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی، توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے ہونے والے نقصان کی وجہ سے جنگ بند کرنے کا مطالبہ کرنے والی وسیع عوامی آوازیں اٹھیں، اور گولہ بارود کے ختم ہونے، ختم ہو جانے اور اس کی تلافی کرنے کی عدم صلاحیت پر فوجی مخالفت سامنے آئی، کیونکہ امریکہ ایک ایسے معاشی بحران کا شکار ہے جس نے اس کے قرضوں کے حجم کو چالیس ٹریلین ڈالر سے زائد تک پہنچا دیا ہے، اور مینوفیکچرنگ کو اس کمی کو پورا کرنے کے لیے برسوں درکار ہیں۔ یہ بات ٹرمپ اور ان کے وزیرِ جنگ کے درمیان علانیہ اختلاف اور فوجی قیادت کی جانب سے جنگ روکنے کی ضرورت کے مطالبے سے ظاہر ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ وسط مدتی انتخابات بھی قریب آ رہے ہیں جن کے نتائج دو سال بعد ہونے والے اگلے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
ان تمام چیزوں نے امریکہ کو جنگ روکنے اور ایسے متبادلات تلاش کرنے پر مجبور کیا جو اسے اس کے بحران سے نکالیں اور اس کے اہداف حاصل کریں، یا کم از کم معاملات کو جوں کا توں رکھیں۔ چنانچہ بحری ناکہ بندی کی گئی جس کا کوئی فائدہ نہ ہوا، اور زمینی مداخلت کی کوشش کی گئی جو ناکام رہی، اور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ خفیہ مذاکرات کے چینلز بے نتیجہ رہے، اور لبنان، یمن اور عراق میں ایران کے بازوؤں کو کاٹنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، جس کے بعد آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے 12 سے زائد ممالک کے ساتھ سعودی عرب کا بحری اتحاد عمل میں آیا، اور اس کے بعد سعودی، ترکی اور پاکستانی فوجی اتحاد قائم ہوا، تاکہ مسلمان ایک دوسرے کو قتل کریں، اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک پتے کے طور پر استعمال کیا جا سکے تاکہ وہ شاید امریکہ کے مطالبات کے آگے جھک جائے، جبکہ ایران کو نقصان پہنچانے کے لیے معاشی پابندیوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔
جی ہاں، امریکہ کے پاس اتنے فوجی ساز و سامان اور آلات موجود ہیں جو اسے ایران پر ایک بڑا فوجی حملہ کرنے کے قابل بناتے ہیں جس سے معاملات ختم ہو جائیں، لیکن اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ اس حد تک کمزور ہو جائے گا کہ اپنے حریفوں، بالخصوص چین کے سامنے دنیا کی پہلی طاقت کے طور پر اس کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔ اور خطے کے حکمرانوں کی طرف سے ظاہر کی جانے والی ناراضگی اور بے چینی سامنے آئے گی جو ممالک اور عوام کے نقصان اور ایران کے حملوں سے ان کی حفاظت کرنے کی امریکہ کی عدم صلاحیت کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک ایسا حملہ ہو سکتا ہے جو پورے خطے بلکہ پوری دنیا میں ایسی افراتفری کا باعث بنے گا جس پر امریکہ قابو پانے کے قابل نہیں رہے گا، اور معاملات ایسے واقعات کی طرف کھل جائیں گے جو اس کے قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔
امریکہ نے دنیا کی پہلی طاقت کے طور پر اپنے وجود کے سالوں کے دوران قتل، تباہی اور بمباری کی اپنی دیرینہ عادت پر عمل کیا ہے، اور ایران میں بھی ایسا ہی کیا، لیکن جب اسے کچھ حاصل نہ ہوا تو اس نے اس دور کے "رویبضات"(نا اہل حکمرانوں) کو ایران کے ساتھ اپنے مذاکرات کی سرپرستی کرنے کا حکم دیا تاکہ شاید وہ اسے اس کے بحران سے نکال سکیں، اور وہاں اس کے لیے ایسے غدار تلاش کر سکیں جو اسے وہ حاصل کرنے کے قابل بنائیں جس سے وہ عاجز رہی۔ تاہم، اب ایران میں جو کچھ ظاہر ہو رہا ہے وہ ان لوگوں کے پلڑے کا بھاری ہونا ہے جو امریکہ سے آزادی حاصل کرنے کی پکار لگا رہے ہیں، ایک ایسا غلبہ جسے اگر اللہ کی رضا کے مطابق استعمال نہ کیا گیا تو یہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔
یہ ایک ایسا پیغام ہے جو ہم بھیج رہے ہیں جس سے ہمارا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے، اور ایک نصیحت ہے جو ہم ایران میں زمامِ کار سنبھالنے والوں کو پیش کرتے ہیں: بے شک امریکہ اور اس کے پروردہ (یہودی وجود) پر آپ کی بمباری نے انہیں تکلیف پہنچائی اور ان کی کمزوری اور رسوائی کو ظاہر کیا، اور یہ کہ ساز و سامان کے مالک ہونے کے باوجود وہ مردانِ کار سے محروم ہیں۔ اور یہ کہ آپ اپنی فوجی اور صنعتی صلاحیتوں، اور اس تزویراتی مقام اور جغرافیائی تنوع کی بدولت جو اللہ تعالیٰ نے ایران کو بخشا ہے جس سے وہ اپنی خوراک خود تیار کر سکتا ہے، اور توانائی، گیس اور معدنیات کے جو ذرائع اللہ نے اسے عطا کیے ہیں، اور ایک ربانی آئیڈیالوجی کی بدولت؛ اللہ عزوجل کی معیت سے ایران کو دوسری خلافتِ راشدہ کا مرکز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پس فرقہ وارانہ، مسلکی اور قومی بیانیے کو چھوڑ دیں اور اسلام کے اس خالص اور پاکیزہ بیانیے کو اختیار کریں جیسا کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا تھا، اسے مسلم اقوام اور ان کے مخلص فوجیوں کی طرف موڑ دیں، کیونکہ یہ لمحہ فیصلہ کن ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ ہے، شاید اسے سننے اور سمجھنے والے کان مل جائیں۔
﴿وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ﴾
"اور اگر تم منہ پھرو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا، پھر وہ تمہاری طرح کے نہیں ہوں گے" (سورۃ محمد، آیت 38)




