الثلاثاء، 21 صَفر 1448| 2026/08/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    17 من صـفر الخير 1448هـ شمارہ نمبر: 1448/04
عیسوی تاریخ     منگل, 04 اگست 2026 م

پریس ریلیز

 

 

"کشمیر جل رہا ہے: بے گناہ شہریوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن "قومی ریاست" اور سیکولر سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے، صرف خلافت ہی امت کو اسلامی عقیدے پر متحد کر سکتی ہے"

 

 

27 جولائی 2026 کو ریاستی فورسز، جن میں رینجرز، ایف سی اور پولیس شامل تھیں، نے نہتے کشمیری مظاہرین پر براہِ راست فائر کھول دیا۔ یہ شہری راولاکوٹ میں 50 روزہ دھرنے اور مذاکرات کی ناکامی کے بعد مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ پر روانہ ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں درجنوں مظاہرین جاں بحق ہوئے۔ عوامی احتجاج کو سیاسی طور پر ڈیل کرنے کے بجائے حکمرانوں نے "ہارڈ اسٹیٹ" کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے غیر متناسب طاقت کے استعمال کا راستہ اپنایا، انٹرنیٹ کی بندش کے ساتھ ضروری اشیاء، ایندھن اور گیس کی دانستہ ناکہ بندی کے ذریعے عوام کو اجتماعی سزا دینے کی کوشش کی۔ اس پر مستزاد ریاستی اور میڈیا مشینری نے شہری ہلاکتوں پر مکمل بلیک آؤٹ نافذ کر دیا، جبکہ کشمیری مظاہرین کے خلاف حکومت کی جانب سے میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات کشمیر کے مسلمانوں اور مسلح افواج کے درمیان خطرناک خلیج پیدا کر رہے ہیں، جوکہ ریاست کی قوت میں مزید دراڑ ڈالے گا۔

 

یہ سیکیورٹی اور سیاسی بحران دراصل ایک غیر فطری سیکولر سرمایہ دارانہ نظام کا نتیجہ ہے۔ علاقائیت پر مبنی قوم پرستی اور ایسی شناخت جو مصنوعی اور ریاستی سرحدوں پر قائم ہو، مختلف نسلی اور علاقائی گروہوں کو حقیقی طور پر متحد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ناکہ بندیوں اور گولیوں کے ذریعے کشمیر کے مسلمانوں کو اجتماعی سزا دے کر حکمرانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ انہیں عوام کی کوئی پروا نہیں۔ یہ سفاکانہ کریک ڈاؤن ایک فکری طور پر دیوالیہ ریاست اور ناکام نظام کا واضح ثبوت ہے جوکہ "ہارڈ سٹیٹ" کی پالیسی کے تحت عوام پر جبری طور پر اپنی رٹ مسلط کر رہی ہے۔

 

اس جاری بحران میں، جبکہ عوامی غصہ مسلسل بڑھ رہا ہے، ضروری ہے کہ امت کے سامنے اسلام کے الٰہی احکام اور اسلام کا متبادل نظام پیش کیا جائے۔

 

1. استعماری سرحدوں کی بنیاد پر شناخت قائم کرنا ایک کفر تصور ہے۔ اسلام ہر قسم کی عصبیت (قوم پرستی یا نسلی و قبائلی تعصب) سے سختی سے منع کرتا ہے، کیونکہ یہ امتِ مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرتی ہے۔ علاقائی قوم پرستی کا جواب وطنی قوم پرستی نہیں کیونکہ دونوں ایک ہی باطل بنیاد پر قائم ہیں اور دونوں ہی اسلام میں حرام ہیں۔ ہمارا ایجنڈا قومی ریاست نہیں بلکہ اسلام ہونا چاہیے، جو مصنوعی سرحدوں کو مٹا کر تمام مومنین کو ایک جھنڈے تلے متحد کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 

«مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ»

"جو شخص کسی اندھے جھنڈے کے تحت لڑے، عصبیت کے لیے غضب ناک ہو، عصبیت کی دعوت دے یا عصبیت کی حمایت کرے، پھر وہ قتل کر دیا جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔" [صحیح مسلم]

 

اللہ سبحانہ وتعالیٰ قرآنِ کریم میں اہلِ ایمان کی وحدت کی بنیاد یوں بیان فرماتے ہیں:

 

﴿إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ

"بے شک تمہاری یہ امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔" [سورۃ الانبیاء: 92]

 

2. یہ بحران محض چند سیاست دانوں یا فوجی قیادت کی ناکامی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ خود سیکولر جمہوری نظام کی بنیادی ناکامی کی وجہ سے ہے۔ یہ ریاست بلوچستان سے پنجاب تک مختلف علاقوں میں ماورائے قانون اقدامات کے ذریعے ایک غیر فطری حکمرانی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جسے امت مسترد کر چکی ہے۔ اس ظلم کی اصل جڑ جمہوریت میں موجود قانون سازی میں انسان کی خودمختاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت دھاندلی اور دوسرے حربوں کے ذریعے قانون ساز اسمبلیوں کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتیں ہیں تاکہ اپنی مرضی کا قانون بنوا سکیں۔ اسلام میں حاکمیت صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ہے، اور انسانوں کی خود ساختہ قانون سازی حرام ہے۔ جمہوریت ایک بدعنوان اشرافیہ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق قوانین بنائے اور قانون کے پردے میں فساد کو جائز قرار دے۔ لہٰذا ہماری جدوجہد کا ہدف صرف آئینی اصلاحات یا افراد کی تبدیلی نہیں بلکہ پورے جمہوری سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

 

3. اس فاسد نظام کے خاتمے کے لیے امت کو اپنی جدوجہد کو رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے مطابق استوار کرنا ہوگا، جنہوں نے مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم کی۔ موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے اصلاح کی کوشش یا بے ترتیب تشدد کا راستہ دونوں ہی مایوسی میں اضافہ کرتے ہیں اور حکمران طبقے کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ نظام کی تبدیلی کے لیے نبوی طریقۂ کار واضح سیاسی اور فکری مراحل پر مشتمل ہے: ایک منظم جماعت کی تشکیل، فکری اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے رائے عامہ کی تشکیل، اور اہلِ نصرۃ سے مادی حمایت (نصرۃ) طلب کرنا۔ سب سے اہم بات یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی فاسد نظام کو جواز نہیں بخشا اور نہ ہی اپنے صحابہؓ کو  حکمران طبقے کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی ہدایت دی۔

 

4. پوری مسلم دنیا میں حکمران حقیقی قیادت فراہم کرنے میں ناکام ہیں، کیونکہ وہ سیکولر قوانین کے تحت حکومت کرتے ہوئے مغربی بالادستی کی چاکری پر مبنی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلام ہر مسلمان پر لازم کرتا ہے کہ وہ خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے فعال سیاسی جدوجہد کرے، جو امت کو ایک سیاسی وحدت میں جمع کرے اور امت کے مفادات کی حفاظت کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے خلیفہ کے کردار کو یوں بیان فرمایا:

 

«إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ»

"امام (خلیفہ) ڈھال ہے، اس کے پیچھے رہ کر قتال کیا جاتا ہے اور اسی کے ذریعے حفاظت حاصل کی جاتی ہے۔" [صحیح مسلم]

 

حزب التحریر ولایہ پاکستان کی جانب سے کشمیر، پاکستان اور پوری امتِ مسلمہ کے مسلمانوں کے نام پیغام:

 

باشعور افراد اور بااثر شخصیات کے نام: 

اس مصنوعی جمہوری سرمایہ دارانہ نظام کو مسترد کریں۔ بدعنوان حکمرانوں کا احتساب کریں، ان کے "ہارڈ اسٹیٹ" کے ایجنڈے کو بے نقاب کریں، اور خلافت کے قیام کے لیے فکری اور سیاسی جدوجہد میں حزب التحریر کا ساتھ دیں۔

 

اہلِ قوت و اختیار (اہلِ نصرۃ) کے نام: 

مسلح افواج کے مخلص افسران ایسے حکمرانوں کی اطاعت ترک کر دیں جو اپنی ہی عوام پر ہتھیار استعمال کرتے ہیں، آپ اپنی شرعی ذمہ داری پوری کریں، اور خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کریں۔

صرف خلافت ہی امت کو تقسیم اور ذلت  کی گہرائیوں سے نکال کر ایک ریاست اور ایک خلیفہ کے تحت دوبارہ متحد کر سکتی ہے۔

 

 

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

 

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک