بسم الله الرحمن الرحيم
لفظی گولہ باری اور جغرافیائی سیاسی حقائق کے درمیان: ترکیہ اور یہودی وجود کے تعلقات کس سمت جا رہے ہیں؟
تحریر: انجینئر وسام الاطرش
(ترجمہ)
ایک طرف ترک صدر ایردگان، یہودی وجود کے خلاف اپنے لفظی حملوں میں تیزی لا رہے ہیں، "سرزمینِ موعود کے سراب" سے خبردار کر رہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ترکیہ کی سلامتی ہاتے (Hatay) سے نہیں بلکہ حلب، دمشق اور بیروت سے شروع ہوتی ہے (الجزیرہ، 10 جون 2026)، تو دوسری جانب خطہ ایک ایسے منظرنامے کا سامنا کرتا نظر آ رہا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انقرہ اور تل ابیب مخالف سمتوں میں بڑھ رہے ہیں اور ایک ناگزیر تصادم کی تیاری کر رہے ہیں۔ استعمال کی جانے والی زبان اپنی شدت میں بے مثال ہے، اور باہمی الزامات روایتی تنازعات سے تجاوز کر کے علاقائی مستقبل کے تصورات پر کشمکش کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
تاہم، سیاست کی تشریح محض تقاریر سے نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے ریاستی اداروں کے گہرے رجحانات، فوجی اتحادوں اور طویل مدتی جغرافیائی سیاسی پوزیشننگ کو دیکھنا ضروری ہے۔
یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا ایردگان کے بیانات کسی ایسی سٹریٹیجک تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں جو ترکیہ کو اس نظام سے باہر نکال دے گی جس کا یہودی وجود ایک علاقائی ستون بننے کی کوشش کر رہا ہے؟ یا یہ بیانات داخلی مطالبات اور جغرافیائی سیاسی پوزیشننگ کے حقائق کے درمیان ایک پیچیدہ تضاد کو سیاسی طور پر سنبھالنے کا ایک ذریعہ ہیں؟ ہم بیان بازی میں اس شدت کو کیسے سمجھ سکتے ہیں جو ان کے وزیر خارجہ، ہاکان فیدان کے اس بیان کے محض ایک ہفتے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے پاکستان سے خلیج تک پھیلے ہوئے ایک علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی بات کی تھی، جس میں ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ریاستیں شامل ہوں، اور بعد میں ایران اور یہودی وجود کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ 1967 کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں؟
اس سوال کا جواب دینے کے لیے، ہمیں پہلے تجزیہ کی دو مختلف سطحوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا: سیاسی بیانیے کی سطح اور ریاست کی سٹریٹیجک پوزیشننگ کی سطح۔ ریاستیں اکثر لسانی سطح پر آپس میں ٹکراتی ہیں جبکہ وہ انہی فریم ورک کے اندر کام کرنا جاری رکھتی ہیں جو انہیں متحد کرتے ہیں۔ ترکیہ اور یہودی وجود کے درمیان تعلقات کی حالیہ تاریخ اس تضاد کی ایک واضح مثال پیش کرتی ہے۔
ان کے درمیان تعلقات کا آغاز ایردگان سے نہیں ہوا تھا، اور نہ ہی یہ کبھی محض ایک عارضی سفارتی تعلق تھا۔ ترکیہ نے باضابطہ طور پر 1949 میں یہودی وجود کو تسلیم کیا۔ پھر اس نے 1952 میں نیٹو (NATO) میں شمولیت اختیار کی، جس کے نتیجے میں پینٹاگون کے ہزاروں ماہرین ترکیہ پہنچے، جو اپنے ساتھ ویسٹ پوائنٹ کا فوجی نظریہ لائے۔ یہ نظریہ مسلسل تناؤ اور الرٹ کی حالت برقرار رکھنے کے لیے بیرونی دشمنوں کی تخلیق پر مبنی ہے۔ ترکیہ تب سے امریکہ کا اتحادی اور زیرِ سرپرستی رہا ہے۔
1990 کی دہائی میں، مشرق وسطیٰ میں فوجی تعاون کے سب سے اہم محوروں میں سے ایک انقرہ اور تل ابیب کے درمیان قائم ہوا۔ 1996 میں، انہوں نے وسیع دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے جن میں انٹیلی جنس تعاون، فوجی تربیت، ترک فوجی ساز و سامان کی جدید کاری اور مشترکہ مشقیں شامل تھیں۔ یہ محض ایک عارضی سٹریٹیجک قربت نہیں تھی، بلکہ ایک وسیع تر امریکی وژن کا عکس تھا جس نے ترکیہ اور یہودی وجود دونوں کو اس علاقائی نظام کے دو بنیادی ستون قرار دیا تھا جو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ابھرا تھا۔
خفیہ سفارتی رپورٹس سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ لبنان میں یہودی سرگرمیوں کے کوآرڈینیٹر اور لبنانی معاملے پر موساد کے مرکزی مہرہ یوری لوبرانی، ترکیہ اور یہودی وجود کے درمیان سیکورٹی معاہدے کی تیاری کے پسِ پردہ ان گمنام سپاہیوں میں سے ایک تھے جنہیں منظرِ عام پر نہیں لایا گیا۔ یوری لوبرانی ایران کے معاملات کے بھی ماہر تھے، اور رابن نے 1990 میں انہیں ترکیہ کے امور کی نگرانی کی ذمہ داری تفویض کی تھی۔ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان سٹریٹیجک سودا فوجی تعاون کے ان جامع اقدامات کا نقطہ کمال ہے، جس میں شام اور ایران کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اور نگرانی کے نیٹ ورک کا قیام بھی شامل ہے۔ اگرچہ انقرہ اور تل ابیب کے درمیان فوجی معاہدہ شمعون پیریز کی صدارت کے دوران شلر کی وساطت سے طے پایا تھا، لیکن نیتن یاہو نے شام اور ترکیہ کے درمیان پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے شام کے خلاف ایک تصادمی رنگ دے دیا۔ وہ یہودی 'ڈیپ اسٹیٹ' کی خواہشات کے عین مطابق شام کو کمزور کرنے کے لیے سرگرمی سے کوشاں تھے، اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو یہودی فوجی لٹریچر میں باقاعدہ دستاویزی طور پر محفوظ ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا تھا جب یہودی وجود نے 2003 میں استنبول میں منعقدہ ایک کانفرنس میں اعلان کردہ 'عظیم تر مشرقِ وسطیٰ کے منصوبے' (Greater Middle East Project) کے لیے سنگِ بنیاد کا کردار ادا کیا تھا۔
تاہم، سب سے اہم سوال یہ نہیں ہے کہ کیا 1990 کی دہائی کا اتحاد اب بھی اپنی اصل شکل میں برقرار ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ ساختی حالات واقعی ختم ہو چکے ہیں جنہوں نے اس اتحاد کو جنم دیا تھا؟ اس کا جواب سیاسی بیان بازی کے مقابلے میں بہت کم واضح نظر آتا ہے۔ مارچ 2022 میں یہودی وجود کے صدر اسحاق ہرزوگ نے ترکیہ کا دورہ کیا، جہاں ایردگان نے ان کے لیے سرخ قالین بچھایا اور ان کا استقبال ایک لیڈر اور ہیرو کی طرح کیا!
پھر ستمبر 2023 میں، ایردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں یہودی وجود کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ ترک ایوانِ صدر کی رپورٹ کے مطابق، ایردگان نے نیتن یاہو کے ساتھ بین الاقوامی اور علاقائی مسائل کے علاوہ دونوں فریقین کے درمیان سیاسی و اقتصادی تعلقات اور یہودی-فلسطینی تنازع سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ ایردگان نے ایک پرامن دنیا کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا کہ ترکیہ اور یہودی وجود کے درمیان تعاون کے شعبوں میں توانائی، ٹیکنالوجی، اختراع، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی شامل ہیں۔ یہاں تک کہ وزیرِ توانائی الپارسلان بائراکتار نومبر 2023 میں توانائی کے شعبے میں تعاون پر بات چیت کے لیے تل ابیب کا دورہ کرنے والے تھے، لیکن 'آپریشن طوفانِ اقصیٰ' کے واقعات نے اس غدارانہ منصوبے کی تکمیل کو روک دیا اور اس کے نفاذ کو درہم برہم کر دیا۔
قطع نظر اس کے، ترکیہ اب بھی نیٹو کا ایک کلیدی رکن ہے، اس کی دفاعی صنعتیں اب بھی مختلف درجات تک مغربی تکنیکی اور سیکورٹی ماحول میں مدغم ہیں، اور اس کی سیاسی قیادت اپنی قومی سلامتی کے لیے 'بحرِ اوقیانوس کے اتحاد' (Atlantic Alliance) کی اہمیت پر بطور ایک بنیادی فریم ورک مسلسل زور دیتی رہتی ہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہودی وجود کے خلاف ایردگان کے آتشیں بیانات ان کے اس عوامی خیرمقدم کے ساتھ سامنے آئے جو انہوں نے انقرہ میں ہونے والی آئندہ نیٹو سربراہی کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ کی شرکت کے حوالے سے کیا۔وہ ٹرمپ کی موجودگی کو اس صلیبی اتحاد کے استحکام کے لیے ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں (انادولو ایجنسی، 10 جون 2026)۔ یہ محض رسمی پروٹوکول کا معاملہ نہیں ہے۔
جغرافیائی سیاست کی دنیا میں، کسی ملک کی حقیقی ترجیحات ان اتحادوں سے ظاہر ہوتی ہیں جنہیں وہ ہنگامہ خیز حالات میں برقرار رکھتا ہے، نہ کہ اس بیان بازی سے جو وہ عوامی فورمز پر استعمال کرتا ہے۔ جہاں ترکیہ ایک طرف مغربی سیکورٹی ڈھانچے کے ساتھ اپنی وابستگی کی توثیق کرتا ہے، وہیں دوسری طرف یہودی وجود مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے مغربی حکمتِ عملی کا ایک مستقل جزو بنا ہوا ہے۔
دریں اثنا، ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم کالن نے مصر کا سفر کیا، اور وہ بظاہر غزہ میں رونما ہونے والے واقعات سے بے نیاز نظر آئے۔ مگر کیوں؟ تاکہ حماس کے ساتھ اس کے ہتھیار ڈالنے (غیر مسلح ہونے) کے بارے میں مذاکرات کیے جائیں، اور اس بات پر زور دیا جائے کہ مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد ہی غزہ میں دیرپا امن و سکون کی بحالی میں معاون ثابت ہو گا۔ (یوم 7، 9 جون 2026)۔
الفاظ اور افعال کے درمیان یہ واضح تضاد ہمیں ایردگان کے حالیہ بیانات کو ایک مختلف تناظر میں دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
یہ سب کچھ لازمی طور پر یہودی وجود کے ساتھ براہِ راست تصادم کی آمادگی کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ اس کے بجائے یہ انتہائی غیر مستحکم علاقائی ماحول کو سنبھالنے کی ایک کوشش ہے۔ انقرہ، شام، لبنان اور مشرقی بحیرہ روم میں جاری تبدیلیوں کو واضح تشویش کے ساتھ دیکھ رہا ہے، کیونکہ اسے ادراک ہے کہ علاقائی توازن کی کسی بھی نئی تشکیل سے اس کی حیثیت اور اثر و رسوخ براہِ راست متاثر ہوں گے۔ اگر امریکہ اس تنازع کو سنبھالنے میں ناکام رہا تو اسے ایران کے خلاف جنگ کے ممکنہ نتائج کا بھی خوف ہے۔ ساتھ ہی ساتھ، وہ اس بات کو بھی سمجھتا ہے کہ ترک عوام، اسلامی رائے عامہ کے دیگر حصوں کی طرح، غزہ کی جنگ اور یہودی پالیسیوں کو ایک اخلاقی اور سیاسی امتحان کے طور پر دیکھتے ہیں جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں، داخلی اور خارجی پہلو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں، اور عوامی جذبات ابھارنے والی بیان بازی غزہ اور لبنان کی حمایت میں فوجی بے عملی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے اس سے قبل شام کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا تھا۔
چنانچہ، یہودی وجود کے خلاف یہ سخت بیان بازی ترک قیادت کو عوامی اسلامی غصے کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے اور حریف اسلامی قوتوں کی اس صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین پر اپنی اجارہ داری قائم کریں، جس پر وہ خفیہ اور اعلانیہ طور پر عمل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ یہ علاقائی مسائل کے محافظ کے طور پر ترکیہ کے امیج کو بھی بہتر بناتا ہے۔ تاہم، یہ لازمی طور پر ان ساختی حقائق کو تبدیل نہیں کرتا جو بین الاقوامی نظام کے اندر ترکیہ کی حیثیت کا تعین کرتے ہیں۔
درحقیقت، غالب امکان یہی ہے کہ خطہ اتحادوں کی وسیع پیمانے پر تنظیمِ نو کے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے، جو مغربی طاقتوں، بالخصوص امریکہ کو نئے سیکورٹی فارمولے تلاش کرنے پر مجبور کر سکتا ہے جو بڑی علاقائی طاقتوں کو ایک دوسرے کے خلاف مسلسل نبرد آزما چھوڑنے کے بجائے انہیں (نظام میں) سمو سکے۔ ایسی صورت میں سوال یہ نہیں رہ جاتا کہ کیا انقرہ اور تل ابیب کے درمیان آج اختلافات موجود ہیں، بلکہ سوال یہ ہوگا کہ کیا کل "ابراہیمی مشرقِ وسطیٰ" کے پرچم تلے وسیع تر انتظامات کے اندر ان کے مفادات ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔
اس تناظر میں، لفظی حملوں کا تبادلہ شاید اتنا اہم نہ ہو جتنا وہ نظر آتا ہے۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا تعین سیاسی شور شرابے کی سطح سے نہیں، بلکہ ان گہرے مفادات کی سمت سے ہوتا ہے جن کی طرف وہ بڑھ رہی ہوتی ہیں۔ اب تک یہ مفادات ترکیہ کے اس نظام سے نکل جانے کی طرف اشارہ نہیں کرتے جس کا وہ حصہ ہے، بلکہ اس کے بجائے اس کے اندر اپنی پوزیشن پر نئے سرے سے سودے بازی کرنے کی کوشش ظاہر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے کسی مرحلے پر ترکیہ اور یہودی وجود کے درمیان مفادات کے ملاپ کا امکان، جنگ کے موجودہ ماحول میں چاہے کتنا ہی بعید از قیاس کیوں نہ لگے، مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی سیاسی حساب کتاب میں ایک ایسا امکان ہے جسے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔




