بسم الله الرحمن الرحيم
خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)
07/09/2026
امریکی استعماریت کی تمام شکلوں سے مسلم دنیا کی آزادی کا وقت آ چکا ہے
4 ستمبر 2026ء کو امریکی محکمۂ خارجہ نے اپنے ترجمان کے نام سے ایک پریس ریلیز جاری کی، جس میں کہا گیا: ”امریکہ ایرانی حکومت کو تنہا کرنے کے لیے اپنے تمام دستیاب سفارتی اور معاشی ذرائع کا استعمال جاری رکھے گا، یہاں تک کہ وہ دہشت گردی کی حمایت اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی اپنی سرگرمیوں سے دستبردار ہو جائے۔ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کوشش میں شامل ہو اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی ادارہ ایسی حکومت کے لیے مالی سہارا فراہم کرنے کا ذریعہ نہ بنے جو امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔“
تبصرہ:
امریکہ ”دہشت گردی کی حمایت“ کی بات کرنے والا کون ہوتا ہے، جبکہ وہ خود یہودی وجود اور ہندو ریاست کی دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے، اور خود بھی دنیا بھر میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتا ہے؟
امریکہ ”عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں“ کی بات کیسے کر سکتا ہے، جبکہ اس کے فوجی اڈے، جن میں اس کا اگلا فوجی اڈہ، یعنی یہودی وجود بھی شامل ہے، مسلم دنیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہیں؟
واضح طور پر خود امریکہ ہی وہ حکومت ہے جو جنوبی امریکہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک پوری دنیا میں امن و سلامتی کی راہ میں رکاوٹ ہے، اور وینزویلا، کینیڈا اور گرین لینڈ سمیت متعدد ریاستوں کو دھمکیاں دے رہی ہے۔
دنیا کے لوگوں کو امریکہ کی دہشت گردی، ناانصافی اور استعماریت کو برقرار رکھنے کی کوششوں کو مسترد کرنا چاہیے۔ امت مسلمہ کی قیادت میں انسانیت کو امریکی حکومت کے تمام سہارے ختم کر دینے چاہییں، تاکہ اسے پسپائی اختیار کرکے ایک نئے دورِ تنہائی میں اپنے وطن تک محدود ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایک کے بعد دوسرے مسلم ملک کی تباہی کا محض تماشائی بننے کے بجائے، امت مسلمہ اور اس کی افواج کو امریکی استعماریت کی تمام شکلوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کو اس کے ہر اُس ذریعے سے محروم کیا جائے جو اس وقت اس کے اختیار میں ہے، جن میں مسلمانوں کے وہ حکمران بھی شامل ہیں جو یا تو اندھے ایجنٹ ہیں یا ٹرمپ کے خوشامدی پیروکار ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا کو امریکی استعماریت کی زنجیروں سے آزاد کرانے (تحریر) کے لیے جدوجہد کی جائے، اور امت مسلمہ کے لیے حقیقی آزادی اس طریقے سے حاصل کی جائے کہ اللہ ﷻ کی کتاب اور نبی ﷺ کی سنت کے مطابق حکمرانی قائم کی جائے۔
مقبوضہ سرزمینوں کی آزادی کے لیے مسلح افواج کو متحرک کرنے کی آواز بلند کریں
خبر:
اسلام آباد، 3 ستمبر (اے پی پی): آل پارٹیز حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کے زیرِ سایہ مظلوم کشمیریوں کو درپیش مسلسل جبر کے خلاف آواز بلند کرے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)
https://www.app.com.pk/kashmir/aphc-urges-world-to-raise-voice-against-continued-indian-repression-in-iiojk/
اگرچہ بہت سے انصاف پسند لوگ کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، لیکن محض آواز بلند کرنے سے ظلم و جبر کا خاتمہ نہیں ہوتا۔
عالمی برادری سے اپیلیں کرنا بے سود ہے، کیونکہ مغربی طاقتوں پر مشتمل یہی عالمی برادری خود کشمیر پر قبضے کی بنیادی وجہ ہے۔ 1947ء میں مغربی طاقتوں نے بھارت کا ساتھ دے کر مقبوضہ کشمیر کی مکمل آزادی کو روک دیا، جب مسلمانوں نے کامیابی سے اس سرزمین کے ایک حصے کو آزاد کرایا، جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ 1999ء میں کارگل جنگ کے دوران، جب امریکہ کے صدر کو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا خدشہ ہوا تو انہوں نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ مئی 2025ء میں آپریشن بنیان المرصوص کے دوران، جب پاک فضائیہ نے فضائی برتری حاصل کر لی، تو امریکہ کے نائب صدر نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کو روکنے کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
مسلمانوں کے حکمرانوں سے آواز بلند کرنے کا مطالبہ کرنا بھی بے سود ہے، کیونکہ وہ مغربی طاقتوں کے ایجنٹ اور پیروکار ہیں۔ کروڑوں فوجیوں کی کمان رکھنے کے باوجود، مسلمانوں کے حکمران کبھی بھی مسلمانوں کے مسائل کے لیے اپنی مسلح افواج کو متحرک نہیں کرتے۔
لہٰذا، آئیے مسلح افواج کو متحرک اور ایسے حکمران یا فوجی کمانڈر جو اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے کو ہٹانے کا مطالبہ کریں۔ اللہ ﷻ نے فرمایا:
﴿وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيراً﴾
”اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر قتال نہیں کرتے جو دعا کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی ولی مقرر فرما، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار مقرر فرما“ [سورۃ النساء: 75]۔
حاضر دماغی (سرعة البَديهة) شرعی احکام کے فوری نفاذ کو یقینی بناتی ہے، نہ کہ لاگت و فائدے کے تجزیے پر طویل بحثوں کو
“بنگلہ دیش کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت ملک کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، تاہم سکیورٹی ماہرین نے کسی فیصلے میں جلد بازی سے احتیاط کی ہے۔۔۔ یہ آراء ’مکہ معاہدے میں شمولیت: بنگلہ دیش کے ممکنہ راستوں کا جائزہ‘ کے عنوان سے ہونے والی ایک نشست میں سامنے آئیں۔
”
31 اگست 2026
https://en.prothomalo.com/bangladesh/vhiozozdur
تبصرہ:
امت مسلمہ اور اس کی سرزمینوں کے دفاع جیسے معاملے پر اتنی طویل بحثوں کی آخر ضرورت ہی کیوں ہے؟ اُمت کے اہم اور بنیادی مسائل میں میکانکی فلسفے (mechanical philosophy) کے انداز کو اختیار کرنا ایک فکری بیماری ہے، حالانکہ ان مسائل کا حل اللہ ﷻ، الحکیم (سب سے زیادہ حکمت والا)، کے شرعی حکم سے نہایت واضح طور پر متعین ہے۔ شریعت اسلام کے مطابق حکمرانی کرنے والے ایک امام کے تحت امت مسلمہ کی وحدت کا حکم دیتی ہے۔ شریعت قوم پرستی کی بنیاد پر مسلمانوں کو درجنوں قومی ریاستوں میں تقسیم کرنے سے منع کرتی ہے۔ شریعت مسلمانوں کی مسلح افواج کو مقبوضہ سرزمینوں کی آزادی کے لیے متحرک کرنے اور ان لوگوں کو وہاں سے نکالنے کی تعلیم دیتی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا ہو۔
استعماری ایجنٹ، یعنی مسلمانوں کے حکمران، میکانکی فلسفے (mechanical philosophy) کا انداز اس لیے اختیار کرتے ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ ان کے فیصلے آزادانہ اور خودمختارانہ ہیں۔ چنانچہ ہر مسلم ریاست میں ماہرین کو سامنے لایا جاتا ہے تاکہ وہ لاگت و فائدے کے تجزیے کی بنیاد پر حکومتی بیانیے کو تقویت دیں، جبکہ یہ تجزیہ خود مغربی افادیت پسندی (Utilitarianism) کے فاسد تصور پر قائم ہے۔ خود استعماری طاقتیں بھی مسلمانوں کو اہم اور بنیادی معاملات میں میکانکی فلسفے کے استعمال کی ترغیب دیتی ہیں، تاکہ وہ تاخیر کرتے کرتے ایسی مفلوج کن کیفیت کا شکار ہو جائیں کہ نہ صرف واضح شرعی احکام کو نظر انداز کر دیں بلکہ حلال و حرام کے شرعی تصور کو بھی پسِ پشت ڈال دیں۔
جیسا کہ خلفائے راشدین کی مثال سے واضح ہے، اسلامی قیادت کی ایک نمایاں خصوصیت شرعی احکام کے نفاذ میں حاضر دماغی (سرعة البَديهة) ہے۔ اس سے مسلمانوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ بہترین منصوبوں، اسالیب اور ذرائع کے ذریعے شرعی احکام کے عملی نفاذ پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ لہٰذا مسلم سیاست دانوں، پالیسی سازوں، فوجی کمانڈروں اور بااثر شخصیات کو چاہیے کہ جہاں مطالعہ اور بحث کی ضرورت نہ ہو وہاں غیر ضروری بحث و مباحثے کو ترک کریں، اور اپنی علمی و فکری توجہ مکمل طور پر شرعی احکام کے عملی نفاذ پر مرکوز کریں۔
اُمت کی حقیقی فتح قومی ریاست نہیں بلکہ خلافت کے قیام میں ہے
وزیراعظم نے ایکس (X) پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ 30 اگست غازی مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں حاصل ہونے والی تاریخی فتح کی یاد دلاتا ہے، جس نے جدید جمہوریہ ترکی کی بنیاد رکھی۔
ریڈیو پاکستان
30 اگست 2026
https://www.radio.gov.pk/30-08-2026/pm-felicitates-turkiye-on-joyous-occasion-of-victory-day
تبصرہ:
م
صطفیٰ کمال کون تھا؟ وہ 1924 میں اسلامی خلافت کے خاتمے کے عمل کا مرکزی معمار تھا، جس نے اُمت کو اس کی ڈھال سے محروم کر دیا اور اسلام کے نظامِ حکمرانی کا خاتمہ کر دیا۔ اس نے آخری اسلامی ریاست کے کھنڈرات پر جدید ترک جمہوریہ کی بنیاد رکھی۔ جدید ترکی شریعت کے خاتمے، اسلامی عدالتوں کی بندش، علماء کے خلاف اقدامات، اور اللہ ﷻ کی حاکمیت کی جگہ سیکولر اور مغربی طرز کے قوانین نافذ کرنے کے ذریعے قائم کیا گیا۔ اسے فتح کے طور پر منانا دراصل وحی الہی پر مبنی نظامِ حکمرانی کو طاغوتی نظام سے بدلنے کا جشن منانا ہے، یعنی ایسا نظام جو شریعت کے قانون کی خلاف ورزیوں اور سرکشی پر قائم ہو۔
جب مسلم عوام نے استعماری حملہ آوروں کو پسپا کرنے کے لیے اپنا خون بہایا، تو اُمت کی اس عظیم قربانی کو ایک سیکولر قوم پرست قیادت نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر لیا۔ عوام جس اسلامی اقتدار کے تحفظ کے لیے لڑ رہے تھے، اسے بحال کرنے کے بجائے اس قیادت نے فتح کے حاصل ہونے والے موقع کو ایک سیکولر قومی ریاست قائم کرنے کے لیے استعمال کیا۔ بالآخر اس نے ملک کے عسکری اور سیاسی مستقبل کو نیٹو جیسے مغربی بالادستی کے اداروں سے وابستہ کر دیا، اور یوں حقیقی اسلامی آزادی کو سرمایہ دارانہ عالمی نظام کی تابعداری کے بدلے قربان کر دیا۔
امت مسلمہ کی واحد حقیقی فتح سیکولر جمہوری نظام کے قیام کی یاد منانے میں نہیں، بلکہ ان کے خاتمے میں ہے۔ ترکیہ، پاکستان اور پوری مسلم دنیا کے مخلص لوگوں کو اس کھوکھلی قوم پرستی اور اپنے حکمرانوں کی غداریوں کو مسترد کرنا چاہیے۔ اُمت کے درد کا علاج اور اس کی حقیقی آزادی کا تحفظ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ اجتماعی اور مخلصانہ کوشش کے ذریعے اسلامی زندگی کو دوبارہ قائم کیا جائے اور منہجِ نبوت پر خلافت کو دوبارہ قائم کیا جائے۔
صرف خلافت کے پرچم تلے ہی مصنوعی قوم پرستانہ سرحدوں کو مٹایا جا سکے گا، شریعت کو نافذ کیا جائے گا، مسلمانوں کی عزت و وقار کو بحال کیا جائے گا، اور اسلام کے پیغامِ رسالت کو پوری دنیا تک پہنچایا جائے گا، جیسا کہ ہماری تاریخ کے سنہری ادوار میں ہوا تھا۔
جہاد کاروبار نہیں، یہ کلمۃ اللہ کو سر بلند کرنے کا شرعی فریضہ ہے
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، این آئی (ایم) ایچ جے، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز (سی او اے ایس اور سی ڈی ایف) نے واہ میں پاکستان کے سب سے بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس، پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (پی او ایف) کا دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد پی او ایف کی پیداواری صلاحیتوں، برآمدی صلاحیت اور ملکی دفاعی صنعتی بنیادوں میں اس کے کردار کا جائزہ لینا تھا۔
پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) راولپنڈی - 29 اگست 2026ء پریس ریلیز نمبر: PR-194/2026-ISPR https://www.ispr.gov.pk/press-release-detail?id=7769
تبصره:
استعمار کے موجودہ ایجنٹوں کے زیرِ قیادت، عالمِ اسلام میں جنگ ایک کاروبار بن چکا ہے۔ ملٹری انڈسٹری زیادہ تر ہلکے ہتھیاروں اور بارود تک محدود ہے تاکہ برآمدات کے ذریعے ڈالر کمائے جا سکیں۔ اس محدود سوچ کی وجہ سے، ایسی ملکی مشینری انڈسٹری قائم کرنے کا کوئی منصوبہ بھی نہیں ہے جو جیٹ انجن، ٹینک کے ڈیزیل انجن، ٹینک ٹرانسمیشن سسٹمز اور مائیکرو چپس کی تیاری کو ممکن بنا سکے۔ چنانچہ اس وقت پاکستان فوجی سامان کے کئی اہم پرزہ جات کے لیے امریکہ، چین، فرانس، جرمنی، اٹلی اور یوکرین پر انحصار کرتا ہے۔
شریعت کے قانون میں جنگ کا مقصد کلمۃ اللہ کو سب سے بلند کرنا ہے، اس لیے مسلمان جنگ کے تمام شعبوں میں عسکری برتری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے منجنیقوں اور دبّابوں (محاصرے کی گاڑیوں) کے معاملے میں یمن کے غیر مسلموں کی مہارت سے استفادہ کیا، لیکن ان کی مقامی سطح پر پیداوار کو قائم کیا۔ صدیوں تک مسلمانوں کی افواج عسکری ٹیکنالوجی میں دنیا کی قیادت کرتی رہیں، جس نے ظالموں کے خلاف لڑنے اور نئی زمینوں کو اسلام کی رحمت کے لیے کھولنے میں ان کی مدد کی۔
خلافتِ راشدہ مسلمانوں کی صنعتی بنیادوں کی خامیوں کو تیزی سے دور کرے گی، تاکہ جنگ کی تیاری سے متعلق اس شرعی حکم کی تعمیل کی جا سکے جو دشمن پر ہیبت طاری کر دے۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا:
﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ﴾
”اور ان کے مقابلے کے لیے جس قدر ہو سکے طاقت اور پلے ہوئے گھوڑے تیار رکھو، تاکہ اس سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن پر ہیبت طاری کر سکو۔“ [ترجمہ معانی القرآن سورة الانفال: 60]۔




