الإثنين، 06 صَفر 1448| 2026/07/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اداریہ

 

کیا تعمیرِ نو اور معیشت کی بحالی اس ذلت و رسوائی کا جواز بن سکتی ہے؟

 

تحریر: استاد احمد القصص

(ترجمہ)

 

 

فرانسیسی صدر کا دورہِ دمشق سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کی توجہ کا ایک خاص مرکز بنا رہا، کیونکہ کسی بھی بڑی عالمی طاقت کے سربراہ کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس دورے کے دوران جس طرح کا استقبال کیا گیا، وہ مزید تبصروں، تنقید اور بحث و مباحثے کا باعث بنا۔ بالخصوص مسجدِ اموی میں ان کا اعزاز و اکرام اور استقبال،جس کی اپنی ایک مذہبی، تاریخی اور تہذیبی علامت ہے،شام کے اندر اور باہر بہت سے مسلمانوں کے لیے ایک صدمے کا باعث بنا، خاص طور پر اس لیے کہ فرانسیسی صدر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی قول و فعل میں ظاہر ہونے والی کھلی دشمنی کے لیے مشہور ہیں۔

 

حسبِ روایت، شامی حکومت کے اس رویے کے حق میں توجیہات اور بہانوں کا ایک تانتا باندھ دیا گیا، جن کی بنیاد حکام کے ہر فیصلے اور عمل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے پر ہے۔یہ دلیل دی گئی کہ حکمران ملک کی سیاست کے لیے بہتر فیصلے کرنا خوب جانتا ہے، اور یہ وہی اندھی تقلید ہے جو قوموں کے زوال کی علامتوں میں سے ایک ہے۔

 

اس توجیہہ کے لیے  سب سے نمایاں دلیل یہ پیش کی گئی، جو کہ امتِ قرآن کے شایانِ شان نہیں اور ذلت آمیز ہے،  کہ بڑی طاقتوں کے ساتھ مضبوط اور دوستانہ سیاسی تعلقات شام کی معاشی ترقی اور تعمیرِ نو میں معاون ثابت ہوں گے۔ خاص طور پر اس لیے کہ اس دورے کا بنیادی عنوان ہی معاشی تعاون کے معاہدے اور فرانسیسی سرمایہ کاری تھی۔ جیسا کہ دورے کے پروگرام سے واضح تھا، اس کا ایک اہم ترین مقصد معاشی تعاون کو فروغ دینا اور ملک کی تعمیرِ نو میں حصہ لینا ہے، کیونکہ فرانس جنگ سے متاثرہ شامی انفراسٹرکچر  اور سول اداروں کی تعمیرِ نو میں کلیدی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے میکرون اپنے ساتھ فرانس کی بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کا ایک وفد بھی لایا تھا، جس میں توانائی کے شعبے سے 'ٹوٹل انرجی' اور بندرگاہوں اور لاجسٹکس کے شعبے سے 'سی ایم اے سی جی ایم' (CMA CGM) شامل تھیں، تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جائیں اور تجارتی تبادلے کو دوبارہ فعال کیا جائے۔ اس کے علاوہ بات چیت میں سیاحت، زراعت، صنعت، فضائی و بحری نقل و حمل (بشمول ایئربس طیاروں کی فراہمی) اور بینکنگ کے شعبوں میں معاہدے بھی شامل تھے۔ مختصر یہ کہ اس دورے کا لبِ لباب یہ ہے کہ میکرون شام میں متوقع تعمیرِ نو اور سرمایہ کاری کے اس عمل میں اپنی ریاست اور کمپنیوں کا حصہ حاصل کرنے کے لیے دوڑ لگا رہے ہیں، جس کے اعلیٰ ترین فیصلوں پر امریکہ کا غلبہ ہے۔ سیاسی توقعات مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص خطہِ شام کے مستقبل میں ایک دیو ہیکل سرمایہ کاری کے مرکز کی تصویر دکھا رہی ہیں جو اسے ایک بہت بڑی 'مالیاتی کان' بنا دے گی، بلکہ ایسی کئی کانیں جہاں سے مال نکالنے کے لیے ان 'وہیل مچھلی' نما کمپنیوں کی رال ٹپک رہی ہے جو بڑی سرمایہ دارانہ ریاستوں اور ان کی پالیسیوں کو کنٹرول کرتی ہیں۔

 

اگرچہ اس دورے کا پروگرام صرف معاشی اور سرمایہ کاری کے پہلو تک محدود نہیں تھا، لیکن یہ مضمون صرف معاشی پہلو پر توجہ مرکوز کرے گا کیونکہ یہی اس دورے کا سب سے نمایاں عنوان ہے، اور یہی وہ سب سے بڑا عذر ہے جسے اس دورے کے ڈھول بجانے والے، خوشامد کرنے والے اور نعرے لگانے والے بطور دلیل استعمال کر رہے ہیں۔

سب سے پہلے، اس بات پر دوبارہ زور دینا ضروری ہے کہ جو امت اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانے کی ذمہ دار ہو، اس کے لیے قطعی طور پر یہ جائز نہیں کہ وہ مادی و معاشی مفادات کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھے۔ اس فہرست میں سب سے بلند مقام 'مبدأ' (آیڈیالوجی) یعنی خود اسلام کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ امت، اس کی ریاست اور سیاست پر شریعت کی حکمرانی ہے، چنانچہ یہ ہرگز جائز نہیں کہ معاشرے اور ریاست میں اسلام کی حاکمیت اور اس کی شریعت کے معاملے میں مادی فوائد کی خاطر ذرہ برابر بھی سمجھوتہ کیا جائے، چاہے وہ فوائد کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، باوجود اس کے کہ معیشت کی اپنی اہمیت ہے جسے 'زندگی کی شہ رگ' کہا جاتا ہے۔ شریعت کی حکمرانی کا تقاضا  ترجیحات میں سب سے پہلے آتا ہے اوراس کے فوراً بعدجو معاملہ ہے وہ اپنی ریاست، سرزمین اور املاک پر 'امت کے  اختیار کا معاملہ ہے، تاکہ ملک کے سیاسی، سیکیورٹی، معاشی اور ثقافتی فیصلے خالصتاً امت کے اپنے ہاتھ میں ہوں اور کسی غیر ملکی کو ریاست کی خودمختاری، اس کے اختیار اور اس کے سیاسی فیصلوں میں مداخلت کا کوئی راستہ نہ ملے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلاً﴾"اور اللہ ہرگز کافروں کے لیے مومنوں پر (غلبے کا) کوئی راستہ نہیں بنائے گا۔" (سورۃ النساء: 141)مفسرین کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے کہ کافروں کا مومنوں پر کوئی اختیار یا اقتدار ہو۔

 

اسلام میں پہلی ترجیح شریعت کی حکمرانی کو حاصل ہے نہ کہ معیشت یا کسی اور چیز کو، اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ بہت سے لوگ جس پر خوشیاں منا رہے ہیں کہ شریعت کی حدود سے تجاوز کرنے والے یہ تعلقات ملک میں معاشی خوشحالی لائیں گے، وہ محض ایک وہم ہے۔ یہ سوچ سیاست، معیشت اور شریعت، تینوں سے جہالت کی عکاسی کرتی ہے۔ معیشت کے میدان میں شامی حکومت جس نہج پر چل رہی ہے، وہ معاشی تحفظ لانے والا راستہ نہیں ہے، بلکہ یہ وہ راستہ ہے جو شام کی معیشت اور پھر پورے شام کو غیر ملکی ارادے کا مرہونِ منت (گروی) بنا دے گا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے دو متضاد سیاسی تصورات کی وضاحت ضروری ہے جو بدقسمتی سے سیاسی و معاشی شعور کی کمی اور اسلامی ثقافت میں کمزوری کی وجہ سے شام اور دیگر اسلامی ممالک کے اکثر مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ یہ دو تصورات 'محتاج معیشت' (Dependency Economy) اور 'خودمختار معیشت' (Sovereign Economy) ہیں۔

 

جہاں تک 'محتاج معیشت' کا تعلق ہے، تو اس کا انحصار بیرونی دنیا پر ہوتا ہے اور یہ اپنے معاشی مستقبل کو غیر ملکی ریاستوں یا اداروں سے وابستہ کر دیتی ہے۔ یہ ریاست کو بڑی طاقتوں یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں، جیسے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)، کے احکامات اور قرضوں یا امداد کے حصول کے لیے ان کی شرائط کے سامنے مغلوب کر دیتی ہے۔ ایسی معیشت اکثر 'کرایہ دار معیشت' (Rentier Economy) یا یک طرفہ ہوتی ہے، جس کا دارومدار محض خام مال کی برآمد پر ہوتا ہے، اور اس میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ان قدرتی وسائل کو نکالنے اور برآمد کرنے پر بڑی غیر ملکی کمپنیوں کا کنٹرول ہوتا ہے، جو منافع تو ملک سے باہر لے جاتی ہیں لیکن مقامی افرادی قوت کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ یہ محتاج معیشت اپنی زیادہ تر دیگر اہم ضروریات بھی باہر سے ہی منگواتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ اور برآمد کنندہ ممالک کے سیاسی دباؤ کا یرغمال بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اس کی مقامی کرنسی مکمل طور پر کسی غیر ملکی کرنسی (جیسے کہ ڈالر) کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، یا پھر یہ معیشت قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے شدید افراطِ زر اور کرنسی کی قدر میں مسلسل گراوٹ کا شکار رہتی ہے۔

 

اس کے برعکس، 'خودمختار معیشت' ریاست کے آزادانہ فیصلے اور خود کفالت کے حصول پر مبنی ہوتی ہے، جہاں ریاست کسی بیرونی دباؤ یا احکامات کے بغیر اپنی مالیاتی اور مانیٹری پالیسی ترتیب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی خصوصیت معاشی تنوع ہے، جس میں صنعت، زراعت اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جاتا ہے تاکہ بنیادی اشیاء اور غذائی مواد کی درآمد پر انحصار کم سے کم کیا جا سکے۔ یہ معیشت گندم، ادویات اور توانائی جیسی اسٹریٹجک اشیاء میں خود کفالت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے تاکہ اپنی قوم کی سلامتی کو کسی بھی ممکنہ معاشی محاصرے یا سیاسی تبدیلیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ خام مال اور توانائی کے قدرتی وسائل، جیسے تیل، گیس اور معدنیات، مقامی مہارت کے ذریعے اور عوامی ترقی و مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اگر اسے عارضی طور پر غیر ملکی تجربہ کار ماہرین کی ضرورت پڑے بھی، تو وہ ان کے ساتھ ایک مقررہ مدت کے لیے طے شدہ اجرت پر معاہدہ کرتی ہے، نہ کہ انہیں وسائل نکالنے اور بیچنے کے مالکانہ حقوق  دے کر ملک کی دولت کو غیر ملکیوں کے ہاتھوں لٹنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔ ان سب کے علاوہ، خودمختار معیشت کی اپنی آزاد کرنسی ہوتی ہے، جو اسلامی شریعت کی رو سے سونا اور چاندی ہے یا ایسے کرنسی نوٹ جو حقیقت میں ان کی نمائندگی کرتے ہوں، جس میں کرنسی کے ایک یونٹ کی قدر سونے یا چاندی کے ایک خاص اور مستقل وزن کے برابر ہوتی ہے، اور اسے حقیقی پیداوار اور متنوع ذخائر کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، جو اسے عالمی مالیاتی بحرانوں کے مقابلے میں تحفظ فراہم کرتی ہے۔

خودمختار معیشت کو اپنانے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ، ان ممالک کو جو جنگ کی حالت میں ہیں یا جنہیں جلد ہی جنگ کا خطرہ ہے، 'جنگی معیشت' (War Economy) کے اصولوں پر چلنا چاہیے، اور 'امن کی معیشت' پر بھروسہ کر کے اپنے لوگوں، ملک اور اثاثوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے؛ یہ ایک الگ بحث ہے جس کے لیے ایک مستقل مضمون درکار ہے۔

 

انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمیں شام میں جو معاشی طرزِ عمل نظر آ رہا ہے وہ ایک ایسی محتاج معیشت ہے جو خودمختار معیشت سے کوسوں دور ہے۔ ایک ایسی صورتحال میں جب ہم غاصب یہودی وجود کے ساتھ مسلسل حالتِ جنگ میں ہیں، جو کسی صورت رکنی نہیں چاہیے،شام کا حکمران ایسے منصوبوں پر عمل پیرا ہے جو جنگی معیشت کے تصور سے بالکل میل نہیں کھاتے۔ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ وہ خطے کے ایک ایسے مستقبل کی طرف دیکھ رہا ہے جس میں غاصب وجود کے ساتھ جنگ کی کوئی جگہ نہیں ہو گی، بلکہ اسے ایک فطری پڑوسی سمجھا جائے گا جس کی معیشت شام اور پورے خطے کی معیشت کے ساتھ مربوط ہو جائے گی۔ یہی وہ منصوبہ ہے جو امریکہ نے تیار کیا ہے، بلکہ وہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

 

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے رکن

 

 

Last modified onاتوار, 19 جولائی 2026 20:38

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک