الإثنين، 03 ذو القعدة 1447| 2026/04/20
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
ولایہ پاکستان

ہجری تاریخ    2 من ذي القعدة 1447هـ شمارہ نمبر: 1447/38
عیسوی تاریخ     اتوار, 19 اپریل 2026 م


پریس ریلیز


امن معاہدہ ایک دھوکہ ہے! پاکستان کے حکمران ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے، یہودی وجود کو سیکیورٹی گارنٹی فراہم کرنے اور مشرق وسطی میں امریکہ کی گرفت کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں

 


17 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، "میں شاید اسلام آباد جاؤں۔۔۔ فیلڈ مارشل (عاصم منیر) بہت زبردست ہیں، وزیر اعظم (شہباز شریف) بہت زبردست ہیں۔" اس سے قبل امریکی وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا، "میں ایک نقطہ ہائی لائٹ کرنا چاہتی ہوں جو صدر کے نزدیک بہت اہم ہے۔۔۔ پاکستانی اس پورے عمل کے دوران بہترین مصالحت کار رہے ہیں۔۔۔ اور صرف پاکستان اس عمل میں واحد مصالحت کار ہے۔" سوال یہ ہے کہ امریکی فرعون ٹرمپ، جس نے دو سال غزہ پر خوفناک بمباری اور قتل عام میں صیہونی وجود کا بھرپور ساتھ دیا، جس نے ایران میں اسکول کی بچیوں پر بمباری کی، اور جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، اور جس نے ایران کی پوری تہذیب صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دی، وہ کیوں پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریف کر رہا ہے؟ کیونکہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل اپنے لوگوں کو امن معاہدے کے نام پر دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ حکمران امن کے لیے نہیں بلکہ خطے میں امریکہ کے مفادات کی حفاظت کے لیے حرکت میں آئیں ہیں۔ یہ مسلمانوں سے جھوٹ بول رہے ہیں اور امت اور اسلام کے خلاف اپنی سازشوں پر پردہ ڈالنے کے لیے امن کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں کی حقیقت خود امریکی صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان کی تعریف سے واضح ہو جاتی ہے۔


پاکستان کے حکمران مصالحت کے نام پر میدان جنگ میں شکست کا منہ دیکھنے والے امریکہ کو مذاکرات کی میز پر فتح دلوانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ پاکستانی قیادت کے دباؤ کے ذریعے ایران کو اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام اور اس کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت ایران پر امریکی اور یہودی وجود کے حملے رکوانے کی سب سے طاقتور ضمانت ہے۔ تو کیا ایران کو جوہری پروگرام سے دستبردار کروانا خطے میں امن قائم کرنا ہے یا ایران کو کمزور کر کے خطے میں امریکی راج کو مضبوط کرنا ہے؟


ایران امریکہ جنگ کے دوران ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی جنگی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ تو کیا امن معاہدہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی جنگی اڈوں پر حملے رکوا کر ان اڈوں کو ایرانی، یمنی اور دیگر مسلم مزاحمتی قوتوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کی ضمانت نہیں دے رہا؟ پاکستان کے حکمران مشرق وسطیٰ میں امن نہیں بلکہ امریکی جنگی اڈوں کی حفاظت کی ضمانت کا معاہدہ کروا رہے ہیں اور اپنے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔


ایران امریکہ امن معاہدہ جس کے لیے پاکستان کے حکمران سرگرم ہیں، میں امریکہ ایران اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے یہودی وجود کے لیے سیکیورٹی گارنٹی کی ضمانت مانگ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط رکھی ہے اور مسلم حکمرانوں سے اس شرط کے نافذ کرنے کی گارنٹی مانگی ہے۔ کیا جابر اور قاتل یہودی وجود کو غزہ، شام، لبنان اور ایران میں اس کے جرائم کے بدلے میں امن معاہدے سے نوازا جائے جبکہ اسلام کا یہ حکم ہے کہ مسلم افواج حرکت میں آئیں اور یہودی وجود کو صفہ ہستی سے مٹا دیں!


آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد مسلم امت پر اپنی اصل طاقت واضح ہو گئی ہے۔ یورپ، ایشیاء بلکہ پوری دنیا کی معیشت مسلم علاقوں میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر کی مرہونِ منت ہے۔ مزید یہ کہ عالمی تجارت مسلم علاقوں کے سمندروں اور آبی گذرگاہوں میں محفوظ راستے کے بغیر ممکن نہیں۔ تو کیا اب جبکہ ہم نے اپنی طاقت کا مزہ چکھ لیا ہے ہم امن معاہدے کے نام پر اپنے تیل اور گیس کے ذخائر اور اپنے سمندروں اور آبی گذرگاہوں کا کنٹرول واپس امریکہ اور مغرب کے حوالے کر دیں؟

 


اے پاکستان کے مسلمانو! اپنے حکمرانوں کے دھوکے میں مت آؤ! پاکستان کے حکمران امن کے لیے نہیں بلکہ ایک نئے مشرق وسطیٰ کی تشکیل کے امریکی منصوبے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان حکمرانوں نے غزہ میں قتل عام رکوانے کے لیے ایک گولی نہیں چلائی مگر آل سعود کے تخت کی حفاظت اور خطے میں امریکی اڈوں کی حفاظت کے لیے اپنی فوجی قوت پیش کر دی۔ ان حکمرانوں نے ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کی اور ٹرمپ کو غزہ میں فوج کی تعیناتی کی یقین دہانی کروائی ۔اور اب یہ حکمران ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے نئے مشرق وسطیٰ کے منصوبے کے سامنے سر جھکا دے جیسے ان حکمرانوں نے امریکہ کے سامنے اپنا سر جھکا رکھا ہے۔ یہ حکمران اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور امریکہ کے ساتھ اپنی ساز باز پر عوامی دباؤ اور عوامی غم و غصّے سے بچنے کی خاطر امریکہ کو دی جانے والی اپنی خدمات کو امن کے لیے کوششوں کا نام دے رہے ہیں۔
اے افواج پاکستان!


ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ جو قیادت امریکہ کی خاطر اس خطے میں امریکی سیکیورٹی ڈھانچے کو دوبارہ سے منظم اور مستحکم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، تو وہ اسے اکھاڑنے کی کوشش کیوں نہیں کرتی؟ آخر کیا وجہ ہے کہ حربی کافر جو دنیا بھر میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں وہ پاکستان کے حکمرانوں کی تعریف کر رہے ہیں؟ کیا اس امر میں کوئی شک ہے کہ امریکہ خطے میں اس قوت کا خاتمہ چاہے گا جو امریکی آرڈر کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ تو امریکہ کو اس خطے میں مضبوط کر کے پاکستان، ترکی یا دوسرے کسی بھی مسلم طاقت کا کیا مستقبل ہوگا؟ کیا پاکستان کی مجاہد افواج ایسی قیادت کی مستحق ہیں؟ جب ایران کے کچھ کمانڈرز پورے خطے میں امریکی تنصیبات کو تہس نہس کر سکتے ہیں، پانچویں جنریشن کے جہاز گرا سکتے ہیں، یہودی وجود کا بھرکس نکال سکتے ہیں، امریکی بحری بیڑوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکتے ہیں، امریکہ کی میزائل ڈیفنس سسٹم کی بیٹریاں اڑا سکتے ہیں، تو پاکستان کی ایٹمی افواج جدید ترین میزائل اور جہازوں سے لیس کیا کچھ نہیں کر سکتیں؟ لیکن یہ صرف تب ہوگا جب آپ اپنی نصرۃ خلافت کے قیام کے لیے حزب التحریر کو دیں۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے آپ کو ایک عظیم مشن پر مامور کیا ہے، جو اسلام کو اس دنیا پر غالب کرنے کا ہے، نہ کہ انگریزوں کی کھینچی ہوئی چند آڑھی ترچھی لکیروں کے اندر قید ہو کر چھوٹے سے خطے کے دفاع کا! اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا،


﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾
"وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار گزرے۔"
(سورۃ الصف: 9)


اے افواج! یہ سنہری موقع آپ کے ہاتھ میں ہے۔ خلافت کو قائم کریں، مشرق وسطیٰ کو اپنی قیادت تلے متحد کریں اور امریکہ کو مسلم علاقوں سے نکال باہر کریں۔ اللہ کا وعدہ اور اس کی نصرت آپ کے ساتھ ہے۔ دنیا ایک بہت بڑی تبدیلی کے دہانے پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ آپ اپنے ایمان کی طاقت سے انصار مدینہ کی سنت پر چلتے ہوئے دنیا کو اسلام کی حکمرانی سے پھر سے روشناس کروا دیں۔


ولایہ پاکستان میں حزب التحرير کا میڈیا آفس

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
ولایہ پاکستان
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
تلفون: 
https://bit.ly/3hNz70q
E-Mail: HTmediaPAK@gmail.com

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک