الجمعة، 15 ربيع الأول 1448| 2026/08/28
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

امریکہ اور یہودی وجود کے مابین دفاعی تعاون کو فروغ دینے کا امریکی  قانون

 

 

تحریر: استاد مناجی محمد

 

(ترجمہ)

 

امریکی نیشنل ڈیفنس اتھورائزیشن ایکٹ برائے مالی سال 2027 کی دفعہ 219 میں امریکہ اور یہودی وجود کے مابین دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون کے اقدام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اور اس دفعہ میں دیگر امور کے علاوہ یہ درج ہے:

 

·          اسرائیل کے ساتھ تعاون کو مربوط بنانے کے لیے امریکی وزارتِ دفاع کے اندر ایک انتظامی ادارہ قائم کرنا۔

·          دفاعی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی)، جانچ، تشخیص اور انضمام کو وسعت دینا۔

·          مشترکہ عسکری صنعتی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرنا۔

·          بعض اسرائیلی ٹیکنالوجیز کو امریکی اسلحہ سازی کے پروگراموں میں ضم کرنا، جہاں بھی مناسب سمجھا جائے۔

·          مشترکہ تربیت اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا۔

 

بعض امریکی تجزیہ کاروں اور ارکانِ پارلیمنٹ نے اس دفعہ کو دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں اور عسکری اداروں کے مابین گہرے انضمام کی کوشش قرار دیا ہے، اور اسے دونوں فوجوں کے قانونی الحاق کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ اس کی یہ تشریح بھی کی گئی ہے کہ امریکی کانگریس امریکہ اور یہودی وجود کے مابین گہرے عسکری اور تکنیکی الحاق کی طرف بڑھ رہی ہے۔

 

امریکہ کی جانب سے قانون سازی اور ریاستی اداروں کے ذریعے یہودی وجود کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے ساتھ مضبوط دفاعی و عسکری زنجیر میں جکڑنے اور اسے اپنے سیکورٹی ڈھانچے کا ایک بنیادی حصہ بنانے کی کوششوں کے اسٹریٹجک پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے، بین الاقوامی منظر نامے پر رونما ہونے والے چند اسٹریٹجک حقائق اور نئی تبدیلیوں کا جائزہ لینا ناگزیر ہے جو اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہیں:

 

پہلی حقیقت تو خود یہودی وجود کا وجود ہے، جو امریکہ کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک عسکری اڈے کی حیثیت رکھتا ہے۔ طوفان الاقصیٰ آپریشن اور ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں اس اڈے کے بے نقاب ہونے کے بعد، اب اس کی نئے سرے سے مرمت، بحالی اور اسے دوبارہ عسکری مقاصد کے لیے تیار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

 

مزید براں، امریکی عسکری ادارے اور یہودی وجود کی فوج کے مابین اس عسکری و صنعتی الحاق، دفاعی و سیکورٹی شراکت داری، اور آپریشنل ہم آہنگی کے پیچھے کارفرما امریکی اسباب، مقاصد اور اسٹریٹجک غایات کو سمجھنے کے لیے:

 

اول: یہودی وجود کے ساتھ امریکہ کے عسکری و سیکورٹی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے اہم ترین اسٹریٹجک اسباب اور محرکات کو سمجھنا:

 

سب سے اہم وجوہات میں سے ایک امریکی اسٹریٹجک اور جیو اسٹریٹجک اثر و رسوخ کے مرکز کا، اور اس کے ساتھ ہی اس کی تمام تر توجہ اور کوششوں کا چین اور ہند-الکاہل (انڈو-پسیفک) خطے کی طرف منتقل ہونا ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے دور سے ہی امریکی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی روس کو ایک شدید خطرہ اور چین کو تیزی سے ابھرتا ہوا چیلنج قرار دیتی ہے۔ اس صورتحال کے تحت ناگزیر ہو گیا ہے کہ امریکہ خاص طور پر ہمارے خطے میں اپنی مضبوط اور مرکوز عسکری موجودگی پر نظرثانی کرے، تاکہ وہ ہند-الکاہل خطے میں چینی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کو روکنے اور یورپی خطے میں روس کو قابو کرنے کے لیے اپنی عسکری قوتوں کا رخ اس طرف موڑ سکے۔

 

دوم: اس سیکورٹی اور عسکری انضمام کے پیچھے پوشیدہ مقاصد، غایات اور طریقہ کار:

 

اس انضمام کی وضاحت اور مقصد امریکہ کی اس حکمتِ عملی میں ملتا ہے جس کے تحت وہ خطے سے اپنی عسکری افواج کو کم کر کے اپنے اسٹریٹجک ذخائر کا رخ چین کی طرف موڑنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہاں خالی ہونے والے خلا کو پُر کرنے کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ امریکی عسکری موجودگی میں کمی کی صورت میں پیدا ہونے والے سیکورٹی، عسکری اور اسٹریٹجک خلا کو پُر کرنے کے لیے امریکہ نے عسکری کردار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بوجھ کو اٹھانے کے لیے مقامی آلہ کاروں اور عسکری شراکت داروں کی حکمتِ عملی پیش کی ہے۔ یہ کام امریکی قیادت میں مقامی ایجنٹوں پر مشتمل ایک علاقائی سیکورٹی ڈھانچے کے قیام، اور خطے میں امریکہ کے کردار کو ایک تسلط پسند قائد کی بجائے محض ایک سرگرم کوآرڈینیٹر (مربوط کار) میں تبدیل کرنے کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔ خطے کی اس نئی دفاعی اور اسٹریٹجک تشکیلِ نو کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کے اس نئے منصوبے (نیو مڈل ایسٹ پراجیکٹ) کو آگے بڑھانا ہے، جو اسلام کے احیاء اور اس کے متبادل منصوبے کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ چین کے خلاف امریکہ کی عظیم تر حکمتِ عملی کی خدمت کرتا ہے۔ خطے کے اس علاقائی سیکورٹی ڈھانچے کے مرکز میں یہودی وجود کو ضم کرنا اور اسے امریکی سیکورٹی کے نئے نظام کا بنیادی مرکز اور سب سے پہلا آلہ کار  بنانا شامل ہے۔

 

یہودی وجود کو اس نئے سیکورٹی ڈھانچے کے مرکز میں لانے کا بنیادی ذریعہ "ابراہیم معاہدات" (ابراہام اکارڈز) ہیں، جن کا اسٹریٹجک مقصد اس یہودی وجود کو سیکورٹی کے لحاظ سے خطے میں ضم کرنا ہے، اور اسے اسلام کا مقابلہ کرنے اور اس کے احیاء کے منصوبے کو روکنے کے لیے آلہ کار حکومتوں کی قیادت کرنے والے ایک تہذیبی مرکز کے طور پر فعال کرنا ہے۔ ساتھ ہی اسے خطے میں عسکری، دفاعی اور اسٹریٹجک خلا پُر کرنے کے لیے امریکہ کے آلہ کاروں کے سربراہ کے طور پر مقرر کرنا ہے۔

 

ایران کے خلاف جنگ کے ساتھ جو نئی چیز سامنے آئی ہے وہ امریکہ کا شدید معاشی و عسکری بحران اور اس کے اسٹریٹجک ذخائر کا ختم ہونا ہے (کیونکہ اس نے خود ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے غیر معمولی مقدار میں گولہ بارود کا استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ دفاعی اسٹریٹجی کی ماہر میکنزی ایگلن نے اشارہ کیا ہے کہ امریکی فوج نے چند ہفتوں کے دوران ایک ہزار سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل فائر کیے، جبکہ امریکہ سالانہ صرف 90 سے 100 میزائل ہی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی طرح امریکہ نے ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف 28 فروری سے 8 اپریل کے درمیان تھاڈ (THAAD) سسٹم سے کم از کم 190 انٹرسیپٹر میزائل اور پیٹریاٹ سسٹم سے 1060 انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے۔ یہ تعداد جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس موجود کل ذخائر کا بالترتیب 53 فیصد اور 46 فیصد بنتی ہے، اور ان دفاعی میزائلوں کی موجودہ پیداواری شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر امریکہ کو ضرورت پڑی تو وہ متعدد جنگی محاذوں پر بیک وقت فضائی خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکے گا)، سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے مطابق۔

 

اس کے علاوہ خلیج میں امریکی اڈوں کو پہنچنے والا تباہ کن نقصان اور حالیہ حملوں میں اردن کے امریکی اڈے کو پہنچنے والا شدید نقصان بھی اس میں شامل ہے۔

 

ان غیر معمولی طور پر سنگین اسٹریٹجک اور عسکری حالات نے امریکہ کے لیے خطے میں یہودی وجود کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں چھوڑا، جو سخت ترین سیکورٹی بوجھ اور اخراجات اٹھانے کے لیے ایک فعال اور تیار اسٹریٹجک اڈے کے طور پر کام کر سکے۔ مزید برآں، دونوں کے درمیان تہذیبی، سیاسی، عسکری اور سیکورٹی ہم آہنگی اس اڈے کی افادیت اور بقا کی ضمانت دیتی ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ اور یہودی وجود کی فوجوں کے مابین آپریشنل الحاق کو تیز کرنے کے خیال کو تقویت ملی ہے، یاد رہے کہ ایران کے خلاف جنگ دونوں کے مابین ایک مربوط اور مشترکہ عسکری کارروائی تھی۔

 

چونکہ پینٹاگون نے سال 2021ء ہی میں یہودی وجود کو یورپی کمانڈ سے نکال کر مشرقِ وسطیٰ کے ذمہ دار جنگی کمانڈ "سینٹکام" (CENTCOM) میں منتقل کر دیا تھا، اور اس کے بعد اسے دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ امریکہ کی زیرِ قیادت فوجی مشقوں میں شامل کیا گیا تھا۔ اس منتقلی نے ابراہیم معاہدات کے ساتھ مل کر امریکہ کو ایک نیا علاقائی سیکورٹی نظام فعال کرنے کا موقع فراہم کیا، جس کے تحت امریکی قیادت میں یہودی وجود اور خطے کے دیگر ممالک کے مابین سیکورٹی کوآرڈینیشن کی راہ ہموار ہوئی۔

 

چناچہ یہودی وجود اور امریکہ کے مابین اس گہرے عسکری اور سیکورٹی تعاون کا بنیادی مقصد یہودی وجود کو امریکہ کے اہم ترین آلہ کار کے طور پر مقرر کرنا ہے تاکہ وہ خطے کی سیکورٹی اور اسٹریٹجک معاملات کو کنٹرول کرے۔ اس کا مقصد امریکی بالادستی کو برقرار رکھنا اور ابھرتی ہوئی اسلامی تحریک کا مقابلہ کرنا ہے، جبکہ یہودی وجود اور دیگر مقامی شراکت دار اس امریکی مشن کا سارا بوجھ اور اخراجات خود اٹھائیں گے۔

 

ایران کے خلاف جنگ اور امریکہ کی عسکری و اسٹریٹجک مشکلات کے بعد، جہاں اس کی طاقت کی حدود کھل کر سامنے آ گئی ہیں، امریکہ کے لیے یہودی وجود کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ امریکہ اب خطے میں اپنے کٹھ پتلی مقامی حکمرانوں کے تعاون سے یہودی وجود کی اسٹریٹجک حیثیت کو مضبوط بنا کر اس اسٹریٹجک خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ایران کے خلاف جنگ نے پیدا کیا ہے۔

 

درحقیقت، یہودی وجود کے ساتھ یہ سیکورٹی اور عسکری الحاق امریکی عسکری طاقت کی محدودیت اور اس کے تباہ کن اسٹریٹجک نقصانات پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے، جس کے تحت وہ اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے مقامی کٹھ پتلیوں اور بالخصوص اس ذلیل یہودی وجود کا سہارا لینے پر مجبور ہو گیا ہے۔

 

پس اے عظیم امتِ مسلمہ کے فرزندو! تمہارا یہ صلیبی دشمن ذلیل ہے، اور اس سے بھی زیادہ ذلیل تمہارے یہ بزدل حکمران ہیں جنہوں نے تمہیں ان کے حوالے کر دیا۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم اپنا غصب شدہ اقتدار واپس چھین لو، اپنے عظیم اسلام کی ریاست قائم کرو، اپنے رب کی شریعت کو نافذ کرو، اور اس ذلت و رسوائی کو پاؤں تلے روند کر مٹا دو؟!

 

Last modified onجمعرات, 27 اگست 2026 20:13

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک