بسم الله الرحمن الرحيم
[حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے زیرِ اہتمام ہفتہ 21 رجب 1447ھ مطابق 10 جنوری 2026ء کو پارٹی کے چینل (الواقیہ) پر "خلافت امت کا فیصلہ کن مسئلہ ہے" کے عنوان سے منعقدہ سالانہ خلافت کانفرنس کی تقاریر سے اقتباس]
اختتامی خطاب: کیا ہم کمزوری اور انتشار کے اس دور میں خلافت قائم کر سکتے ہیں؟
انجینئر صلاح الدین عضاضہ
ڈائریکٹر مرکزی میڈیا آفس، حزبِ تحریر
(ترجمہ)
اللہ کے نام سے (آغاز کرتا ہوں) اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول ﷺ پر اور ان کی آل اور ان کے صحابہ پر اور ان پر جنہوں نے ان سے وفاداری کی۔
آج اسلامی امت کے ذہنوں میں کچھ اہم سوالات مسلسل گردش کر رہے ہیں، خاص طور پر شام، غزہ، سودان، یمن اور دیگر علاقوں میں ہونے والے واقعات کے بعد۔ ان سوالات کا خلاصہ درج ذیل چار سوالوں میں کیا جا سکتا ہے:
1۔ کیا مسلمان آج اپنی خلافت قائم کر سکتے ہیں اگر وہ اس کا فیصلہ کر لیں؟
2۔ اگر مسلمان آج اپنی خلافت بحال کر لیں، تو کیا وہ اسے ختم کرنے کی کسی فیصلہ کن ضرب سے محفوظ رہ سکے گی؟
3۔ اگر آج خلافت قائم ہو جائے، تو کیا وہ سیکیورٹی اور معاشی ناکہ بندی کی صورت میں خود کفیل ہو سکے گی؟
4۔ اور آخری سوال یہ ہے کہ: اگر آج خلافت قائم ہوتی ہے، تو کیا وہ دنیا کی موجودہ ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقابلہ کر پائے گی؟
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے کہ: کیا مسلمان آج اپنی خلافت قائم کر سکتے ہیں اگر وہ اس کا فیصلہ کر لیں؟
تو جواب یہ ہے کہ جی ہاں، وہ آج اپنی خلافت قائم کر سکتے ہیں، بلکہ وہ اسے محض چند گھنٹوں میں قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں... جی ہاں، چند گھنٹوں میں... کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ امتِ مسلمہ نے کئی ممالک میں ریکارڈ تیزی کے ساتھ سیاست اور سیکیورٹی کے توازن کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔ اسلامی امت ہمت والی اور تیز رفتار ہے اور اس کا معاملہ ایک ہی ہے؛ جب وہ کسی ایسی چیز کا پختہ ارادہ کر لیتی ہے جس میں اسے اپنی بلندی نظر آتی ہے، تو وہ اس پر ڈٹ جاتی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے اپنا خون، جانیں اور مال قربان کر دیتی ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ امت ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جاتی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو بیدار کرتی ہے، جس سے ہم آہنگی کے ایسے کام شروع ہوتے ہیں جو اکثر اوقات سخت مقابلے کے محاذوں میں بدل جاتے ہیں، جیسا کہ ہم نے ایک ایسے خطے میں "عرب بہار" کے دوران دیکھا جہاں کے تمام حکمران جابر تھے۔
اس تیزی، ہمت اور ہم آہنگی کی بنیادی وجہ خود اسلام میں پوشیدہ ہے، کیونکہ مسلمانوں کے افکار اور جذبات کا ایک سیاسی رخ ہے۔ عام مسلمانوں نے بچپن سے ہی اسلام کی تاریخ کے نمایاں پہلوؤں کو اس طرح یاد کر رکھا ہے:۔
1۔ غارِ حرا میں سیدنا محمد ﷺ پر قرآن کے نزول کا آغاز۔
2۔ جلیل القدر صحابہ کرام کا آپ ﷺ کے ساتھ اسلام لانا۔
3۔ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت اور مسجدِ نبوی کی تعمیر۔
4۔ غزوہ بدر۔
5۔ غزوہ احد۔
6۔ غزوہ احزاب۔
7۔ فتح مکہ۔
8۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات۔
9۔ آپ ﷺ کے بعد صحابہ کرام کی خلافتِ راشدہ۔
اگر ہم ان پر غور کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یہ ریاست کی تعمیر کے مراحل کا ایک ایسا سیاسی سبق ہے جس سے تمام مسلمان واقف ہیں، اور یہی چیز خلافت کے قیام کے تصور کے لیے مسلمانوں کے ردعمل کو بہت تیز بنا دے گی ہے کیونکہ یہ ان کے نزدیک ایک صحیح اسلامی زندگی کے تصور کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔
ان لوگوں کے لیے جن کے دل میں اب بھی یہ شک موجود ہے کہ مسلمان خلافت کے نظام کے لیے تیار ہیں یا نہیں، انہیں دیکھنا چاہیے کہ کس طرح لاکھوں مسلمان حرمِ مکی میں ایک ہی لمحے میں نماز کے لیے صف بستہ ہو جاتے ہیں؛ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کے مختلف کونوں سے آئے ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں، لیکن وہ کسی گفتگو کے بغیر خاموشی سے باجماعت نماز کے لیے اپنی صفیں درست کر لیتے ہیں۔ مسلمانوں کی وحدت کا یہ پرشکوہ منظر آج بھی دنیا کی تمام دیگر اقوام کو حیرت زدہ کر دیتا ہے۔
جہاں مغربی معاشرے ایک دوسرے سے بغض رکھتے ہیں اور اندرونی بحرانوں کے وقت ایک دوسرے کو مٹانے پر تُل جاتے ہیں، اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان ایک دوسرے کے لیے ہمدردی رکھتے ہیں اور مشکل ترین حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی کچھ ہم نے مظلوم مسلم ممالک جیسے کہ سرزمینِ مبارک فلسطین، یمن، شام، سوڈان اور دیگر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی مہمات میں دیکھا ہے۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کے دور میں خلافت کے قیام کے لیے امتِ مسلمہ کا ردِ عمل، خاص طور پر مواصلاتی ذرائع میں ترقی کی بدولت، محض چند گھنٹوں میں سامنے آ سکتا ہے۔
رہا دوسرا سوال کہ: اگر مسلمان آج اپنی خلافت بحال کر لیں، تو کیا وہ اسے ختم کرنے کی کسی فیصلہ کن ضرب سے محفوظ رہ سکے گی؟
شام کے انقلاب اور غزہ کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ امتِ مسلمہ پر کسی "فیصلہ کن ضرب" کا تصور بذاتِ خود ایک خیالِ خام اور وہم ہے، اور جو لوگ اس کا پروپیگنڈا کرتے ہیں وہ دراصل مسلمانوں میں مایوسی اور کمزوری پھیلانا چاہتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح یہودی وجود اور اس کی پشت پناہی کرنے والا امریکہ، غزہ پر کوئی فیصلہ کن ضرب لگانے میں ناکام رہے، حالانکہ خطے کے حکمرانوں نے بھی ان کی مدد کی۔ انہوں نے غزہ کو اس طرح تباہ کیا جس کی مثال تاریخ میں بہت کم ملتی ہے، لیکن اگر دنیا کی کوئی بھی غیر مسلم قوم اس طرح کی وحشیانہ بمباری کا شکار ہوتی تو شہداء کی تعداد ہزاروں تک پہنچتے ہی وہ ہتھیار ڈال دیتی؛ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ امت اللہ کے فضل سے ایسی ہے کہ اسے کوئی فیصلہ کن ضرب نہیں لگائی جا سکتی۔
ہم نے ایسا ہی کچھ شام میں بھی دیکھا جہاں اہلِ شام 12 سال تک بموں، بیرل بموں اور موت کے دستوں (Death Squads) کے سامنے ثابت قدم رہے، یہاں تک کہ انہوں نے اس جابر کو اپنے ہاتھوں سے گرا دیا جو ان پر مسلط تھا۔ یہ سب اس کے باوجود ہوا کہ پورے انقلاب کے دوران مغرب مسلسل انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا رہا کہ حل ظالم کے خاتمے میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ سیاسی مفاہمت میں ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ آج امت کو کوئی فیصلہ کن ضرب نہیں لگائی جا سکتی جیسا کہ حوصلہ شکنی کرنے والے ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ حالیہ برسوں نے ثابت کیا ہے کہ امتِ مسلمہ مخلصانہ واقعات پر اپنے فوری ردِ عمل سے پورے مغرب کو چکرا کر رکھ دے گی؛ مغرب جب بھی کسی ابھرتی ہوئی حقیقت سے نمٹنے کی کوشش کرتا ہے، امت اس پر ایک نئی حقیقت مسلط کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں اسے اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کے لیے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ ہم نے یہ حالیہ برسوں میں امتِ مسلمہ کی تمام مخلصانہ تحریکوں کے حالیہ ایام میں مشاہدہ کیا ہے۔
اب تیسرا سوال یہ ہے کہ: اگر آج خلافت قائم ہو جائے، تو کیا وہ سیکیورٹی اور معاشی ناکہ بندی کی صورت میں خود کفیل ہو سکے گی؟
جواب یہ ہے کہ اسلام وہاں پھیلا جہاں انسان فطرتی طور پر آباد تھے، یعنی اسلام ان اقوام میں پھیلا ہوا ہے جو دنیا کے مالامال ترین قدرتی وسائل اور خوشحال ترین خطوں میں بستی ہیں۔ مراکش کے سرسبز جبالِ اطلس سے لے کر وادیٔ نیل، بلادِ شام، جزیرہ نما عرب اور اس کی گراں قدر دولت تک، اور برصغیر سے ہوتے ہوئے جنوب مشرقی ایشیا میں ملائیشیا اور انڈونیشیا تک، مسلمانوں کے تمام ممالک وسائل سے اس قدر بھرپور ہیں کہ دنیا ان کی محتاج ہے جبکہ انہیں دنیا کی حاجت نہیں۔ مزید یہ کہ یہ علاقے عالمی تجارت کی گزرگاہوں پر واقع ہیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ خلافت دنیا کا محاصرہ کرنے کی قدرت رکھتی ہے نہ کہ دنیا اس کا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ تاریخ میں مغرب نے ان علاقوں کے وسائل اور ان کی بیش قیمت جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے انہیں غلام بنانے کے لیے براعظموں اور سمندروں کی خاک چھانی۔ اور ابھی ہم نے امتِ مسلمہ کے سب سے بڑے سرمائے، یعنی خود مسلمانوں کا تو ذکر ہی نہیں کیا۔ مسلم اقوام کی آبادی بہت بڑی ہے اور یہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس کے برعکس مغرب کو اب یہ خوف لاحق ہے کہ وہ اپنے بڑھاپے کی گھڑیوں کو روکنے کے قابل نہیں رہا۔
جہاں تک سیکیورٹی کے مسئلے کا تعلق ہے، تو یہ ثابت ہو چکا ہے کہ مسلمانوں کا جغرافیائی پھیلاؤ اور ان کی بڑی تعداد، ان کے محاصرے کے تصور کو ایک ناکام خیال بنا دیتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ مسلمانوں کے علاقے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور جب خلافت قائم ہو گی تو اس کی پہلی پکار ہی مسلمانوں کو ایک سیاسی وجود میں پرونے کے لیے ان کے درمیان موجود سرحدوں کو مٹانا ہو گی، چنانچہ پہلے ہی لمحے سے خلافت مسلسل وسعت پانے کی حالت میں ہو گی، جس کی وجہ سے اس کا محاصرہ کرنا ایک مشکل امر بن جائے گا۔
اب چوتھا اور آخری سوال یہ ہے کہ: اگر آج خلافت قائم ہوتی ہے، تو کیا وہ دنیا کی موجودہ ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک صلاحیتوں کا مقابلہ کر پائے گی؟
اس سوال کا جواب پانے کے لیے ہم میں سے ہر شخص اپنے ارد گرد نظر دوڑائے کہ اس کے اپنے ملک کے کتنے ہی نوجوان علم و معرفت کی تلاش میں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں؛ دنیا کی اہم ترین جامعات اور تحقیقی مراکز مسلمان ماہرین اور سائنسدانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح یہ لوگ ایک ایسا مظہر بن کر سامنے آئے جس نے پورے مغرب کو پریشان کر دیا، جب وہ بڑی تعداد میں انتہائی معتبر جامعات سے غزہ کی حمایت میں احتجاج اور دھرنے دینے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔
رہا "ذہانت کی چوری" (Brain Drain) کا مسئلہ، تو یہ ایک عارضی معاملہ ہے جو سازگار حالات میسر آتے ہی پلٹ سکتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی کسی مسلم ملک میں یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ وہ بدعنوانی سے چھٹکارا حاصل کر لے گا اور اپنی شہری تعمیرِ نو کرے گا، تو دنیا بھر سے اس کے بیٹے اپنے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے اپنا سیکھا ہوا علم اور تجربہ لے کر وہاں کھچے چلے آتے ہیں۔ یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ امت کے پاس علمی اور فکری صلاحیتیں تو موجود ہیں لیکن وہ دنیا بھر میں بکھری ہوئی ہیں، اور امت کو صرف ایک "امن کا گھر" (دارِ امن) تعمیر کرنے کی ضرورت ہے؛ تب ہم دیکھیں گے کہ یہ صلاحیتیں کس طرح ایک تند و تیز دریا کی مانند واپس لوٹتی ہیں، تاکہ اپنے علم و دانش سے "دارِ اسلام" کی تعمیر کریں اور اسے دنیا کی صفِ اول کی ریاستوں میں لا کھڑا کریں۔
اس طرح، خلافت کے خاتمے کی ایک سو پانچویں (105) برسی کے موقع پر، حزبِ تحریر امتِ مسلمہ کے مخلص، بااثر اور صاحبِ استطاعت بیٹوں اور بیٹیوں کو پکارتی ہے کہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ ثانیہ کی بحالی کے لیے کام کرنے والے قافلے میں شامل ہو جائیں۔ ان لوگوں کو یہ ادراک کر لینا چاہیے کہ کمزوری اور انتشار کے بہانے خلافت کے قیام میں تاخیر کے دعوے محض وہم ہیں جن سے جلد از جلد چھٹکارا پانا ضروری ہے، اور پھر اس کی جلد از جلد بحالی کے لیے تیز رفتاری سے قدم بڑھانا چاہیے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔






