الثلاثاء، 15 محرّم 1448| 2026/06/30
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    13 من محرم 1448هـ شمارہ نمبر: 1448/01
عیسوی تاریخ     اتوار, 28 جون 2026 م

پریس ریلیز

 

 

ایران-امریکہ مصالحت کاری: عالمی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ اور اس کے بدلے میں سیاسی، فوجی اور معاشی مراعات حاصل کرنے کی چھوٹی اور محدود سوچ پاکستان کو گریٹ پاور بننے سے روکے ہوئے ہے

 

 

ایران-امریکی جنگ میں مصالحت کاری کو حکمران میڈیا پاکستان کی عظیم کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ حالانکہ اس مصالحت کاری کا مقصد بحران اور یقینی شکست کے شکار امریکہ کو فیس سیونگ دیتے ہوئے مذاکرات کی میز پر ایران کو آبنائے ہرمز کھولنےاور ایٹمی ہتھیاروں سے دستبرداری کیلئے تیار کرنا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل پر ایسی کوئی شرط عائد نہیں۔ پاکستان کی امریکہ کی خاطر مصالحت کاری خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کو طوالت بخشے گی جس میں سب سے بڑا اڈا خود یہودی وجود ہے اور یہ مصالحت کاری ابراہمک اکارڈ کی راہ ہموار کر کے یہودی وجود کے تحفظ کی گارنٹی فراہم کرے گی۔ اس ڈیل کے بدلے میں ایران کو اس کے منجمد فنڈز میں سے کچھ فنڈز ریلیز کیے جائیں گے اور ایران پر عائد پابندیوں کو ہٹایا جائے گا۔ امریکہ کو دی گئی ان خدمات کے عوض پاکستان توقع رکھتا ہے امریکہ اسے مغربی مارکیٹ تک رسائی، مالی امداد، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی، آسان اقساط پر قرضوں کا اجراء، فوجی اسلحے کی فروخت، اقوام متحدہ میں سپورٹ اور بھارت کے خلاف سیاسی مدد فراہم کرے گا۔ یہ ہے پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا ویژن جس پر فوجی اور سیاسی قیادت دونوں کا اتفاق ہے۔ یہ ویژن درحقیقت امریکی ورلڈ آرڈر پر مکمل اعتماد، اس کی اطاعت اور اس کی خدمت گزاری کے بدلے میں مراعات کے حصول کا ویژن ہے جوکہ پاکستان اور اس میں بسنے والے مسلمانوں کی سیاسی اور معاشی زندگی کو امریکی ورلڈ آرڈر اور اس کے فیصلوں کے ماتحت کر دیتا ہے۔

 

1947ء میں تقسیمِ ہند اور محدود آزادی کے بعد سے ہی انگریز کی تربیت یافتہ پاکستانی حکمران اشرافیہ عالمی کیمپوں کی سیاست کی محدود سوچ اور ویژن کی اسیر ہے۔ آج پاکستان کے مسائل میں گھرے ہونے کے پیچھے یہ غلامانہ سوچ ہے جس نے ہمیں پاکستان کے حقیقی پوٹینشل کو حاصل کرنے اور پاکستان کو گریٹ پاور بننے سے روک رکھا ہے جبکہ پاکستان کی فوجی طاقت اور نیوکلیئر قوت اس کو دنیا کی صف اول کی ریاستوں میں کھڑا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ پاکستان میں امریکی یا سوشلسٹ کیمپ کی بحث کے علاوہ کسی اور راہ کو متعین کرنے کی بحث کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پچھلے ستر سالوں سے امریکہ کے مفادات کو پورا کرنے کے بدلے مخصوص معاشی اور فوجی مراعات کا حصول پاکستان کی اسٹریٹیجک سوچ اور پاکستان کی راہ متعین کرنے میں مرکزی اثر کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ کسی حکمران کی کامیابی یا ناکامی کا معیار عالمی طاقت کیلئے خدمات کے عوض بہتر معاشی اور فوجی مراعات کا حصول بن چکا ہے۔ یہی نقطہ نظر امریکہ اور چین کو ان مراعات کو بطور ہتھیار بھی استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے جس کے ذریعے امریکہ اور چین پاکستان کی معاشی، سیاسی، فوجی اور خارجہ پالیسی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ جبکہ پاکستان دو عالمی طاقتوں، امریکہ اور چین، کو خدمات مہیا کرنے اور ان کے ساتھ تعلقات کو بیلنس کرنے کے مخمصے کا شکار رہتا ہے۔

 

ایران کا حالیہ جنگ میں امریکہ جیسی عالمی طاقت کو ناک رگڑوانا اور امریکہ کو فوجی شکست سے دوچار کرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان جیسی مضبوط ایٹمی طاقت اور جدید ترین اسلحے سے لیس ملک کو کسی عالمی کیمپ میں شامل ہونے کے بجائے خطے کے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے چاہئیے۔ پاکستان کی ترقی کا راستہ عالمی طاقت اور امریکی ورلڈ آرڈر سے ٹکر لینے پر محیط ہے۔حالیہ ایران-امریکہ جنگ سے قبل ایران بھی اسی محدود سوچ پر گامزن رہا کہ اسے امریکی ورلڈ آرڈر کے ساتھ چلنا ہے نہ کہ اس سے ٹکر لینی ہے۔ ماضی میں ایران پورے خطے میں امریکی مفادات کے حصول کے لیے عراق اور شام میں وسیع قتل عام میں شریک مجرم بنا۔ یہ ایران ہی تھا جس نے افغانستان، عراق، شام، یمن، لبنان اور دیگر علاقوں میں امریکی مفادات کے حصول کے لیے ہر ممکنہ تعاون پیش کیا۔ جب امریکہ اور یہودی وجود ایران پر حملہ آور ہوئے، اور امریکی حملے میں امریکی ورلڈ آرڈر کے ساتھ چلنے کی سوچ رکھنے والی ایرانی قیادت ماری گئی تو ایران میں ایک نئی فوجی قیادت نے فوج کا انتظام سنبھالا۔ ایران کی اس نئی فوجی قیادت نے امریکی ورلڈ آرڈر سے ٹکر کا راستہ اپنایا اور جارحانہ فوجی اقدام کے ذریعے ایران اور خطے میں موجود ایرانی مفادات کا دفاع کیا۔ امریکہ اور اس کے ورلڈ آرڈر سے ٹکر لینے کی پالیسی نے ایران کو ایک محدود اثرورسوخ رکھنے والی ریاست سے تبدیل کر کے مشرق وسطیٰ کی سب سے طاقتور ریاست میں تبدیل کر دیا ہے جو اپنی مرضی سے خطے کی سیاست کا تعین کر رہی ہے۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ جنگ میں ایران نے معاشی، فوجی اور انسانی لحاظ سے نقصان اٹھایا مگر صرف چند مہینوں میں جارحانہ فوجی اور سیاسی پالیسی نے ایران کو خطے کی بڑی طاقت میں تبدیل کر دیا اور اگر ایران نے امریکہ سے ڈیل کے بعد دوبارا امریکی ورلڈ آرڈر سے مفاہمت کی پالیسی نہ اپنائی اور آزادانہ طور پر امریکی ورلڈ آرڈر کی ڈکٹیشن کے بغیر اپنے فیصلے کیے تو یقیناً امریکہ کا مشرق وسطیٰ میں اثرورسوخ قائم رکھنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

 

اے افواج پاکستان!

 

رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ میں ریاست قائم کی، تو آپ ﷺ نے ایک چھوٹی شہری ریاست ہونے کے باوجود روم اور فارس جیسی سپر پاورز میں سے کسی کیمپ کا انتخاب نہیں کیا، اور دونوں عالمی طاقتوں کو چیلنج کیا۔ اور آخر کار رسول اللہ ﷺ کے خلفاء نے ان دونوں عالمی طاقتوں کو یرموک، قادسیہ، نہاوند اور اجنادین کی جنگوں میں عبرتناک شکست دی۔ یوں رسول اللہ ﷺ کی رہنمائی نے ہمارے لیے واضح راہ متعین کر دی ہے۔ ہم اس دنیا میں ایک عظیم مشن پر مامور امت ہیں۔اور وہ مشن عالمی طاقتوں کی اطاعت اور خدمات مہیا کرنے کے بدلے بعض معاشی یا فوجی مراعات کا حصول نہیں ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا:

 

﴿هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖۙ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ﴾

 

"وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔ " ( سورۃ التوبہ:33)

 

اور رسول اللہ ؤ نے فرمایا:

«لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ» ‏‏‏‏‏‏"مشرکین کی آگ سے روشنی مت لو۔" (سنن نسائی)

 

یہاں آگ سے مراد فوجی مدد سے ہے، یہ حکم شرعی ہے کہ مسلمانوں کا کفار سے بطور طائفہ (گروہ) فوجی مدد لینا جائز نہیں جس میں کفار کی الگ شناخت موجود ہو۔ اگر کمزور عسکری گروہ جیسے طالبان یا غزہ کے مجاہدین کفار کی عظیم الجثہ فوجی طاقتوں سےلڑ سکتے ہیں، ایران امریکہ کو ناکوں چنے چبوا سکتا ہے، تو کیا چیز، اے افواج پاکستان، تمہیں اس خطے سے امریکہ کو بے دخل کرنے سے روک رہی ہے؟ یقیناً، یہ تمہاری قیادت کی محدود سوچ ہے، جس نے تمہیں عالمی طاقتوں کی خدمت پر لگا رکھا ہے، اور تمہیں اس عظیم مشن سے روک رکھا ہے جو اللہ نے تم پر فرض کیا ہے اور جس کے تم بھرپور اہل بھی ہو، اور حقدار بھی۔ یہ صرف حزب التحریر کی قیادت ہی ہے جس کو نصرۃ دے کر تم اس عظیم مشن کیلئے خلافت کو قائم کر پاؤ گے، جو اس منزل کے حصول کیلئے سب سے اہم کڑی ہے۔ پس آگے بڑھو، خلافت کو قائم کرو، عالمی حالات تبدیلی کیلئے مکمل سازگار ہیں، اور ان سب سے بڑھ کر اللہ سبحانہ و تعالی کی مدد بھی تمہارے شامل حال ہو گی۔

 

اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا:

 

﴿وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ﴾

 

"اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم ہے۔" (سورۃ روم:47)

 

ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک