السبت، 29 ذو القعدة 1447| 2026/05/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سینا: ظاہری خود مختاری اور اسٹریٹجک وابستگی کے درمیان

 

 

تحریر: استاد سعید فضل

 

(ترجمہ)

 

 

سینا کی آزادی کی چوالیسویں برسی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب مصر ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ وہ شدید معاشی بحرانوں کا شکار ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ایک ایسے جغرافیائی و سیاسی (جیو پولیٹیکل) طوفان کے مرکز میں ہے جو خون اور آگ کے ذریعے خطے کی نئی تشکیل کر رہا ہے۔ سیسی کی حالیہ تقریر خود مختاری کی زبان اور غلامانہ وابستگی کی حقیقت کے درمیان شدید تضاد کی انتہا کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے تجزیاتی مطالعے کی متقاضی ہے جو حال کو ماضی سے جوڑے تاکہ اس جھوٹی راہ کو بے نقاب کیا جا سکے جس پر مصر کی ریاست، غاصب یہودی وجود کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کے بعد سے گامزن ہے۔

 

مصر کا صدارتی بیانیہ چار دہائیوں کے دوران سفارتی فتح کی زبان سے بدل کر وجودی خوف کی زبان میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مبارک کے دور میں یہ بیانیہ جشن کی مانند تھا جس میں طابا کی واپسی اور قانونی خود مختاری پر زور دیا جاتا تھا، گویا کہ ریت کے ایک ایک ذرے کو واپس لینا ہی اصل مقصد ہو۔ جبکہ عملاً سینا کے وسیع حصے ایک غیر مسلح بفر زون  میں تبدیل ہو رہے تھے، جس نے اسے ایسے حفاظتی انتظامات کا اسیر بنا دیا جو مصری خود مختاری سے زیادہ غاصب قبضے کے مفادات کی خدمت کرتے تھے! اقتدار کی منتقلی کے باوجود بیانیے کا جوہر برقرار رہا: "امن" کو واحد اسٹریٹجک آپشن کے طور پر تھامے رکھنا۔ اسی سوچ نے بتدریج مصر کی قوت کے پتے چھین لیے اور ریاست کو خطے کے قائد سے ایک ایسے ثالث میں بدل دیا جو کسی بھی قیمت پر محض خاموشی اور سکون کی تلاش میں رہتا ہے۔

 

اور جب ہم حالیہ تقریر کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں ایک ایسا اہم حصہ ملتا ہے جو ہر صاحبِ بصیرت کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ سیسی نے اشارہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ انتہائی نازک اور فیصلہ کن حالات سے گزر رہا ہے، اور انتہا پسند نظریات کے بہانے اس کا نقشہ دوبارہ ترتیب دینے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ نقشہ دوبارہ ترتیب دینے کے اس منصوبے کا اعتراف دراصل اس قومی سلامتی کے نظام کی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے جو اس مفروضے پر قائم تھا کہ امن معاہدے سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔ یہاں حیران کن تضاد یہ ہے کہ تقریر میں قبضے، تباہی اور خونریزی کی تشخیص کرنے کے باوجود، (اسرائیل) کا نام واضح طور پر لینے کی جرات نہیں کی گئی، اور صرف مبہم الفاظ میں اس کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کیا گیا! یہ لسانی عجز محض سفارتی احتیاط نہیں ہے، بلکہ یہ طاقت کی حدود کا اعتراف اور اس بات کی علامت ہے کہ جس خود مختاری کا جشن منایا جا رہا ہے وہ مرعوب ارادے کی حامل خود مختاری ہے، جو اپنے اس وجودی دشمن کا نام تک نہیں لے سکتی جو اعلانیہ طور پر اس کی مشرقی سرحدوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

 

اس پورے راستے کا جائزہ لینے کے بعد ہم جس نتیجے پر پہنچتے ہیں وہ یہ ہے کہ سینا کی جغرافیائی واپسی محض اہل مصر کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھی تاکہ سیاسی اور معاشی ہتھیار ڈالنے کی حقیقت کو چھپایا جا سکے۔ زمین کا سودا ارادے کی قیمت پر کیا گیا، اور مصر،جو کبھی اپنے علاقائی منصوبوں اور عرب قوم پرستی پر فخر کرتا تھا،اب امداد، قرضوں اور جکڑے ہوئے معاہدوں کا گرویدہ بن چکا ہے۔ حقیقی خود مختاری محض زمین کے کسی ٹکڑے پر جھنڈا لہرانے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ جنگ و امن کے فیصلے کا خود مختار اختیار رکھنے اور ایسی دفاعی قوت پیدا کرنے کا نام ہے جو دوسروں کو اسلامی ممالک کے جغرافیائی نقشوں کو دوبارہ ترتیب دینے کی سوچ سے بھی باز رکھے۔ آج غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اور فلاڈیلفی کوریڈور (محور فيلادلفيا) پر مصر کی قومی سلامتی کو درپیش براہ راست خطرہ، اس غلامانہ اور مفاہمانہ پالیسی کا فطری نتیجہ ہے جو ریاست نے دہائیوں سے اپنائی ہوئی ہے، اس گمان میں کہ معاہدوں کی پاسداری استحکام لائے گی، جبکہ یہودی وجود اس وقت کو اپنی بستیوں کی تعمیر اور اپنے ارد گرد کی ریاستوں کو ایک ایک کر کے توڑنے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

 

یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تاریک سرنگ سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا بنیادی حل غلامی کی شرائط کو بہتر بنانے یا تقریر کے لہجے کو بدلنے میں نہیں ہے، بلکہ اس بنیاد کو بدلنے میں ہے جس پر پوری ریاست اور خطہ کھڑا ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی یا جغرافیہ کی عدم موجودگی کا نہیں ہے، بلکہ اس تہذیبی منصوبے کی کمی کا ہے جو اپنی طاقت امت کے عقیدے اور اس کی اسلامی شناخت سے حاصل کرتا ہے۔ حل کا آغاز اس اعتراف سے ہوتا ہے کہ کیمپ ڈیوڈ سے شروع ہونے والا غدارانہ راستہ بند گلی میں پہنچ چکا ہے، اور واحد علاج اس راستے کی بنیاد سے تبدیلی ہے۔

یہ حل ان تمام معاہدوں کی منسوخی میں مضمر ہے جو امت کی خود مختاری کو جکڑے ہوئے ہیں، اور استعماری امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی نظام کی غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنے، اور امت کی تمام تر صلاحیتوں کو  نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے سائے تلے متحد کرنے میں ہے جو ایسی سٹریٹیجک و افرادی قوت اور وسائل کی مالک ہو کہ وہ بڑی طاقتوں کی حریف بن سکے بلکہ ان پر برتری حاصل کر لے۔ صرف اسی فریم ورک کے اندر، سینا ایک یرغمالی سے ایک مضبوط لانچنگ پیڈ میں تبدیل ہو جائے گا، اور ایٹمی و تکنیکی طاقت ایک خود مختار مطالبہ بن جائے گی جسے روکنے کی کوئی جرات نہیں کر سکے گا، کیونکہ تب ریاست اپنی قانونی حیثیت اور طاقت بین الاقوامی نظام کے بجائے امت کے اقتدار سے حاصل کرے گی۔

 

سینا اور غزہ کی حفاظت اور نقشوں کی دوبارہ تشکیل کو روکنا ان سیاسی حلوں اور مذاکرات کے ذریعے ہرگز ممکن نہیں ہو گا جنہوں نے گزشتہ 44سالوں میں اپنی ناکامی ثابت کر دی ہے، بلکہ یہ اس حقیقی قوت کے حصول سے ممکن ہو گا جو اپنے فیصلوں کے لیے غیروں کی مرہونِ منت نہ ہو۔ اسی طرح وہ بیانیہ جو ایک ایسے غاصب کے ساتھ تعاون اور تعمیر و ترقی کی دعوت دیتا ہے جو ملک کو تباہ کر رہا ہے اور خون بہا رہا ہے، وہ دراصل اس شخص کا بیانیہ ہے جو امت کے تند و تیز دھارے کے خلاف تیرنے کی کوشش کر رہا ہے، شاید مغرب اسے اس (امت کے) غیظ و غضب سے بچا لے!

 

ارادے کی آزادی کے بغیر زمین کی آزادی ایک ایسی وسیع جیل ہے جس کی دیواریں نظر نہیں آتیں، اور آج کا سینا ان ذلت آمیز معاہدوں میں جکڑی ہوئی اس قومی ریاست کی بے بسی کا گواہ ہے جو اپنی سلامتی کی حفاظت کرنے یا اپنی امت کی مدد کرنے سے قاصر ہے۔ اس راستے پر مسلسل چلتے رہنا محض ایک سیاسی ناکامی ہی نہیں، بلکہ ایک ایسے دشمن کے سامنے پوری امت کی تقدیر پر جوا کھیلنے کے مترادف ہے جو کسی عہد و پیمان کی پاسداری نہیں کرتا۔

چنانچہ، آج یہ بوجھ ان جکڑے ہوئے خطیبوں اور سیاست دانوں کے کندھوں پر نہیں ہے، بلکہ جیشِ کنانہ (مصر کے لشکر) کے مخلص فرزندوں کے سر ہے۔ اے صلاح الدین ایوبی اور ظاہر بیبرس کی اولادو! اس ناکام راستے کا علاج تمہارے ہاتھوں میں ہے، اور رخ کی یہ تبدیلی تمہارے جرات مندانہ فیصلے سے شروع ہوتی ہے۔ ہم تمہیں ایک مخلصانہ دعوت دیتے ہیں، کسی عارضی اقتدار کی طلب کے لیے نہیں، بلکہ حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد)  دینے کے لیے تاکہ وہ ایسی خلافت قائم کرے جو ہماری سرزمین سے غلامی کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکے، اس ذلت آمیز وابستگی کا خاتمہ کرے، اور امت کو اس "حقیقی عبور" کی طرف لے جائے۔ ایسا عبور جو کیمپ ڈیوڈ کی زنجیروں کو توڑ دے، سائیکس پیکو کی سرحدوں کو مٹا دے، اور بکھرے ہوئے لشکروں کو ایک پرچم تلے جمع کر دے، تاکہ مصر اور اس کے ساتھ پوری امتِ مسلمہ عزت اور غلبے کی درست سمت میں اپنا سفر شروع کر سکے۔ تاریخ تذبذب کا شکار رہنے والوں کو معاف نہیں کرتی، اور اللہ یقیناً اسی کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کرتا ہے، پس اللہ کو اپنے عمل سے خیر دکھاؤ، اور اس دور میں "انصار" بن جاؤ جہاں کوئی مددگار نہیں۔

 

 

ولایہ مصر میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

 

 

Last modified onہفتہ, 16 مئی 2026 17:33

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک