السبت، 13 ذو الحجة 1447| 2026/05/30
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

یہودی وجود کے ساتھ لبنان کے مذاکراتی جرم کے لیے فریب کاروں کے بہانے

 

 

تحریر: استاد احمد الصوفی (ابو نزار الشامی)

(ترجمہ)

 

موجودہ دور میں مسلمان جن خطرناک ترین آزمائشوں میں مبتلا ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ تصورات کو خلط ملط کر دیا گیا ہے، شرعی احکام کو ان کے اصل سیاق و سباق سے کاٹ دیا گیا ہے، اور پھر شریعت اور سیرتِ طیبہ کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ حق کو باطل اور باطل کو حق، غداری کو دانائی اور سر تسلیم خم کرنے کو سیاست بنا کر پیش کیا جا رہا ہے! اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایک مثال تصور کریں: اگر کوئی سوال کرے کہ نکاح کے بغیر کسی مرد اور عورت کا اکھٹے رہنا کیسا ہے؟ اور کوئی جواب دینے والا کہے کہ "اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان حسنِ معاشرت کا حکم دیا ہے اور ان کے درمیان مودت اور رحمت رکھی ہے"۔ تو بظاہر اس کی بات درست معلوم ہوگی، لیکن حقیقت میں یہ دھوکہ دہی اور تلبیس ہے، کیونکہ اس نے سننے والے کو یہ تاثر دیا کہ زنا یا حرام تعلقات بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ بعینہٖ یہی کام آج کل کے وہ لوگ کر رہے ہیں جو یہودی وجود کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے اور ہار مان لینے کی دعوت دیتے ہیں۔ جب ان سے غاصب یہودی وجود کو تسلیم کرنے کا حکم پوچھا جاتا ہے، تو وہ کہتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے بھی تو یہودیوں اور کفار کے ساتھ معاہدے کیے تھے!"

 

نبی کریم ﷺ کے معاہدے کبھی بھی کسی قابض کو تسلیم کرنے، کسی غاصب کے قبضے کو قانونی قرار دینے، مسلمانوں کی زمین دشمن کے حوالے کرنے یا ایسے دشمن کے سامنے جھکنے کے لیے نہیں تھے جس نے مقدسات کی توہین کی ہو، خون بہایا ہو اور امت کی لاشوں پر اپنا وجود قائم کیا ہو۔ بلکہ وہ ایک معزز اور طاقتور ریاست کے معاہدے تھے، جو اللہ کے کلمے کو بلند اور اس کے دشمنوں کو ذلیل کرتے تھے، اور ان شرعی احکام کے مطابق ہوتے تھے جو اسلام نے خلیفہ کے سپرد کیے ہیں، نہ کہ ان افراد یا کٹھ پتلی حکومتوں کے سپرد جو معمولی قیمت پر امت کا سودا کر دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ جو لوگ نبی ﷺ کے معاہدوں کی دلیل دیتے ہیں، وہ اس بڑی حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ فلسطین دو ریاستوں کے درمیان کوئی متنازعہ زمین نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مقبوضہ اسلامی سرزمین ہے۔ وہاں موجود یہودی کوئی ایسا وجود نہیں ہیں جن کے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاہدہ کیا جائے، بلکہ وہ ایک غاصب گروہ ہے جسے کفر کی قوتوں نے امت کے دل میں ایک خنجر کی طرح پیوست کیا ہے۔ اس لیے صرف "اسرائیل کی وجود" کا نام لینا ہی ایک ایسے باطل جواز کو تسلیم کرنا ہے جسے اسلام اور ہر مسلمان مسترد کرتا ہے۔

 

رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کے ساتھ معاہدے اس وقت کیے تھے جب وہ یا تو اسلام کے زیرِ نگیں تھے جیسے بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع، یا پھر ان سے جنگ اور انہیں شکست دینے کے بعد جب انہوں نے آپ ﷺ کے حکم کے سامنے سر جھکا دیا تھا جیسے خیبر، وادی القریٰ، فدک اور تیماء کے یہودی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے رسول ﷺ ان یہودیوں پر مکمل اختیار رکھتے تھے، پھر ان کے لیے معاہدے لکھتے اور انہیں ہدایات جاری کرتے تھے۔ ان کے ساتھ آپ ﷺ کے معاہدوں کی یہی حقیقت تھی، اور آپ ﷺ نے  ان سے کبھی اس وقت معاہدہ نہیں کیا جب وہ مسلمانوں کے ملکوں پر قابض ہوں، ان کے بیٹوں کو قتل کر رہے ہوں اور ان کے مقدسات کو ڈھاہ رہے ہوں۔ بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ مدینہ کے اندر رسول اللہ ﷺ کی حکومت کے ماتحت تھے، اور آپ ﷺ نے ان پر اپنی شرائط کے مطابق معاہدے لازم کیے تھے، آپ ﷺ انہیں حکم دیتے اور منع کرتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ آپ ﷺ پر اپنی شرائط مسلط کرتے یا اپنی خود مختاری تسلیم کرواتے، جیسا کہ آج کے حکمرانوں کے ساتھ صہیونیوں کا حال ہے۔

 

اگر آپ درست استدلال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو نبی کریم ﷺ کی سیرت اور آپ ﷺ کی سنت سے ان یہودیوں کے بارے میں دلیل لینی چاہیے تھی جو غداری اور زیادتی کرتے تھے۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے تھے؟ کیا آپ ﷺ دن رات ان کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور امن کی ضرورت پر زور دیتے تھے، جیسا کہ آج کے مسلمان ظالم حکمران کرتے ہیں جو صہیونیوں کی بار بار کی غداری کا جواب مذاکرات اور تعلقات کے چکر کو دوبارہ شروع کر کے دیتے ہیں؟! جب بنو نضیر نے غداری کی اور آپ ﷺ کے قتل کی سازش کی، تو آپ ﷺ نے ان کا محاصرہ کیا، انہیں جلاوطن کیا اور ان کے اموال ضبط کر لیے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں سورہ الحشر نازل فرمائی۔ اور جب بنو قینقاع نے ایک مسلمان عورت کی بے حرمتی کی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں جمع کیا اور ذلیل و خوار کر کے مدینہ سے نکال دیا اور ان کے اموال ضبط کر لیے۔ جہاں تک بنو قریظہ کا تعلق ہے، تو جب انہوں نے عہد توڑا اور مسلمانوں کے خلاف قبائل (احزاب) کے ساتھ اتحاد کیا، تو اللہ نے ان کے بارے میں قتل، قید اور مال کی تقسیم کا فیصلہ فرمایا، یہاں تک کہ نبی ﷺ نے حضرت سعد بن معاذؓ سے فرمایا: «لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ» (تم نے ان کے بارے میں سات آسمانوں کے اوپر سے اللہ کا حکم صادر کیا ہے)۔ یعنی غداروں کے ساتھ جنگ کرنا اللہ کا حکم اور فیصلہ ہے، نہ کہ ان کے سامنے ہتھیار ڈالنا اور تعلقات بنانا۔

 

رہا خیبر کا معاملہ، جس نے اسلام کے خلاف سازشیں کیں اور اس کے دشمنوں کو پناہ دی، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے جنگ کی اور ان کے قلعے فتح کیے، بغیر اس کے کہ ان کے سامنے مذاکرات یا سودے بازی کی پیشکش کی جائے یا اسے قبول کیا جائے۔ اس عظیم الشان فتح کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہودیوں کے باقی قبائل خوفزدہ ہو گئے اور آپ ﷺ کے پاس وفاداری کے اقرار اور امان مانگنے کے لیے حاضر ہوئے، جبکہ ان کی حالت انتہائی ذلت آمیز تھی۔ اس وقت ہمارے رسول ﷺ نے ان کے لیے معاہدے لکھے۔ آپ ﷺ نے اہل خیبر اور ان کے بعد آنے والے قبائل جیسے فدک، تیماء اور وادی القریٰ کے لیے معاہدے تحریر فرمائے، اور ان سے اس بات پر عہد لیا کہ وہ جزیہ یا خراج  ادا کریں گے اور وجود کے لیے کام کریں گے اور اپنی فصلوں کا حصہ دیں گے۔ بھلا اس کا "امن، بقائے باہمی اور تنازعے کے خاتمے" کے دعوؤں سے کیا تعلق؟! نبی ﷺ کی اس پروقار سیرت کا ان لوگوں سے کیا موازنہ جو یہودیوں کے سفارت خانوں کی طرف دوڑے جا رہے ہیں، مقبوضہ قوتوں کو مسلمانوں کے ملکوں میں داخل کر رہے ہیں، اور ان مجرموں سے ہاتھ ملا رہے ہیں جن کے ہاتھ غزہ اور پورے فلسطین کے بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں؟!

 

بھلا اس (سیرتِ نبوی) کا "امن، بقائے باہمی اور تنازعے کے خاتمے" کے دعوؤں سے کیا تعلق؟! نبی ﷺ کی اس پروقار سیرت کا ان لوگوں سے کیا موازنہ جو یہودیوں کے سفارت خانوں کی طرف دوڑے جا رہے ہیں، مقبوضہ قوتوں کو مسلمانوں کے ملکوں میں داخل کر رہے ہیں، اور ان مجرموں سے ہاتھ ملا رہے ہیں جن کے ہاتھ غزہ اور پورے فلسطین کے بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں؟!

 

بے شک "اسرائیل" سے تعلقات کی بحالی  کوئی سیاسی انتخاب یا جدید اجتہاد نہیں ہے، بلکہ یہ غصب کو تسلیم کرنا، قبضے کو دوام بخشنا اور اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے ساتھ خیانت ہے۔ اور جو لوگ حقیقت پسندی یا مجبوری کے نام پر اس کا جواز پیش کرتے ہیں، وہ دراصل خود ذلت کا لباس پہن رہے ہیں اور پھر امت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی ان کے ساتھ اسے پہن لے!

 

ہاں، یہ ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان تبدیلی لانے سے عاجز ہو، اس پر ظلم ہو رہا ہو، یا اسے ہتھیار اٹھانے سے روک دیا جائے، لیکن عاجز سے غداری کا مطالبہ نہیں کیا جاتا، اور نہ ہی کسی مظلوم کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے جلاد کو تسلیم کر لے۔ لہٰذا اگر تم مزاحمت نہیں کر سکتے، تو کم از کم غاصب کے لیے تالیاں تو نہ بجاؤ، اسے قانونی جواز تو فراہم نہ کرو، اور اس پر راضی ہونے کی ذلت اپنے نام تو نہ لکھو۔

 

پھر یہ بات بھی ہے کہ دوسرے مجرمانہ منصوبوں، جیسے ایرانی منصوبہ یا کوئی اور، سے ہماری نفرت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہودی ہمارے اتحادی بن جائیں یا امریکہ ہمارا دوست بن جائے۔ یہ سب کے سب دشمن ہیں، اگرچہ ان کے چہرے اور ہتھکنڈے مختلف ہوں۔ باشعور مومن وہی ہے جو اپنے تمام دشمنوں کو پہچانتا ہے، اور سیاست و مفادات کے نام پر خود کو ایک خندق سے نکال کر دوسری خندق میں دھکیلے جانے کی اجازت نہیں دیتا۔

 

انہوں نے ذلت کو ایک ثقافت، شکست کو ایک شعور اور ہتھیار ڈالنے کو ایک دانش مندی بنانے کی کوشش کی ہے، یہاں تک کہ کچھ لوگ یہودی وجود کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے دلیل لانے لگے ہیں! اور رسول اللہ ﷺ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت وہ پل بنے جس سے گزر کر غدار تعلقات کی بحالی  کے دسترخوانوں تک پہنچ سکیں۔

 

آج اس غاصب وجود کے ساتھ واحد رشتہ صرف تصادم، انکار اور مسترد کرنے کا ہے، یہاں تک کہ اللہ امت سے اس بلا کو دور فرما دے، اور یہاں تک کہ مسلمانوں کی وہ حکومت (سلطان) واپس آ جائے جس کے جھنڈے تلے وہ فلسطین اور دیگر تمام اسلامی ممالک کی آزادی کے لیے جہاد کریں۔ پس تم حق پر ثابت قدم رہو، میڈیا کی چمک دمک تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ ہی حکمرانوں کے فتوے تمہیں فریب دیں۔ یہ جان لو کہ جارح یہودی، اللہ، اس کے رسول ﷺ اور مسلمانوں کے دشمن ہیں، اور امت کی غیرت اور اس کا عقیدہ ان تمام ذلیل سیاسی مصلحتوں سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔

 

﴿وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ

 

"اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کرتا ہے۔" (سورۃ الحج: آیت 40)

 

Last modified onجمعہ, 29 مئی 2026 22:29

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک