السبت، 23 ربيع الأول 1448| 2026/09/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

سعودی سودانی رابطہ کونسل: سوڈان کی تقسیم کی کڑیوں میں سے ایک کڑی

 

تحریر: استاد میسرہ یحییٰ محمد نور

(ترجمہ)

 

سعودی عرب اور سوڈان کے مابین نئی رابطہ کاری جاری ہے... اور تعاون کی میز پر 10 امور رکھے گئے ہیں، چنانچہ منگل، 18 اگست 2026ء کو روزنامہ 'الشرق الاوسط' نے یہ خبر شائع کی ہے کہ سعودی عرب اور سوڈان نے پیر کے روز 'سعودی سودانی رابطہ کونسل' کے قیام کی دستاویز پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے مابین تعاون کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

 

اور سعودی پریس ایجنسی "واس" نے بتایا: "سعودی وزیر خارجہ  شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ اور سوڈان کے  وزیر خارجہ و بین الاقوامی تعاون محیی الدین سالم احمد ابراہیم نے ریاض میں وزارت خارجہ کے صدر دفتر (ہیڈ کوارٹر) میں 'سعودی سودانی رابطہ کونسل' کے قیام کی دستاویز پر دستخط کیے ہیں"۔

 

اور ایجنسی نے مزید کہا: "اس کونسل کا قیام دونوں ممالک کی اپنے مابین تعاون اور ہم آہنگی کی سطح کو بڑھانے کی شدید خواہش کے پیشِ نظر عمل میں آیا ہے، تاکہ یہ دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے ایک مؤثر ادارہ جاتی پلیٹ فارم بن سکے، اور ایک ایسا ادارہ جاتی فریم ورک مہیا کرے جو دونوں اطراف کے متعلقہ اداروں کو واضح اقدامات، منصوبوں اور اہداف کے ذریعے ٹھوس نتائج حاصل کرنے کے لیے یکجا کرے، جس سے باہمی تعاون اور یکجہتی کو فروغ ملے اور دونوں برادر ممالک کی قیادت اور عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہو سکے"۔

 

جبکہ سوڈانی وزارت خارجہ نے ایکس پلیٹ فارم پر جاری ایک بیان میں بتایا کہ: "اس کونسل کا مقصد سعودی عرب اور سوڈان کے مابین دوطرفہ تعلقات کے انتظام اور ان کے فروغ کے لیے ایک اعلیٰ اور زیادہ وسیع ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرنا ہے، اور باہمی دلچپی کے مختلف شعبوں میں ان تعلقات کو وسیع تر رابطہ کاری اور تعاون کی سطح تک لے جانا ہے"۔

 

یہ کونسل دس بنیادی شعبوں (ملفات) کا احاطہ کرتی ہے جن میں سیاسی، معاشی، سرمایہ کاری، تجارتی اور تعاون کے دیگر شعبے شامل ہیں، جس سے دونوں ممالک کے مابین نظریات کو ہم آہنگ کرنے، سرکاری شراکت داری کو مضبوط بنانے اور معاشی و سرمایہ کاری کے تعاون کے نئے افق کھولنے میں مدد ملے گی۔"۔

 

نیز یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ یہ کونسل مشترکہ منصوبوں اور پروگراموں کے نفاذ کو آسان بنانے، ترقی اور استحکام کی کوششوں کی حمایت کرنے اور باہمی مفادات کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی، جو سوڈانی سعودی تعلقات کی انفرادیت اور دونوں ممالک کی قیادت کی ان تعلقات کو ادارہ جاتی اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

 

بیان کے آخر میں کہا گیا کہ: "اس معاہدے پر دستخط خرطوم اور ریاض کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات اور سٹریٹیجک تعاون کے ایک نئے مرحلے کے لیے مشترکہ امنگوں کے تحت ہوئے ہیں، جو باہمی مفادات اور زیادہ مستحکم اور ترقی پسند مستقبل کے لیے ایک مشترکہ نظریے (وژن) پر مبنی ہیں"۔

 

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوڈان 2023ء سے مسلسل جنگ کی حالت میں ہے، جو اپنے چوتھے سال کے پانچویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، اور تخمینوں کے مطابق اس جنگ میں 2 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ریاض نے اس جنگ سے امریکہ کے مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش میں اپنا پورا وزن ڈال رکھا ہے۔

 

جو شخص سوڈان کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لی گا وہ دیکھ سکتا ہے کہ وہاں کے معاملات کی باگ ڈور امریکہ کے ہاتھ میں ہے، جس نے اس جنگ کی آگ بھڑکائی ہے اور وہ سوڈان کے پہلے سے ہی تقسیم شدہ حصوں کو مزید تقسیم اور تار تار حصوں کو اس کے اپنے ہی بیٹوں کے ہاتھوں مزید پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے، اور سعودی عرب اس کے بازوؤں میں سے محض ایک بازو ہے۔ ہم نے جدہ فورم  میں اس کی مداخلتوں کا مشاہدہ کیا ہے، جس نے جنگ کے آغاز ہی سے دونوں فریقوں کے مابین مذاکرات کی میزبانی میں بڑا کردار ادا کیا، لیکن اس نے کچھ حاصل نہیں کیا، بلکہ امریکہ کے اشارے پر جنگ کو طویل کیا، تاکہ امریکہ جو چاہتا ہے اسے حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔

 

اور ہم اس پاکیزہ سرزمین کے اپنے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ سعودی عرب اور اس کے پیچھے کھڑا امریکہ اور پورا کافر مغرب آپ کا کوئی بھلا نہیں چاہتے، بلکہ ان کی نظریں آپ کے اس ملک پر ہیں جو ظاہری اور باطنی وسائل و دولت سے مالا مال ہے۔ اور اسی طرح ہم فوج میں موجود اپنے مخلص بیٹوں سے کہتے ہیں کہ وہ حزب التحریر کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں تاکہ وہ نبوت کے نقشِ قدم پر  خلافتِ راشدہ کو قائم کرے، اور اس طرح ہم اس عظیم گناہ کا بوجھ اپنی گردنوں سے اتار سکیں جو خلافت کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہم پر عائد ہے۔

 

جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ مبارک اس کی تصدیق کرتا ہے:«وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»"اور جو شخص اس حال میں مر گیا کہ اس کی گردن میں بیعت (کا عہد) نہ ہو، وہ جاہلیت کی موت مرا۔"

 

ہم آپ کو اسی بھلائی کی طرف بلاتے ہیں؛ تاکہ عزت کا سورج ایک بار پھر طلوع ہو، کیونکہ ہم فاتحین کی اولاد ہیں، ہم اس سلطان علی دینار کی نسل ہیں جنہوں نے اسلام کے لیے وہ کچھ پیش کیا جو انہوں نے پیش کیا (یعنی بے مثال خدمات انجام دیں)۔﴿لِمِثْلِ هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ﴾"ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔" (سورۃ الصافات: 61)

 

 

ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

 

 

 

Last modified onہفتہ, 05 ستمبر 2026 05:52

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک