بسم الله الرحمن الرحيم
عاصم منیر کی سخت گیر پالیسی
دوسرے ممالک کو عظمت کے حصول کے قابل بنانے کے لیے ہے
تحریر: استاد عبدالمجید بھٹی
(ترجمہ)
پاکستان اور افغانستان ایک بار پھر ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر آ کھڑے ہوئے ہیں، جس سے چین کی جانب سے نمایاں طور پر پیش کیے گئے جنگ بندی کے عمل کو زک پہنچ رہی ہے۔ پاکستان ایک عرصے سے افغانستان پر یہ الزام لگا رہا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور ان عناصر کو پناہ دے رہا ہے جو پاکستانی حدود میں حملے کرتے ہیں، جبکہ طالبان حکومت اس کی سختی سے تردید کرتی ہے۔ دوسری جانب، کابل نے اسلام آباد پر بلا اشتعال فوجی کارروائیوں کا الزام عائد کیا ہے جن میں افغان شہری جاں بحق ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستان اپنے دفاع میں یہ اصرار کرتا ہے کہ وہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
تاہم، خطرات محض سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں ہیں، کیونکہ اسلام آباد، امریکہ کی زیرِ نگرانی ایران، مصر، ترکی اور خلیجی ممالک پر مشتمل ایک نئے علاقائی سیکورٹی ڈھانچے اور وسیع تر یوریشین رابطے میں خود کو ایک مرکزی ستون کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے عزائم کی تکمیل کے لیے ساکھ، پائیدار سرحدوں اور قابلِ اعتماد علاقائی تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ بگڑتے ہوئے مغربی محاذ کے ہنگاموں کی۔ حالیہ کشیدگی ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے: کیا پاکستان اپنے پڑوس کے سیاسی معاملات سنبھالنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، جس کے باعث اب جبر، بد اعتمادی اور جغرافیائی و سیاسی رسہ کشی ہی واقعات کا رخ طے کر رہی ہے؟
حالات کی اس خرابی کا ایک بڑا حصہ جنرل عاصم منیر کی قیادت کے دوران سامنے آیا ہے۔ نومبر 2022 میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی جگہ سنبھالنے کے بعد سے، منیر نے افغانستان کے حوالے سے تیزی سے 'سیکیورٹی فرسٹ' (سیکیورٹی کو مقدم رکھنے) کا نظریہ اپنایا ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر واپسی، 2670 کلومیٹر طویل ڈیورنڈ لائن پر سخت سرحدی نگرانی، اور تحریک طالبان پاکستان کے نیٹ ورک کے خلاف مسلسل فوجی کارروائیاں جیسے اقدامات سیاسی سفارت کاری کے مقابلے میں جبری حل کی ترجیح کو ظاہر کرتے ہیں۔
منیر کا سیکیورٹی پر مبنی یہ نقطہ نظر صرف مغربی پڑوسی تک محدود نہیں ہے۔ مئی 2025 میں پاکستان نے اپنی سرزمین پر ہونے والے بلا اشتعال حملوں کے جواب میں بھارت کے ساتھ جنگ لڑی اور اپنے روایتی حریف پر فضائی برتری حاصل کر لی، جس نے بھارت کو امریکہ سے جنگ بندی کی اپیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس کامیابی نے ٹرمپ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ منیر کو ایران کے خلاف امریکہ کی ناکام جنگ کو ایک نئے علاقائی سیکورٹی اور اقتصادی ڈھانچے کے ذریعے سیاسی کامیابی میں بدلنے کے لیے اہم کردار دیں، تاکہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھ سکے۔
پاکستان نے یہی سیکیورٹی منطق اندرونی طور پر بھی نافذ کی، جس کے نتیجے میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور حال ہی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیکیورٹی مہمات تیز ہو گئیں۔ یہ چیلنجز موجودہ فوجی قیادت کے دور میں پیدا نہیں ہوئے تھے، لیکن حقیقی اختلافِ رائے پر ریاست کے بڑھتے ہوئے پرتشدد ردعمل نے مسائل حل کرنے کے بجائے عوامی شکایات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اپنے اندرونی مخالفین کو دبانے کے لیے تشدد کا استعمال منیر کے دور میں ریاست کی طاقت کی علامت نہیں، بلکہ اس بات کی دلیل ہے کہ عوام کی نظر میں ریاست کا قانونی جواز اپنی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ یہی رویے اب سرحد پار کابل میں بھی نمایاں ہیں، جہاں افغانستان جو کبھی پاکستان کی سٹریٹیجک گہرائی سمجھا جاتا تھا، اب انتقامی جذبے کے ساتھ اس کے مدمقابل کھڑا ہے۔
یہ تبدیلیاں پاکستان کے دشمنوں اور حامیوں کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہیں۔ بھارت نے 'اکھنڈ بھارت' کے خواب کی تکمیل کے لیے افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مستحکم کر لیے ہیں۔ وہ نہ صرف کابل اور اسلام آباد کے اختلافات کو ہوا دے رہا ہے، بلکہ وہ افغان سرزمین کو بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر پاکستان کی گرفت کمزور کرنے کے لیے استعمال کرنے کا بھی خواہاں ہے۔ بھارت پاکستان کو ایک باغی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے جسے ہر قیمت پر کمزور کر کے دوبارہ 'مادرِ ہند' میں ضم کیا جانا چاہیے۔ ایک اور فریق جو پاکستان کی تقسیم کے درپے ہے، وہ یہودی وجود ہے جو پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں اپنے علاقائی عزائم کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتی ہے، اور وہ بھارت کے ساتھ اس تشویش میں برابر کی شریک ہے کہ پاکستان کی قوت ان دونوں کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔
جہاں تک روس کا معاملہ ہے، اس نے افغانستان میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے حال ہی میں ان کے ساتھ ایک فوجی شراکت داری کا معاہدہ کیا ہے۔ روس وسطی ایشیائی ریاستوں پر اپنی بالادستی برقرار رکھنے اور وسطی ایشیا سے مشرقی یوکرین تک پھیلے ہوئے 'عظیم تر روس' کی بحالی کی خاطر مسلح اسلامی گروہوں کو اپنی جنوبی سرحدوں سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ روس مشرق وسطیٰ میں ایک نیا سیکورٹی ڈھانچہ قائم کرنے کی منیر کی کوششوں کی بھی سخت مخالفت کرتا ہے، کیونکہ یہ امریکی تسلط کو دوام بخشے گا۔
واشنگٹن، ایران پر ٹرمپ کو سیاسی فتح دلانے کی خاطر امن معاہدہ ترتیب دینے کی منیر کی کوششوں کی اعلانیہ حمایت کر رہا ہے، اور اس نے افغانستان سے پاکستانی سیکورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔ تاہم، واشنگٹن اور منیر کے سیاسی مراسم عارضی مفادات پر مبنی ہیں۔ امریکہ کا طویل مدتی مفاد اس میں ہے کہ پاکستان ایک کارآمد علاقائی شراکت دار تو رہے مگر وہ 'اکھنڈ بھارت' یا یہودی وجود کے عزائم کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ اور جب وقت آئے گا، تو امریکہ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت کو تقویت دینے اور ایشیا بحر الکاہل میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر ایک کمزور پاکستان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔
چین غالباً واحد بڑی طاقت ہے جس کا طویل مدت میں ریاستِ پاکستان کی سلامتی اور بقا میں حقیقی سٹریٹیجک مفاد جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کا استحکام اور اس کی صلاحیتیں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI)، بالخصوص پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، جو اس منصوبے کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ معیشت کے ساتھ ساتھ، چین پاکستان کو افغانستان سے مشرقی ترکستان تک انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک مضبوط رکاوٹ اور بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ایک اہم سٹریٹیجک توازن کے طور پر دیکھتا ہے۔ لہٰذا، پاکستان کے لیے چین کی حمایت محض جذبات یا دو طرفہ تعلقات پر نہیں، بلکہ اس کے طویل مدتی جغرافیائی و سیاسی مفادات پر مبنی طاقت کے توازن کے حقیقت پسندانہ تخمینے پر استوار ہے۔
منیر شاید اپنے اس نظریے کو، جو اندرونی و بیرونی طور پر سیکیورٹی کو مقدم رکھنے پر مبنی ہے، اپنی دائمی عظمت کی بنیاد سمجھتے ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی اس سخت پالیسی نے محض دوسرے ممالک کے لیے پاکستان کی قیمت پر عظمت حاصل کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ ان کے لیے بہتر یہ ہوتا کہ وہ خطے میں اسلام کی سربلندی کو یقینی بنانے کے لیے سلجوقیوں، غزنویوں، مغلوں اور ان کے بعد آنے والے افغان حکمرانوں کے طرزِ حکمرانی کو اپناتے، جنہوں نے بیرونی طاقتوں کو دور رکھتے ہوئے نہایت مہارت سے داخلی سیاست کو سنبھالا تھا۔





