الجمعة، 06 ربيع الأول 1447| 2025/08/29
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

حزب التحریر کے خلاف جبر ‫‏خلافت‬ کے قیام کو روک نہیں سکتا نیشنل (‫‏امریکی‬) ایکشن پلان کا مقصد اسلام اور خلافت کی پکار کو دبانا ہے

راحیل-نواز حکومت نیشنل (امریکی )ایکشن پلان کے تحت پاکستان میں اٹھنے والی ہر اس آواز کا گلا گھوٹ دینا چاہتی ہے جو اسلام اور خلافت کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ حکومت اپنے آقا امریکہ کی خوشنودی کے لئے ہر حد کو پار کرتی جارہی ہے۔ لاہور کے ایک انتہائی باعزت جگرانوی خاندان کے فرزند حکیم احسان کو کل ان کے رائے ونڈ میں واقع مطب خانے سے پولیس نے گرفتار کرلیا۔ حکیم احسان جگرانوی اور جگرانوی خاندان کے مرد و خواتین پر حکومت نے ایک جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ قائم کررکھا ہے اور اس مقدمے کو لے کر اس خاندان کو مسلسل ہراساں کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس خاندان کا قصور یہ ہے کہ وہ حکومت کے جبر کے باوجود اسلام اور خلافت کے قیام کی جدوجہد سے دست بردار نہیں ہورہا۔
حکیم احسان جگرانوی لاہور کے ایک معروف طبیب ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی اسلام اور خلافت کے قیام کی جدوجہد کے لئے وقف کررکھی ہے۔ حکومت کی جانب سے مسلسل ہراساں کرنے اور اس اندیشے کے باوجود کہ پالیس ان کو گرفتار کرسکتی ہے وہ اپنےمعمول کے مطابق اپنے مطب جارہے تھے کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ حکمرانوں کا احتساب کر کے رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کی پیروی کررہے ہیں جس کے مطابق ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد اکبر ہے۔ یقیناً جگرانوی خاندان نے کوئی جرم نہیں کیا لیکن اس کے باجود ان کے مرد و خواتین کو جیل کی سلاخوں کی پیچھے ڈالا جارہا ہے جبکہ ملک بھر میں امریکی دہشت گرد نہ صرف دندناتے پھرتے ہیں بلکہ اگر رنگے ہاتھوں گرفتار بھی کرلیے جائیں تو براہ راست امریکی سفارت خانہ مداخلت کر کے انہیں بازیاب کروا لیتا ہے۔ آج ہی اسلام آباد ائر پورٹ سے ایک امریکی کو پستول اور گولیوں سمیت گرفتار کیا گیا لیکن جیسے ہی امریکہ سفارت خانے نے اس کو اپنا آدمی تسلیم کیا تو اس کو آزاد کردیا گیا۔

حزب التحریر راحیل-نواز حکومت کو یہ بتا دینا چاہتی ہے کہ تمہاری گھٹیا حرکات اور ظلم و ستم خلافت کے قیام کو کسی صورت نہیں روک سکتا۔ یہ امت اپنے منزل کو جان چکی ہے اور اب اس کو پانے کے لئے تیزی سے اس کی جانب گامزن ہے اور اس کا ادراک خود تمہارے آقا امریکہ کو بھی اچھی طرح ہے اسی لئے وہ سیاسی و فکری جدوجہد کرنے والوں کے خلاف بھی تمہیں ہر حد کو توڑنے کا حکم دے رہا ہے۔ راحیل-نواز حکومت ! تم اس جنگ میں ہارنے والے فریق کے ساتھ کھڑے ہو کیونکہ یہ امت اسلام کے حق میں اپنا فیصلہ دے چکی ہےجس کا ایک ثبوت امریکی ادارے "پیو" کا مسلم دنیا کے حوالے سے حالیہ سروے ہے جس کے مطابق مسلم دنیا کی عظیم اکثریت اسلام کو سرکاری قانون کی حیثیت سے دیکھنا چاہتی ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ تمہاری یہ کوشش دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی تمہیں فائدہ تو دور کی بات صریحاً خسارے کا باعث بنے گی کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالٰی تو یہ اعلان واضح طور پر کرچکے ہیں کہ وہ اپنے نور کو پورا کیے بغیر ماننے والے نہیں۔ تو بہتر کہ تم اپنی روش سے توبہ کرو اور خلافت کے قیام کی جدوجہد کرنے والوں کی راہ سے ہٹ جاؤ کہ شاید اللہ تمہارے پچھلے گناہوں کو معاف فرما دیں۔


وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِيراً
"اور جو شخص رسول (ﷺ) کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور راہ راست واضح ہو جانے کے بعد بھی اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور کی روش پر چلے تو اسے ہم اسی کی طرف چلتا کردیں گے جدھر وہ خود پھر گیا ۔ اور ہم اسے جہنم میں جھونک دیں گے جو بدترین جائے قرار ہے" (النساء:115)

شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

عورت کا عالمی دن 2015 نسوانیت کے نام پر خواتین کو حقوق فراہم کرنے میں ناکامی کے سو سال

اقوام متحدہ اس سال  8 مارچ کے خواتین کے عالمی دن کو زیادہ اجاگر کرے گا تاکہ بیجنگ اعلامیہ اور  اس کے ایکشن پلان  پر روشنی ڈالی جا سکے جس پر 189 حکومتوں نے 20 سال پہلے خواتین کے حقوق ،ان کی زندگی بہتر بنانے  اور اقوام عالم میں دونوں جنسوں کے درمیان مساوات  کے حصول کے لیے ان کی جدوجہد کی حمایت  میں  دستخط کیے تھے ۔ اس معاہدے میں خواتین سے متعلق 12 باتوں پر زور دیا گیا تھا  جس میں غربت، تشدد،تعلیم کے حقوق، عسکری تنازعے،اختیار اور فیصلہ سازی شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے اس کو تاریخی اعلان قرار دیا تھا  جس میں "خواتین کو  با اختیار بنانے کا   ایک واضح لائحہ عمل موجود ہے"  اور یہ  " سب سے جامع  عالمی پالیسی ڈھانچہ اور اس پر عمل کے لئے واضح  لائحہ عمل۔۔۔۔تا کہ دونوں جنسوں کے مابین مساوات اور خواتین  اور لڑکیوں کےلئے ہر جگہ  انسانی حقوق کو حقیقت بنادیا جائے "۔ لیکن  اس معاہدے کے بعد  دو دہائیاں گزرنے کے باوجود ،   خواتین کا پہلا عالمی دن منانے کے 104 سال بعد  اور  عورت اور مرد کے درمیان مساوات  کی نسوانی جدوجہد کے سو سال گزرنے جانے باوجود   دنیا کے  طول و عرض میں  کروڑوں عورتوں کی زندگی انتہائی المناک ہے۔ برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ میں شائع ہونے والی  رپورٹ کے مطابق  دنیا میں ہر تین میں سے ایک عورت کو زندگی میں  مار پیٹ یا زنا بالجبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے،1.2ارب غریبوں میں  70فیصد عورتیں اور بچے ہیں، 700 ملین عورتیں  ایسی زندگی گزار رہی ہیں کہ ان کو خوراک ،پینے کے صاف پانی، طبی سہولیات   کی کمی یا تعلیم کی عدم دستیابی کا سامنا ہے، 85 ملین لڑکیاں ا سکول  جانے سے قاصر ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 1.2 ملین بچوں کی  بطور غلام سالانہ خرید وفروخت ہو تی ہےجن میں سے 80 فیصدلڑکیا ں ہیں۔ یہ سب کچھ حقوق نسواں کی بدترین ناکامی کا ظاہر کرتا ہے اور اس کی بنیادی فکر یعنی جنسوں کے درمیان مساوات کی بنیاد پر خواتین سے کیے جانے والے وعدوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ  حقوق اور اختیارات کے بارے میں "مساوات" کے خالی خولی دعوے ،عائلی زندگی  اور معاشرے  میں مرد اور عورت کے کردار  ، دونوں جنسوں کے درمیان مساوات   ہر گز خواتین کے احترام اور ان کی بہتر زندگی کا ضامن نہیں  بلکہ  نسوانیت  کا یہ جھوٹا نعرہ   عورت  کی اس درد ناک صورت حال سے توجہ ہٹا نے کے لیے استعمال کیا گیاجس  کا سبب ہی سکیولر سرمایہ دارانہ نظام ہے   جو گزشتہ صدی سے دنیا کی سیاست اور معیشت پر حاوی ہے۔ یہی نظام ہے جو   دولت مند اور غریب کے مابین زبردست تفاوت  اور معیشت کو تباہ کرنے کا سبب ہے؛ جس سے کروڑوں خواتین غربت کا شکار ہو گئیں اور تعلیم تباہ ہو گئی ،طبی سہولیات کا فقدان پیدا ہوا ، ان کے ملکوں میں دوسری خدمات بھی ناپائدار ہوگئیں۔  اس کے ساتھ ساتھ  سرمایہ دارنہ مادی نقطہ نظر نے  ایسی سوچ کو پروان چڑھا یا کہ   منافع کے لیے عورت  کے جسم کو استعمال کرنے میں کوئی برائی نہیں ، جس نے انسانی تجارت  کے لیے ماحول فراہم کیا ۔ اس کے علاوہ سکیولر سرمایہ داریت جو  ذاتی خواہشات کے حصول کو مقدس گردانتا ہے اور  عورت کو جنسیت کی نظر سے دیکھتا ہے، جس کے نتیجے میں میں عورت کی حالت ابتر ہو گئی  ،جنسی جرائم  کی وبا پھیل گئی، اسی وجہ سے آج وہ پامالی کا شکار ہے۔یہی وجہ ہے کہ نسوانیت  کا نقطہ نظر جو مساوات کی تنگ نظری پر مبنی ہے  جس کے ذریعے  سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ہی  تبدیلی کی کوشش کے ذریعے اس کے عیوب کو چھپایا جارہا ہے ، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ  بنیادی تبدیلی کی بات کی جاتی ، یہ نظام ہمیشہ عورتوں کو ان کے حقوق دینے میں ناکام ثابت ہوا۔ لہذا بیجنگ اعلامیہ  اور خواتین کے بارے میں بین الاقوامی معاہدات جیسے  Cedaw  اور مساوات  کے  لیے مشرق سے مغرب تک لگائے جانے والے نعرے اور بینر سب ناکام ہو ئے  اور دنیا کی خواتین کو  عزت کی زندگی گزارنے کی ضمانت نہیں دے سکے۔ یہ اس بات کی واضح دالیل ہے کہ نسوانی تنظیمیں ،حکومتیں اور وہ ادارے  جو ان افکار کی ترویج کرتے ہیں  ان میں سے کسی کے پاس خواتین کے مسائل کا قابل اعتماد حل ،لائحہ عمل یا وژن نہیں ۔

اس کے مقابلے میں اسلام جس پر سکیولر حضرات  اس کے معاشرتی قوانین  کے سبب خواتین پر ظلم کرنے کا الزام لگاتے ہیں  کیونکہ یہ قوانین مغرب کے مساوات کے نظرئیے کے بر عکس ہیں، اس کے پاس  خواتین کے احترام کو بحا ل کرنے  کا ایک جامع ، قابل اعتماد اور مجرب   پروگرام ہے ،جوان کے مسائل کو حل اور ان کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔وہ پروگرام جس نے صدیوں تک  خلافت کے نظامِ حکومت کے سائے میں خواتین کو باعزت زندگی گزارنے کی ضمانت دی ۔ اسلام کے معاشرتی نظام کو حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس   کا شعبہ خواتین بڑے پیمانے پر جاری عالمی مہم میں واضح کر رہا ہے  جس کا عنوان ہے : "عورت اور شریعت  :حقیقت اور افسانے میں تمیز کے لیے" ۔ اس مہم کا اختتام  28 مارچ 2015 کو  ایک عالمی خواتین کانفرنس پر ہو گا۔ہم ہر اس شخص کو دعوت دیتے ہیں جو خواتین کی زندگی کو بہتر بنانے کے   ناکام معاہدات، فضول تجاویز اور جھوٹے وعدوں سے تھک چکا ہے کہ وہ اس اہم مہم اور کانفرنس کی پیروی کے لئے درج ذیل فیس بک صفحےسے رجوع کریں:

https://www.facebook.com/womenandshariahA

 

ڈاکٹر نسرین نواز

مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر شعبہ خواتین

Read more...

16-15 فروری 2015  کو ٹائمز آف انڈیا(Times of India)،ناو بھارت ٹائمز(Navbharat Times)،صحارا سمے(Sahara Samay) اور ون انڈیا (One India )  میں شائع ہونے والے مضمون  "حزب التحریر الدولۃ الاسلامیۃ  العراق و شام  سے زیادہ خطرناک ثا بت ہو سکتی ہے" کا جواب

15 ،16 فروری 2015 کو ٹائمز آف انڈیا(Times of India)،ناو بھارت ٹائمز(Navbharat Times)،صحارا سمے(Sahara Samay) اور ون انڈیا (India India)میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حزب التحریر  ایک دہشت گرد جماعت ہے۔  اس مضمون میں کئی سنگین غلطیاں اور گمراہ کن  دعوے کیے گئے۔

حزب التحریر ایک  عالمی اسلامی سیاسی جماعت ہے  جو نبوت کے طرز پر خلافت کے قیام کے ذریعے اسلامی زندگی کے احیاء کے لیے اسلامی سرزمین میں  پُر امن فکری اور سیاسی جدوجہد کرتی ہے۔  حزب التحریر ایک مشہور و معروف اسلامی پارٹی ہے  اوراس کی بنیا 1953 میں  بیت المقدس میں رکھی گئی ۔ آج شرق اوسط، افریقا اور ایشیاء  سمیت مشرق سے لے مغرب تک کام کر رہی ہے ۔  حزب کے خلاف تمام تر   سوچے سمجھے اشتعال انگیز  اقدامات،نگرانی،گرفتاریوں،تشدد اور  انصاف کا خون کرنے کے باوجود  یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ  حزب   نے اپنے پرامن سیاسی طریقے سے کبھی بھی بال برابر بھی انحراف نہیں کیا اور نہ ہی اسے کبھی ایسے کسی  واقع میں ملوث ثابت کیا جاسکا ہے۔

مذکورہ مضمون میں حزب کو " کالعدم" جماعت کہا گیا ہے ؛جس کا مقصد  قاری کو گمراہ کرنا اور اس کے ذہن میں یہ تشویش پیدا کرنا ہے کہ حزب  شاید کوئی "مسلح"  اقدامات بھی کرتی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے   کہ جن ممالک نے  بھی حزب پر پابندی لگائی تو اس کے  سیاسی مقاصد تھے اور اس کا مقصد حزب کو اپنی صاف شفاف فکر کو امت تک پہنچانے کی راہ میں روکاوٹ ڈالنا  ہے تاکہ امت اس فکر کا علمبردار نہ بنے اور حزب کے ساتھ مل کر کار زار حیات میں اس فکر کو  وجود بخشنے کے لیے جدو جہد نہ کرے۔ ان ممالک کی حکومتیں اس غلط فہمی میں رہیں کہ  وہ پابندی لگا کر امت کو حزب کی جدوجہد میں شامل ہونے سے روکنے میں کامیاب ہو جائیں گی لیکن  یہ ناکام اور نامراد ہوئے۔  یہ حقیقت اب سب کے سامنے ہے کہ امت مشرق سے لے کر مغرب تک  اللہ کی شریعت کے نفاذ اور نبوت کے نقش قدم پر اسلام کی ریاست،  خلافت کے قیام کا مطالبہ کر رہی ہے۔

رہی  حزب التحریر اور ہندوستان میں  انڈین مجاہدین کے درمیان تعلقات  کی بات  تو حزب کے تمام اسلامی تحریکوں کے ساتھ تعلقات  نصیحت اور راہنمائی کی حد تک ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

«الدين النصيحة»

" دین نصیحت ہے" ،اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ۔

ہم اخبار  ٹائمز آف انڈیا(Times of India)،ناو بھارت ٹائمز(Navbharat Times)،صحارا سمے(Sahara Samay) اور ون انڈیا (India India)کے ادارتی  انتظامیہ کو ان کے پیشہ ورانہ  اور آزادانہ  صحافت کے بارے میں یاد دہانی کر نا چاہتے ہیں ۔  صحافت ایک محنت طلب کام ہے اور  یہ تقاضا کر تا ہے کہ تمام رپورٹیں  باریک بینی اور ذمہ داری  سے تیار کی جائیں۔   ہمیں امید ہے کہ یہ اخبارات آئندہ اس امر کا خیال رکھیں گےتا کہ  مستقبل میں ہمیں عدالتی چارہ جوئی  پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

حزب التحریرکا مرکزی میڈیا آفس

 

Read more...

پریس ریلیز حکومت کی جانب سے میڈیا کو حزب التحریر کے خلاف مہم شروع کر نے کے احکامات حکومت کی ناکامی اور دیوالیہ پن کی عکاسی کرتا ہے

بنگلہ دیشی حکومت نے ہفتہ 22 فروری 2015  کو  حزب التحریر اور اس کے سرگرمیوں کے خلاف  پرو پیگنڈہ مہم   شروع کرنے  سے متعلق ذرائع ابلاغ کے لیے ایک بیان جاری کیا ۔

ہم حزب التحریر ولایہ بنگلہ دیش  حکومت کے بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہو ئے کہتے ہیں کہ : حکومت نے 2009 میں حزب التحریر پر پابندی لگانے کا حکم نامہ جاری کیا  اور پھر اس کے بعد ایسے کئی حکم نامے جاری کیے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے خلاف جابرانہ اور ظالمانہ اقدامات اٹھائےلیکن  اس سب کے باوجود  وہ حزب کا راستہ  روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی ۔ اب  حکومت ہمارا راستہ روکنے کے لئے  میڈیا کی مدد لینے کی کوشش کر رہی ہے جس میں وہ خود ناکام ہو چکی ہے۔  یہ بھی حکومت اور اس کے آقاوں کی ایک بزدلانہ کوشش ہے  کیونکہ وہ حزب التحریر اور اس کی دعوت سے لرزہ بر اندام ہیں۔  حزب نے   آج کل جو مہم شروع کر رکھی ہے  اور جس کو زندگی کے ہر طبقے میں سراہا گیا ہے  ، حکومت اور اس کے مغربی آقاوں  کے لئے ایک بڑا درد سر بن گئی ہے جس کی وجہ سے وہ ایسے احمقانہ قدم اٹھا رہی ہے۔ اس مہم کا موضوع ہے: "اے لوگو ! شیخ حسینہ اور موجودہ حکومت کو فوراً برطرف کر نے  اور نبوت کے طرز پر ریاستِ خلافت کو قائم کرنے کے لیے  فوج کے مخلص افسران سے رابطہ کر و  کہ وہ اس کام میں شریک ہوں اور  حزب التحریر کو نصرہ فراہم کریں"۔

ہم  میڈیا  میں موجود مخلص لوگوں  سے مطالبہ کرتے ہیں  کہ حزب التحریر کی کامیابیوں کو دیکھ کر پاگل پن  میں مبتلا   ہونے والی حکومت  کے جھوٹے  پرو پیگنڈے کا شکار نہ ہوں ۔  اس حکومت کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنے آپ کو بھی مایوسی کے دلدل میں نہ گھسیٹیں جو   عوام مقبولیت کھو چکی ہے۔  اس حکومت کی طرف اپنا ہاتھ مت بڑھائیں   جس کو اب لوگ  زمین بوس ہو تا دیکھنا   چاہتے  ہیں اور ان شاء اللہ عنقریب ایسا ہو نے والا ہے ۔ لہٰذا تاریخ کے اہم موڑ پر غلط کشتی کے سوار مت بنو۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان نبوت کے طرز پر خلا فت کی ریاست کی جدو جہد آپ  پر فرض ہے  نہ کہ اس اسلام دشمن حکومت کی طرفداری کرنا۔ اگر آپ  اسلام اور مسلمانوں کے بنیادی مسئلے  کی خاطر  جدو جہد کرنے کے لیے حزب التحریر میں شامل ہونے کی ہمت نہیں رکھتے  تو کم از کم  حکومت کے ہاں میں ہاں ملا کر جھوٹ بولنے سے اجتناب کریں۔

اور بہادر اور مخلص فوجی افسران سے ہم کہتے ہیں : حکومت یہ بات جانتی ہے کہ تم اسلام  کی فوج ہو اور اسلام ہی  تمہارے خون میں دوڑ تا ہے  اور تمام مسلمانوں کی طرح خلافت تمہارے بھی دل کی آواز ہے  جس کی وجہ سے  حزب التحریر آپ  میں بھی پھیل رہی ہے اور اللہ کے حکم سے جلد اپنی منزل پر پہنچ جائے گی  یعنی موجودہ حکومت کا خاتمہ اور خلافت کا قیام انشاء اللہ ۔  اس لیے حزب التحریر کو اسلام کی حکمرانی کے لیے نصرہ فراہم کر نے میں جلدی کرو  ، دنیا کا خیر حاصل کرنے کے لئے جلدی کرو، خلافت کو قائم کرنے والے انصار  کا مننصب  پانے کی جلدی کرو  اور آخرت کا اجر حاصل کرنے کی جلدی کرو کہ خلافت کو قائم کرنے والے انصار کا اجر جنت ہے،  انشاء اللہ۔۔

 

ولایہ بنگلادیش میں حزب التحریر کامیڈیا آفس

https://www.facebook.com/PeoplesDemandBD2

Read more...

سوال کا جواب مینسک معاہدہ اور یو کرائن میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال

سوال : مارکل اور ہولاندی کی پوٹین کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے اور پھر مینسک کا دورہ اور اس دوران یوکرائن کے صدر کی ملاقات میں موجودگی ، یہ سب کچھ قابل دید تیزی ہوتا نظر آتا ہے ۔۔۔ملاقات کے بعد وہ مینسک میں ایک معاہدے پر بھی پہنچ گئے جس کی رو سے مشرقی یوکرائن میں15 فروری 2015 سے فائر بندی کی جائے گی اور غیر مسلح زون قائم…
Read more...

پریس ریلیز حزب التحریر کا با ضابطہ (آفیشل)رسالہ "الرایہ" کی دوبارہ  اشاعت

حزب التحریر کا مر کزی میڈیا   آفس مسرت کے ساتھ    الرایہ رسالے  کی دوبارہ اشاعت  کا اعلان کر تا  ہے ۔  یہ ایک سیاسی رسالہ ہے  جس کو حزب التحریر ہر ہفتے شائع کر تی ہے۔  اس میں امت مسلمہ کے مسائل اور ان کے حل پیش کیے جاتے ہیں۔  اس رسالے کا پہلا شمارہ ذی القعدۃ 1373 ہجری بمطابق جولائی 1954 عیسوی میں شائع ہوا تھا۔ یہ رسالہ ہفتہ وار بدھ کی صبح  شائع ہو تا رہا  ۔ اس کے چودہ (14) شمارے ہی شائع ہو ئے تھے  جن میں  حق و سچائی کی آواز بلند ،سیاسی موضوعات پر بحث  اور اسلامی نقطہ نظر سے ان کا حل دیا اور حق بات ہی اس کا ہتھیار تھی مگر پھر بھی  ظالم اس کے وار برداشت نہ کر سکے  اور یہ اُن کے لیے راکٹ اور میزائل ثابت ہوا ۔  اردن کی حکومت  کلمہ حق کا   زخم  برداشت نہ کر سکی،خاص کر جب  حزب اور اس کے میگزین نے  اردنی وزیر داخلہ کی  جانب سے اس وقت کے اردنی آرمی چیف گلوب پاشا کے حکم سے  وعظ و ارشاد کے قانون کے اجرا کو چیلنج کیا ۔ اُس قانون کا ہدف  حزب کے شباب اور مخلص لوگوں کو  مساجد میں   درس دینےسے روکناتھا، اس لیے ظالموں نے چودہ شمارے نکلنے کے بعد ہی اس  رسالے کی اشاعت پر  پابندی لگا دی۔

اب الرایہ ایک نئی صبح کے ساتھ  دوبارہ آگیا ہے ۔ اس کا پندہرواں شمارہ بدھ 13 جمادی الاول 1436 ہجری  بمطابق4 مارچ 2015 عیسوی کو  اللہ کے اذن سے کامیابی کے ساتھ نور بن  کر  روشن کرنے لیے اور نار (آگ) بن  کر فساد کو جلا کر راکھ کر نے کے لیے حاضر ہے۔ اللہ  کی مشیت  سے یہ خلافت کے قیام  کے قریب ہونے اور رایۃ العقاب   کے بلند ہو نے کی خوشخبری بھی   لیے طلوع ہو رہا ہے، جو کہ حق اور عدل کا جھنڈا ہے  اور نبوت کے طرز پر ریاست خلافت راشدہ  مسلمانوں پر سایہ فگن ہو نے والا ہے اور ممکن ہے یہ دن قریب ہے۔

جلیل القدر عالم دین اور حزب التحریر کے امیر  عطاء بن خلیل ابو الرشتہ  حفظہ اللہ  نے  اس کی دوبارہ اشاعت کی مناسبت سے  : "الر ایہ   کو خوش آمدید ۔۔۔ یاد دہانی اور بشارت" کے عنوان سے  گفتگو کی  جس میں رسالے  کی پہلی اشاعت  کے واقعات کا ذکر کیا اور اس کے گزشتہ بعض  شماروں  کا حوالہ دیا ۔ آپ نے اللہ سبحانہ  و تعالٰی سے دعا کی  کہ  رسالے کی دوبارہ اشاعت  ایک یاد گار اور پر مسرت لمحہ ہو  اور یہ خلافت کے قیام کے قریب ہونے کی وجہ سے مسحور کن  بشارت  ہو  یقیناً  ایسا لگ رہا ہے کہ خلافت تو عملاً قائم ہو چکی ہے"۔

رسالے نے اپنے اس نئے شمارے میں  حزب کے امیر حفظہ اللہ  کا 3 مارچ کو استنبول  منعقد ہو نے والی  " جمہوری صدارتی ماڈل یا خلافت راشدہ ماڈل" کے موضوع پر کانفرنس سے افتتاحی خطاب  کو بھی من و عن شائع کیا ہے۔

اسی طرح  "عورت اور شریعت  : حق اور باطل کے درمیان"  کے موضوع  پر ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس  کے حوالے سے بیان جس کا انعقاد حزب التحریر کے میڈیا آفس کا شعبہ خواتین 28 مارچ کو   کر رہا ہے ،جس سے  پہلے عورت سے متعلق  حق اور باطل کی تمیز  کے بارے  ایک مہم بھی جاری ہے۔

اس کے علاوہ بھی اہم تر ین خبریں  اور سیاسی موضوعات اس شمارے میں شا مل ہیں، مندرجہ ذیل الیکٹرانک  صفحات کے ذریعے آپ الرایہ کو پڑھ سکتے ہیں:

الرایہ میگزین www.alraiah.net

فیس بک https://www.facebook.com/rayahnewspaper

گوگل پلس http://goo.gl/KaiT8r

ٹویٹر https://twitter.com/ht_alrayah

ای میل This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

عثمان بخاش

ڈائریکٹرمرکزی میڈیا آفس حزب التحریر

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک