السبت، 05 محرّم 1448| 2026/06/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

فدان کا علاقائی سیکورٹی ڈھانچہ: مسلم افواج اور دولت کے ذریعے یہودی وجود کے تحفظ کا امریکی منصوبہ!

 

 

تحریر: استاد مناجی محمد

 

(ترجمہ )

 

ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان نے اقتصادی اخبار 'نکی ایشیا' (Nikkei Asia) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہودی وجود کو "بالآخر مشرق وسطیٰ کے ایک نئے علاقائی سیکورٹی ڈھانچے میں ضم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ 1967 کی حدود میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے۔" انہوں نے تعاون کا ایک فریم ورک بنانے کے حوالے سے جسے انہوں نے "تاریخی موقع" قرار دیا، ذکر کیا جس میں ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ریاستوں سمیت کئی علاقائی طاقتیں شامل ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اگر مناسب حالات میسر آئے تو مستقبل میں ایران بھی اس فریم ورک میں شامل ہو سکتا ہے۔" فدان نے اس بات کی نشاندہی کی کہ "واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں مسلسل بہتری آ رہی ہے جو غزہ کے لیے امن منصوبے پر بات چیت کو تیز کر سکتی ہے اور پورے خطے کے استحکام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔"

 

یہ مغربی استعماری پالیسی کا پرانا اور نیا دونوں رخ ہے اور اسلام کے ساتھ اس کا جاری تہذیبی تصادم ہے، جو اپنے موجودہ امریکی ورژن میں سامنے آ رہا ہے۔ یہ خطے میں مغرب کے سٹریٹیجک مرکز یعنی یہودی وجود کو مضبوط کرنے کی مغرب کی مسلسل کوشش ہے۔ اس یہودی وجود کو ہلا کر رکھ دینے والی حالیہ اتھل پتھل، جس نے اس کی فوجی کمزوری اور سیکورٹی کی نزاکت کو بے نقاب کر دیا ہے، اور ایران پر اپنی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی امریکہ کی سٹریٹیجک اور فوجی مشکل صورتحال کے باعث، باوجود اس کے کہ امریکہ غاصب یہودی وجود کی سیکورٹی کا بنیادی ضامن ہے، یہودی وجود کا سیکورٹی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس کی اندرونی سیکورٹی بے نقاب ہو چکی ہے، اور امریکی سیکورٹی چھتری ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

 

امریکہ اور یہودی وجود دونوں کے لیے اس نازک سیکورٹی اور سٹریٹیجک صورتحال میں، ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان کی طرف سے تجویز کردہ اسٹریٹجک سیکورٹی پروجیکٹ سامنے آیا۔ جمعرات، 28 مئی کو انہوں نے بیان دیا کہ، "خطے کو علاقائی تعاون اور ایک علاقائی سیکورٹی ڈھانچے کے قیام کی ضرورت ہے۔" انہوں نے واضح کیا کہ اس کا "آغاز دو یا تین ممالک سے ہو سکتا ہے، لیکن یہ مثالی ہوگا اگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسے ڈھانچے میں بدل جائے جس میں خطے کے زیادہ تر ممالک شامل ہوں،" بشمول ایران اور یہودی وجود کے۔

 

علاقائی سیکورٹی ڈھانچے کا یہ منصوبہ فدان یا ان کے سربراہ ایردگان کی تخلیق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بدنیتی پر مبنی اور خطرناک امریکی منصوبے کا عکاس ہے جو کہ ابراہم ایکارڈز (Abraham Accords) کا گویا سیکورٹی جزو ہے۔ اس منصوبے کا مقصد یہودی وجود کو خطے میں ضم کرنا اور خطے کے ممالک کو اس کی سیکورٹی کے دفاع کا پابند بنانا ہے، جبکہ کافر مغرب اور بالخصوص امریکہ کو اس دفاع کے اخراجات اور نتائج سے مستثنیٰ قرار دینا ہے۔ یہ ایک بے مثال سیکورٹی منصوبہ ہے جو اس منحوس یہودی وجود کے دفاع اور سیکورٹی کے تحفظ کی ذمہ داری کافر مغرب اور بالخصوص امریکہ سے منتقل کر کے خطے کی ماتحت ریاستوں پر ڈال دے گا۔ یہ غداری اور سیاسی کینہ پروری کی انتہا ہے کہ مسلمانوں کی افواج کو، جن کے مقدسات کو ذلیل یہودی وجود نے غصب کر رکھا ہے، اسی قابض یہودی وجود کی بقا کا محافظ اور ضامن بنا دیا جائے!

 

فدان کی جانب سے تجویز کردہ علاقائی سیکورٹی ڈھانچے کا منصوبہ بنیادی طور پر امریکہ کا ایک سیکورٹی پروجیکٹ ہے جس کا مقصد یہودی وجود کی سیکورٹی کی ضمانت دینا اور اسے امریکی اخراجات کے بغیر خطے میں ضم اور مستحکم کرنا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اپنی تاریخ کے بدترین سٹریٹیجک  اور جغرافیائی-سیاسی (جیو اسٹریٹجک) بحران سے گزر رہا ہے، جسے اس کے تباہ کن اور فلک بوس قرضوں کے بوجھ نے مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس مجوزہ سیکورٹی منصوبے کا مقصد امریکہ کے بوجھ کو ہلکا کرنا اور اخراجات کو کم کرنا ہے، تاکہ ان لوگوں کے وجود کی حفاظت — یعنی وہ یہودی جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا — خطے کی ریاستوں اور افواج کی ذمہ داری بن جائے، اور اس کے اخراجات مسلم اقوام کی دولت اور وسائل سے پورے کیے جائیں۔ اس سیکورٹی اتحاد کے ذریعے، جس میں یہودی وجود بھی ایک فریق ہے، استعماری مفادات کی آلہ کار ریاستیں سرکاری اور بین الاقوامی سطح پر اس بات کی پابند اور ذمہ دار بن جائیں گی کہ وہ امتِ مسلمہ کے بیٹوں کے خلاف غاصب یہودی وجود کا دفاع کریں۔ بالفاظِ دیگر، مسلمان افواج اپنے ہتھیاروں اور سرمائے کے ساتھ اپنے ان یہودی دشمنوں کی سیکورٹی کی خاطر مسلمانوں ہی سے لڑیں گی جنہوں نے ان کے مقدسات پر قبضہ کر رکھا ہے!

 

پھر ہاکان فدان کے پیش کردہ اس امریکی سیکورٹی منصوبے میں ایک اور نیا عنصر بھی ہے: اس ڈھانچے میں ایران کی شمولیت اور اسے ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان تک وسعت دینا۔ ایران کی شمولیت انتہائی چشم کشا ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ اردگان حکومت ایران کو ایک تابع اور فرماں بردار ریاست میں تبدیل کرنے کے امریکی منصوبے میں برابر کی شریک ہے، تاکہ ایران غاصب یہودی وجود کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے اور اس وجود کا دفاع کرنے والے مستقبل کے سیکورٹی نظام کا حصہ بن جائے۔ جہاں تک علاقائی سیکورٹی ڈھانچے میں پاکستان کو شامل کرنے کا تعلق ہے، تو اس کا مقصد پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں کو محدود اور یہاں تک کہ مفلوج کرنا ہے، اور اگر یہ ایٹمی طاقت باقی رہے تو اسے یہودی وجود کے خلاف کسی بھی خطرے کو روکنے کے لیے استعمال کرنا ہے، کیونکہ پاکستان اس سیکورٹی منصوبے کا حصہ بن چکا ہوگا جو یہودی وجود کے تحفظ کے لیے وضع کیا گیا ہے۔

 

غداری اور رسوائی پر مبنی یہ حکومتیں کافر مغربی تہذیبی منصوبے کا ایک لازمی حصہ رہی ہیں اور اب بھی ہیں، جو ہماری سرزمینوں میں نصب کافر مغرب کے اڈوں کے طور پر کام کر رہی ہیں، جبکہ یہ غدار حکمران ان اڈوں کے محافظ اور کافر مغرب کے کارندے ہیں۔ ترکیہ اس کی ایک مثال ہے، اور آج اس کے حکمران کا کردار امریکہ کے استعماری منصوبوں کی خدمت بجا لانا ہے۔ عراق، افغانستان، شام، سوڈان، آذربائیجان، لیبیا اور اب ہماری مقبوضہ ارضِ مقدس فلسطین میں بھی یہی صورتحال رہی ہے۔ اردگان کے وزیر خارجہ کی جانب سے علاقائی سیکورٹی ڈھانچے کا اعلان دراصل امریکہ کے سیکورٹی پلان کی تشہیر کا ایک حربہ ہے، جس کا مقصد ماتحت ریاستوں کو غاصب یہودی وجود کی سیکورٹی کا پابند بنانا اور امریکہ کو اس کے بوجھ، اخراجات اور نتائج سے نجات دلانا ہے۔ فدان نے خود اعتراف کیا کہ: "میرا ماننا ہے کہ 'اسرائیل' کی سیکورٹی کو خطے کے ممالک کی طرف سے بھرپور تعاون حاصل ہوگا۔"

 

اردگان اور اس کے ساتھی اسلام پر وار کرنے اور اس کی امت اور سرزمین پر غلبہ پانے کے کافر مغربی منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس کا وزیر خارجہ، فدان، امریکہ کی اس مکارانہ اور خطرناک اسکیم کا معمار ہے جس کے تحت ان مسلمانوں کی افواج اور دولت کے ذریعے غاصب یہودی وجود کا دفاع کیا جائے گا جن کے مقدسات پر قبضہ کیا گیا ہے۔ اس طرح مسلمانوں کی افواج غاصب یہودی دشمن کی سیکورٹی کے تحفظ کے لیے خود اپنی ہی امتِ مسلمہ کے خلاف برسرِ پیکار ہوں گی۔ کافر امریکہ نے یہی منصوبہ بنایا تھا، اور انقرہ کے شعبدہ باز، اردگان نے اپنے وزیر خارجہ ہاکان فدان کے ذریعے اس منصوبے پر عمل درآمد کی کوشش کی ہے!

Last modified onجمعہ, 19 جون 2026 21:43

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک