الخميس، 30 صَفر 1448| 2026/08/13
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

تو پھر یہودی وجود، امریکی صلیبیوں اور ہندو ریاست کی جارحیت کو روکنے کے لیے معاہدہ کب ہوگا؟

 

 

خبر:

 

آج سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاع سے متعلق مکہ مکرمہ سربراہی اجلاس کا ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاعی قوتِ بازدار (Deterrence) کو مضبوط بنانا ہے، اور اس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ان تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک پر ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ، تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے میں تینوں ریاستوں کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں کو مزید مضبوط بنانے کی بھی شق شامل ہے۔

 

سعودی پریس ایجنسی

7 اگست 2026

https://www.spa.gov.sa/en/N2649227

 

تبصرہ:

 

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے حکمرانوں نے اب فوجی معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا، پہلے کیوں نہیں کیا؟ انہوں نے غزہ پر یہودی وجود کی جارحیت کے خلاف، جو اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی اور آج تک ختم نہیں ہوئی، اجتماعی دفاعی قوتِ بازدار کو مضبوط بنانے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ اگر وہ ایسا کر لیتے تو فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کی آزادی چند ہی دنوں میں، بلکہ شاید ایک ہی دن کے چند گھنٹوں میں مکمل ہو چکی ہوتی۔ انہوں نے ایران پر امریکی صلیبیوں کی جارحیت کے خلاف بھی کوئی معاہدہ نہیں کیا، جو فروری 2026 میں شروع ہوئی اور اب تک جاری ہے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ امت کی افواج کی قیادت کرتے اور مسلم دنیا کے قلب میں موجود امریکی افواج، یعنی ہمارے گھر میں موجود اس سانپ کو، جو ایک کے بعد ایک مسلم ریاست کو ڈس رہا ہے، پسپا ہونے پر مجبور کر سکتے تھے۔

 

تو پھر انہوں نے عین اسی وقت یہ معاہدہ کیوں کیا؟ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے حکمرانوں نے یہ معاہدہ صرف اس لیے کیا کہ وہ ٹرمپ کی مدد کریں، اس وقت جبکہ ایران کے مسلمانوں نے بہادری کے ساتھ اس کی جارحیت کو پسپا کر دیا، امریکی فوجی قوت کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا، اس کے ہتھیاروں کے ذخائر کو ختم ہونے کے قریب پہنچا دیا اور اس کی صفوں میں خوف پیدا کر دیا۔ انہوں نے یہ معاہدہ صرف اس لیے کیا کہ اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کے اندر موجود مزاحمت کرنے والے دھڑے پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ ایران کو ایک آزاد ریاست کے بجائے امریکہ کے تابع ریاست بنانے پر آمادہ ہو جائے۔ انہوں نے یہ معاہدہ صرف اس لیے کیا کیونکہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ مسلمان مسلمانوں سے لڑیں، تاکہ آخرکار یہودیوں اور امریکی صلیبیوں کو سب پر فتح حاصل ہو جائے۔

 

لہٰذا، انہی حکمرانوں کی کفار کے سامنے تابع داری اور فرمانبرداری نے انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اب ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر متفق ہوں اور اس پر دستخط کریں۔ جہاں تک فلسطین کی مبارک سرزمین کا تعلق ہے، اسے ان حکمرانوں کے ساتھ منسوب کر کے انہیں عزت دینا مناسب نہیں، اور نہ ہی وہ اس کے دفاع کے شرف کے مستحق ہیں۔ وہ ذلیل ہیں، اور انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اسلامی امت اور اس کی افواج پر لازم ہے کہ وہ اٹھ کھڑی ہوں اور انہیں اقتدار سے ہٹا دیں۔

 

اے اسلامی امت اور اس کی افواج!

 

ہم کیسے یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ ظالم اور غدار لوگ ہم پر کفار کے قوانین، پالیسیوں اور احکامات کے مطابق حکومت کریں، جبکہ ہم محمد ﷺ کی امت ہیں؟ ہم کس طرح اس تباہ کن صورتِ حال کو برداشت کر سکتے ہیں جو ہم سب پر اسلام کے مطابق حکومت کرنے والے ایک ہی خلیفۂ راشد کی عدم موجودگی کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں اختلافات، تنازعات اور فتنہ جنم لیتا ہے؟ ابنِ اسحاق روایت کرتے ہیں کہ اپنے خطبے میں پہلے خلیفۂ راشد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: "وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يَكُونَ لِلْمُسْلِمِينَ أَمِيرَانِ، فَإِنَّهُ مَهْمَا يَكُنْ ذَلِكَ يَخْتَلِفْ أَمَرُهُمْ وَأَحْكَامُهُمْ، وَتَتَفَرَّقُ جَمَاعَتُهُمْ، وَيَتَنَازَعُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ، هُنَالِكَ تُتْرَكُ السُّنَّةُ، وَتَظْهَرُ الْبِدْعَةُ، وَتَعْظُمُ الْفِتْنَةُ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عَلَى ذَلِكَ صَلَاحٌ."

 

"بے شک مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ ان کے دو امیر ہوں۔ اگر ایسا ہو جائے تو ان کے معاملات اور احکام میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، مسلمانوں کی جماعت تقسیم ہو جائے گی اور وہ آپس میں جھگڑنے لگیں گے۔ اس کے نتیجے میں سنت کو چھوڑ دیا جائے گا، بدعت ظاہر ہو جائے گی، فتنہ بہت بڑھ جائے گا، اور اس میں کسی کے لیے بھی کوئی بھلائی نہیں ہوگی۔"

 

مسلسل آزمائشوں کے ذریعے، جن میں ایک آزمائش ختم ہونے سے پہلے دوسری آ جاتی ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ اتحاد کیا ہے اور تفرقہ کیا ہے، خیر کیا ہے اور شر کیا ہے، نیک لوگ کون ہیں اور غدار کون ہیں، نیز شریعت کی فرض کردہ ذمہ داری کیا ہے اور گناہ پر مبنی غفلت کیا ہے۔ ہم سب پر، ہم میں سے ہر ایک پر، لازم ہے کہ اپنی راتوں کو اپنے دنوں سے جوڑ دیں، چھوٹے اور بڑے ہر عمل کے ذریعے، یہاں تک کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے ذریعے فتح عطا فرما دے۔ اسی وقت امت اور اس کی افواج امریکی صلیبیوں، یہودی وجود اور ہندو ریاست کی جارحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے متحرک ہوں گی۔

 

مصعب عمیر، ولایہ پاکستان

 

 

Last modified onبدھ, 12 اگست 2026 19:43

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک