الخميس، 14 ربيع الأول 1448| 2026/08/27
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

ربیع الاول: رسول اللہ ﷺ کی ولادت، بعثت، ہجرت اور وفات کا مہینہ

 

 

ربیع الاول سیدنا محمد ﷺ کی امت کے لیے بڑی اہمیت کا حامل مہینہ ہے؛ اسی میں محمد ﷺ کی ولادت ہوئی، اسی میں آپ ﷺ کو خاتم النبیین اور تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر نبی اور رسول مبعوث کیا گیا۔ اسی مہینے آپ ﷺ کی مدینہ کی طرف ہجرت بھی ہوئی تاکہ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم قائم کیا جائے۔ ربیع الاول ہی میں آپ ﷺ اپنے رب سبحانہ وتعالیٰ کے جوارِ رحمت میں منتقل ہوئے۔

 

محمد ﷺ کی بعثت تمام جہانوں کے لیے رحمت تھی، اور یہ ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی۔ ابو الحسن علی بن الحسین بن علی المسعودی (متوفی 346ھ) نے اپنی کتاب التنبیہ والإشراف میں روایت کیا ہے: فلما بلغ أربعين سنة بعثه الله عز وجل الى الناس كافة يوم الاثنين لعشر خلون من شهر ربيع الأول... وله صلّى الله عليه وسلّم يومئذ أربعون سنة وتنوزع في أول من آمن به من الذكور، بعد إجماعهم على أن أول من آمن به من الإناث خديجة  ”جب آپ ﷺ چالیس سال کے ہوئے تو اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کو پیر کے دن، ربیع الاول کی دس تاریخ گزرنے کے بعد، تمام لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔۔۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر چالیس سال تھی، اور عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ پر ایمان لائیں۔“

 

احمد بن محمد بن ابی بکر بن عبد الملک القسطلانی القتیبی المصری ابو العباس شہاب الدین (متوفی 923ھ) نے اپنی کتاب المواہب اللدنیہ بالمنح المحمدیہ میں روایت کیا: "ولما بلغ رسول الله- صلى الله عليه وسلم- أربعين سنة... وقال ابن عبد البر: يوم الاثنين لثمان من ربيع الأول سنة إحدى وأربعين من الفيل. وقيل: فى أول ربيع: بعثه الله رحمة للعالمين، ورسولا إلى كافة الثقلين أجمعين”جب رسول اللہ ﷺ چالیس سال کے ہوئے۔۔۔ ابن عبد البر نے کہا: پیر کے دن، ربیع الاول کی آٹھ تاریخ کو، عام الفیل کے اکتالیسویں سال، اور کہا گیا کہ ربیع الاول کے آغاز میں، اللہ نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت اور تمام جن و انس کی طرف رسول بنا کر مبعوث فرمایا۔“

 

 یہ بعثت انبیاء کی تابناک تاریخ میں منفرد تھی؛ رسول اللہ ﷺ کو تمام انبیاء علیہم السلام کے درمیان بلند مقام عطا کیا گیا۔ محمد ﷺ کسی خاص قوم یا خاص زمانے کے لیے مبعوث نہیں کیے گئے، جیسا کہ سابقہ انبیاء قوم عاد، ثمود، قوم لوط یا بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے؛ بلکہ محمد ﷺ تمام نسلوں اور ہر زمانے کے لیے، اپنی مبارک بعثت کے لمحے سے قیامت تک، مبعوث کیے گئے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

 

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ

"اور (اے نبی ﷺ !) ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر"

 انبیاء (21:107)

ربیع الاول میں رسول اللہ ﷺ کی ہجرت بھی ہوئی تاکہ مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم کی جائے۔ اوس اور خزرج کی نصرت حاصل ہونے کے بعد، مکہ کے ظلم سے لے کر مدینہ میں اسلام کی حکمرانی تک کا مرحلہ طے ہوا۔ امام بخاری نے اپنی صحیح میں ابن شہاب سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی: "وَسَمِعَ المُسْلِمُونَ بِالْمَدِينَةِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ... فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِ الحَرَّةِ، فَعَدَلَ بِهِمْ ذَاتَ اليَمِينِ، حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَذَلِكَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ..." ”مدینہ کے مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کی مکہ سے ہجرت کی خبر سنی۔۔۔ وہ رسول اللہ ﷺ کا استقبال حرہ کے پاس کرنے نکلے، پھر آپ ﷺ ان کے ساتھ دائیں جانب مڑ گئے یہاں تک کہ بنو عمرو بن عوف کے پاس اترے، اور یہ ربیع الاول کے مہینے کا پیر کا دن تھا۔۔۔“

 

ابن حبان نے اپنی صحیح میں براءؓ سے روایت کیا:(حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ يَوْمَ الاثْنَيْنِ، لاثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الأَوَّلِ) ”آپ ﷺ کی مدینہ آمد پیر کے دن، ربیع الاول کی بارہ راتیں گزرنے کے بعد ہوئی۔“ طبری نے تاریخ الرسل والملوک میں کہا: ”ہم سے ابن حمید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سلمہ نے، ابن اسحاق سے، ازہری سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ پیر کے دن، ربیع الاول کی بارہ راتیں گزرنے کے بعد تشریف لائے۔“

 

یوں ربیع الاول وہ مہینہ تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کو نبوت کے بعد حکم بھی عطا ہوا۔ اسلامی ریاست قائم ہوئی، جس کے ذریعے اسلام کو اپنی تمام عظمت اور رحمت کے ساتھ نافذ کرنا ممکن ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے علاقوں پر حکام مقرر کیے، قاضی تعینات کیے، عدل و قضا کی بنیادیں قائم کیں، بیت المال قائم کیا، آمدنی وصول کی اور اسے رعایا پر خرچ کیا۔

 

آپ ﷺ نے قبائل اور دوسری امتوں کو بھی دعوت دی، بادشاہوں اور قیصروں کو خطوط بھیجے، اور اسلامی ریاست کو وسعت دی؛ کیونکہ آپ ﷺ کا مشن اسلام کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر پہنچانا تھا، چنانچہ لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے۔

 

پس ربیع الاول اور اس میں ظاہر ہونے والی نعمتیں اور عطائیں ہمارے لیے اس بات کا محرک بنیں کہ ہم اسلام کا پیغام اٹھائیں اور اس کے نفاذ کی کوشش کریں، تاکہ یہ مظلوموں کے لیے تسلی اور پوری انسانیت کے لیے رحمت بن جائے۔

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لیے لکھا گیا

 

مصعب عمیر

 

 

Last modified onجمعرات, 27 اگست 2026 06:33

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک