السبت، 23 ربيع الأول 1448| 2026/09/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

یہود کی بڑھتی ہوئی سرکشی کی بابت ہم کب تک بین الاقوامی نظام کے سامنے صرف شکوہ و شکایت کرنے پر ہی اکتفا کریں گے؟!

 

تحریر: استاد ناصر شیخ عبد الحی

(ترجمہ)

 

روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ موساد کے نئے سربراہ جوفمان نے 14/08/2026 کو شام کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس میں شام میں ترکی کی فوجی موجودگی پر گفتگو کی گئی، جس کے بعد یہودی وجود نے منگل 18/08/2026 کو مشرقی ادلب کے دیہی علاقے (ریف) میں واقع ابو الظہور فوجی ہوائی اڈے پر 8 فضائی حملے کیے، جن میں ہوائی اڈے کے رن ویز اور ہینگرز (طیارہ گھروں) کو نشانہ بنایا گیا، اور اس کا جواز پیش کرتے ہوئے اسے ایک ایسے سابقہ معاہدے کا نام دیا جس کے تحت سکیورٹی کے معاملات میں جوں کی توں صورتحال (اسٹیٹس کو) برقرار رکھنا طے پایا تھا، اور یہ کہ شام حلب کے قریب ایک فضائی اڈے پر ترک افواج کو تعینات ہونے کی اجازت دے کر اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے ہی والا تھا۔ جبکہ شام کے لیے امریکی ایلچی ٹام باراک نے کہا کہ وہ 'ایک ایسے تنازع کے حل کے طریقہ کار (میکانزم) پر تندہی سے کام کر رہے ہیں جس میں یہودی وجود، شام اور ترکی شامل ہیں، شمال کی طرف ترکی کی حدود کی جانب بڑھتے ہوئے طیاروں کا پتہ چلا تھا اور یہ ممکن تھا کہ وہ جوابی کارروائی کی تیاری کر رہے ہوں، خوش قسمتی سے، فہم و فراست اور بردباری کے حامل فریقین نے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچا لیا'! انہوں نے مزید کہا کہ 'یہ واقعات 27/10/2026 تک جاری رہیں گے'، جو کہ یہودی وجود کے انتخابات کی تاریخ ہے، جیسا کہ ویب سائٹ 'اکسیوس' نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے شام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہودی وجود کے انتخابات کے بعد تک ضبطِ نفس (صبر و تحمل) کا مظاہرہ کرے۔

 

جہاں تک دمشق میں عبوری انتظامیہ کے موقف کا تعلق ہے، تو وہ اس کے وزیر خارجہ شیبانی کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا: (ابو الظہور ہوائی اڈے پر کوئی ترک فوجی اڈہ قائم کرنے، یا مستقل ترک فوجی موجودگی قائم کرنے، یا ترک افواج کو تعینات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، اور یہ پیغام واضح طور پر 'اسرائیلی' فریق کو پہنچا دیا گیا تھا، شام 'اسرائیل' کو اپنی جارحیت جاری رکھنے سے باز رکھنے کے لیے سفارت کاری پر کاربند ہے، ہم ابو الظہور فوجی ہوائی اڈے پر 'اسرائیلی' جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، جو کہ ایک بلا جواز اشتعال انگیزی، شام کی خود مختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی و عالمی استحکام کے لیے خطرہ ہے، ہم نے 'اسرائیل' کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گیا، ہم کشیدگی میں کمی کے لیے 'اسرائیل' کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے میں اب بھی دلچسپی رکھتے ہیں)۔ اور ویب سائٹ 'اکسیوس' نے شیبانی کا یہ قول نقل کیا ہے: (میں نے 'اسرائیل' پر واضح کر دیا تھا کہ ہم اڈے پر کسی فوجی جمعاؤ کے لیے ترکی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے، اس کے باوجود اس نے حملہ کر دیا)، اسی ویب سائٹ نے مزید کہا ہے کہ شامی حکومت ہفتوں سے امریکہ اور یہودی وجود کے ساتھ اردن میں ایک مشترکہ رابطہ مرکز قائم کرنے کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈال رہی تھی، جس کا مقصد ایسے واقعات کو سنبھالنا اور کشیدگی کو روکنا ہے۔ لیکن اس وجود نے اسے مسترد کر دیا اور جنوبی شام میں اپنی فوج کی دراندازیوں کو مزید بڑھا دیا۔

 

عبرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ابو الظہور ہوائی اڈے پر بمباری 'ادلب میں نیتن یاہو کی انتخابی مہم' ہے، جبکہ یہودی وجود کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بیان دیا کہ یہ فضائی حملے بذاتِ خود دانستہ نہیں تھے، بلکہ انہوں نے انہیں خطے میں ترکی کی نقل و حرکت کے باعث ایک 'انتباہی پیغام' قرار دیا۔ جبکہ ویب سائٹ 'الشرق الاوسط' نے رپورٹ کیا: "گزشتہ دو ہفتوں کے دوران، 'اسرائیلی' فوج نے شام پر 27 فضائی حملے کیے، 36 بار زمینی دراندازی کی، اور 11 شامی شہریوں کو حراست میں لیا، اور اس کے ساتھ ہی سیاسی و فوجی حکام کی جانب سے ترکی کو دھمکیاں بھی دی گئیں، جن پر وہ شام کی سرزمین پر فوجی اڈے قائم کرنے کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی انقرہ اور دمشق دونوں ہی باضابطہ طور پر تردید کرتے ہیں"۔

 

بشار کے زوال کے بعد سے، یہودی وجود شام کے زمینی، بحری اور فضائی فوجی انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے) کو نشانہ بنا رہا ہے، اور اس کی افواج جنوب اور شمال میں دندنا رہی ہیں، بے خوف و خطر گھوم پھر رہی ہیں، لوگوں کو گرفتار کر کے ان سے تفتیش کر رہی ہیں اور تباہی مچا رہی ہیں، بلکہ نیتن یاہو اور اس کا وزیرِ جنگ کاٹز جنوبی شام کا دورہ کر رہے ہیں، وہ بھی ایک ایسے عجیب اور مشکوک سکوت کے سائے میں جو بردبار انسان کو بھی حیران و پریشان کر دے! پھر اللہ کے دشمنوں کے غضب و قہر کے خوف سے اور ان کے نام نہاد امن و مصالحت کی خاطر ان کے سامنے گڑگڑانے اور تذلل اختیار کرنے میں کس قدر ذلت اور رسوائی ہے؟! کیا اس قوم کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہودی بغض و کینہ، غداری، مکر و فریب اور عہد شکنی کرنے والی قوم ہے؟! کیا یہ وہی نہیں ہیں جو انبیاء کے قاتل ہیں؟! کیا ان لوگوں کو اب بھی ادراک نہیں ہوا کہ یہودیوں کے ساتھ کوئی اور زبان کارگر نہیں ہوتی سوائے ایک زبان کے، اور وہ ہے عزت، بہادری اور شجاعت کے میدانوں میں ہتھیار اٹھانے اور تکبیر بلند کرنے کی زبان؟!

 

یقیناً خلاصی اور نجات کا راستہ معلوم ہے، اور اس کا دروازہ اور اس کی چابی بھی جانی پہچانی ہے، اور تیاری کی کمی، استحکام کی اولویت، تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کو عذر بنانا محض جھوٹے حیلے اور بہانے ہیں؛ کیونکہ امریکہ اور اس کا پروردہ، شام کو قوت کے کسی بھی مؤثر عامل کے حصول سے روکنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں گے، سوائے اس قوت کے جس کے ذریعے لوگوں کو اس ظالم و جابر دشمن کا مقابلہ کرنے سے باز رکھا جا سکے جو صبح و شام ہماری سرزمین کو ناپاک کر رہا ہے! کیا وہ اب بھی امریکہ کی حقیقت کو نہیں سمجھ پائے جو خود کو موجودہ انتظامیہ کا محافظ اور اتحادی بنا کر پیش کرتا ہے، حالانکہ وہ حقیقت میں اس چور کی طرح ہے جو دوسرے چوروں کو چوری پر اکساتا ہے اور پھر خود نجات دہندہ اور مخلص بن کر سامنے آ جاتا ہے؟! وہ امریکہ جو دمشق کی انتظامیہ پر احسان جتاتا ہے کہ اگر وہ نہ ہوتا تو پورا شام یہود کے چنگل میں پھنس چکا ہوتا، تاکہ اسے اپنے احکامات  کے سامنے مزید جھکنے پر مجبور کیا جا سکے؟! وہ امریکہ جو شام کے لیے ایک مضبوط فوج کا ہونا پسند نہیں کرتا تاکہ کنٹرول ہاتھ سے نہ نکل جائے اور اقتدار کی باگ ڈور ان مخلص رہنماؤں کے ہاتھ میں نہ چلی جائے جنہیں انقلاب اور جہاد کے سالوں نے پروان چڑھایا ہے؟! یقیناً امریکہ سیکورٹی فورسز اور فوج کی ازسرِ نو ترتیب اپنی خواہشات کے مطابق کرنا چاہتا ہے تاکہ اس انقلابی اور جہادی جذبے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے جو گزشتہ 14 سالوں کے دوران پختہ ہو چکا ہے، اور اس کا طریقہ کار مخلص لوگوں پر گھیرا تنگ کرنا اور (سابقہ نظام کے) بچے کھچے عناصر، یہودیوں کے کارندے الہجری کے حواریوں، اور قسد کے عناصر کو بااختیار بنانا، بلکہ انہیں فیصلہ سازی کے مرکز میں لانا ہے۔

جہاں تک ابو الظہور ہوائی اڈے پر بمباری کا تعلق ہے، تو مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور اپنے آقاؤں کے احکامات کے سامنے ان کی محکومی کے باوجود، اسلامی بلاد کے درمیان کسی بھی تقارب سے یہود پر گویا قیامت ٹوٹ پڑتی ہے؛ کیونکہ وہ مسلمانوں کی جنگی ہیبت و طاقت، ذلت و رسوائی کے طوق اور کافرِ مستعمر کی غلامی سے مکمل آزادی کے لیے ان کے شوق، اور قبلۂ اول کی آزادی کے لیے ان کی شدید تڑپ کو دیکھ رہے ہیں۔

 

اور یہود کے لیے شامِ اسلام کا معاملہ کسی بھی دوسرے معاملے سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ وہ اپنے لیے وجودی خطرے کا وہاں سے آنا یقینی سمجھتے ہیں۔ اسی کا اظہار یہودی وجود کے وزیرِ شتات (ڈائیسپورا امور) عمیحای شیکلی نے واضح طور پر غیر مسبوق انتباہ جاری کرتے ہوئے کیا، جس میں انہوں نے تاکید کی کہ ان کے وجود اور شام کے مابین عسکری تصادم ناگزیر ہو چکا ہے جو جلد یا بدیر ہو کر رہے گا، اور انہوں نے دمشق اور انقرہ کے مابین حالیہ تقارب کو ایک ایسا خطرہ قرار دیا جو خطرناک ہونے میں ایران کے ایٹمی فائل (معاملے) سے بھی بڑھ کر ہے۔

مزید یہ کہ امریکہ ترکی کے لیے یہ پسند کرتا ہے کہ وہ استحکام اور تعمیر نو کے حق میں ایک معین کردار ادا کرے، لیکن غلبے اور مکمل کنٹرول کے لیے نہیں، اور وہ یہ پورا معاملہ ترکی کے ہاتھ میں سونپنا نہیں چاہتا بلکہ اس کی کوشش ہے کہ اس پورے معاملے کو براہِ راست خود سے مربوط رکھے۔

 

یقیناً یہودیوں کا خوف ان کے سینوں کو چھلنی کر رہا ہے اور ان کے حواس پر سوار ہے، وہ ہر آواز کو اپنے ہی خلاف گمان کرتے ہیں؛ اسی لیے تم انہیں ایک پیشگی اقدام کے طور پر اپنی جھوٹی طاقت کی نمائش کرتے ہوئے دیکھتے ہو تاکہ اپنے اس عسکری غلبے کا وہم برقرار رکھ سکیں جسے وہ اللہ کی رسی کے کٹ جانے اور لوگوں کی رسی کے تارتار ہو جانے کے بعد اپنا طوقِ نجات سمجھتے ہیں، بالخصوص جب عالمی ضمیر اور مزاج میں واضح تبدیلی آ چکی ہے، حتیٰ کہ یورپ اور امریکہ میں بھی، اس مسخ شدہ وجود اور غزہ و اس کے مظلوم خطوں میں امتِ مسلمہ کے خلاف اس کے خبثِ باطن اور وحشیانہ جرائم کے خلاف، جن سے نہ کوئی انسان محفوظ رہا، نہ کوئی درخت اور نہ ہی کوئی پتھر۔

 

ہاں، جنوبی شام اور دیگر علاقوں میں یہودیوں کی یہ غنڈہ گردی دراصل اسی خوف و ہراس کے تناظر میں ہے جو زندگی کے سب سے زیادہ حریص لوگوں کے دلوں پر طاری ہے، اور یہ حال مسلمانوں کی افرادی قوت اور جنگی ساز و سامان کی قلت کے باوجود ہے، تو پھر اس منظم اور ٹڈی دل لشکر کا کیا عالم ہوگا جس کی سربراہی مسلمانوں کا خلیفہ کرے گا؟!

 

اللہ کے اذن سے یہ خیر ضرور آنے والی ہے، پس مبارکباد اور بڑی کامیابی ہے اس کے لیے جس نے عمل کیا، دست و بازو بنا، نصرت فراہم کی، اور اللہ کے دین کی سربلندی اور اسلام کی حاکمیت و ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کرنے والوں میں شامل ہوا!

 

ولایہ  شام  میں حزب التحرير کے میڈیا آفس کے رکن

 

 

 

Last modified onہفتہ, 05 ستمبر 2026 05:30

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک