Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال کا جواب

 

2026/07/29

 

سوڈان کی صورتحال اور امریکی مقاصد

 

 

سوال: (سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز ملیشیا کے درمیان لڑائی حال ہی میں جنوبی وسطی سوڈان کی ریاست شمالی کردفان میں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے.. العربی الجدید، 28/7/2026)۔ تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں، خاص طور پر 26/10/2025 کو الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے اور وہاں سے فوج کے پیچھے ہٹنے کے بعد۔ ان لڑائیوں میں شدت کو اس امریکی تجویز نے بھی کم نہیں کیا جو امریکی ایلچی مسعد بولس نے 20/6/2026 کو تین ماہ کی جنگ بندی کے لیے پیش کی تھی۔ تو سوڈان کی صورتحال کس طرف جا رہی ہے؟ اس حل کی تجویز سے امریکہ کا مقصد کیا ہے؟ اور کیا یہ جلد پورا ہو سکتا ہے؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

 

جواب: مندرجہ بالا سوالات کا جواب واضح کرنے کے لیے ہم درج ذیل امور کا جائزہ لیتے ہیں:

1- ریپڈ سپورٹ فورسز نے 22/2/2025 کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں "سوڈانی آئینی میثاق" پر دستخط کیے۔ اس کے بعد "سوڈانی بانی اتحاد" (التحالف التأسيسي السوداني) کا باضابطہ قیام عمل میں آیا۔ اس اتحاد نے ہفتہ 26/7/2025 کو ملک میں سرکاری حکام کے متوازی ایک حکومت بنانے کا اعلان کیا۔ (اتحاد کے ترجمان علاء الدین نقد نے ریاست جنوبی دارفور کے دارالحکومت نیالا سے ایکس پلیٹ فارم پر ایک بیان میں اعلان کیا کہ اتحاد کی قیادت نے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں 15 اراکین پر مشتمل ایک صدارتی کونسل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی سربراہی ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دقلو "حمیدتی" کریں گے، جبکہ پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ کے سربراہ عبدالعزیز الحلو ان کے نائب اور محمد حسن التعائشی وزیراعظم ہوں گے.. الجزیرہ، 27/7/2025

 

2- 26 اکتوبر 2025 کو ریپڈ سپورٹ فورسز نے مغربی سوڈان میں ریاست شمالی دارفور کے مرکز الفاشر شہر پر اپنے قبضے کا اعلان کیا، جس کا وہ مئی 2024 سے محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ یہ شہر اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے سٹریٹیجک حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ لیبیا، چاڈ اور دارفور ریجن کے مغربی شہروں کے ساتھ سرحد پر واقع ہے۔ نیز یہ انتظامی اور سیاسی دارالحکومت بھی ہے، جس کی وجہ سے اس پر قبضے کی علامتی اہمیت بڑھ جاتی ہے، مزید یہ کہ یہ دارفور سلطنت (1604-1874) کا تاریخی دارالحکومت رہا ہے، جو متوازی بانی حکومت کے بیانیے میں اس پر قبضے کو بہت بڑی علامتی قدر بخشتا ہے۔ (ریپڈ سپورٹ فورسز نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے محصور شہر الفاشر پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کا مطلب ہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے دارفور کی تمام پانچوں ریاستوں پر اپنا کنٹرول مکمل کر لیا ہے، اور ملک عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے: مشرقی حصہ سوڈانی فوج کے قبضے میں اور مغربی حصہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے میں ہے".. الجزیرہ، 28/10/2025)۔ دارفور کی پانچ ریاستوں میں سے الفاشر وہ واحد ریاست تھی جس پر ریپڈ سپورٹ فورسز اس وقت تک قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔

 

3- اس طرح، دارفور پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد، امریکہ کا وہ منصوبہ عملی طور پر سامنے آگیا جس میں وہ کافی عرصے سے دارفور کو سوڈان سے الگ کرنے کے لیے زمین ہموار کر رہا تھا۔ سوڈانی فوج نے بھی اس رجحان کی حمایت میں اپنا کردار ادا کیا، جہاں اس نے منظم تباہی اور شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے بہانے شہر سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا، جبکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ اس نے امریکہ کی ہدایات یا ایما پر شہر ریپڈ سپورٹ فورسز کے حوالے کیا تاکہ اس کے منصوبے کو عملی شکل دی جا سکے۔ ہم نے 03 نومبر 2025 کو جاری کردہ ایک سوال کے جواب میں اسے واضح طور پر بیان کیا تھا، جس میں لکھا تھا: [اس بات کی مزید تصدیق امریکہ کی جانب سے واشنگٹن میں اپنے دو ایجنٹوں کے وفود کو اکٹھا کرنے سے بھی ہوتی ہے: (ایک سفارتی اہلکار نے گذشتہ جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ کواڈ ممالک (امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر) آج واشنگٹن میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ دونوں فریقوں کو تین ماہ کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ "جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور شہریوں تک انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دینے کے لیے متحد ہو کر دباؤ ڈالا جائے"، العربیہ، 24/10/2025)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کا الفاشر پر دھاوا بولنا اور سوڈانی فوج کا اسے خالی کرنا، واشنگٹن اجلاس کے ساتھ ہم آہنگ ہونا اس بات کی بلا شبہ دلیل ہے کہ اس سٹریٹیجک شہر کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ واشنگٹن میں کیا گیا تھا اور دونوں سوڈانی فریقوں نے فوری طور پر، یعنی دو دن بعد ہی زمین پر اس کی تعمیل شروع کر دی، اور تیسرے دن اس کا نتیجہ سامنے آگیا۔] جواب ختم ہوا۔

 

4- 26/10/2025 کو الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد، متوازی حکومت کی صدارتی کونسل نے یکم جون 2026 کو ایک متحدہ قومی فوج، سلامتی، دفاع اور انٹیلی جنس سے متعلق فیصلوں کا اعلان کیا جس کا مقصد عبوری دور کے دوران قومی سلامتی اور دفاع کے معاملات کے انتظام کو منظم کرنا تھا؛ (اسکائی نیوز عربیہ، 01/06/2026)۔ یہ سب حقیقت میں ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ بہت پہلے سے الفاشر کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف مناسب وقت اور حالات کا انتظار کر رہا تھا۔ اس سب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ سوڈان کو تقسیم کرنے کی ایسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جسے انتہائی باریک بینی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے، جس میں نیروبی میثاق، متوازی حکومت کا اعلان، وزارتوں کی تقرریوں، اور فوج و انٹیلی جنس کے فیصلوں کے ذریعے زمین پر قدم بہ قدم ایک منصوبہ بند ریاست کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس نے پہلے نیروبی میثاق کے ذریعے مغرب میں قائم ہونے والی مجوزہ  ریاست کے لیے آئینی ڈھانچہ تیار کیا، پھر حمیدتی کی سربراہی میں متوازی حکومت کی تشکیل اور التعائشی کی بطور وزیراعظم تقرری کے ذریعے اس مجوزہ  ریاست کو سیاسی ادارہ جاتی رنگ دے کر دنیا کے سامنے پیش کیا، جس کے بعد وزارتوں اور بینکاری نظام کے فیصلے سامنے آئے.. اب صرف متوازی حکومت کو، جس کا دارالحکومت نیالا ہے، الفاشر منتقل کرنا باقی رہ گیا ہے جو اپنی علامتی اہمیت کی حامل ہے اور اب بھی ریاست کا انتظامی و سیاسی دارالحکومت ہے۔

 

5- اس کے بعد 20/6/2026 کو امریکی صدر کے ایلچی برائے عرب و افریقی امور  مسعد بولس کے ذریعے نئی امریکی تجویز سامنے آئی جو امرِ واقعہ (status quo) کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے سوڈانی حکومت کو پیش کردہ اپنی اپ ڈیٹ شدہ دستاویز میں (پورے ملک میں 90 دنوں کے لیے فوری اور جامع انسانی جنگ بندی کے اعلان کی تجویز دی تاکہ انسانی امداد کی ترسیل اور ضرورت مندوں تک اس کی رسائی کو آسان بنایا جا سکے، اور شہریوں، انفراسٹرکچر، عوامی سہولیات اور خدمات کا تحفظ کیا جائے اور ان کی مرمت پر کام کیا جائے)۔ اسی طرح اس دستاویز میں (افریقی یونین اور عرب لیگ کی شرکت کے ساتھ اقوام متحدہ کے تحت ایک طریقہ کار بنانے کی تجویز بھی دی گئی تاکہ محدود فوجی انخلاء کی کارروائیوں میں مدد مل سکے، جس سے انسانی امداد کی رسائی کو آسان بنانے، شہریوں کے تحفظ اور بے گھر افراد کی واپسی کے لیے حالات سازگار بنانے میں مدد ملے، اور معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک رابطہ کمیٹی اور جنگ بندی کے دوران پیدا ہونے والے کسی بھی تنازعے کے تصفیے اور نگرانی کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے)۔ یہ دستاویز اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ (جنگ بندی کی مدت کو مستقل فائر بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات اور ایک ایسی عبوری کارروائی کے آغاز کے لیے استعمال کیا جائے جس کی قیادت ایک سویلین اتھارٹی کے ہاتھ میں ہو)۔ یہ (مستقل فائر بندی اور اس سے متعلقہ حفاظتی انتظامات پر مذاکرات کی دعوت دیتی ہے جس میں انخلاء کے اقدامات اور ضرورت پڑنے پر افواج کی دوبارہ تعیناتی شامل ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں ریاست شمالی دارفور اور شمالی کردفان کو ترجیح دی جائے گی جو اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے مطابق ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ ہتھیار ڈالنے، فوج سے علیحدگی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے پروگراموں کی تکمیل اور افواج کو کیمپوں میں جمع کرنے اور دیگر متعلقہ اقدامات کیے جائیں گے)۔ اس دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ (ایک ایسی متحدہ قومی فوج کو برقرار رکھا جائے جو منتخب آزاد سویلین حکومت کے سامنے جوابدہ ہو اور اقوام متحدہ کے طریقہ کار کی بنیاد پر بین الاقوامی مبصرین کی تعیناتی کی جائے)۔

 

6- چنانچہ امریکی تجویز میں انسانی امداد پہنچانے کے بہانے جس جنگ بندی کا ذکر کیا گیا ہے، وہ جب ریپڈ سپورٹ فورسز جیسے علیحدگی پسند باغیوں کے ساتھ ہو تو یہ تجویز ان کے وجود کو تسلیم کرتی ہے اور انہیں اسی حالت پر برقرار رکھتی ہے جس میں وہ ہیں۔ اسی طرح جب یہ دستاویز (حفاظتی انتظامات بشمول انخلاء کے اقدامات اور افواج کی دوبارہ تعیناتی) کی بات کرتی ہے تو یہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی موجودگی اور بقاء کی تصدیق کرتی ہے اور ان کے خاتمے اور انکے وجود کو مٹانے کی بات کرنے سے گریز کرتی ہے، بلکہ جب وہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو دوبارہ تعیناتی کی دعوت دیتی ہے تو ضمنی طور پر ان کے باقی رہنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ ملک کی فوج اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کرنے والوں، جیسے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز، کے درمیان برابری پیدا کرتی ہے۔ اس دستاویز نے (انسانی امداد کی رسائی کو آسان بنانے، شہریوں کے تحفظ اور بے گھر افراد کی واپسی کے لیے حالات سازگار بنانے..) کے بہانے (محدود فوجی انخلاء) کی دعوت دی ہے، جو ان افواج کے وجود کو ختم کیے بغیر انہیں برقرار رکھنے کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ دستاویز ریپڈ سپورٹ فورسز کے وجود اور غلبے کی مشروعیت کی اس وقت تصدیق کرتی ہے جب یہ (ملک گیر سطح پر 90 دنوں کے لیے فوری اور جامع انسانی جنگ بندی کے اعلان) کی دعوت دیتی ہے، اور جب یہ (جنگ بندی کی مدت کو مستقل فائر بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات اور سویلین اتھارٹی کی قیادت میں عبوری مرحلے کے آغاز کے لیے استعمال کرنے) کی دعوت دیتی ہے، تو یہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو علیحدگی پسند اور باغی افواج کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ سوڈان کو تقسیم کرنے کے لیے ان کی علیحدگی پسند حکومت کو تسلیم کرتی ہے۔

 

اور علم میں رہے کہ حالیہ امریکی تجویز کوئی نئی نہیں ہے، بلکہ یہ پرانی ہے، جو 12/9/2025 کو کواڈ (امریکہ، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات) کے نام سے جاری ہونے والی امریکی تجویز کی تجدید کرتی ہے جو 3 ماہ کی انسانی جنگ بندی کی دعوت دیتی ہے تاکہ مستقل فائر بندی کی طرف بڑھا جا سکے۔

 

7- 20/6/2026 کو جاری ہونے والی حالیہ امریکی تجویز پر سوڈانی ردعمل 25/6/2026 کو آیا، جس کی تفصیلات تاخیر سے شائع ہوئیں؛ الجزیرہ نیٹ ورک نے 10/7/2026 کو سوڈانی سرکاری ذرائع کے حوالے سے حالیہ امریکی تجویز پر حکومت کا جواب نقل کیا۔ ان ذرائع نے بتایا کہ جواب میں (حکومت نے مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے اور 90 دن کی انسانی جنگ بندی کے عزم کا اعادہ کیا، اس شرط کے ساتھ کہ ریپڈ سپورٹ فورسز ان تمام شہروں سے پیچھے ہٹ جائیں جن پر انہوں نے 11/5/2023 سے قبضہ کیا ہوا ہے)۔ یہ وہ تاریخ تھی جب دونوں فریقوں نے امریکہ اور سعودی عرب کی سرپرستی میں جدہ اعلامیہ پر دستخط کیے تھے۔ اس جواب میں (سوڈان کی وحدت اور اس کی علاقائی سالمیت کی ضمانت، سوڈانی مسلح افواج کو بطور متحدہ قومی فوج برقرار رکھنے اور تمام فوجی تشکیلات کو اس میں ضم کرنے، سوڈان کے معاملات میں غیر ملکی مداخلت ختم کرنے اور ریپڈ سپورٹ فورسز ملیشیا کو اسلحہ اور کرائے کے فوجیوں کی فراہمی روکنے) کی باتیں شامل تھیں۔ سوڈانی حکومتی جواب کی دوسری دستاویز میں (ریپڈ سپورٹ فورسز کا شہروں سے انخلاء اور تین مراحل میں مخصوص مقامات پر ان کے جمع ہونے) کی تفصیلات تھیں: پہلا مرحلہ 30 دنوں میں مکمل ہونا تھا جس میں نیلِ ازرق ریجن، ریاست شمالی کردفان، اور شمالی، وسطی اور مغربی دارفور سے انخلاء شامل تھا۔ دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کی تکمیل کے 30 دنوں کے اندر شروع ہونا تھا جس میں ریاست مغربی کردفان اور جنوبی دارفور کے شہروں سے ریپڈ سپورٹ فورسز کا انخلاء شامل تھا۔ اور تیسرا مرحلہ دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے 30 دن بعد شروع ہونا تھا جس میں ریاست مشرقی اور جنوبی کردفان سے انخلاء شامل تھا۔ ان کے جمع ہونے کی جگہ "کاودا" مقرر کی گئی تھی جو کہ عبدالعزیز الحلو کی زیرِ قیادت پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ کا گڑھ ہے اور جو ریپڈ سپورٹ فورسز کی حلیف ہے۔ جواب کی تیسری دستاویز میں (جامع سوڈانی-سوڈانی مکالمے کے ذریعے سیاسی عمل کی تفصیلات شامل تھیں تاکہ ایک ایسی عبوری سویلین حکومت قائم ہو سکے جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد تک برقرار رہے)۔ سوڈانی حکومت کا ریپڈ سپورٹ فورسز سے ان شہروں سے انخلاء کا مطالبہ کرنا جن پر وہ قابض ہیں اور پھر انہیں مخصوص جگہوں پر ٹھہرانا، دراصل ان کے وجود کا اعتراف ہے اور انہیں ختم کرنے یا ان کا وجود مٹانے کے بجائے برقرار رکھنا ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے لیے حکومت کے انخلاء یا مذاکرات کے مطالبات کو تسلیم کرنا آسان نہیں ہے، ورنہ وہ بغاوت نہ کرتی اور یہ گھناؤنے فعل انجام نہ دیتی، اور نہ ہی وہ جرائم کرتی جن کا وہ ارتکاب کر چکی ہے اور لاکھوں لوگوں کو نقصان پہنچانے اور بے گھر کرنے کا سبب بنی ہے۔ بلکہ اس معاملے کو ان کے ساتھ صرف فوجی قوت کے ذریعے مکمل خاتمے کے پختہ ارادے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

 

8- ٹرمپ کے سینئر مشیر برائے عرب و افریقی امور  مسعد بولس کی جانب سے 20 جون کو قاہرہ میں اعلان کردہ اس منصوبے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فائر بندی کے یہ اور اس سے پہلے کے تمام منصوبے حقیقت میں دارفور کو سوڈان سے الگ کرنے کے امریکی منصوبے کی خدمت کرتے ہیں۔ یعنی امریکہ کی طرف سے اب تک پیش کیے گئے منصوبوں کے دو مقاصد ہیں: پہلا یہ کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو ایک متوازی سیاسی وجود  کے طور پر ظاہر کیا جائے جس کا اپنا انتظامی ڈھانچہ اور سیاسی پروگرام ہو اور وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھے.. اور دوسرا یہ کہ امریکہ فائر بندی کے ان معاہدوں کے ذریعے سوڈانی فوج کے لیے الفاشر کو واپس لینے کا راستہ مکمل طور پر بند کرنا اور وہاں حمیدتی کے کنٹرول کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ لہذا، امریکہ کی طرف سے فائر بندی کی تجاویز کو، چاہے وہ مسعد بولس کی ذاتی وساطت سے ہوں یا کواڈ کمیٹی کے ذریعے، اسی زاویے سے دیکھنا ضروری ہے، یعنی دارفور کی علیحدگی کی تکمیل کے لیے بتدریج تیاری کرنا اور مذاکرات کے موضوع کو دیگر تنازع زدہ علاقوں سے جوڑنا.. اور جس طرح اس نے جنوبی سوڈان کو الگ کرنے میں وقت لیا تھا، وہی کچھ وہ یہاں بھی کر رہا ہے! رہی بات اس تجویز میں سوڈان کے انسانی بحران کے ذکر کی، تو اس کی امریکہ یا ٹرمپ کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے!

 

9- دارفور پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لیے، حملوں کا دائرہ دارفور سے باہر بلکہ کردفان کی ان تین ریاستوں تک بڑھ گیا ہے جو مشرقی سوڈان کی ریاستوں، جن میں سب سے اہم دارالحکومت خرطوم ہے، اور دارفور کی ان پانچ ریاستوں کے درمیان واقع ہیں جو ریپڈ سپورٹ فورسز کے کنٹرول میں آچکی ہیں۔ جہاں جنگی طیارے کئی شہروں اور دیہاتوں میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں تاکہ ان افواج کو ریاست شمالی کردفان کے دارالحکومت "الابیض" شہر کو نشانہ بنانے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے گی۔ ظاہر ہوتا ہے کہ کردفان کی ریاستوں میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے حملوں اور الابیض شہر پر قبضے کی کوشش کا مقصد دارفور کے ان علاقوں سے لڑائی کو دور رکھنا ہے جن پر وہ قبضہ کر چکے ہیں، تاکہ لوگوں کی توجہ وہاں سے ہٹائی جائے اور وہ اسے بھول جائیں۔ پس ریپڈ سپورٹ فورسز کسی دوسری سرزمین پر لڑ رہی ہیں جو ان کا اصل ہدف نہیں ہے۔ اسی طرح ایتھوپیا کی سرحد پر نیلِ ازرق میں بھی ہوا، جہاں سوڈانی فوج نے 10/7/2026 کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اعلان کیا کہ انہوں نے ملک کے جنوب مشرق میں ریاست نیلِ ازرق کے علاقوں "دیم سعد" اور "یارا" پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، یہ کامیابی ریپڈ سپورٹ فورسز اور پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ کے حملے کو ناکام بنانے اور ریاست نیلِ ازرق کے سٹریٹیجک شہر "الکرمک" کا کنٹرول واپس لینے کے بعد حاصل ہوئی..

یوں معلوم ہوتا ہے کہ قتال دیگر علاقوں میں جاری رہے گا تاکہ پورے دارفور پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کو یقینی بنایا جا سکے، اور یہ کہ دارفور کی نظام کی طرف واپسی اب مذاکرات کا موضوع نہیں رہا بلکہ مذاکرات ان دیگر علاقوں پر ہوں گے جہاں قتال جاری ہے! اسی لیے الابیض شہر گزشتہ کئی ہفتوں سے شدید باہمی حملوں کا منظر پیش کر رہا ہے.. اقوام متحدہ نے گزشتہ مئی میں کردفان ریجن میں حملوں میں اضافے سے خبردار کیا تھا، جن میں جنوری اور اپریل 2026 کے درمیان کم از کم 880 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نزهت شمیم خان نے 16/7/2026 کو سلامتی کونسل کے سامنے بریفنگ کے دوران خبردار کیا کہ (جنوبی سوڈان میں ریاست شمالی کردفان کے دارالحکومت الابیض شہر میں سنگین ترین بین الاقوامی جرائم وقوع پذیر ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا "اس کونسل اور تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مزید مظالم کو روکنے کے لیے حرکت میں آئیں"... اناطولیہ، 16/7/2026)۔ اگرچہ واجب یہ ہے کہ سوڈان کی وحدت کو برقرار رکھا جائے اور اس کے ہر حصے کا دفاع کیا جائے، لیکن کردفان کی ریاستوں پر توجہ مرکوز کرنا اور دارفور کی ریاستوں کو بھلا دینا اور فوج سے یہ مطالبہ نہ کرنا کہ وہ انہیں علیحدگی پسند ریپڈ سپورٹ فورسز سے آزاد کرائے، دراصل دارفور کی علیحدگی کو تسلیم کرنے، اس پر خاموشی اختیار کرنے اور دیگر ریاستوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ہے! اسی لیے ان علاقوں میں قتال شدت اختیار کر رہا ہے: (سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز ملیشیا کے درمیان لڑائی حال ہی میں جنوبی وسطی سوڈان کی ریاست شمالی کردفان میں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے.. العربی الجدید، 28/7/2026)۔ یوں دارفور سے باہر یہاں وہاں لڑائیاں جاری ہیں، اور فوج ان علاقوں میں لڑتی رہے گی یہاں تک کہ جب معاہدے پر دستخط کا وقت آئے گا تو مذاکرات ان افواج کے دارفور سے باہر کے علاقوں سے انخلاء پر ہوں گے جبکہ دارفور الگ تھلگ رہے گا!

 

10- اور اختتام پر، اے سوڈان کے غیور بھائیو! ہم اپنی وہ پکار آپ کے سامنے ایک بار پھر دہراتے ہیں جو اس سے پہلے کئی بار آپ کے سامنے پیش کر چکے ہیں۔ ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ سچے اور مخلص ہیں، اور اللہ سے دعا گو ہیں کہ اس پکار کو بہترین سماعت اور قبولیت کی برکت نصیب ہو، اور اللہ ہی صالحین کا کارساز ہے:

[اے عظیم اسلامی سوڈان کے رہنے والو!... دنقلا مسجد کے سوڈان والو، وہ پہلی مسجد جو اولین مسلمانوں نے سوڈان میں تعمیر کی تھی... خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد کے عظیم اسلامی فتح کے سوڈان والو، جہاں انہوں نے مصر کے گورنر کو حکم دیا تھا کہ سوڈان میں اسلام کا نور داخل کریں، تو انہوں نے عبداللہ بن ابی السرح کی قیادت میں اسلام کے لشکر روانہ کیے، اور یوں 31 ہجری میں یہ فتح مکمل ہوئی... اس طرح اسلام اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فضل سے تیزی سے پھیلا یہاں تک کہ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک پورے سوڈان کو بھر دیا.. پھر یہ سلسلہ مسلم خلفاء کے دور میں جاری رہا...

 

اے سوڈان کے لوگو، جو 1896 سے لے کر پہلی جنگ عظیم کے وسط 1916 تک انگریزوں کے خلاف برسرِ پیکار رہے، جب دارفور کے گورنر، ایک متقی اور طاقتور ہیرو، عالم اور مجاہد "علی بن دینار" شہید ہوئے، جنہیں اہل مدینہ اور اہل شام کے میقات "ذوالحلیفہ" کی اصلاح اور حجاج کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے وہ کنویں کھدوانے کا اعزاز حاصل ہے جو آج تک ان کے نام پر "ابیارِ علی" کہلاتے ہیں...

 

اے سوڈان کے بھائیو! ہم آپ کو پکار رہے ہیں، لہذا پچھتاوے کا وقت آنے سے پہلے معاملے کو سنبھال لیں، پھر پچھتانے کا وقت نہیں ملے گا.. لڑنے والے دونوں فریقوں کا ہاتھ تھامیں اور انہیں حق کی طرف مڑنے پر سختی سے مجبور کر دیں.. اور نبوت کے نقشِ قدم پر  خلافتِ راشدہ  کے قیام کے لیے حزب التحریر کی نصرت کریں، کیونکہ اسی میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہے اور کفر و کافرین کی ذلت ہے.. اور اللہ کی خوشنودی سب سے بڑی چیز ہے.. ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ﴾ (بے شک اس میں نصیحت ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو یا جو پوری توجہ سے سنے)۔ (سورۃ ق:آیت 37)]

 

اور اس طرح سوڈان اسلام کے ذریعے دوبارہ مضبوط اور معزز بنے گا، اس پر 'راية العقاب' لہرائے گی، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا پرچم: ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيم﴾ (اور اس دن مومن خوش ہوں گے اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہی سب سے زیادہ زبردست اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے)۔ (سورۃ الروم:آیت 4-5)

 

 

15 صفر 1448 ہجری

بمطابق 29/7/2026 عیسوی

 

 

 

 

 

 

سوال: (سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز ملیشیا کے درمیان لڑائی حال ہی میں جنوبی وسطی سوڈان کی ریاست شمالی کردفان میں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے.. العربی الجدید، 28/7/2026)۔ تین سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں، خاص طور پر 26/10/2025 کو الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے اور وہاں سے فوج کے پیچھے ہٹنے کے بعد۔ ان لڑائیوں میں شدت کو اس امریکی تجویز نے بھی کم نہیں کیا جو امریکی ایلچی مسعد بولس نے 20/6/2026 کو تین ماہ کی جنگ بندی کے لیے پیش کی تھی۔ تو سوڈان کی صورتحال کس طرف جا رہی ہے؟ اس حل کی تجویز سے امریکہ کا مقصد کیا ہے؟ اور کیا یہ جلد پورا ہو سکتا ہے؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

جواب: مندرجہ بالا سوالات کا جواب واضح کرنے کے لیے ہم درج ذیل امور کا جائزہ لیتے ہیں:

1- ریپڈ سپورٹ فورسز نے 22/2/2025 کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں "سوڈانی آئینی میثاق" پر دستخط کیے۔ اس کے بعد "سوڈانی بانی اتحاد" (التحالف التأسيسي السوداني) کا باضابطہ قیام عمل میں آیا۔ اس اتحاد نے ہفتہ 26/7/2025 کو ملک میں سرکاری حکام کے متوازی ایک حکومت بنانے کا اعلان کیا۔ (اتحاد کے ترجمان علاء الدین نقد نے ریاست جنوبی دارفور کے دارالحکومت نیالا سے ایکس پلیٹ فارم پر ایک بیان میں اعلان کیا کہ اتحاد کی قیادت نے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں 15 اراکین پر مشتمل ایک صدارتی کونسل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی سربراہی ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دقلو "حمیدتی" کریں گے، جبکہ پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ کے سربراہ عبدالعزیز الحلو ان کے نائب اور محمد حسن التعائشی وزیراعظم ہوں گے.. الجزیرہ، 27/7/2025

2- 26 اکتوبر 2025 کو ریپڈ سپورٹ فورسز نے مغربی سوڈان میں ریاست شمالی دارفور کے مرکز الفاشر شہر پر اپنے قبضے کا اعلان کیا، جس کا وہ مئی 2024 سے محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ یہ شہر اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے سٹریٹیجک حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ لیبیا، چاڈ اور دارفور ریجن کے مغربی شہروں کے ساتھ سرحد پر واقع ہے۔ نیز یہ انتظامی اور سیاسی دارالحکومت بھی ہے، جس کی وجہ سے اس پر قبضے کی علامتی اہمیت بڑھ جاتی ہے، مزید یہ کہ یہ دارفور سلطنت (1604-1874) کا تاریخی دارالحکومت رہا ہے، جو متوازی بانی حکومت کے بیانیے میں اس پر قبضے کو بہت بڑی علامتی قدر بخشتا ہے۔ (ریپڈ سپورٹ فورسز نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے ایک سال سے زیادہ عرصے سے محصور شہر الفاشر پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کا مطلب ہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے دارفور کی تمام پانچوں ریاستوں پر اپنا کنٹرول مکمل کر لیا ہے، اور ملک عملاً دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے: مشرقی حصہ سوڈانی فوج کے قبضے میں اور مغربی حصہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے میں ہے".. الجزیرہ، 28/10/2025)۔ دارفور کی پانچ ریاستوں میں سے الفاشر وہ واحد ریاست تھی جس پر ریپڈ سپورٹ فورسز اس وقت تک قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔

3- اس طرح، دارفور پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد، امریکہ کا وہ منصوبہ عملی طور پر سامنے آگیا جس میں وہ کافی عرصے سے دارفور کو سوڈان سے الگ کرنے کے لیے زمین ہموار کر رہا تھا۔ سوڈانی فوج نے بھی اس رجحان کی حمایت میں اپنا کردار ادا کیا، جہاں اس نے منظم تباہی اور شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے بہانے شہر سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا، جبکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ اس نے امریکہ کی ہدایات یا ایما پر شہر ریپڈ سپورٹ فورسز کے حوالے کیا تاکہ اس کے منصوبے کو عملی شکل دی جا سکے۔ ہم نے 03 نومبر 2025 کو جاری کردہ ایک سوال کے جواب میں اسے واضح طور پر بیان کیا تھا، جس میں لکھا تھا: [اس بات کی مزید تصدیق امریکہ کی جانب سے واشنگٹن میں اپنے دو ایجنٹوں کے وفود کو اکٹھا کرنے سے بھی ہوتی ہے: (ایک سفارتی اہلکار نے گذشتہ جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ کواڈ ممالک (امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر) آج واشنگٹن میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ دونوں فریقوں کو تین ماہ کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی پر آمادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ "جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور شہریوں تک انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دینے کے لیے متحد ہو کر دباؤ ڈالا جائے"، العربیہ، 24/10/2025)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کا الفاشر پر دھاوا بولنا اور سوڈانی فوج کا اسے خالی کرنا، واشنگٹن اجلاس کے ساتھ ہم آہنگ ہونا اس بات کی بلا شبہ دلیل ہے کہ اس سٹریٹیجک شہر کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ واشنگٹن میں کیا گیا تھا اور دونوں سوڈانی فریقوں نے فوری طور پر، یعنی دو دن بعد ہی زمین پر اس کی تعمیل شروع کر دی، اور تیسرے دن اس کا نتیجہ سامنے آگیا۔] جواب ختم ہوا۔

4- 26/10/2025 کو الفاشر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد، متوازی حکومت کی صدارتی کونسل نے یکم جون 2026 کو ایک متحدہ قومی فوج، سلامتی، دفاع اور انٹیلی جنس سے متعلق فیصلوں کا اعلان کیا جس کا مقصد عبوری دور کے دوران قومی سلامتی اور دفاع کے معاملات کے انتظام کو منظم کرنا تھا؛ (اسکائی نیوز عربیہ، 01/06/2026)۔ یہ سب حقیقت میں ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ بہت پہلے سے الفاشر کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف مناسب وقت اور حالات کا انتظار کر رہا تھا۔ اس سب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ سوڈان کو تقسیم کرنے کی ایسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جسے انتہائی باریک بینی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے، جس میں نیروبی میثاق، متوازی حکومت کا اعلان، وزارتوں کی تقرریوں، اور فوج و انٹیلی جنس کے فیصلوں کے ذریعے زمین پر قدم بہ قدم ایک منصوبہ بند ریاست کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس نے پہلے نیروبی میثاق کے ذریعے مغرب میں قائم ہونے والی مجوزہ  ریاست کے لیے آئینی ڈھانچہ تیار کیا، پھر حمیدتی کی سربراہی میں متوازی حکومت کی تشکیل اور التعائشی کی بطور وزیراعظم تقرری کے ذریعے اس مجوزہ  ریاست کو سیاسی ادارہ جاتی رنگ دے کر دنیا کے سامنے پیش کیا، جس کے بعد وزارتوں اور بینکاری نظام کے فیصلے سامنے آئے.. اب صرف متوازی حکومت کو، جس کا دارالحکومت نیالا ہے، الفاشر منتقل کرنا باقی رہ گیا ہے جو اپنی علامتی اہمیت کی حامل ہے اور اب بھی ریاست کا انتظامی و سیاسی دارالحکومت ہے۔

5- اس کے بعد 20/6/2026 کو امریکی صدر کے ایلچی برائے عرب و افریقی امور  مسعد بولس کے ذریعے نئی امریکی تجویز سامنے آئی جو امرِ واقعہ (status quo) کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے سوڈانی حکومت کو پیش کردہ اپنی اپ ڈیٹ شدہ دستاویز میں (پورے ملک میں 90 دنوں کے لیے فوری اور جامع انسانی جنگ بندی کے اعلان کی تجویز دی تاکہ انسانی امداد کی ترسیل اور ضرورت مندوں تک اس کی رسائی کو آسان بنایا جا سکے، اور شہریوں، انفراسٹرکچر، عوامی سہولیات اور خدمات کا تحفظ کیا جائے اور ان کی مرمت پر کام کیا جائے)۔ اسی طرح اس دستاویز میں (افریقی یونین اور عرب لیگ کی شرکت کے ساتھ اقوام متحدہ کے تحت ایک طریقہ کار بنانے کی تجویز بھی دی گئی تاکہ محدود فوجی انخلاء کی کارروائیوں میں مدد مل سکے، جس سے انسانی امداد کی رسائی کو آسان بنانے، شہریوں کے تحفظ اور بے گھر افراد کی واپسی کے لیے حالات سازگار بنانے میں مدد ملے، اور معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک رابطہ کمیٹی اور جنگ بندی کے دوران پیدا ہونے والے کسی بھی تنازعے کے تصفیے اور نگرانی کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے)۔ یہ دستاویز اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ (جنگ بندی کی مدت کو مستقل فائر بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات اور ایک ایسی عبوری کارروائی کے آغاز کے لیے استعمال کیا جائے جس کی قیادت ایک سویلین اتھارٹی کے ہاتھ میں ہو)۔ یہ (مستقل فائر بندی اور اس سے متعلقہ حفاظتی انتظامات پر مذاکرات کی دعوت دیتی ہے جس میں انخلاء کے اقدامات اور ضرورت پڑنے پر افواج کی دوبارہ تعیناتی شامل ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں ریاست شمالی دارفور اور شمالی کردفان کو ترجیح دی جائے گی جو اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے مطابق ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ ہتھیار ڈالنے، فوج سے علیحدگی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے پروگراموں کی تکمیل اور افواج کو کیمپوں میں جمع کرنے اور دیگر متعلقہ اقدامات کیے جائیں گے)۔ اس دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ (ایک ایسی متحدہ قومی فوج کو برقرار رکھا جائے جو منتخب آزاد سویلین حکومت کے سامنے جوابدہ ہو اور اقوام متحدہ کے طریقہ کار کی بنیاد پر بین الاقوامی مبصرین کی تعیناتی کی جائے)۔

6- چنانچہ امریکی تجویز میں انسانی امداد پہنچانے کے بہانے جس جنگ بندی کا ذکر کیا گیا ہے، وہ جب ریپڈ سپورٹ فورسز جیسے علیحدگی پسند باغیوں کے ساتھ ہو تو یہ تجویز ان کے وجود کو تسلیم کرتی ہے اور انہیں اسی حالت پر برقرار رکھتی ہے جس میں وہ ہیں۔ اسی طرح جب یہ دستاویز (حفاظتی انتظامات بشمول انخلاء کے اقدامات اور افواج کی دوبارہ تعیناتی) کی بات کرتی ہے تو یہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی موجودگی اور بقاء کی تصدیق کرتی ہے اور ان کے خاتمے اور انکے وجود کو مٹانے کی بات کرنے سے گریز کرتی ہے، بلکہ جب وہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو دوبارہ تعیناتی کی دعوت دیتی ہے تو ضمنی طور پر ان کے باقی رہنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ ملک کی فوج اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کرنے والوں، جیسے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز، کے درمیان برابری پیدا کرتی ہے۔ اس دستاویز نے (انسانی امداد کی رسائی کو آسان بنانے، شہریوں کے تحفظ اور بے گھر افراد کی واپسی کے لیے حالات سازگار بنانے..) کے بہانے (محدود فوجی انخلاء) کی دعوت دی ہے، جو ان افواج کے وجود کو ختم کیے بغیر انہیں برقرار رکھنے کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ دستاویز ریپڈ سپورٹ فورسز کے وجود اور غلبے کی مشروعیت کی اس وقت تصدیق کرتی ہے جب یہ (ملک گیر سطح پر 90 دنوں کے لیے فوری اور جامع انسانی جنگ بندی کے اعلان) کی دعوت دیتی ہے، اور جب یہ (جنگ بندی کی مدت کو مستقل فائر بندی تک پہنچنے کے لیے مذاکرات اور سویلین اتھارٹی کی قیادت میں عبوری مرحلے کے آغاز کے لیے استعمال کرنے) کی دعوت دیتی ہے، تو یہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو علیحدگی پسند اور باغی افواج کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ سوڈان کو تقسیم کرنے کے لیے ان کی علیحدگی پسند حکومت کو تسلیم کرتی ہے۔

اور علم میں رہے کہ حالیہ امریکی تجویز کوئی نئی نہیں ہے، بلکہ یہ پرانی ہے، جو 12/9/2025 کو کواڈ (امریکہ، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات) کے نام سے جاری ہونے والی امریکی تجویز کی تجدید کرتی ہے جو 3 ماہ کی انسانی جنگ بندی کی دعوت دیتی ہے تاکہ مستقل فائر بندی کی طرف بڑھا جا سکے۔

7- 20/6/2026 کو جاری ہونے والی حالیہ امریکی تجویز پر سوڈانی ردعمل 25/6/2026 کو آیا، جس کی تفصیلات تاخیر سے شائع ہوئیں؛ الجزیرہ نیٹ ورک نے 10/7/2026 کو سوڈانی سرکاری ذرائع کے حوالے سے حالیہ امریکی تجویز پر حکومت کا جواب نقل کیا۔ ان ذرائع نے بتایا کہ جواب میں (حکومت نے مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے اور 90 دن کی انسانی جنگ بندی کے عزم کا اعادہ کیا، اس شرط کے ساتھ کہ ریپڈ سپورٹ فورسز ان تمام شہروں سے پیچھے ہٹ جائیں جن پر انہوں نے 11/5/2023 سے قبضہ کیا ہوا ہے)۔ یہ وہ تاریخ تھی جب دونوں فریقوں نے امریکہ اور سعودی عرب کی سرپرستی میں جدہ اعلامیہ پر دستخط کیے تھے۔ اس جواب میں (سوڈان کی وحدت اور اس کی علاقائی سالمیت کی ضمانت، سوڈانی مسلح افواج کو بطور متحدہ قومی فوج برقرار رکھنے اور تمام فوجی تشکیلات کو اس میں ضم کرنے، سوڈان کے معاملات میں غیر ملکی مداخلت ختم کرنے اور ریپڈ سپورٹ فورسز ملیشیا کو اسلحہ اور کرائے کے فوجیوں کی فراہمی روکنے) کی باتیں شامل تھیں۔ سوڈانی حکومتی جواب کی دوسری دستاویز میں (ریپڈ سپورٹ فورسز کا شہروں سے انخلاء اور تین مراحل میں مخصوص مقامات پر ان کے جمع ہونے) کی تفصیلات تھیں: پہلا مرحلہ 30 دنوں میں مکمل ہونا تھا جس میں نیلِ ازرق ریجن، ریاست شمالی کردفان، اور شمالی، وسطی اور مغربی دارفور سے انخلاء شامل تھا۔ دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کی تکمیل کے 30 دنوں کے اندر شروع ہونا تھا جس میں ریاست مغربی کردفان اور جنوبی دارفور کے شہروں سے ریپڈ سپورٹ فورسز کا انخلاء شامل تھا۔ اور تیسرا مرحلہ دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے 30 دن بعد شروع ہونا تھا جس میں ریاست مشرقی اور جنوبی کردفان سے انخلاء شامل تھا۔ ان کے جمع ہونے کی جگہ "کاودا" مقرر کی گئی تھی جو کہ عبدالعزیز الحلو کی زیرِ قیادت پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ کا گڑھ ہے اور جو ریپڈ سپورٹ فورسز کی حلیف ہے۔ جواب کی تیسری دستاویز میں (جامع سوڈانی-سوڈانی مکالمے کے ذریعے سیاسی عمل کی تفصیلات شامل تھیں تاکہ ایک ایسی عبوری سویلین حکومت قائم ہو سکے جو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد تک برقرار رہے)۔ سوڈانی حکومت کا ریپڈ سپورٹ فورسز سے ان شہروں سے انخلاء کا مطالبہ کرنا جن پر وہ قابض ہیں اور پھر انہیں مخصوص جگہوں پر ٹھہرانا، دراصل ان کے وجود کا اعتراف ہے اور انہیں ختم کرنے یا ان کا وجود مٹانے کے بجائے برقرار رکھنا ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے لیے حکومت کے انخلاء یا مذاکرات کے مطالبات کو تسلیم کرنا آسان نہیں ہے، ورنہ وہ بغاوت نہ کرتی اور یہ گھناؤنے فعل انجام نہ دیتی، اور نہ ہی وہ جرائم کرتی جن کا وہ ارتکاب کر چکی ہے اور لاکھوں لوگوں کو نقصان پہنچانے اور بے گھر کرنے کا سبب بنی ہے۔ بلکہ اس معاملے کو ان کے ساتھ صرف فوجی قوت کے ذریعے مکمل خاتمے کے پختہ ارادے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

8- ٹرمپ کے سینئر مشیر برائے عرب و افریقی امور  مسعد بولس کی جانب سے 20 جون کو قاہرہ میں اعلان کردہ اس منصوبے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فائر بندی کے یہ اور اس سے پہلے کے تمام منصوبے حقیقت میں دارفور کو سوڈان سے الگ کرنے کے امریکی منصوبے کی خدمت کرتے ہیں۔ یعنی امریکہ کی طرف سے اب تک پیش کیے گئے منصوبوں کے دو مقاصد ہیں: پہلا یہ کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کو ایک متوازی سیاسی وجود  کے طور پر ظاہر کیا جائے جس کا اپنا انتظامی ڈھانچہ اور سیاسی پروگرام ہو اور وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھے.. اور دوسرا یہ کہ امریکہ فائر بندی کے ان معاہدوں کے ذریعے سوڈانی فوج کے لیے الفاشر کو واپس لینے کا راستہ مکمل طور پر بند کرنا اور وہاں حمیدتی کے کنٹرول کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ لہذا، امریکہ کی طرف سے فائر بندی کی تجاویز کو، چاہے وہ مسعد بولس کی ذاتی وساطت سے ہوں یا کواڈ کمیٹی کے ذریعے، اسی زاویے سے دیکھنا ضروری ہے، یعنی دارفور کی علیحدگی کی تکمیل کے لیے بتدریج تیاری کرنا اور مذاکرات کے موضوع کو دیگر تنازع زدہ علاقوں سے جوڑنا.. اور جس طرح اس نے جنوبی سوڈان کو الگ کرنے میں وقت لیا تھا، وہی کچھ وہ یہاں بھی کر رہا ہے! رہی بات اس تجویز میں سوڈان کے انسانی بحران کے ذکر کی، تو اس کی امریکہ یا ٹرمپ کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے!

9- دارفور پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لیے، حملوں کا دائرہ دارفور سے باہر بلکہ کردفان کی ان تین ریاستوں تک بڑھ گیا ہے جو مشرقی سوڈان کی ریاستوں، جن میں سب سے اہم دارالحکومت خرطوم ہے، اور دارفور کی ان پانچ ریاستوں کے درمیان واقع ہیں جو ریپڈ سپورٹ فورسز کے کنٹرول میں آچکی ہیں۔ جہاں جنگی طیارے کئی شہروں اور دیہاتوں میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہے ہیں تاکہ ان افواج کو ریاست شمالی کردفان کے دارالحکومت "الابیض" شہر کو نشانہ بنانے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے گی۔ ظاہر ہوتا ہے کہ کردفان کی ریاستوں میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے حملوں اور الابیض شہر پر قبضے کی کوشش کا مقصد دارفور کے ان علاقوں سے لڑائی کو دور رکھنا ہے جن پر وہ قبضہ کر چکے ہیں، تاکہ لوگوں کی توجہ وہاں سے ہٹائی جائے اور وہ اسے بھول جائیں۔ پس ریپڈ سپورٹ فورسز کسی دوسری سرزمین پر لڑ رہی ہیں جو ان کا اصل ہدف نہیں ہے۔ اسی طرح ایتھوپیا کی سرحد پر نیلِ ازرق میں بھی ہوا، جہاں سوڈانی فوج نے 10/7/2026 کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اعلان کیا کہ انہوں نے ملک کے جنوب مشرق میں ریاست نیلِ ازرق کے علاقوں "دیم سعد" اور "یارا" پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، یہ کامیابی ریپڈ سپورٹ فورسز اور پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ کے حملے کو ناکام بنانے اور ریاست نیلِ ازرق کے سٹریٹیجک شہر "الکرمک" کا کنٹرول واپس لینے کے بعد حاصل ہوئی..

یوں معلوم ہوتا ہے کہ قتال دیگر علاقوں میں جاری رہے گا تاکہ پورے دارفور پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کو یقینی بنایا جا سکے، اور یہ کہ دارفور کی نظام کی طرف واپسی اب مذاکرات کا موضوع نہیں رہا بلکہ مذاکرات ان دیگر علاقوں پر ہوں گے جہاں قتال جاری ہے! اسی لیے الابیض شہر گزشتہ کئی ہفتوں سے شدید باہمی حملوں کا منظر پیش کر رہا ہے.. اقوام متحدہ نے گزشتہ مئی میں کردفان ریجن میں حملوں میں اضافے سے خبردار کیا تھا، جن میں جنوری اور اپریل 2026 کے درمیان کم از کم 880 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نزهت شمیم خان نے 16/7/2026 کو سلامتی کونسل کے سامنے بریفنگ کے دوران خبردار کیا کہ (جنوبی سوڈان میں ریاست شمالی کردفان کے دارالحکومت الابیض شہر میں سنگین ترین بین الاقوامی جرائم وقوع پذیر ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا "اس کونسل اور تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مزید مظالم کو روکنے کے لیے حرکت میں آئیں"... اناطولیہ، 16/7/2026)۔ اگرچہ واجب یہ ہے کہ سوڈان کی وحدت کو برقرار رکھا جائے اور اس کے ہر حصے کا دفاع کیا جائے، لیکن کردفان کی ریاستوں پر توجہ مرکوز کرنا اور دارفور کی ریاستوں کو بھلا دینا اور فوج سے یہ مطالبہ نہ کرنا کہ وہ انہیں علیحدگی پسند ریپڈ سپورٹ فورسز سے آزاد کرائے، دراصل دارفور کی علیحدگی کو تسلیم کرنے، اس پر خاموشی اختیار کرنے اور دیگر ریاستوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ہے! اسی لیے ان علاقوں میں قتال شدت اختیار کر رہا ہے: (سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز ملیشیا کے درمیان لڑائی حال ہی میں جنوبی وسطی سوڈان کی ریاست شمالی کردفان میں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے.. العربی الجدید، 28/7/2026)۔ یوں دارفور سے باہر یہاں وہاں لڑائیاں جاری ہیں، اور فوج ان علاقوں میں لڑتی رہے گی یہاں تک کہ جب معاہدے پر دستخط کا وقت آئے گا تو مذاکرات ان افواج کے دارفور سے باہر کے علاقوں سے انخلاء پر ہوں گے جبکہ دارفور الگ تھلگ رہے گا!

10- اور اختتام پر، اے سوڈان کے غیور بھائیو! ہم اپنی وہ پکار آپ کے سامنے ایک بار پھر دہراتے ہیں جو اس سے پہلے کئی بار آپ کے سامنے پیش کر چکے ہیں۔ ہم اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ سچے اور مخلص ہیں، اور اللہ سے دعا گو ہیں کہ اس پکار کو بہترین سماعت اور قبولیت کی برکت نصیب ہو، اور اللہ ہی صالحین کا کارساز ہے:

[اے عظیم اسلامی سوڈان کے رہنے والو!... دنقلا مسجد کے سوڈان والو، وہ پہلی مسجد جو اولین مسلمانوں نے سوڈان میں تعمیر کی تھی... خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد کے عظیم اسلامی فتح کے سوڈان والو، جہاں انہوں نے مصر کے گورنر کو حکم دیا تھا کہ سوڈان میں اسلام کا نور داخل کریں، تو انہوں نے عبداللہ بن ابی السرح کی قیادت میں اسلام کے لشکر روانہ کیے، اور یوں 31 ہجری میں یہ فتح مکمل ہوئی... اس طرح اسلام اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فضل سے تیزی سے پھیلا یہاں تک کہ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک پورے سوڈان کو بھر دیا.. پھر یہ سلسلہ مسلم خلفاء کے دور میں جاری رہا...

اے سوڈان کے لوگو، جو 1896 سے لے کر پہلی جنگ عظیم کے وسط 1916 تک انگریزوں کے خلاف برسرِ پیکار رہے، جب دارفور کے گورنر، ایک متقی اور طاقتور ہیرو، عالم اور مجاہد "علی بن دینار" شہید ہوئے، جنہیں اہل مدینہ اور اہل شام کے میقات "ذوالحلیفہ" کی اصلاح اور حجاج کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے وہ کنویں کھدوانے کا اعزاز حاصل ہے جو آج تک ان کے نام پر "ابیارِ علی" کہلاتے ہیں...

اے سوڈان کے بھائیو! ہم آپ کو پکار رہے ہیں، لہذا پچھتاوے کا وقت آنے سے پہلے معاملے کو سنبھال لیں، پھر پچھتانے کا وقت نہیں ملے گا.. لڑنے والے دونوں فریقوں کا ہاتھ تھامیں اور انہیں حق کی طرف مڑنے پر سختی سے مجبور کر دیں.. اور نبوت کے نقشِ قدم پر  خلافتِ راشدہ  کے قیام کے لیے حزب التحریر کی نصرت کریں، کیونکہ اسی میں اسلام اور مسلمانوں کی عزت ہے اور کفر و کافرین کی ذلت ہے.. اور اللہ کی خوشنودی سب سے بڑی چیز ہے.. ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ﴾ (بے شک اس میں نصیحت ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو یا جو پوری توجہ سے سنے)۔ (سورۃ ق:آیت 37)]

اور اس طرح سوڈان اسلام کے ذریعے دوبارہ مضبوط اور معزز بنے گا، اس پر 'راية العقاب' لہرائے گی، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا پرچم: ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيم﴾ (اور اس دن مومن خوش ہوں گے اللہ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے، اور وہی سب سے زیادہ زبردست اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے)۔ (سورۃ الروم:آیت 4-5)

15 صفر 1448 ہجری

بمطابق 29/7/2026 عیسوی

Last modified onجمعرات, 06 اگست 2026 15:28

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.