الثلاثاء، 21 صَفر 1448| 2026/08/04
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    13 من صـفر الخير 1448هـ شمارہ نمبر: 1448/03
عیسوی تاریخ     منگل, 04 اگست 2026 م

پریس ریلیز

 

پاکستان کے داخلی سیکیورٹی بحران کی وجہ "قومی ریاست" اور اس پر مبنی شناخت کی ناکامی ہے، جو مختلف نسلوں اور علاقائی شناختوں کو ایک واحد اکائی میں ضم کرنے سے قاصر ہے! خلافت اور اسلامی عقیدہ ہی مختلف اقوام کو ایک امت کی لڑی میں پرو دے گا!

 

 

24 جولائی کو ایک بار پھر ضلع ٹانک میں ایک IED بلاسٹ میں 14 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ صرف پچھلے چند ماہ میں قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں بدامنی کے واقعات اور حالیہ آزاد کشمیر کے مظاہروں میں درجنوں سیکیورٹی اہلکار اور سویلین شہری جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ میڈیا میں ان ہلاکتوں کو بلیک آؤٹ اور فلٹر کرنے کے باوجود یہ داخلی سیکیورٹی بحران، معاشی بحران سے کسی بھی لحاظ سے کم نہیں۔ ان بحرانوں نے ریاست کو اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے، اور بعض صورتوں میں دشمن ممالک کو ہمارے معاملات میں کھلی مداخلت کا راستہ مہیا کیا ہے۔ بظاہر مختلف نظر آنے والے یہ تمام سیکیورٹی بحران درحقیقت قومی ریاست سے نکلنے والی وطن پرستی کی سیاسی سوچ اور وطنیت پر مبنی شناخت کی ناکامی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ وطنیت پر مبنی شناخت مختلف نسل اور علاقائی شناختوں کو ضم کرنے سے قاصر ہے کیونکہ وطنیت کا تصور علاقائی شناخت کی بنیاد پر لوگوں میں تفریق کرتا ہے۔

 

وطنی شناخت ایک پست اور عقل و شعور سے عاری جذبہ ہے، کیونکہ یہ عقل سے خالی جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ انگریزوں کی قائم کردہ لکیروں کی بنیاد پر وطنی شناخت کو قائم کرنا ایک مغربی کفریہ تصور ہے، اسلام میں اس بنیاد پر قائم عصبیت کی شدید وعید موجود ہے۔ پاکستان کی ابتدائی سیاسی قیادت اس امر سے اچھی طرح واقف تھی کہ وطنی شناخت سے مختلف نسل اور علاقائی شناختوں کو یکجا کرنا ممکن نہیں، اس لئے انھوں نے لوگوں کو اسلامی عقیدہ کی بنیاد پر یکجا کیا اور "پاکستان کا مطلب کیا، "لا الہ الا اللہ" کے نعرے پر لوگوں کو اکھٹا کیا۔ تاہم یہ نعرہ دو وجوہات کی وجہ سے اپنی جاذبیت اور اثر کھو چکا ہے۔

 

اولاً: حکمرانوں نے 78 سالوں سے اسلام نافذ ہی نہیں کیا، اور سیکولرزم میں موجود عبادات کی آزادی کے اصول کے نام پر لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی کہ اسلام نافذ ہے، حالانکہ پاکستان کا آئین، پاکستان کے قوانین اور تمام تر ریاستی ڈھانچہ کفریہ سیکولر نظام پر مبنی ہے، اور لوگ اس کی حقیقت کو سمجھ چکے ہیں۔

 

دوم: یہ سوال لوگوں کے ذہن میں گونجتا رہتا ہے کہ آخر غزہ، برما، مشرقی ترکستان یا افغانستان کے مسلمان کلمہ کی بنیاد پر ہمارے ساتھ ایک قوم کیوں نہیں؟ انگریزوں کی کھینچی گئی بارڈر کی لکیر کے پار "لا الہ الا اللہ" کے کلمے کے ماننے والے کیونکر پاکستانی شناخت سے باہر گردانے جاتے ہیں؟ کیا باقی مسلمانوں کا اور ہمارا کلمہ ایک نہیں؟ کیا اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تمام مسلمانوں کو ایک امیر اور ایک خلیفہ کی بیعت میں یکجا ہونے کا حکم نہیں دیا تھا؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ:

 

«إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا»

"اگر دو خلفاء کی بیعت ہو جائے تو بعد والے کو قتل کر دو۔" (صحیح مسلم)۔

 

تاہم حکمران 'پہلے ہم خود تو مضبوط ہو جائیں، بعد میں اس معاملے کو دیکھ لیں گے' کے نام پر 78 سال سے پاکستان کے مسلمانوں کو دھوکا دے رہے ہیں۔

 

یوں ایک مضبوط 'قومی شناخت' کی عدم موجودگی بلوچوں، کشمیریوں، یا قبائلی پختونوں کو ایک کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، یہی معاملہ اب دیگر علاقائی شناختوں تک پھیل رہا ہے۔ بجائے یہ کہ حکمران اس سیاسی اور فکری مسئلے کا سیاسی اور فکری حل تلاش کرتے، ریاست نے اس کا جواب بندوق اور گولی سے دینے کا فیصلہ کیا ہے جسے وہ "ہارڈ اسٹیٹ" اپروچ کا نام دیتی ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا ڈنڈے کے زور پر بھی کسی کو جبری شناخت پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ آخر ڈنڈا، بندوق اور گولی کیسے اس مسئلے کا طویل مدتی حل سمجھا جاسکتا ہے؟ کیا یہ اس امر کا ثبوت نہیں کہ حکمران اور یہ نظام فکری اور سیاسی طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں؟

 

صرف اسلام کی شناخت ہی نہ صرف پاکستان کو درپیش سیکیورٹی بحرانوں کا خاتمہ کرسکتی ہے بلکہ مسلم علاقوں کو ایک کلمے کے نیچے یکجا کرسکتی ہے۔ اسلام کا کامل نفاذ قبائلی جنگجوؤں کو واپس قومی دھارے میں لے آئے گا، کشمیریوں کی قربانیوں کو دوبارہ زندہ کر کے انھیں علیحدگی پسندی کے جذبے سے کاٹ دے گا، بلوچ مسلمانوں کو سیکولر اور سوشلسٹ علیحدگی پسندوں سے جدا کر کے ریاست کے ساتھ دوبارہ جوڑ دے گا، اور افغانستان کے مسلمانوں کو ایک خلافت تلے ضم کرنے کی راہ ہموار کرے گا، جوکہ بڑھتے بڑھتے تمام امتِ مسلمہ تک پھیل جائے گی۔ اسلام کی ایک امت کی شناخت کو قائم کرنے کا راستہ ایک خلافت کا قیام ہے، جو تمام مسلمانوں کی واحد ریاست اور اسلام کا کامل نفاذ کرتی ہے۔ حزب التحریر پاکستان کے تمام باشعور افراد سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور ایک خلافت کے قیام کی جدوجہد میں حزب التحریر کے ساتھ شامل ہوں اور اہلِ قوت سے مطالبہ کریں کہ وہ خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے حزب التحریر کو نصرہ فراہم کریں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا ۗ﴾

"اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی، پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا." (سورۃ آل عمران: 103)

 

 

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک