بسم الله الرحمن الرحيم
خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)
10/08/2026
اب وقت آگیا ہے کہ بنگلہ دیش کی مسلح افواج میں اورنگ زیب شر پسند ہندو ریاست کی تذلیل کریں
شیخ حسینہ کو دہلی میں صحافیوں سے براہ راست بات چیت کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے نے بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ بنگلہ دیش میں کئی ذمہ دار حکومتی اور سفارتی ذرائع نے پروتھم الو کو بتایا کہ دہلی میں شیخ حسینہ کی تقریب سے دو دن قبل، پالیسی سازی کی سطح پر بنگلہ دیشی نمائندوں نے بھارتی حکومت کے ایک سینئر نمائندے سے بات چیت کی۔
8 اگست 2026
https://en.prothomalo.com/bangladesh/vc47n8stb1
تبصره
بنگلہ دیش کے موجودہ حکمران بھی بھارت کے ساتھ وہی طریقہ اختیار کر رہے ہیں جو رسوا سابق حکمران شیخ حسینہ نے کیا تھا۔ وہ ہندو ریاست کے ساتھ کھلے عام، مستقل بنیادوں پر تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ کیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہندو ریاست کی دشمنی کافی واضح نہیں ہے؟ اس کا سب سے کم جرم یہ ہے کہ وہ مغرب کی دلپسند اور اسلام کی کھلی دشمن غدار شیخ حسینہ کو کھلا ہاتھ دے کر بنگلہ دیش کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہندو ریاست نے گزشتہ سات سالوں میں مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم ڈھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط کر رکھا ہے۔ ہندو ریاست اپنے ماتحت مسلمانوں پر مسلسل بے رحمی سے ظلم کر رہی ہے، بشمول آسام کے لاکھوں مسلمان، جو بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد سے متصل ہے۔ ہندو ریاست نے یہودی وجود کے ساتھ فوجی، انٹیلی جنس اور سیکورٹی تعاون میں اضافہ کیا ہے جب کہ یہی یہودی وجود پچھلے تین سالوں میں غزہ میں نسل کشی میں سرگرم عمل ہے۔ ہندوستان کے حکمرانوں کا ہندوتوا نظریہ دراصل اکھنڈ بھارت کے تصور پر بنایا گیا ہے جو پورے بنگلہ دیش کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ در حقیقت ہندو مشرکین دھوکے باز لوگ ہیں جن کے ہونٹوں سے امن کی باتیں ہوتی ہیں جبکہ وہ اپنی بغلوں میں چھری چھپائے ہوئے ہوتے ہیں۔
ہندو مشرکین کے ساتھ نمٹنے کا صحیح طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشرکین سے نمٹنے کا طریقہ ہے۔ مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات تین چیزوں کی بنیاد پر ہونے چاہئیں: اسلام قبول کرنا، جزیہ کی ادائیگی کے ذریعے خلافت کے محفوظ شہریوں کے طور پر یا نفاذ اسلام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے جنگ، یا مقبوضہ زمینوں کو آزاد کرانے کے لیے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ مدینہ میں اسلامی ریاست تیزی سے اور مسلسل پھیلتی رہی، یہاں تک کہ پورے جزیرہ نمائے عرب پر اسلام کا غلبہ ہو گیا۔ جہاں تک معاہدہ الحدیبیہ کا تعلق ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی بھی معاہدہ طے شدہ، متذکرہ مدت کے ساتھ عارضی ہونا ضروری ہے، بشرطیکہ عارضی وقفہ اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں ہو، اور ان شرائط کے مطابق ہو جن کی شریعت نے تصدیق کی ہے۔
اے بنگلہ دیش کے مسلمانو!
ہم کبھی نہیں بھول سکتے کہ سلطان اورنگزیب عالمگیر نے مشرکین کے ساتھ نمٹتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقہ پر کاربند رہے۔ سلطان اورنگزیب عالمگیر نے دلیری کے ساتھ جدید دور کے بنگلہ دیش میں چٹاگانگ کو اپنی طاقت کے عروج پر، بت پرست مشرکین سے آزاد کرایا، جس سے بت پرستوں کی پانچ سو سال پرانی سلطنت کا خاتمہ ہوا۔ سلطان اورنگ زیب نے مسلمانوں کو بت پرست مشرکین کے ظلم کے سامنے تنہا نہیں چھوڑا۔ انہوں نے مشرکین کے ساتھ مستقل تعلقات نہیں بنائے، جس سے کفار کو مومنوں پر اختیار کا راستہ مل جاتا۔ وہ اس وقت اگر شیخ حسینہ کے راستے پر چلتے تو شرک کی غلاظت پورے ملک میں پھیل جاتی۔ درحقیقت ہمارے پاس بنگلہ دیش کی مسلح افواج میں ایک سے زائد اورنگ زیب موجود ہیں۔ ہمیں ان سے رابطہ کرنا چاہیے اور انھیں نبوت کے نقش قدم پر خلافت راشدہ کے قیام کی پُر زور تلقین کرنی چاہیے۔ صرف اسی صورت میں ہی بنگلہ دیش کے اورنگزیب برصغیر پاک و ہند کے مشرق سے لے کر مغرب تک اسلام کا غلبہ دوبارہ قائم کر سکتے ہیں، حالانکہ ہندو مشرکین اس سے نفرت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾
" وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور دین حق کو تمام ادیان پر غالب کر دیا، اگرچہ مشرکین اسے ناپسند ہی کرتے ہوں۔" [سورہ توبہ: 33]۔
مسلمانوں کے حکمران اللہ ﷻ کی شریعت کے مطابق مسلمانوں کے امور کی نگہداشت کے بجائے اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے مغربی طاقتوں سے مدد طلب کرتے ہیں
عاصم منیر کے قریبی حلقے سے تعلق رکھنے والے ایک ذرائع نے کہا کہ فوجی سربراہ اس بات پر واضح ہیں کہ ”یہ اسلامی گروہ اور ترقی کرتا ہوا پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔“ اس ذرائع نے مزید کہا کہ منیر خود بھی ان مذہبی گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانے میں شامل ہیں، کیونکہ وہ جوہری ہتھیار رکھنے والے پاکستان کو دنیا کے سامنے مثبت انداز میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔
https://www.reuters.com/world/asia-pacific/pakistans-army-chief-turns-hardline-islamist-groups-blasphemy-cases-plummet-2026-08-06/
پاکستان کے اصل حکمران عاصم منیر کے اسلام کے پھیلاؤ کے خلاف ہونے کی خبر کا مغربی میڈیا میں گردش کرنا، مغربی ریاستوں کو یہ یاد دلانے کے لیے ہے کہ وہ ان ہی کا وفادار ہے۔ ایسی خبریں اس وقت لیک کی جاتی ہیں جب ملک کے اندر حکمرانوں کو اپنی اقتدار کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہو، تاکہ مغربی ریاستیں اسے تاریخ کے کوڑے دان میں نہ پھینک دیں اور اس کی جگہ کسی دوسرے ایجنٹ کو منتخب نہ کر لیں۔ حالیہ تاریخ میں اس کی ایک واضح مثال جارج ایچ ڈبلیو بش کے دوست جنرل مشرف کی ہے، جب اس وقت کے امریکی نائب وزیرِ خارجہ جان دیمتری نیگروپونٹے نے کھلی بے رخی کے ساتھ مشرف کی جگہ کیانی کو مقرر کر دیا، حالانکہ مشرف نے مسلم دنیا میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے برسوں تک کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
یقیناً عاصم منیر کو اپنی حکمرانی کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، اور آنے والے مہینوں اور برسوں میں یہ چیلنجز مزید بڑھیں گے۔ عاصم منیر کو اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کی وجہ سے ادارے کے اندر بھی ناراضی کا سامنا ہے، کیونکہ اس توسیع کی وجہ سے بہت سے قابل افسران کی ترقی رک جاتی ہے۔ فوج کو اپنی ادارہ جاتی صلاحیتوں پر اعتماد ہے اور وہ اس تصور کو قبول نہیں کرتی کہ اس کی بہتری یا بقا کسی ایک شخص پر منحصر ہے۔ عاصم منیر نومبر 2022 میں دوسرے جرنیلوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف بنا تھا، اور اس لیے اسے نومبر 2025 میں ریٹائر ہونا تھا۔ تاہم، نومبر 2024 میں اس کی مدتِ ملازمت بڑھا کر نومبر 2027 تک کر دی گئی۔ دسمبر 2025 میں عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) بنا دیا گیا، اور اب وہ نومبر 2030 تک کمان سنبھالے گا۔ عاصم منیر کو پارلیمان میں اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کے خلاف مزاحمت کا بھی سامنا ہے، جو شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کر رہی ہے۔ نظام کی واضح ناکامی کے خلاف عوام میں پائی جانے والی وسیع غصے کی کیفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، مخالف سیاسی دھڑے اب وسط مدتی انتخابات کرانے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔ قیادت کے بحران میں گھرے ہوئے منیر اپنے واشنگٹن کے آقاؤں کو اپنی افادیت ثابت کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
یقیناً عاصم منیر اور باقی مسلمانوں کے حکمرانوں میں کوئی استثنا نہیں، بلکہ وہ اسی عمومی روش کی ایک مثال ہے۔ ان کے ظلم پر مبنی اور ناجائز اقتدار کا انحصار بیرونی حمایت پر ہے، اسی لیے وہ کفار کے قوانین، پالیسیوں اور احکامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ وہ اسلام کی جانب سے مسلمانوں کو دیے گئے تمام حقوق کو نظر انداز کرتے ہیں اور امت کے مسائل سے غداری کرتے ہیں، جن میں فلسطین اور کشمیر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ مسلم دنیا، امتِ مسلمہ کے بے پناہ وسائل کے باوجود، کئی دہائیوں سے معاشی بدحالی اور خارجہ پالیسی میں ذلت کا شکار رہے۔ وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے کمزور لوگوں کو طاقت کے ذریعے دباتے ہیں اور سخت گیر ریاستیں قائم کرنے پر فخر کرتے ہیں۔ وہ اللہ ﷻ کی شریعت کے ذریعے امتِ مسلمہ کے امور کی نگہداشت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
اے مسلمانو! تم کب تک مغرب کے ایجنٹوں اور پیروکاروں کو اپنے حکمرانوں کے طور پر برداشت کرتے رہو گے؟ تم کب تک ان حقوق کی پامالی برداشت کرتے رہو گے جو تمام انسانیت کے رب، اللہ ﷻ نے تمہیں عطا کیے ہیں؟ تم کب تک ظالمانہ حکمرانی برداشت کرتے رہو گے؟ شریعت میں حاکم اپنا اختیار امتِ مسلمہ کی جانب سے دی جانے والی درست بیعت سے حاصل کرتا ہے، جو امت کی رضامندی اور انتخاب سے ہوتی ہے، تاکہ وہ اللہ ﷻ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ان پر حکمرانی کرے۔ شریعت میں حاکم اس شخص کو، جسے اس کے شرعی حقوق سے محروم کیا گیا ہو، اپنے سامنے مضبوط سمجھتا ہے، کیونکہ اسے اللہ ﷻ کی سزا کا خوف ہوتا ہے۔ پہلی خلافتِ راشدہ کے خلیفہ، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وَالضّعِيفُ فِيكُمْ قَوِيّ عِنْدِي حَتّى أُرِيحَ عَلَيْهِ حَقّهُ إنْ شَاءَ اللهُ, وَالقَوِيّ فِيكُمْ ضَعِيفٌ عِنْدِي حَتّى آخُذَ الحَقّ مِنْهُ إنْ شَاءَ اللهُ ”تم میں سے کمزور میرے نزدیک اس وقت تک طاقتور ہے جب تک، ان شاء اللہ، میں اسے اس کا حق نہ دلا دوں، اور تم میں سے طاقتور میرے نزدیک اس وقت تک کمزور ہے جب تک، ان شاء اللہ، میں اس سے حق نہ لے لوں۔“ پس اے مسلمانو! خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے لیے جدوجہد کرو، جو تمہیں دنیا میں عزت اور خوشحالی عطا کرے گی اور آخرت میں وافر اجر کا باعث بنے گی۔
مقبوضہ کشمیر ناقابلِ تنسیخ اسلامی خراجی سرزمین ہے، اور وہاں کے مظلوم مسلمانوں کی دینی بنیاد پر مدد کرنا ضروری ہے
پاکستان نے بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ سات سال قبل 90,000 بھارتی فوجیوں کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کا الحاق کرنا ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔
— ایسوسی ایٹڈ پریس پاکستان
6 اگست 2026
https://www.app.com.pk/global/at-un-pakistan-calls-indias-2019-kashmir-annexation-as-worst-example-of-state-terrorism/
تبصرہ:
پاکستان کے حکمران کبھی مقبوضہ کشمیر کو آزاد نہیں کرائیں گے، بلکہ وہ اپنی اپیلوں تک ہی محدود رہیں گے اور انہی مغربی طاقتوں سے فریاد کرتے رہیں گے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہندو ریاست کے تمام جرائم کی حمایت کرتی ہیں۔
پاکستان کے حکمرانوں نے قوم پرستی اور اس کے فاسد قومی مفاد کے باعث مقبوضہ کشمیر کو ہندو ریاست کے حوالے کر دیا ہے۔ قوم پرستی جنگ کے بارے میں ایک نہایت محدود اور خطرناک حد تک تنگ نظری پر مبنی تصور پیدا کرتی ہے۔ وطن پرستی جنگ کو وطنی سرحدوں کے دفاع اور ضمناً کسی بھی ایسی حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم گہرائی (اسٹریٹیجک ڈیپتھ) کے دفاع کے طور پر قائم کرتی ہے جو وطن کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بفر کا کام کرتی ہے۔ مئی 2025 کی ایک تکلیف دہ مثال ہمارے سامنے ہے، جب پاکستان ایئر فورس کی جانب سے فضائی برتری قائم کیے جانے کے بعد مسلح افواج مقبوضہ کشمیر کو باآسانی آزاد کرا سکتی تھیں۔
لیکن اس کے بجائے عسکری قیادت نے امریکی نائب صدر، جے ڈی وینس، کے احکامات کی پابندی کی اور منتشر اور خوف زدہ ہندو فوجیوں کے خلاف جنگ بندی کا حکم دے دیا۔
اسلام میں جنگ کا تصور محض وطنی سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے مشن پر مبنی ہے، یعنی اللہ ﷻ کے دین کی بالادستی کو تمام نظام ہائے زندگی پر قائم کرنا، جن میں موجودہ مغربی قومی ریاستی نظام بھی شامل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ» "مجھے اللہ کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پس جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال کو محفوظ کر لیا، سوائے اس کے کہ اسلام کے حق کے تحت ان کے خلاف کوئی کارروائی ہو، اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے" [بخاری]۔
چنانچہ اسلام میں جنگ کا مقصد دارالاسلام کو وسعت دینا اور اس کے ایک بالشت حصے پر بھی کسی قسم کے قبضے کو روکنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جزیرۂ عرب میں اسلام کی بالادستی قائم فرمائی اور فارس اور روم کی سرزمینوں کی طرف اس کی توسیع کی بنیاد رکھی۔ پہلی خلافتِ راشدہ نے فارسی اور رومی سلطنتوں کے علاقوں کو فتح کیا۔ جب رومی فوج نے دوبارہ شام پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو خلافتِ راشدہ کی مسلح افواج نے انہیں پسپا کر دیا۔
یہ دوسری خلافتِ راشدہ ہی ہوگی جو مقبوضہ کشمیر کو اسی حیثیت سے دیکھے گی جس حیثیت سے اللہ ﷻ کی نظر میں وہ ہے، یعنی مسلمانوں کی ناقابلِ تنسیخ خراجی سرزمین، جسے آزاد کرانا شرعی فریضہ ہے۔ اور یہ دوسری خلافتِ راشدہ ہی ہوگی جو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو اسی حیثیت سے دیکھے گی جس حیثیت سے وہ اللہ ﷻ کی نظر میں ہیں، یعنی مظلوم مسلمان، جن کی مدد کرنا شرعی فریضہ ہے۔ یہ ایمان، جہاد، شہادت اور فتح کی طلب کی بنیاد پر مسلح افواج کو متحرک کرے گی۔ یہ کسی کافر ریاست کی مرضی کے سامنے نہیں جھکے گی، بلکہ اللہ ﷻ کی نصرت کے ذریعے ان کی طاقت کو منتشر کرے گی اور ان کے مضبوط ٹھکانوں کو پاش پاش کر دے گی۔ اے مسلمانو! پاکستان کے حکمرانوں کی اس گناہ گارانہ غفلت پر خاموش نہ رہو اور اس کے خلاف آواز بلند کرو۔
کوشش اور قربانی جاری رکھو یہاں تک کہ اللہ ﷻ دین کے قیام کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ روزِ قیامت تم ان کے گناہ سے بری الذمہ ہو سکو۔ اپنے بیٹوں، بھائیوں اور والدین سے، جو مسلح افواج میں ہیں، اصرار کرو کہ وہ اپنی قوم پرستانہ، کمزور ارادے کی حامل اور بدعنوان قیادت کو مسترد کریں اور دوسری خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے نصرت (یعنی فوجی مدد) فراہم کریں۔
امتِ مسلمہ کو امریکہ، یہودی وجود اور ہندو ریاست کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنا چاہیے
امریکہ اور پاکستان نے 4 اگست 2026 کو واشنگٹن، ڈی سی میں امریکہ۔پاکستان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کے چوتھے دور کا انعقاد کیا، جس کی قیادت امریکہ کے کوآرڈینیٹر برائے انسدادِ دہشت گردی، سفیر گریگوری لو جیرفو، اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے خصوصی سیکریٹری، سفیر نبیل منیر، نے کی۔ ان مذاکرات میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں شراکت داری کے مشترکہ مفادات اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں ممالک کے پختہ عزم پر زور دیا گیا۔
امریکی محکمۂ خارجہ
4 اگست 2026
https://www.state.gov/releases/office-of-the-spokesperson/2026/08/joint-statement-on-the-u-s-pakistan-counterterrorism-dialogue/
امریکہ کسی بھی صورت میں انسدادِ دہشت گردی کے بارے میں رہنمائی دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ وہ خود جنوبی امریکہ سے لے کر عالمِ اسلام تک پوری دنیا میں دہشت گردی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس کی انٹیلی جنس دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم ہے، جو دنیا بھر میں ٹارگٹ کلنگ، بغاوتوں، طویل المدت کم شدت کے تنازعات اور فوجی بغاوتوں کا انتظام کرتی ہے۔ وہ خود دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے، جو یہودی وجود اور ہندو ریاست کو مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشوں اور منصوبوں کے لیے مالی امداد اور ہتھیار فراہم کرتا ہے، جن کا ہدف پاکستان جیسے مضبوط مسلم ممالک بھی ہیں۔
مسلمانوں کی افواج کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کی شراکت داری سے دستبردار ہو جائیں اور اس کے بجائے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی راہ میں جہاد کے ذریعے اس کی دہشت گردی کا مقابلہ کریں، جس میں اس مقصد کے لیے ہتھیاروں کی تیاری بھی شامل ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمُ ۚ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡؕ﴾
"اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت اور گھوڑے تیار رکھو، تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو، اور ان کے علاوہ دوسروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے، مرعوب کر سکو۔" [سورۃ الانفال:آیت 60]
یہ جہاد ہی ہے جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اہلِ ایمان کے دشمنوں کو مرعوب کرے گا۔ یہی جہاد ہے جو کھلے دشمنوں اور پوشیدہ دشمنوں دونوں کو مرعوب کرے گا۔ اور خلافتِ راشدہ ہی وہ نظام ہے جو مسلمانوں کی قوت کو اس طرح تیار کرے گی کہ ان کی تمام مسلح افواج کو ایک امیرِ جہاد کے تحت متحد کرے گی، اور ایسی پالیسی اختیار کرے گی جس کے ذریعے مشین سازی کی صنعت قائم ہو، تاکہ ہر قسم کے جدید روایتی اور غیر روایتی ہتھیاروں کی مقامی سطح پر تیاری ممکن ہو سکے۔
امت مسلمہ کے نیک نوجوان صرف اور صرف اللہ ﷻ کے دین کی سربلندی ہی کو قبول کریں گے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات، پروفیسر احسن اقبال نے پیر کے روز کہا کہ پاکستان ایک نئی سحر کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ وزیر موصوف نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ پاکستان کا قومی نظام ناکام ہو چکا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ ملک اداروں کی تباہی و بربادی کے بجائے قومی اصلاحات کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان قوم کی سب سے بڑی طاقت اور امید کا مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا: "ہمارے نوجوان کاکروچ (کرمِ شب تاب) نہیں ہیں؛ وہ اقبال کے شاہین ہیں۔"
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، وزارتِ اطلاعات و نشریات، پاکستان 3 اگست 2026ء https://pid.gov.pk/site/press_detail/33436
پاکستان کے حکمران اس بات سے خوب واقف ہیں کہ پوری دنیا، بشمول عالمِ اسلام اور پاکستان، میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے چین و بے قرار ہیں۔ بسترِ مرگ پر پڑے سرمایہ دارانہ نظام (End stage capitalism) نے معیارِ تعلیم، تسلی بخش روزگار، مستحکم آمدنی اور پرسکون خاندانی زندگی کی تمام امیدوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ بھارت میں "کاکروچ تحریک" نے امتحانی پرچوں کے افشاء کے بعد وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ بنگلہ دیش میں طلبہ کے انقلاب نے نوکریوں کے کوٹے میں بدعنوانی کے خلاف حسینہ واجد کو ملک بدر ہونے پر مجبور کر دیا۔ مراکش میں "Gen Z212" کے مظاہروں نے نوجوانوں میں پھیلی وسیع بددلی کی عکاسی کی۔ شام کے نوجوانوں نے واضح نظاماتی ناکامی کے بعد بشار الاسد کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ غصے سے بھرپور غزہ کے نوجوان یہودی وجود کی فوج سے لڑنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایران کے نوجوان امریکی جارحیت کے سامنے ڈٹ گئے۔
جہاں تک پاکستان کے نوجوانوں کا تعلق ہے، تو انہیں کامل یقین ہے کہ موجودہ قومی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ وہ جس طرف بھی نظر دوڑاتے ہیں، یہی ناکامی ان کا استقبال کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک معقول معیارِ زندگی کی تلاش میں بیرونِ ملک فرار ہونا بھی پہلے سے کہیں زیادہ دشوار ہو چکا ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ پیوند کاری سے اس بوسیدہ نظام کی اصلاح ممکن نہیں جس کی عمارت گر چکی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان کے بیٹے اور بیٹیاں حقیقت میں دانائے راز، علامه اقبالؒ کے "شاہین" ہیں۔ علامہ اقبال کی طرح وہ بھی مسلمانوں اور اسلام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور دینِ حق کی سربلندی و غلبے کے لیے بے تاب ہیں۔
مسلمان حکمرانوں اور مغرب میں بیٹھے ان کے آقاوں کا سب سے بڑا خوف یہی ہے کہ اسلام کے یہ نوجوان اس ناکام نظام کے خاتمے اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے بیدار ہو جائیں۔ اللہ ﷻ کے اذن سے، یہ نوجوان اسی راہ پر گامزن ہیں جس پر نوجوان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین چلے تھے—وہ راہ جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق حکمرانی کی طرف لے جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «بدأ الإسلام غريباً وسيعود غريباً كما بدأ فطوبى للغرباء» قالوا: يا رسول الله ومن الغرباء؟ قال: «الذين يصلحون عند فساد الناس» "اسلام کی ابتدا غربت (بیکسی اور اجنبیت) کی حالت میں ہوئی اور عنقریب وہ پھر اسی طرح اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، پس خوشخبری ہے ان اجنبیوں کے لیے۔" پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ اجنبی کون ہیں؟ فرمایا: "وہ جو اس وقت اصلاح کرتے ہیں جب لوگ فاسد و خراب ہو جائیں۔" (یہ طبرانی کی المعجم الکبیر کی روایت ہے)۔ اور المعجم الاوسط / الصغیر کی روایت میں ہے: «يصلحون إذا فسد الناس» "وہ لوگوں کی اس وقت اصلاح کرتے ہیں جب (إذا) وہ خراب ہو جائیں۔" لفظ 'إذا' (جب) مستقبل کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فساد صحابہ کرام کے دور کے بعد رونما ہونا تھا۔
مبارکباد ہو پاکستان کے نیک سیرت نوجوانوں کو! خوشخبری ہو امتِ مسلمہ کے باکردار بیٹوں اور بیٹیوں کو!
افغانستان میں معدنیات سے متعلق شرعی احکام ایک معاشی طور پر مضبوط خلافتِ راشدہ کی ضمانت ہیں
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ حکومت نے غیر قانونی کان کنی، بدانتظامی اور کانوں کی جگہوں پر غیر قانونی قبضوں کے پیشِ نظر، کان کنی سے متعلق رہنما اصولوں پر نظرِ ثانی کے دوران بدخشاں کی بعض کانوں میں کام عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ اقتدار میں واپسی کے بعد سے طالبان نے ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ کان کنی کے متعدد معاہدے بھی کیے ہیں۔
https://www.afintl.com/en/202608030058
تبصرہ:
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے پہاڑی ملک افغانستان کو معدنی وسائل کی بے پناہ دولت سے نوازا ہے، جس کی اہمیت سے امتِ مسلمہ کے دشمن بخوبی آگاہ ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے 13 جون 2010 کو رپورٹ کیا تھا کہ، “مثال کے طور پر، پینٹاگون کی ایک اندرونی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ‘لیتھیم کا سعودی عرب’ بن سکتا ہے۔” افغانستان نایاب زمینی عناصر (Rare Earth Elements - REEs) کے نہایت وافر ذخائر رکھتا ہے، جو جدید الیکٹرانک صنعت کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔
تاہم افغانستان کے حکمرانوں نے ان قیمتی معدنی وسائل کے معاملے میں وہی سرمایہ دارانہ پالیسی اختیار کی ہے جو دیگر مسلم ممالک کے حکمران پہلے ہی اپنائے ہوئے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نجکاری (Privatization) کے تصور کے تحت انہوں نے ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کو معدنیات کی ملکیت اور استخراج کے حقوق اور رعایتیں دے رکھی ہیں۔ اس کے نتیجے میں، بالخصوص چینی کمپنیاں ان ذخائر تک رسائی حاصل کرتی ہیں، خام معدنیات نکال کر اپنے ممالک منتقل کر دیتی ہیں، جبکہ افغانستان کے حصے میں ماحولیاتی تباہی اور معمولی مالی منفعت کے سوا کچھ نہیں آتا۔
اسی تناظر میں 24 جولائی 2024 کو چائنا میٹالرجیکل گروپ کارپوریشن (MCC) نے کابل سے تقریباً 40 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع مس عینک میں تانبے کی کان کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ یہ دنیا کے دوسرے بڑے تانبے کے ذخائر میں شمار ہوتی ہے، جہاں تقریباً 11.5 ملین ٹن خام تانبہ موجود ہے۔ اس کے باوجود سرمایہ دارانہ نجکاری نے افغانستان کو اس عظیم دولت سے حقیقی فائدہ پہنچانے کے بجائے اسے صرف محدود آمدنی اور ماحولیاتی نقصان تک محدود کر دیا ہے۔
اسلام میں وافر مقدار میں موجود معدنیات کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ نہ وہ کسی فرد کی نجی ملکیت ہیں اور نہ ہی ریاست کی ملکیت، بلکہ وہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت (ملکیتِ عامہ) ہیں۔ اس کی دلیل اَبیَض بن حمّال المزنیؓ سے مروی یہ روایت ہے: «أنه وفَدَ إلى رسول الله ﷺ فاستقطعه الملح فقطع له، فلمّا أن ولّى قال رجل من المجلس: أتدري ما قطعت له؟ إنما قطعت له الماء العدّ. قال: فانتزعه منه»
“وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے نمک کی کان بطور جاگیر طلب کی۔ آپ ﷺ نے وہ انہیں عطا فرما دی۔ جب وہ واپس جانے لگے تو مجلس میں موجود ایک شخص نے عرض کیا: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے انہیں کیا عطا فرمایا ہے؟ آپ نے تو انہیں ایسا نمک دیا ہے جو جاری پانی کی طرح بے پایاں ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے وہ جاگیر واپس لے لی۔”
رسول اللہ ﷺ کا ابیض بن حمّالؓ سے وہ کان واپس لے لینا، جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ اس کا ذخیرہ بے حد وافر ہے، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایسی معدنیات جو وسیع اور ختم نہ ہونے والے ذخائر پر مشتمل ہوں، انہیں افراد کی نجی ملکیت نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ وہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ یہ حکم صرف نمک تک محدود نہیں بلکہ ہر اس معدنی ذخیرے پر لاگو ہوتا ہے جو وافر، مسلسل دستیاب اور ختم نہ ہونے والی نوعیت کا ہو۔
اسلامی معاشی نظام میں معدنی وسائل کی سرمایہ دارانہ نجکاری کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ اس سے امت اپنی وسیع دولت کے حقیقی فوائد سے محروم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ خلافتِ راشدہ دنیا بھر سے ماہرین کی خدمات حاصل کرے گی تاکہ خلافت کی سرزمین ہی میں معدنیات کی تلاش، استخراج، تطہیر اور صنعتی پراسیسنگ کے جدید منصوبے قائم کیے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ ذہین اور باصلاحیت افراد سے مالا مال ہے، جن میں افغانستان کے وہ ماہرین بھی شامل ہیں جنہوں نے دنیا کی ممتاز جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔
لہٰذا افغانستان کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے جدوجہد کریں، کیونکہ یہی وہ ریاست ہے جو مسلمانوں کے تمام ممالک کو ایک وحدت میں جمع کر کے ان کے وسائل کو شریعت کے مطابق بروئے کار لائے گی اور امت کو دنیا کی ایک عظیم معاشی طاقت بنا دے گی۔
بنگلہ دیش کے مسلمان مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے امت کی قیادت کیوں نہ کریں؟
بنگلہ دیش نے اتوار کے روز مملکتِ سعودی عرب (KSA) کے ساتھ اپنے تعلقات کو “حکمتِ عملی پر مبنی” (Strategic) قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی قیادت میں قائم اتحادی فورس میں اس کی شمولیت کا مقصد حوثیوں کے چیلنج سے نمٹنا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ، ہمایوں کبیر، نے وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی قیادت میں قائم بحری دفاعی اتحاد میں بنگلہ دیش کی شمولیت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا:
“یہ اتحاد حوثیوں کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس جو بھی وسائل موجود ہیں، ہم انہیں اس مقصد کے لیے فراہم کریں گے۔”
2 اگست 2026ء
https://en.prothomalo.com/bangladesh/lmueuo3420
تبصره
بنگلہ دیش کے حکمرانوں نے سعودی عرب کے ساتھ ایک عسکری اتحاد میں اپنی شمولیت کی تصدیق کی ہے، جس کے سربراہ ابن سلمان ہیں۔ امریکہ کا منصوبہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی نوعیت کو تبدیل کرنا ہے۔ اس وقت یہ جنگ امریکہ اور یہودی ریاست کی جانب سے فلسطین اور ایران کے مسلمانوں کے خلاف لڑی جا رہی ہے، مگر امریکہ اسے مسلم ریاستوں کے درمیان باہمی جنگ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ یہودی اور صلیبی افواج پر سے دباؤ کم ہو جائے۔ چنانچہ مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے مسلمانوں کی افواج کو متحرک کرنے کے بجائے، مسلمانوں کے حکمران انہیں ایک ایسے فتنے کی جنگ کے لیے تیار کر رہے ہیں جس میں مسلمان ہی مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوں اور ایک دوسرے کا خون بہائیں۔
اے بنگلہ دیش کے مسلمانو!
ہمیں ہرگز یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ بنگلہ دیش کی مجاہد مسلح افواج کو مسلمانوں کے درمیان اس امریکی فتنہ انگیز جنگ کا ایندھن بنایا جائے۔ ہمیں، حسبِ سابق، یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ بنگلہ دیش کی مسلح افواج میں شامل ہمارے بہادر بیٹوں کو مسجدِ اقصیٰ اور دریائے اردن سے بحیرۂ روم تک پورے فلسطین کی آزادی کے لیے متحرک کیا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِىِّ ﷺ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَثْرِبَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ فَلَحِقَ بِهِمْ وَجَاهَدَ مَعَهُمْ أَنَّهُمْ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ دُونَ النَّاسِ» “یہ محمد نبی ﷺ کی جانب سے قریش اور یثرب کے مسلمانوں اور مومنوں، نیز ان لوگوں کے درمیان ایک معاہدہ ہے جو ان کی پیروی کریں، ان سے آ ملیں اور ان کے ساتھ مل کر جہاد کریں، کہ وہ تمام لوگوں سے الگ ایک ہی امت ہیں۔” [بیہقی، السنن الکبریٰ]
بے شک امت ایک ہی امت ہے، اور کفار کے خلاف اس کی جنگ بھی ایک ہی ہے۔ آخر یہ کیسے گوارا کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان آپس میں برسرِ پیکار ہوں، جبکہ صلیبی اور یہودی ہماری سرزمینوں، ہماری دولت اور ہماری جانوں کو پامال کر رہے ہوں؟
اور ہم امتِ مسلمہ کو اس کی موجودہ تقسیم، کمزوری اور زوال سے نکالنے کے لیے قیادت کیوں نہ کریں؟ صدیوں سے ہم امتِ مسلمہ کی اقوام میں ایک ذہین، بہادر، اصول پسند اور متحرک قوم کے طور پر پہچانے جاتے رہے ہیں۔ 1857ء میں برطانوی غاصبوں کے خلاف ڈھاکا اور چٹاگانگ جہاد کے اہم مراکز تھے۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے فضل سے ہم ہمیشہ اسلام سے محبت کرنے والے اور مسلمانوں کی نصرت کرنے والے رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خلافتِ راشدہِ ثانیہ کے قیام کے لیے جدوجہد کریں، تاکہ وہ پوری امت اور اس کی افواج کی قیادت کرتے ہوئے ان کفار کے خلاف فیصلہ کن معرکوں کی رہنمائی کرے جو امتِ مسلمہ پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔
Latest from
- تو پھر یہودی وجود، امریکی صلیبیوں اور ہندو ریاست کی جارحیت کو روکنے کے لیے معاہدہ کب ہوگا؟
- ٹرمپ کا اصرار ہے کہ مزاحمت کار مسلمان اپنے ہتھیار پھینک دیں، جبکہ امہ کے دشمنوں کو جدید ترین ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں
- عراق اور ایران نواز دھڑوں کی نتائج
- الرایہ اخبار: شمارہ 611 کی نمایاں سرخیاں
- جمہوریت مغرب کا نظام حکومت ہے




