بسم الله الرحمن الرحيم
ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شرکت سے یورپ کا انکار
تحریر: استاد سالم ابو سبیتان
(ترجمہ)
ایران کے خلاف اپنی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کرنے والے یورپی موقف کی باریکیوں اور پیچیدگیوں میں جانے سے پہلے، تھوڑا پیچھے مڑ کر دیکھنا ضروری ہے، تاکہ صورتحال کو "ٹرمپ ڈاکٹرائن" (Trump doctrine) کے تناظر میں سمجھا جا سکے، جس نے امریکی خارجہ پالیسی کے تصور کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات محض انتخابی مہم کے نعرے نہیں تھے، بلکہ وہ حریفوں اور اتحادیوں دونوں کے لیے واضح اور سخت پیغامات تھے۔ معاشی اور جغرافیائی غلبے کی بے لگام خواہشات اس وقت سطح پر آگئیں، جب غزہ کو بڑے تفریحی اور معاشی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے اس پر قبضے کے اشاروں سے لے کر، کینیڈا کو اکیاونویں امریکی ریاست کے طور پر ضم کرنے یا گرین لینڈ کو خریدنے جیسے اَن سنے اور اچھوتے خیالات پیش کیے گئے۔
یہ عزائم محض جغرافیائی توسیع کے بارے میں نہیں تھے، بلکہ یہ یورپی خودمختاری کے عین قلب پر ایک کاری ضرب تھے، کیونکہ کینیڈا اور گرین لینڈ انتظامی اور جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) طور پر یورپی حلقہ اثر سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نیٹو (NATO) سے نکلنے کی واضح دھمکیاں بھی دی گئیں، جس کے بارے میں امریکہ کا خیال ہے کہ اس سے صرف یورپ ہی فائدہ اٹھا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب یوکرین پر فوجی امداد فراہم کرنے یا اس کے نایاب زمینی عناصر (REEs) پر کنٹرول حاصل کرنے کے بدلے بھاری رقوم مسلط کی گئیں۔ معاشی بلیک میلنگ اور 200 فیصد سے زائد ٹیرف (محصولات) کے نفاذ پر مبنی اس طرز عمل نے عالمی رہنماؤں، بالخصوص برطانیہ جیسے روایتی اتحادیوں میں حقارت اور شدید ناراضگی پیدا کی، جنہوں نے خود کو ایک ایسی انتظامیہ کے سامنے پایا جو اَن دیکھے تکبر اور غرور کے ساتھ کام کر رہی تھی، جبکہ دوسری طرف یہودی وجود (اسرائیل) امریکہ کا وہ لاڈلا بچہ بن گیا جس کے ہر مطالبے کو بلا چوں و چرا پورا کیا گیا۔
ٹرمپ کے دور میں امریکی تکبر تاریخ کی ایسی بلندیوں تک جا پہنچا جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، جس نے ریاست کو ایک ایسی بین الاقوامی کارپوریشن (transnational corporation) سے مشابہہ بنا دیا جو بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب سے قطع نظر عالمی ضابطہ اخلاق طے کرتی ہے، اور یوںاس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی نظام کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ غزہ میں 700 دن جاری رہنے والی جنگ کے بعد، ٹرمپ نے اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل کے متبادل کے طور پر ایک عالمی "امن بورڈ" (Board of Peace) کے قیام کا اعلان کیا، اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ ادارے اپنا تاریخی مقصد پورا کر چکے ہیں۔
تاہم، ٹرمپ یہیں نہیں رکا۔ یہ تسلط "مونرو ڈاکٹرائن" (Monroe Doctrine) کی ایک انتہا پسندانہ شکل تک پھیل گیا، جس نے بحر اوقیانوس کے پار سے براعظم امریکہ کے معاملات میں کسی بھی بین الاقوامی مداخلت کو ممنوع قرار دے دیا۔ اس کا اظہار وینزویلا کی ناکہ بندی، اس کے صدر مادورو کے خلاف کارروائیوں، اور وینزویلا کے تیل کی ترسیل پر مکمل کنٹرول کی صورت میں ہوا۔ ان اقدامات نے مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے حملے کی راہ ہموار کر دی: یعنی ایران پر حملہ۔
امریکی منصوبہ "چار روزہ" حکمت عملی پر مبنی تھا: ایک ایسا برق رفتار حملہ جس کے ذریعے سپریم لیڈر سمیت ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کو ختم کر دیا جاتا، جس کا مقصد ایران کو محض 96 گھنٹوں کے اندر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تھا۔ اس کا مقصد تیل، گیس اور نایاب زمینی عناصر (REEs) کے وسیع ذخائر پر قبضہ کر کے، اور عالمی تجارت کی شہ رگ قرار دی جانے والی آبنائے اور آبی گزرگاہوں پر کنٹرول حاصل کر کے "امریکہ فرسٹ" (America First) کے ہدف کو حاصل کرنا تھا۔ اس میں امریکی کامیابی کا مطلب ہنری کسنجر اور زبگنیو برزینسکی کی اس پیش گوئی کو پورا کرنا ہوتا کہ جو مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرتا ہے، وہی دنیا پر حکمرانی کرتا ہے اور بغیر کسی حریف کے واحد عالمی رہنما بن جاتا ہے۔
تاہم، دہائیوں کی مشق اور انتہائی مہارت سے تیار کردہ اور عمل میں لائی گئی حکمت عملیاں بھی، بے پناہ طاقت کے حامل ہونے کے تکبر کی وجہ سے، غیر متوقع پہلوؤں کو نظر انداز کر سکتی ہیں۔ امریکہ نے اپنے حریف کو غیر مستحکم اور مفلوج کرنے کے لیے "پیشگی حملے" (preemptive strike) کی حکمت عملی اپنائی، لیکن ایران ابتدائی حملے کے سامنے مغلوب نہ ہوا۔ اس کے بجائے، اس نے بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک تیز رفتار اور طاقتور جوابی کارروائی کی، جس نے امریکی اڈوں کو مفلوج کر دیا اور ان میں سے بہت سے اڈوں کو ناکارہ بنا دیا۔ اس نے امریکہ کے پسندیدہ اتحادی، یہودی وجود (اسرائیل) کو بھی زبردست نقصان اور تباہی سے دوچار کیا۔
یہاں ہم یہ سوال کرتے ہیں: یورپ نے اس جنگ میں شرکت سے کیوں انکار کیا؟ یورپی دارالحکومت، بیجنگ اور ماسکو کے ہمراہ اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں امریکہ کی کامیابی یورپ کو مستقل طور پر امریکی اثر و رسوخ کے تابع کر دے گی۔ ان ممالک نے اس اندھی غلامی اور ان وسیع تر اتحادوں سے چھٹکارا پانے کی ضرورت محسوس کی، جنہوں نے انہیں نقصانات کے سوا کچھ نہیں دیا تھا۔
یورپ نے نیٹو (NATO) معاہدے کا سہارا لیا، جو اپنے کسی بھی رکن پر حملے کی صورت میں اجتماعی دفاع کی شرط رکھتا ہے، اور یہ شق ایران کے خلاف امریکہ اور یہودی وجود کی طرف سے کیے گئے ابتدائی حملے پر لاگو نہیں ہوتی تھی۔ درحقیقت، یورپی انٹیلی جنس رپورٹس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایران کی طرف سے کوئی ایسا براہ راست وجودی خطرہ لاحق نہیں تھا جو ایک بھرپور جنگ کا تقاضا کرتا ہو۔ یورپی ناراضگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب امریکہ نے یوکرین کے بحران میں انہیں تنہا چھوڑ دیا، جہاں یورپ کو جنگ کے کمر توڑ اخراجات خود برداشت کرنا پڑے۔ مزید برآں، امریکہ نے روسی گیس کی فراہمی میں اس تعطل کا فائدہ اٹھایا جس کو پیدا کرنے میں اس نے خود مدد کی تھی، تاکہ وہ یورپی ممالک کو انتہائی مہنگی قیمتوں پر امریکی گیس فروخت کر سکے۔
اسی کے نتیجے میں، امریکہ کی یکطرفہ پسندی کو روکنے کے لیے دیگر بڑی طاقتوں یعنی یورپ، روس اور چین کے درمیان ایک غیر اعلانیہ اتحاد سامنے آیا۔ یہ اتحاد ایران کے لیے کسی ہمدردی کے باعث نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد امریکہ کو اس کے اپنے فیصلوں کے تلخ نتائج اکیلے بھگتنے پر مجبور کرنا تھا۔ اس کے باوجود، ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے: یہ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ امریکہ مکمل طور پر زمین بوس ہو جائے یا اسے ایسی عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑے جو اس کے خاتمے کا سبب بنے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایک ایسا عظیم سیاسی اور حفاظتی خلا پیدا ہوگا جسے کوئی بھی موجودہ طاقت پُر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
یورپ کو خدشہ ہے کہ امریکہ کی عبرتناک شکست اسے اپنی جغرافیائی سرحدوں کے اندر سمٹنے پر مجبور کر دے گی، جس کے نتیجے میں دنیا اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ "تخلیقی افراتفری" اور جنگل کے قانون کی بھینٹ چڑھ جائے گا، جہاں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کسی قابلِ عمل متبادل کے ظہور سے پہلے ہی "عالمی پولیس مین" کا کردار ختم ہو چکا ہو گا۔ وہ ایک ایسا امریکہ چاہتے ہیں جو ایک شراکت دار ہو نہ کہ ایک تسلط پسند طاقت؛ ایک ایسی متحرک ریاست جو اجتماعی مفادات کا احترام کرے، نہ کہ ایک نجی کارپوریشن جو محض وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہو۔
ایران کی پامردی اور دنیا کی نظروں میں امریکہ کے گھٹتے ہوئے وقار نے ایک عرصہ دراز سے پوشیدہ اس سچائی کو عیاں کر دیا ہے کہ وہ طاقت جسے کبھی ناقابلِ تسخیر قوت سمجھا جاتا تھا، حقیقت میں ایک ایسی طاقت ہے جسے پختہ عزم و ارادے سے پاش پاش کیا جا سکتا ہے۔ یہ صورتحال امتِ مسلمہ کو اس کی تاریخی ذمہ داری کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ حریف طاقتوں کی رسہ کشی سے پیدا ہونے والے جغرافیائی سیاسی خلا، اور بڑے عالمی کھلاڑیوں یعنی یورپ، روس اور چین کی جانب سے عدل و انصاف پر مبنی کسی متبادل منصوبے کی پیش کش میں ناکامی نے، نظریاتی اسلامی منصوبے کے لیے راہیں ہموار کر دی ہیں۔
یہ ایک ایسی مثالی ریاست کو متعارف کرانے کا بہترین موقع ہے جو الٰہی انصاف پر مبنی ہو اور محدود ذاتی مفادات کی آمیزش سے پاک ہو، تاکہ وہ اقتدار کے تکبر اور مفادات کی جنگ سے پیدا ہونے والی افراتفری کے درمیان لڑکھڑاتی ہوئی دنیا کے لیے ایک متبادل کے طور پر سامنے آ سکے۔ تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ظلم پر مبنی تخت و تاج بالآخر زوال پذیر ہوتے ہیں، اور فتح و نصرت کا وعدہ اس امر سے وابستہ ہے کہ امت اپنے اصل مقصد پر کس حد تک ثابت قدم رہتی ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾
"اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے قدموں کو مضبوطی عطا کرے گا"۔ (سورہ محمد: آیت 7)




