بسم الله الرحمن الرحيم
یمن کے باشندوں کو بھوک اور قحط چاٹ رہا ہے تو پھر اس کا جڑ سے خاتمہ کرنے والا حل کیا ہے؟
تحریر: ڈاکٹر فواد الصبری – ولایہ یمن
(ترجمہ)
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ فنڈز کی کمی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد کی ترسیل پر پابندیوں اور علاقائی کشیدگی کے باعث آنے والے چند ماہ میں یمن کے لاکھوں باشندے قحط کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے: "یمن میں غذائی صورتحال تیزی سے ابتر ہو رہی ہے جس کی وجہ علاقائی تنازعات، معاشی بکھراؤ، فنڈز میں کمی اور کام میں شدید رکاوٹوں کا ایک ساتھ پیدا ہونا ہے؛ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قحط کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے"۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں 18.3 ملین سے زائد افراد شدید غذائی عدم تحفظ (آئی پی سی کے تیسرے درجے یعنی بحرانی صورتحال) کا شکار ہیں، جن میں دنیا کی سب سے بڑی تعداد وہ ہے جو چوتھے درجے یعنی غذائی ایمرجنسی کا سامنا کر رہی ہے۔ یمن میں تباہی مچانے والا یہ قحط محض کوئی قدرتی آفت یا ناقص انتظام کا خالص نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان اپنے علاقائی اور مقامی ایجنٹوں کے ذریعے جاری کشمکش کا پیدا کردہ ایک مصنوعی المیہ ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران یمن کے عوام مسلسل بحرانوں کا شکار رہے، جن میں تازہ ترین 2015 میں شروع ہونے والا 'عاصفۃ الحزم' (فیصلہ کن طوفان) ہے، جس نے حالات کو مزید بگاڑ دیا؛ کیونکہ اس لڑائی نے یمن کی پہلے سے کمزور معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا، تنخواہوں کی ادائیگی رک گئی، بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور کرنسی کی قدر گر گئی۔
خوفناک اعداد و شمار اس المیے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں؛ اقوام متحدہ کی اس وقت کی رپورٹس نے بتایا تھا کہ اشیائے خوردونوش کی شدید قلت اور خوراک و ایندھن کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے یمن کے تقریباً 80 فیصد لوگ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو گئے۔ یہ تکلیف صرف بھوک تک محدود نہیں بلکہ وقت سے پہلے موت کا سبب بھی بن رہی ہے، جہاں یونیسیف کی رپورٹوں نے تصدیق کی ہے کہ ایک ہی سال میں تقریباً 63 ہزار یمنی باشندے ایسی وجوہات کی بنا پر موت کے منہ میں چلے گئے جن سے بچا جا سکتا تھا، اور ان میں سے زیادہ تر اموات غذائی قلت کی وجہ سے ہوئیں۔ اسی طرح بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح میں 2015 کے مقابلے میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ اس قحط کو طول دینے میں برابر کا شریک ہے؛ وہ دنیا بھر سے چندہ جمع کرنے کے لیے انتباہ اور ہنگامی اپیلیں تو جاری کرتا ہے لیکن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ سعودی عرب کے زیرِ اہتمام اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والی ڈونرز کانفرنس، جس میں 130 سے زائد ممالک نے شرکت کی، 2.41 ارب ڈالر کا مطلوبہ فنڈ جمع کرنے میں ناکام رہی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان اداروں کو یمن کے عوام کی تکلیف سے کوئی سروکار نہیں ہے اور نہ ہی وہ کبھی کوئی بنیادی حل لائے ہیں۔ اقوام متحدہ کے نام نہاد "حل" نے حالات کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کیا اور تنازعات کو مزید ہوا دی تاکہ بڑی کافر طاقتوں کے مفادات کی خدمت کی جا سکے۔
یمن وسائل سے مالا مال ملک ہے جس کا رقبہ 5 لاکھ 55 ہزار مربع کلومیٹر ہے، جہاں مختلف معدنی ذخائر (تیل، گیس اور دیگر معدنیات) موجود ہیں اور یہاں زرخیز زرعی زمینیں ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں مچھلیوں کی دولت کی فراوانی ہے کیونکہ یمن کے پاس 2000 کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی پٹی ہے جو بحیرہ احمر، خلیج عدن، بحیرہ عرب اور بحر ہند تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے ساحلوں پر جزیرے اور خلیجیں بکھری ہوئی ہیں جس نے مچھلیوں اور سمندری حیات کی 350 سے زائد اقسام کے لیے بہترین ماحول فراہم کیا ہے۔ جہاں تک جزیروں کا تعلق ہے، وہ علاقائی پانیوں میں پھیلے ہوئے ہیں جن کی تعداد 186 ہے اور ان کا اپنا جغرافیہ، آب و ہوا اور مخصوص ماحول ہے۔ ان میں سے زیادہ تر جزیرے بحیرہ احمر میں واقع ہیں جن میں سب سے اہم 'کمران' ہے جو بحیرہ احمر کا سب سے بڑا آباد جزیرہ ہے، نیز حنیش جزائر اور جزیرہ 'میون' ہے جو آبنائے باب المندب (بحیرہ احمر کے جنوبی دروازے) میں اپنی اسٹرٹیجک اہمیت کی وجہ سے مشہور ہے۔ بحیرہ عرب کے اہم جزائر میں جزیرہ نما 'سقطریٰ' شامل ہے؛ اس آرکیپیلاگو (جزائر کے مجموعے) میں سقطریٰ سب سے بڑا جزیرہ ہے جس میں دیگر کئی جزیرے بھی شامل ہیں۔ سقطریٰ اپنی حیاتیاتی تنوع کی وجہ سے ممتاز ہے جہاں زمین پر پودوں کی تقریباً 680 اقسام پائی جاتی ہیں اور یہ جزیرہ کافر مغرب کی نظروں میں ایک لقمہ تر بنا ہوا ہے؛ اسی لیے متحدہ عرب امارات کے داخلے کے بعد سے جزیرہ سقطریٰ، باب المندب اور المخا کو برطانیہ کے مفادات کے لیے ایک اسٹرٹیجک ہدف بنایا گیا۔
پس یمن ان کٹھ پتلی حکمرانوں، جنہوں نے اس کے وسائل کو لوٹا اور اسے مغرب کے حوالے کر دیا، اور اس استعماری کافر کے درمیان پھنس کر رہ گیا ہے جو سرمایہ دارانہ طریقے پر سب کچھ ہڑپ کر جانے کا لالچ رکھتا ہے۔ یمن کے مسئلے اور مسلمانوں کے تمام مسائل کا واحد بنیادی حل نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کا قیام ہے، اور یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا وہ وعدہ ہے جس کی بشارت اس کے رسول اللہ ﷺ نے دی تھی۔ اور بے شک سیکولرزم اور سرمایہ داریت (کیپیٹلزم) پر مبنی موجودہ نظام ہی اصل مسئلہ ہیں؛ کیونکہ فاسد اور لوگوں کو محتاج بنا دینے والے سرمایہ دارانہ نظام ہی بدبختی، کسمپرسی اور قحط کا سبب ہیں، جس کی وجہ سرمایہ داروں کا لالچ، اپنے مفادات کی حرص اور انسانی جانوں اور خون کی قیمت پر اپنی جیبیں اور پیٹ بھرنا ہے۔
اے یمن کے ہمارے لوگو، اے یمن کے قبائل! آپ پر لاگو یہ سرمایہ دارانہ نظام ہی تمام مصیبتوں کی جڑ ہے، اور یہ ملک خون کے ساتھ ساتھ غربت اور بھوک کے سمندر میں غرق ہوتا رہے گا؛ اور یہ وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ حکمرانوں کی جانب سے اس وحشیانہ نظام کے نفاذ اور اس پر جاری بین الاقوامی کھینچ تان کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا، ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ کٹھ پتلی حکومتوں کے خاتمے اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کے ساتھ مل کر کام کریں، کیونکہ صرف اسی کے ذریعے آپ اور امتِ مسلمہ اپنی کھوئی ہوئی بلند شان و شوکت دوبارہ حاصل کریں گے، اور اللہ کے حکم سے قحط کا نہ کوئی سایہ رہے گا اور نہ ہی کوئی وجود۔




