بسم الله الرحمن الرحيم
سوڈان میں ہیضہ کا پھیلاؤ: اس کے اسباب اور اس سے بچاؤ
تحریر: استاد یعقوب ابراہیم – ولایہ سوڈان
(ترجمہ)
عالمی ادارہ صحت نے سوڈان میں ہیضہ (کولیرا) کی وجہ سے 120 افراد کی ہلاکت اور 1102 افراد کے متاثر ہونے کا تخمینہ لگایا ہے، جہاں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان تین سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے باعث شعبہ صحت شدید گراوٹ کا شکار ہے۔ سوڈان میں ہیضہ کی موجودہ لہر گزشتہ تین سالوں کے دوران تیسری لہر ہے، جو گزشتہ مارچ میں اس وبا کے خاتمے کے اعلان کے محض دو ماہ بعد ہی سامنے آئی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی 2024 سے گزشتہ مارچ کے درمیان آنے والی حالیہ لہر میں ایک لاکھ 24 ہزار 400 سے زائد افراد ہیضہ کا شکار ہوئے، اور 3500 افراد جاں بحق ہوئے۔ سوڈان میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ، شبل صہبانی نے کہا: "شمال مشرقی افریقہ میں پھیلنے والے ہیضہ کے چکر ہر تین سال بعد آیا کرتے تھے، لیکن سوڈان کو اس وقت جنگ و جدل، مخصوص علاقوں تک رسائی پر پابندیوں اور طبی سامان کی قلت کی وجہ سے تقریباً مسلسل وبائی صورتحال کا سامنا ہے" (العربی الجدید)۔
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹوں کے مطابق، سوڈان کے اکثر ہسپتال مکمل یا جزوی طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں۔ صہبانی کا کہنا ہے کہ "40 فیصد طبی مراکز بالکل کام نہیں کر رہے، جبکہ تقریباً 60 فیصد مراکز محض جزوی طور پر فعال ہیں، یعنی وہ مریضوں کو انتہائی محدود یا ناکافی طبی خدمات فراہم کر رہے ہیں"۔
سوڈان کے عوام جن تباہ کن حالات کا شکار ہیں، وہ محض امریکہ کی بھڑکائی ہوئی اس تباہ کن جنگ کی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ ایک سنگین بحران ہے اور ریاست کی جانب سے صحت کی دیکھ بھال میں مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ عالمی ادارے پے در پے دہائیاں دے رہے ہیں اور ملک میں صحت کے بڑے المیوں کی وارننگ جاری کر رہے ہیں، جس کے پیشِ نظر عالمی ادارہ صحت نے ہیضے کی وبا کے خلاف ویکسینیشن مہم شروع کی ہے، جو ہزاروں لوگوں بالخصوص بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ سوڈان میں عالمی ادارہ صحت کی نائب نمائندہ، ہالہ خداری نے بتایا کہ "ہیضے کی وبا جس کا آغاز جولائی 2024 کے آخر میں ریاست کسلا سے ہوا تھا، اب ملک کی تمام 18 ریاستوں تک پھیل چکی ہے"۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اب تک 1 لاکھ 13 ہزار 600 سے زائد کیسز اور 3000 سے زیادہ اموات رجسٹر ہو چکی ہیں، اور اموات کی یہ شرح انتہائی تشویشناک ہے (عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ)، لیکن اس پکار کا جواب دینے والا کوئی نہیں!
الجزیرہ نیٹ کی یکم فروری 2026 کی ایک رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ہیضہ 18 سے زائد ریاستوں میں پھیل چکا ہے اور اس سے تقریباً 3500 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈینگی بخار نے 1084 افراد کی جان لی ہے، جبکہ ملک میں ملیریا کے 27 لاکھ سے زائد کیسز رجسٹر ہوئے ہیں۔ ان بیماریوں کے ساتھ ساتھ بھوک اور غذائی قلت کے بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی ویب سائٹ نے 3 اگست 2025 کو یونیسیف کے ایک پریس بیان کے حوالے سے بتایا کہ دارفور کی پانچ ریاستوں میں 30 جولائی تک ہیضے کے کل کیسز کی تعداد تقریباً 2140 تک پہنچ گئی، جس میں کم از کم 80 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ ہیضے کے علاوہ، پانچ سال سے کم عمر کے 6 لاکھ 40 ہزار سے زائد بچوں کی زندگیوں کو تشدد، بیماری اور بھوک کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
19 اگست 2025 کو ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ (ایم ایس ایف) نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ صوبہ دارفور میں ہیضہ تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کے نتیجے میں محض ایک ہفتے کے اندر 40 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ تنظیم کی ٹیموں نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے گزشتہ سات دنوں کے دوران ہیضے کے 2300 سے زائد مریضوں کا علاج کیا ہے۔
حالاتِ حاضرہ میں، سوڈان میں امریکی منصوبے کی تکمیل میں مصروف دو جرنیلوں کے درمیان جاری اس بے مقصد جنگ کی وجہ سے ہیضے کی وبا کا پھیلاؤ سوڈانی عوام کے لیے 'مصیبت پر مصیبت' بن گیا ہے۔ جنگ کے دوران نظامِ صحت کو بارہا حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں طبی تنصیبات اور آلات تباہ ہوئے اور بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں؛ طبی عملے اور یہاں تک کہ مریضوں کو بھی موت کے گھاٹ اتارا گیا جیسا کہ الفاشر ہسپتال میں پیش آیا۔ عالمی ادارہ صحت نے ڈھائی سال کے دوران شعبہ صحت پر ہونے والے تقریباً 2002 حملوں کو ریکارڈ کیا ہے، جن کے نتیجے میں طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے 1883 افراد جاں بحق ہوئے۔
ان تمام تر المیوں کے باوجود حکومت انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر رہی ہے، بلکہ بیماری کے وجود سے ہی انکار کر رہی ہے! وفاقی وزارتِ صحت نے 3 مارچ 2026 کو اپنی ویب سائٹ پر ملک کو ہیضے کی وبا سے پاک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 14 جنوری سے کسی بھی ریاست میں بیماری کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ یہی نہیں بلکہ حکومت عوام کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے چھٹکارا پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بورتسوڈان میں مقیم گورنر دارفور، منی ارکو مناوی نے واضح کیا کہ بیماری کا پھیلاؤ زیادہ تر ان علاقوں میں ہے جو 'ریپڈ سپورٹ فورسز' کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو (DW) عربیہ کے پروگرام 'سوڈان ناؤ' میں بیان دیتے ہوئے کہا: "ہیضے کے مریض حکومتی خدمات کے دائرہ کار سے باہر رہ رہے ہیں، اور ان میں سے اکثریت ان علاقوں میں ہے جہاں ریپڈ سپورٹ فورسز کا کنٹرول ہے، جو وہاں خدمات فراہم کرنے کی اہل نہیں ہیں"۔
اسلام صحت کی دیکھ بھال کو ایک ایسی عملی، مؤثر اور مسلسل ذمہ داری کے طور پر دیکھتا ہے جو فرد اور معاشرے کی ان ضروریات کو پورا کرے جن کے ذریعے ایک انسان جسمانی اور نفسیاتی صحت سے بھرپور زندگی گزار سکے۔ شریعت نے صحت کی دیکھ بھال کو براہِ راست ریاست اور خلیفہ کی ذمہ داری قرار دیا ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:«الْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ» "امام (حکمران) نگہبان ہے اور اپنی رعایا (کی فلاح و بہبود) کے بارے میں جوابدہ ہے"۔
سوڈان میں آج وبائی امراض کا جو پھیلاؤ اور اس پورے منظر نامے سے ریاست کی عدم موجودگی نظر آ رہی ہے، وہ ایک ایسا خطرناک انتباہ ہے جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ اس وقت محض ادویات کی فراہمی ہی مطلوب نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقی فلاحی ریاست کا قیام وقت کی پکار ہے جو انسانی زندگی کی قدر کرے اور بحرانوں کے محض ظاہری اثرات کے بجائے ان کے اصل اسباب کا قلع قمع کرے؛ ایک ایسی ریاست جو انسان اور اس کی زندگی کی حقیقی اہمیت سے واقف ہو۔ بلاشبہ وہ واحد ریاست جو اپنے جامع نظامِ صحت کے ذریعے ان تمام مسائل کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ دوسری خلافتِ راشدہ ہے جو نبوت کے نقشِ قدم پر ان شاء اللہ بہت جلد قائم ہونے والی ہے۔
Latest from
- الرایۃ کے متفرقات – شمارہ نمبر 608
- مالی میں بگڑتے ہوئے حالات
- ”تیل کے بدلے خوراک“ سے ”نقد کے بدلے غذائیت“ تک! یمن میں منظم غربت پیدا کرنے کا کفار کا آلہ کار
- فورتھ جنریشن وار(Fourth Generation War) اور سوڈانی ریاست کا بتدریج خاتمہ
- صدارتی تقرریوں کے ذریعے شامی عوامی اسمبلی (مجلس الشعب) کی تشکیل کی تکمیل شرعی خلاف ورزیاں اور سیاسی خطرات






