Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

خبروں کا جائزہ (جنوبی ایشیا)

 

27/07/2026

 

 

ایندھن (وقود) کے بارے میں سنتِ نبوی ﷺ ہی مسلم دنیا میں تیل کے بحران کا حل ہے

 

"پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023ء میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا کہ نئی پالیسی کے موثر اور بروقت نفاذ کو یقینی بنایا جانا چاہیے... پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023ء وزارتِ توانائی (پٹرولیم ڈویژن) نے ملک کے اہم تزویراتی آئل ریفائننگ سیکٹر کو درپیش اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کی گئی تھی، جس کا مقصد موجودہ سہولیات کو جدید بنانا اور نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔"

 

(28/07/2027)

 

https://www.brecorder.com/news/40432152/pm-shehbaz-approves-amendments-to-pakistan-oil-refining-policy-2023-orders-swift-implementation

 

 

تبصرہ:

 

امتِ مسلمہ کے پاس ایندھن کے وسیع وسائل موجود ہیں، جن میں تیل، گیس اور کوئلہ شامل ہیں۔ تاہم، سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ سے امتِ مسلمہ تیل کی بلند قیمتوں کے عذاب کا شکار ہے۔ موجودہ نظام میں، سرمایہ کاری سے متعلق سرمایہ دارانہ نقطہ نظر کے تحت ایندھن نجی کمپنیوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ ایندھن کی نجکاری(Privatisation) کر دی جاتی ہے اور ملکی و غیر ملکی نجی کمپنیاں اس کی مالک بن جاتی ہیں۔

 

یہ نجی کمپنیاں ایندھن اور اس کی قیمت دونوں کا فائدہ اٹھاتی ہیں اور بھاری منافع کماتی ہیں۔ مسلمانوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کرنے کے لیے موجودہ مسلم ریاستیں اس ایندھن پر بھاری ٹیکس عائد کر دیتی ہیں، جس سے عوام پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں، مسلم ریاستیں جو ٹیکس وصول کرتی ہیں اس کا زیادہ تر حصہ قرضوں پر سود (ربا) کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ تیل اب اس قدر مہنگا ہو چکا ہے کہ صنعت، ٹرانسپورٹ اور عام عوام سبھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

سنتِ نبوی ﷺ تیل کے اس بحران کو اس کی جڑ سے حل کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلاثٍ فِي الْمَاءِ وَالْكَلإِ وَالنَّارِ»"مسلمان تین چیزوں میں شریک (ملکیت کے حصہ دار) ہیں: پانی، چراہ گاہ اور آگ۔" اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا جس میں یہ اضافہ ہے: «وَثَمَنُهُ حَرَامٌ» "اور اس کی قیمت حرام (ناجائز) ہے۔" اور اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «لَا يُمْنَعُ الْمَاءُ، وَالنَّارُ، وَالْكَلَأُ» "پانی، آگ اور چراہ گاہ کو (لوگوں سے) نہ روکو۔"

 

امام شوکانی رحمہ اللہ نے اپنی معروف کتاب نیل الاوطار میں فرمایا: (دل الحديث على أن هذه الأشياء الثلاثة لا يجوز أن يختص بها أحد، بل الناس فيها سواء) "یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان تینوں چیزوں کو کسی ایک فرد کے لیے مخصوص (نجی ملکیت) کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ تمام لوگ ان میں برابر کے حق دار ہیں۔" ابن قدامہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب المغنی میں فرمایا: (لا يجوز إقطاع الماء، ولا احتجازه، ولا بيعه، لأنه مباح لجميع المسلمين) "پانی کو جاگیر کے طور پر دینا، اس پر قبضہ کر کے روکنا یا اسے فروخت کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے مباح ہے۔" اور ایندھن کا حکم بھی پانی کے حکم کے عین مطابق ہے۔

 

عربی زبان میں "آگ" (نار) سے مراد استعارتاً "ایندھن" (وقود) ہے۔ چنانچہ اسلام میں ایندھن نہ تو نجی ملکیت کے زمرے میں آتا ہے اور نہ ہی ریاستی ملکیت میں۔ اس کے بجائے اسلام نے ایندھن کے لیے ایک الگ ملکیت مقرر کی ہے، جسے "ملکیتِ عامہ" (عوامی ملکیت) کہا جاتا ہے۔ سنتِ نبوی ﷺ کی رو سے ایندھن کا بنیادی فائدہ اور اس سے حاصل ہونے والی قیمت دونوں مسلم معاشرے کا مجموعی حق ہیں۔ لہٰذا نہ تو ریاست اور نہ ہی نجی کمپنیاں اس کی قیمت کو غصب کر کے مسلم معاشرے کو محروم کر سکتی ہیں۔ اور نہ ہی ریاست یا کوئی نجی کمپنی اس کی ملکیت کو اپنے لیے مخصوص کر سکتی ہے تاکہ مسلم معاشرے کو اس کی عمومی ملکیت سے محروم کیا جا سکے۔

 

یوں سنتِ نبوی ﷺ کی برکت سے امتِ مسلمہ اپنے ایندھن کے وافر وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ مسلمانوں کا امام ایندھن کی فروخت سے حاصل ہونے والے کسی بھی منافع کو بیت المال کے ایک علیحدہ شعبے "ملکیتِ عامہ" میں جمع کرے گا، تاکہ اسے امت کی ضروریات پر خرچ کیا جا سکے، بشمول ایندھن کے شعبے میں سرمایہ کاری کے۔ مسلمانوں کا خلیفہ دنیا کے بہترین ماہرین پر وسائل خرچ کر سکتا ہے تاکہ ایندھن کے مؤثر ترین سروے، نکالنے، صاف کرنے (ریفائننگ) اور تقسیم کاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ریاستِ خلافت تمام سودی ادائیگیوں کا مکمل خاتمہ کر دے گی۔ خلافتِ راشدہ موجودہ مسلم قومی ریاستوں کو ایک واحد اسلامی ریاست میں متحد کر دے گی، جس سے مسلم سرزمینوں کے درمیان کسٹم ٹیکس ختم ہو جائیں گے۔ پس مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دنیا کی بھلائی اور آخرت کی کامیابی کی خاطر خلافتِ راشدہ کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔

 

اے امت مسلمہ! مسلمان حکمرانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، جیسا کہ انہوں نے ہمیں اور ہمارے مسائل کو لاوارث چھوڑ دیا ہے

 

24 جولائی 2026ء کو "آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ" سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ وہ "مسجدِ اقصیٰ / الحرم الشریف پر اسرائیلی جارحیت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں... وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔"

 

https://mofa.gov.pk/press-releases/joint-statement-by-foreign-ministers-of-the-group-of-eight-arab-islamic-states-4

 

 

تبصرہ

 

مسلمان ریاستوں کے وزرائے خارجہ کی جانب سے کس قدر کمزور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، جبکہ یہ ریاستیں مجموعی طور پر لاکھوں مسلم فوجیوں کی کمان رکھتی ہیں! یہ اعلامیہ بخوبی واضح کرتا ہے کہ ہم اتنی بدترین حالت میں کیوں پہنچ چکے ہیں، جہاں دنیا کی سب سے بزدل قوم—یہود—ہمارے مقدسات کی حرمت پامال کر رہی ہے۔ جب تک مبارک سرزمینِ فلسطین کی آزادی کے لیے سنجیدہ عملی اقدامات کے بجائے ایسے بیانات دیے جاتے رہیں گے، کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

 

صرف ان آٹھ ریاستوں کی افواج ہی صیہونی وجود اور اس کی تمام تر تجاوزات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کافی ہیں۔ اگر کمزور بیانات جاری کرنے کے بجائے یہ ریاستیں اپنی آٹھوں مسلح افواج کو ایک "امیرِ جہاد" کے ماتحت متحد کر دیں، تو یہ مبارک سرزمین چند گھنٹوں کے اندر آزاد کرائی جا سکتی ہے۔

 

مسلمان حکمران شرعی بصیرت سے بالکل محروم ہیں، اسی لیے وہ محض زبانی جمع خرچ (مذمت) پر اکتفا کرتے ہیں، اس خام خیالی میں کہ مسلمان ان کے ان جھوٹے عذروں کو قبول کر لیں گے۔ تاہم، امتِ مسلمہ ان کی مجرمانہ بے حسی اور لاپرواہی سے خوب واقف ہے، اور اس قسم کے بیانات امتِ مسلمہ میں سول اور ملٹری قیادت کی مکمل ناکامی کی ہی تصدیق کرتے ہیں۔

 

جہاں تک ان حکمرانوں کا تعلق ہے جو "دو ریاستی حل" سے چمٹے ہوئے ہیں، تو واشنگٹن میں بیٹھے ان کے آقا ایک ایسی صیہونی ریاست کے قیام کے لیے کوشاں ہیں جو فلسطینی مسلمانوں کے لیے ایک چھوٹے سے کھلے قید خانے کی صورت میں ہو۔ مزید برآں، یہ حکمران ٹرمپ کے اس منصوبے میں بھی مکمل طور پر شریک ہیں جس کا مقصد صیہونی قبضہ کو تسلیم کرانے کے لیے اتحادوں کا جال بننا ہے۔

 

جہاں تک ان حکمرانوں کا بین الاقوامی قوانین اور اس کے اداروں کا حوالہ دینے کا تعلق ہے، تو یہ ادارے کسی بھی صورت عالمی اتفاقِ رائے کے نمائندے نہیں ہیں۔ اس کے بجائے، یہ بین الاقوامی ادارے صرف پانچ بڑی استعماری طاقتوں—اور بالخصوص امریکہ—کے مفادات کی نگہبانی کرتے ہیں۔ جہاں تک عالمی اتفاقِ رائے کا تعلق ہے، اب تو غیر مسلم بھی ان نام نہاد بین الاقوامی اداروں پر سے اعتماد کھو چکے ہیں، کیونکہ ان کا دوہرا معیار روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے۔ جبکہ دو ارب نفوس پر مشتمل امتِ مسلمہ کے لیے تو یہ منافقت اور بھی زیادہ واضح ہے۔

رہ گئی بات ان حکمرانوں کی جو صرف ۱۴۴ ڈونم کے اس قطعۂ زمین کو اجاگر کرتے ہیں جس پر مسجدِ اقصیٰ قائم ہے، تو حقیقت یہ ہے کہ دریا سے لے کر سمندر تک پورا فلسطین امتِ مسلمہ کی ایک ناقابلِ حرمت سرزمین ہے۔ شریعتِ مطہرہ صرف ایک ہی حل کا حکم دیتی ہے: اور وہ ہے اللہ ﷻ کی راہ میں جہاد کے لیے امت کی مسلح افواج کو متحرک کرنا، یہاں تک کہ پورا فلسطین دوبارہ دارالاسلام کا حصہ بن جائے۔

 

اے امتِ مسلمہ! ان مسلمان حکمرانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ انہوں نے ہمیں اور ہمارے مسائل کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک کہ شریعت پر مبنی نظامِ حکومت قائم نہ ہو جائے، جو ہمارے مقدسات کے تحفظ کے لیے ہماری مسلح افواج کو میدان میں اتارے گا۔

 

 

جارحانہ یہودی ریاست کے مقابلے میں اسلامی اُمت اپنی افواج کے سیلاب کی منتظر ہے

 

درعا، 24 جولائی (ثناء نیوز) "اسرائیلی" قابض افواج نے جمعہ کے روز مغربی درعا کے دیہی علاقوں کے یرموک طاس علاقے میں وادی الرقد پر دھاوا بول کر ایک چیک پوسٹ قائم کی، اور بعد میں واپس چلی گئیں۔

 

https://sana.sy/en/syria/2331667/

 

تبصرہ:

 

یہودی ریاست شام کے اندر درعا میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہی ہے۔ غزہ میں نسل کشی شروع کرنے کے بعد، یہودیوں نے 2024 کے اواخر سے، بم دھماکوں اور براہ راست زمینی دراندازی، زمین کو برابر کرنے، رکاوٹوں کی تعمیر، اور مستقل فوجی چوکیوں کے قیام کے ساتھ، شام کے اندر اپنے حفاظتی اقدامات کو بڑھا دیا ہے۔

 

یہودی مسلم دنیا میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہے ہیں اس حقیقت کے باوجود کہ امت اسلامیہ کے پاس لاکھوں اسلامی افواج موجود ہیں، جن میں دنیا کی طاقتورترین افواج شامل ہیں، جیسے پاکستان، ترکی اور مصر کی افواج۔  یہودی اپنی بزدلانہ فطرت کے باوجود اپنی موجودگی کو بڑھا رہے ہیں، جبکہ وہ زندگی کے انتہائی شوقین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا﴾"اور یقیناً تم انہیں زندگی کے بارے میں سب لوگوں سے زیادہ حریص پاؤ گے، مشرکوں سے بھی زیادہ۔" [البقرہ: 96]

 

جہاں تک مسلمانوں کے حکمرانوں کا تعلق ہے، مراکش سے انڈونیشیا تک، ان کا کردار مسلمانوں کی فوجوں کو روکنا ہے، اور ایسے علاقائی اتحاد میں شامل ہونا ہے جو مسجد الاقصی اور فلسطین کی بابرکت سرزمین پر قبضے کو معمول پر لاتے ہیں، جیسے کہ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس۔

 

اے مسلم افواج کے سپاہیو!

 

یہودی ہستی کے لوگ جنگ یا لڑائی کے لوگ نہیں ہیں۔ وہ بزدل ہیں اور ذلت اور تنگدستی کا شکار ہیں۔ آپ اپنے بھائیوں میں سے مومن مردوں کو ایسے ہتھیاروں سے دیکھتے ہیں جو یہودیوں کے ہتھیاروں سے بے مثال ہیں، پھر بھی وہ ان پر زور سے حملہ کرتے ہیں اور جو ان کے سامنے سے بھاگتے ہیں وہ اپنی حفاظت کے لیے ہوائی جہازوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ﴿لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ﴾ "وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر تھوڑی سی اذیت کے ساتھ۔ اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی"۔

تو جب آپ مسلمانوں کے غدار حکمرانوں کو ہٹا دیں گے، خلافت راشدہ قائم کریں گے اور یہودیوں سے جنگ کریں گے تو یہودیوں کا کیا حال ہو گا؟

 

امریکہ پر معاشی انحصار کے خاتمے کا واحد راستہ اللہ کی شریعت کا نفاذ ہے

 

 واشنگٹن، 21 جولائی (رائٹرز) - دو با خبر ذرائع کے مطابق، پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی تبادلہ استحکام کی سہولت (exchange stabilization facility) کی درخواست کی ہے، جس کی منظوری کی صورت میں نقد رقم کی کمی کا شکار اس جنوبی ایشیائی معیشت کے لیے ایک نئی زندگی ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ درخواست، جو پہلی باررپورٹ کی گئی ہے، ایران جنگ میں مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے اس کے سفارتی وقار کو بڑھایا اور یہ امیدیں پیدا کیں کہ وہ واشنگٹن اور دیگر شراکت داروں سے معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کے روز امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران پیش کیے گئے ایک خط میں یہ درخواست کی۔ اس میں، اسلام آباد نے امریکہ اور پاکستانی حکومت کے درمیان 10 ارب ڈالر کی مالیت کی دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جس کی مدت پانچ سال تک ہو گی۔

 

https://www.reuters.com/world/asia-pacific/pakistan-seeks-10-billion-us-backstop-facility-boost-reserves-source-says-2026-07-21/ [یو آر ایل / ویب لنک]

 

تبصرہ 

 

ایک امریکی اہلکار کی یہ رپورٹ امریکہ پر پاکستان کے معاشی انحصار کو نمایاں کرتی ہے۔ 10 ارب ڈالر کی یہ سہولت کوئی خیرات نہیں ہے۔ ایک طے شدہ مدتِ ادائیگی ہے جس کا مطلب ہے کہ سود (ربا) اور اصل رقم کی بھی لازمی ادا ئیگی ۔ چنانچہ امریکی سہولت غیر ملکی قرضوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سود کی ادائیگیوں میں بھی اضافہ کرے گی، جسے پاکستان کے حکمران عوام پر ٹیکس بڑھا کر پورا کرتے ہیں اور پھر اس کا بڑا حصہ قرض دہندگان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پھر بھی یہ کافی نہیں ہوتا، اس لیے پاکستان کے حکمران مسلسل مزید سودی قرضے لیتے رہتے ہیں۔ عملی طور پر، پاکستان کے عوام ان قرض دہندگان کے لیے زیادہ سے زیادہ نفع دینے والا ذریعہ بن چکے ہیں جو اس کے قرضوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور انہیں اس حد تک نچوڑا جاتا ہے کہ عوام انتہائی کمزوری اور تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔

 

پاکستان کے حکمران سودی قرضوں کے اس تباہ کن چکر کو جاری رہنے دیتے ہیں۔ جس کے ذریعے پہلے وہ فنڈز میں بدعنوانی (خیانت) کرکےاپنے لیے بے تحاشا دولت مند بننے کے مواقع فراہم کرتے ہے۔ دوسرا یہ انہیں مسلم دنیا میں امریکہ کے مفادات کے حوالے سے اس کے مطالبات کے آگے جھکنے کے لیے ایک بیانیہ فراہم کرتا ہے۔ اب تک، پاکستان کے حکمرانوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کر کے صرف امریکی فوج کو رسوائی سے بچایا، جس نے ایران کے عسکری ردِعمل کو ٹھنڈا کر دیا، جبکہ ٹرمپ حملوں کی ایک نئی لہر کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اب، جیسے ہی ٹرمپ مسلمانوں کی افواج کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر حملوں کی اگلی لہر کی تیاری کر رہا ہے، ایک امریکی اہلکار کے لیک کردہ بیان کے ذریعے، ریاستہائے متحدہ کی حمایت میں پاک فوج کی پیش قدمی کا جواز پیش کرنے کا ایک بیانیہ سامنے آ رہا ہے۔ عملی طور پر، پاکستان کی مسلح افواج امریکہ کے لیے ایک کرائے کی فوج بن کر رہ گئی ہیں، جو اس کے افسران اور عام مسلمانوں کے لیے شدید رسوائی کا باعث ہے۔

 

 قرضوں میں اضافے، قرضوں کی ادائیگیوں، معاشی بدحالی اور خارجہ پالیسی کی رسوائی کا یہ چکر موجودہ حکمرانوں کے تحت جاری رہے گا۔ اسے صرف اللہ ﷻ کی شریعت کے نفاذ کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ﷻ نے سود (ربا) کی ادائیگی کو حرام قرار دیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ان بدعنوان حکام سے غیر قانونی طور پر حاصل کردہ مال کو ضبط کرنے کا حکم دیا جو بیت المال کے اموال میں خیانت کرتے ہیں۔ شرعی احکام پر عمل کرتے ہوئے قرضوں کا تصفیہ کرنے کے بعد، اسلامی امت شریعت کی بنیاد پر اپنی معیشت کو مضبوط بنانے پر مکمل توجہ مرکوز کر سکتی ہے، جبکہ مسلمان سرزمینوں پر سے غصب و قبضہ ختم کرنے اور اپنے دشمنوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے لیے مسلح افواج کو متحرک کر سکتی ہے۔ اسلامی اُمّت کو چاہیے کہ اللہ ﷻ کے شریعتِ کے نفاذ کے لیے اپنی ریاست، یعنی خلافتِ راشدہ، جو منہجِ نبوت پر قائم ہو، کے لیےجدوجہد کرے۔

 

امریکہ پر معاشی انحصار کے خاتمے کا واحد راستہ اللہ کی شریعت کا نفاذ ہے

 

 واشنگٹن، 21 جولائی (رائٹرز) - دو با خبر ذرائع کے مطابق، پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی تبادلہ استحکام کی سہولت (exchange stabilization facility) کی درخواست کی ہے، جس کی منظوری کی صورت میں نقد رقم کی کمی کا شکار اس جنوبی ایشیائی معیشت کے لیے ایک نئی زندگی ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ درخواست، جو پہلی باررپورٹ کی گئی ہے، ایران جنگ میں مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے اس کے سفارتی وقار کو بڑھایا اور یہ امیدیں پیدا کیں کہ وہ واشنگٹن اور دیگر شراکت داروں سے معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کے روز امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران پیش کیے گئے ایک خط میں یہ درخواست کی۔ اس میں، اسلام آباد نے امریکہ اور پاکستانی حکومت کے درمیان 10 ارب ڈالر کی مالیت کی دوطرفہ ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جس کی مدت پانچ سال تک ہو گی۔

 

https://www.reuters.com/world/asia-pacific/pakistan-seeks-10-billion-us-backstop-facility-boost-reserves-source-says-2026-07-21/ [یو آر ایل / ویب لنک]

 

تبصرہ 

 

ایک امریکی اہلکار کی یہ رپورٹ امریکہ پر پاکستان کے معاشی انحصار کو نمایاں کرتی ہے۔ 10 ارب ڈالر کی یہ سہولت کوئی خیرات نہیں ہے۔ ایک طے شدہ مدتِ ادائیگی ہے جس کا مطلب ہے کہ سود (ربا) اور اصل رقم کی بھی لازمی ادا ئیگی ۔ چنانچہ امریکی سہولت غیر ملکی قرضوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سود کی ادائیگیوں میں بھی اضافہ کرے گی، جسے پاکستان کے حکمران عوام پر ٹیکس بڑھا کر پورا کرتے ہیں اور پھر اس کا بڑا حصہ قرض دہندگان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پھر بھی یہ کافی نہیں ہوتا، اس لیے پاکستان کے حکمران مسلسل مزید سودی قرضے لیتے رہتے ہیں۔ عملی طور پر، پاکستان کے عوام ان قرض دہندگان کے لیے زیادہ سے زیادہ نفع دینے والا ذریعہ بن چکے ہیں جو اس کے قرضوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور انہیں اس حد تک نچوڑا جاتا ہے کہ عوام انتہائی کمزوری اور تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔

 

پاکستان کے حکمران سودی قرضوں کے اس تباہ کن چکر کو جاری رہنے دیتے ہیں۔ جس کے ذریعے پہلے وہ فنڈز میں بدعنوانی (خیانت) کرکےاپنے لیے بے تحاشا دولت مند بننے کے مواقع فراہم کرتے ہے۔ دوسرا یہ انہیں مسلم دنیا میں امریکہ کے مفادات کے حوالے سے اس کے مطالبات کے آگے جھکنے کے لیے ایک بیانیہ فراہم کرتا ہے۔ اب تک، پاکستان کے حکمرانوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کر کے صرف امریکی فوج کو رسوائی سے بچایا، جس نے ایران کے عسکری ردِعمل کو ٹھنڈا کر دیا، جبکہ ٹرمپ حملوں کی ایک نئی لہر کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اب، جیسے ہی ٹرمپ مسلمانوں کی افواج کو استعمال کرتے ہوئے ایران پر حملوں کی اگلی لہر کی تیاری کر رہا ہے، ایک امریکی اہلکار کے لیک کردہ بیان کے ذریعے، ریاستہائے متحدہ کی حمایت میں پاک فوج کی پیش قدمی کا جواز پیش کرنے کا ایک بیانیہ سامنے آ رہا ہے۔ عملی طور پر، پاکستان کی مسلح افواج امریکہ کے لیے ایک کرائے کی فوج بن کر رہ گئی ہیں، جو اس کے افسران اور عام مسلمانوں کے لیے شدید رسوائی کا باعث ہے۔

 

 قرضوں میں اضافے، قرضوں کی ادائیگیوں، معاشی بدحالی اور خارجہ پالیسی کی رسوائی کا یہ چکر موجودہ حکمرانوں کے تحت جاری رہے گا۔ اسے صرف اللہ ﷻ کی شریعت کے نفاذ کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ﷻ نے سود (ربا) کی ادائیگی کو حرام قرار دیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ان بدعنوان حکام سے غیر قانونی طور پر حاصل کردہ مال کو ضبط کرنے کا حکم دیا جو بیت المال کے اموال میں خیانت کرتے ہیں۔ شرعی احکام پر عمل کرتے ہوئے قرضوں کا تصفیہ کرنے کے بعد، اسلامی امت شریعت کی بنیاد پر اپنی معیشت کو مضبوط بنانے پر مکمل توجہ مرکوز کر سکتی ہے، جبکہ مسلمان سرزمینوں پر سے غصب و قبضہ ختم کرنے اور اپنے دشمنوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے لیے مسلح افواج کو متحرک کر سکتی ہے۔ اسلامی اُمّت کو چاہیے کہ اللہ ﷻ کے شریعتِ کے نفاذ کے لیے اپنی ریاست، یعنی خلافتِ راشدہ، جو منہجِ نبوت پر قائم ہو، کے لیےجدوجہد کرے۔

 

خلافتِ راشدہ مسلم دنیا میں انتشار، غربت اور کمزوری کا شرعی حل ہے

 

اسلام آباد، 20 جولائی (اے پی پی): ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مؤمنی پیر کے روز، دو طرفہ تعاون، سرحدی انتظامات، علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے، ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔

 

https://www.app.com.pk/national/iranian-interior-minister-arrives-for-high-level-talks-aimed-strengthening-pakistan-iran-ties/

 

تبصرہ:

 

ایسے وقت میں جب امریکہ ایران پر حملہ آور ہے اور یہودی وجود فلسطین کی بابرکت سرزمین پر اپنے ناجائز قبضے کو مسلسل وسعت دے رہا ہے، مسلمانوں کے حکمران شریعت کے واضح تقاضے کے مطابق ایک واحد خلافتِ راشدہ کی صورت میں متحد ہونے سے قاصر ہیں۔ اس کے برعکس، یہ حکمران تعاون اور باہمی اشتراک کو اسی استعماری ڈھانچے کے اندر محدود رکھے ہوئے ہیں جو مسلمانوں کی سرزمینوں کو قومی ریاستوں میں تقسیم کر کے انہیں کمزور اور منتشر رکھتا ہے۔

 

1342 ہجری (بمطابق 1924 عیسوی) میں مسلمانوں کو متحد کرنے والی خلافت کی ریاست کے انہدام کے بعد سے، قومی ریاستوں نے مسلمانوں میں انتشار، غربت، کمزوری، مسلم ریاستوں کے درمیان جنگیں اور مسلم ریاستوں کے اندر خانہ جنگیاں پیدا کی ہے۔ قومی ریاست، سوچ کو محض قوم پرستانہ سرحدوں کے تحفظ اور ہر قومی ریاست کے لیے علاقائی اسٹریٹجک گہرائی کے حصول تک محدود کر دیتی ہے۔ آج قومی ریاست پوری امت کو مسجدِ اقصیٰ کی آزادی اور مسلمانوں کی سرزمینوں سے امریکی فوجی ڈھانچے کے انخلاء کے لیے متحرک ہونے سے روک رہی ہے۔

 

امتِ مسلمہ کو قومی ریاست کے خاتمے اور خلافتِ راشدہ کے قیام کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ یہ خلافت ہی ہے جو فرقہ واریت، قوم پرستی اور ذیلی قوم پرستی کو قطعاً مسترد کرتے ہوئے مسلمانوں کی اخوت کو اسلام کی بنیاد پر استوار کرے گی۔ یہ خلافت ہی ہے جو مسلمانوں کے درمیان قوم پرستانہ سرحدوں کو مٹا دے گی اور موجودہ مسلم ریاستوں کو ایک عظیم، واحد اسلامی ریاست میں متحد کر دے گی۔ یہ خلافت ہی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی فوج کی قیادت کرے گی اور اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے متحرک کرے گی تاکہ مسجدِ اقصیٰ کو آزاد کرایا جا سکے اور پوری مسلم دنیا سے امریکی فوج کا انخلاء یقینی بنایا جا سکے۔

 

یہ خلافت کی قیادت ہی ہے جو علاقائی اسٹریٹجک گہرائی کی تنگ نظر سوچ کو ترک کرے گی اور دینِ حق کو پوری دنیا میں غالب کرنے کے عظیم الشان تصور کو اپنائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْض﴾ "اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، وعدہ فرمایا ہے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت (اقتدار) عطاء کرے گا۔" [سورۃ النور 24:55] جیسا کہ ابنِ کثیر نے اپنی تفسیر میں فرمایا: هذا وعد من الله لرسوله صلى الله عليه وسلم . بأنه سيجعل أمته خلفاء الأرض ، أي : أئمة الناس والولاة عليهم ، وبهم تصلح البلاد ، وتخضع لهم العباد ، وليبدلن بعد خوفهم من الناس أمنا وحكما فيهم "یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول ﷺ سے وعدہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کی اُمّت کو زمین کا خلیفہ بنائے گا، یعنی وہ لوگوں کے امام اور حاکم ہوں گے، ان کے ذریعے سے ملکوں کی اصلاح ہوگی، لوگ ان کے تابع ہوں گے، اور ان کے خوف کو ختم کر کے انہیں امن اور حکمرانی عطاء فرمائے گا۔"

 

*امت کی مسلح افواج کی جانب سے یہودی وجود کے خلاف جہاد مومنوں کو متحد کرنے گا ہے اور حملہ آور کافروں کو شکست دے گا*

 

بنگلہ دیشی پاسپورٹس پر "اسرائیل کے سوا" کا جملہ دوبارہ شامل کر دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے آج، اتوار (19/7/2026)، ایک سرکاری حکم جاری کرتے ہوئے اس عبارت کو بحال کیا ہے، جسے چھ سال قبل موجودہ برطرف شدہ عوامی لیگ کی حکومت کے دور میں ہٹا دیا گیا تھا۔

 

https://en.prothomalo.com/bangladesh/i0c55dplsb

 

بے شک بنگلہ دیش کے مسلمان اسلام اور مسلمانوں سے محبت کرنے والے ہیں، اور امورِ مسلمہ کی پیروی میں بصیرت رکھتے ہیں۔ لہذا، یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ عوامی شعور نے حکام کو مجبور کر دیا کہ وہ "اسرائیل کے سوا" والی عبارت کو بحال کریں، اگرچہ انہوں نے ایسا 5 اگست 2024 کو عوامی لیگ کی برطرفی کے تقریباً دو سال بعد کیا۔

تاہم، "اسرائیل کے سوا" والی عبارت کی تاخیر سے بحالی بھی موجودہ حکمرانوں کو سابقہ حکمرانوں سے ممتاز کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ مذمت کے الفاظ کے بعد ایسے اقدامات آنے چاہئیں جو اللہ ﷻ، اس کے رسول ﷺ اور مومنوں کو پسند ہوں۔ بنگلہ دیش کے حکمرانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ یہودی وجود کے خلاف جہاد کا اعلان کریں، بنگلہ دیش کی باصلاحیت اور رضاکار مسلح افواج کو متحرک کریں، اور تمام مسلم ممالک سے بھی ایسا ہی کرنے کا مطالبہ کریں۔ امت کی مسلح افواج کے ذریعے جہاد مومنوں کو پاکیزہ بناتا ہے اور حملہ آور کافروں کو دہشت زدہ کر دیتا ہے، جیسا کہ امت خلافتِ راشدہ اولیٰ کے دور میں مشاہدہ کر چکی ہے۔

 

امت کی مسلح افواج کے ذریعے جہاد، ٹرمپ کی اس کوشش کو ناکام بنا دے گا جس میں وہ مسلم حکمرانوں کے درمیان اپنے ایجنٹوں کو ایران کے خلاف لڑنے کے لیے متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امت کی مسلح افواج کے ذریعے جہاد اسلام میں اخوت کے جذبات کو بیدار کرے گا، اور قومیت اور ذیلی قومیت (sub-nationalism) کی ان آگوں کو بجھا دے گا جو اس وقت سوڈان سے لے کر پاکستان تک مسلم سرزمینوں کو جلا رہی ہیں۔ اللہ ﷻ کے حکم سے، دوسری خلافتِ راشدہ کی قیادت میں، امت کی مسلح افواج کے ذریعے جہاد مسلمانوں کو ایک مٹھی کے طور پر اکٹھا کرے گا اور اپنے دشمنوں، یہودیوں اور امریکی صلیبیوں کو شکست دے گا، اس کے بعد کہ وہ غزہ کے مجاہدین اور ایران کی مسلح افواج سے لرز اٹھے تھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امت کی فوجیں مسجد اقصیٰ کو آزاد کرائیں۔ اللہ ﷻ نے فرمایا: ﴿وَمَنۡ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ﴾ "جو لوگ اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو اپنا کارساز بناتے ہیں، (یاد رکھو کہ) یقیناً اللہ ہی کا گروہ غالب آنے والا ہے۔" [سورۃ المائدہ: آیت 56]

 

 

 

Last modified onجمعرات, 30 جولائی 2026 23:59

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.