الأربعاء، 01 صَفر 1448| 2026/07/15
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

کرپشن کے خاتمے کے لیے 'صولة الفجر' (فجر کی یلغار) مہم

وہم اور حقیقت کے درمیان

 

تحریر: استاد احمد الطائی – ولایہ عراق

 

(ترجمہ)

 

 

عراق 2003ء میں اپنے قبضے کے وقت سے مالی اور انتظامی بدعنوانی (کرپشن) کے پھیلاؤ کا شکار ہے، جس نے ریاستی اداروں اور عوامی اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے کرپشن کے خاتمے کے وعدے تو کیے، لیکن یہ ناسور ان تمام حکومتوں کے لیے ایک مستقل چیلنج بنا رہا اور اس کی شدت میں مزید اضافہ ہی ہوا۔ امریکہ کی تائید اور خوش آمدید کے ساتھ علی زیدی کے سربراہِ حکومت بننے کے بعد ، جبکہ امریکہ نے کوآرڈینیشن فریم ورک کے امیدوار نوری المالکی اور مسلح گروہوں (فصائل) سے وابستہ کسی بھی امیدوار کو مسترد کر دیا تھا اور اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی تھی ، زیدی میدان میں آئے اور اپنے پیشرو کی طرح کرپشن کے خاتمے کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دینے کا عہد کیا۔ اپنی ساکھ کی سچائی ثابت کرنے کے لیے انہوں نے اتوار 28 جون 2026ء کی صبح بدعنوان عناصر اور سرکاری مال میں خرد برد کرنے والے ملزمان کے خلاف ایک وسیع مہم کا آغاز کیا، جسے "صولة الفجر" (فجر کی یلغار) کا نام دیا گیا۔ اس مہم کے نتیجے میں اب تک درجنوں حکام بشمول سیاسی بلاکوں کے سربراہان اور پارلیمنٹ کے ارکان گرفتار ہو چکے ہیں، اور تقریباً دس کروڑ ڈالر کے ساتھ ساتھ درجنوں جائیدادیں اور سونے کی بھاری مقدار بھی ضبط کی جا چکی ہے۔ اس کارروائی سے قبل 30 مئی 2026ء کو صوبہ صلاح الدین کے علاقے اسحاقی سے وزارتِ پٹرولیم کے سابق نائب وزیر عدنان الجمیلی کو گرفتار کیا گیا تھا، جن کے قبضے سے بھاری رقوم برآمد ہوئی تھیں۔ ان سے ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں ہی اس وسیع آپریشن کا راستہ ہموار ہوا اور مثنیٰ السامرائي اور عالیہ نصیف جیسے ممتاز سیاستدانوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ اس مہم کے دوران عراق کے مختلف علاقوں بشمول بغداد کے انتہائی محفوظ تصور کیے جانے والے "گرین زون" میں چھاپے مارے گئے۔ تاہم، بہت سے تجزیہ کار اب بھی اس مہم کی شفافیت اور ساکھ کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ مہم اس وقت تک بے معنی ہے جب تک سیاسی بلاکوں کے سربراہان اور بڑے عہدیداروں جیسی "بڑی مچھلیوں" پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔

 

دوسری طرف، بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس مہم کا وقت یہ سوالات پیدا کرتا ہے کہ کیا یہ کسی حقیقی قومی ضرورت کا جواب ہے یا پھر یہ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کی ایک تمہید ہے، خاص طور پر ان معاشی اور سرمایہ کاری کی اصلاحات کے تناظر میں جن پر اس دورے کے دوران بات ہونی ہے؟

 

لیکن اس مہم کے اصل محرکات کو سمجھنے اور یہ جاننے کے لیے کہ کیا یہ واقعی عراق کے مسائل کا کوئی موثر علاج ہے، ایک ایسی حقیقت جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، وہ یہ ہے کہ ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ عراق میں فساد محض مال کی چوری تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ یہ اخلاقی گراوٹ، جرائم کی بھرمار، منشیات کی وبا اور مسلح گروہوں کی جانب سے عوام کے استحصال تک جا پہنچا ہے۔ ان سب میں بدترین فساد فرقہ وارانہ فتنوں اور تنظیمِ دولت (داعش) کے ہاتھوں لاکھوں بے گناہ انسانوں کا قتلِ عام ہے، اور اس کے علاوہ بے شمار ایسی خرابیاں ہیں جو پورے ملک میں ناسور کی طرح پھیل چکی ہیں۔ یہ سب اس فاسد نظام کا لازمی نتیجہ ہے جو سیاسی بندر بانٹ اور بدعنوانوں کی سرپرستی پر مبنی ہے۔

 

اس لیے ہم کہتے ہیں کہ چوروں کے تعاقب کو یہ جو میڈیا کی چمک دمک اور ہالہ دیا جا رہا ہے، جبکہ وہ پورا نظام اپنی جگہ برقرار ہے جس نے ان چوروں کو اور ملک میں پھیلے ہوئے ہر طرح کے فساد کو جنم دیا، تو یہ اس زخمی قوم کے دکھوں کا نہ تو کوئی کارگر علاج ہے اور نہ ہی بہترین حل۔ عراق کا اصل مسئلہ محض چند بدعنوان چوروں کا ٹولہ نہیں ہے جنہیں ایک ایسے نظام کی خاطر قربانی کا بکرا بنا دیا جائے جو امریکی قابض نے مسلمانوں کے ایک ملک پر مسلط کیا ہے، کیونکہ جب تک بیماری کی اصل جڑ موجود ہو، محض علامات کا علاج کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اصل بیماری امریکی قابض کی موجودگی اور اس کا اس سیاسی نظام پر مکمل کنٹرول ہے جو اس نے قبضے کے وقت سے عراق پر تھونپ رکھا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اس اصل وجہ کا کہیں ذکر تک نہیں کیا جاتا، بلکہ عراقی عوام کو اس وہم میں مبتلا رکھا جاتا ہے کہ مسئلہ صرف افراد کا ہے، تاکہ یہ قوم — جس میں ابھی سیاسی شعور کی کمی ہے — چہروں کی تبدیلی کے لامتناہی چکر میں ہی الجھی رہے۔ اس کی واضح مثال سابق وزیراعظم محمد شیاع السودانی ہیں، جنہیں امریکی قابض کی بھرپور حمایت حاصل تھی اور ان پر اکثر تعریفوں کے پل باندھے جاتے تھے، لیکن اب یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ خود بدعنوانوں کے سرغنہ تھے۔

 

امریکہ کو ایک ایسے مسیحا یا نجات دہندہ کے طور پر دیکھنا جو کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا، محض سیاسی سادہ لوحی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ خود کرپشن کا سرپرست ہے اور اس نے وہ سیاسی نظام مسلط کر کے اس ناسور کو مستحکم کرنے میں پورا حصہ ڈالا ہے جس نے یہ تمام بحران پیدا کیے ہیں۔ اس لیے عراق کے مسلمانوں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرپشن کی اصل وجہ کیا ہے؛ اور وہ صرف ایک ہی وجہ ہے یعنی وہ سیاسی نظام جو ان کے معاملات پر قابض ہے۔ اس نظام کے پیدا کردہ نتائج کا کوئی بھی تدارک، جب تک اس حقیقت کے ادراک کے بغیر ہو کہ یہی نظام تمام تر فساد کی بنیادی جڑ ہے، اسے نہ تو حقیقی علاج مانا جا سکتا ہے اور نہ ہی اصلاح۔

 

اسی طرح، یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی مسئلے کا حل نہ تو خود اس مسئلے کے اندر موجود ہوتا ہے اور نہ ہی اسے پیدا کرنے والے کے ذریعے ممکن ہے، بلکہ کسی بھی مسئلے کا حقیقی خاتمہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اس کے اصل سبب اور اسے پیدا کرنے والی بنیاد کو جڑ سے ختم کر دیا جائے۔

 

یہ دیکھنا انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے کہ مسلمانوں کے ممالک اس حال کو پہنچ چکے ہیں، اور ہم ان مسلمانوں کو دیکھ رہے ہیں جو عظیم ترین عقیدہ اور بلند ترین فکر کے مالک ہونے کے باوجود اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنے ہی دشمنوں کے سامنے ہاتھ پھیلا رہے ہیں! کیا یہ اس بہترین امت کے شایانِ شان ہے جو اپنے مسائل اپنے اس سیاسی نظام کے ذریعے حل کیا کرتی تھی جسے اس کے خالق اور مدبر (اللہ تعالیٰ) نے اس کے لیے منتخب کیا تھا؟ اسی بنا پر مسلمانوں کے لیے یہ سمجھنا لازم ہے کہ ان کی حقیقی عزت اور حالات کی درستی صرف اللہ کی شریعت کے نفاذ اور اس اسلامی نظامِ حکومت کے قیام میں ہے جو جان، مال اور آبرو کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، اور امت کو حکمرانوں کے محاسبے کا حق عطا کرتا ہے، اور جہاں کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہوتا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:«إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا»"تم سے پہلے لوگ صرف اس لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے (سزا دیے بغیر) چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔"

 

حاصلِ کلام یہ ہے کہ حقیقی تبدیلی اور ہر طرح کی بدعنوانی کا مکمل خاتمہ محض چند مخصوص مہمات چلانے اور کچھ بدعنوان عناصر کی قربانی دینے سے ممکن نہیں ہے، بلکہ اس فاسد نظام کا خاتمہ ناگزیر ہے جس نے اس تمام تر فساد کو جنم دیا ہے، اور اس (اسلامی) نظام کا قیام لازم ہے جسے ربِ ذوالجلال نے فرض کیا ہے۔

 

 

Last modified onبدھ, 15 جولائی 2026 15:31

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک