Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

’’ہم جنس پرستی‘‘ کی اصطلاح کے ترجمے میں مفہومی ابہام اور اس کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر!

 

(عربی سے ترجمہ)

 

https://www.al-waie.org/archives/article/20494

الوعي میگزین – شمارہ نمبر 482

اکتالیسواں سال

ربیع الاول 1448ھ

بمطابق اگست 2026ء

تحریر : خلیل مصعب – ولايہ باکستان

 

آج میری نظر سے سوشل میڈیا پر (زیادہ تر انگریزی بولنے والے حلقوں میں) جاری ایک مباحثہ گزرا  جس میں مسلسل ایک رجحان نوٹ کیا گیا ہے، اور وہ یہ تصور ہے کہ کوئی شخص مسلمان بھی ہو سکتا ہے اور ہم جنس پرست بھی، بشرطیکہ وہ اپنی ہم جنس پرستانہ خواہشات پر قابو رکھے۔ ان کا پیش کردہ تصور یہ ہے کہ کسی شخص کو اس بات پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ وہ پیدائشی طور پر ہم جنس پرست ہے، کیونکہ، ان کے بقول، یہ امر ’’اس کے اختیار سے باہر‘‘ ہے۔ البتہ انسان کو اس کے اعمال اور اس کی خواہشات کو انجام دینے کے فیصلے کے بارے میں جواب دہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ان کے مطابق، ہم جنس پرستی میں کشش رکھنے والے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی ہم جنس خواہشات پر قابو رکھے اور ہم جنس تعلقات کے گناہ سے بچتا رہے۔

 

بہرحال اس مؤقف میں موجود مسئلہ بیشتر مسلمانوں کے لئے واضح ہے۔ قرآن و سنت کے دلائل سے ہم یہ جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تمام انسانوں کو (پاکیزہ) فطرت پر پیدا کیا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا،

 

 

﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾

 

 

’’پس آپ یکسو ہو کر اپنا رخ دین کی طرف قائم رکھیں۔ یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ [سورۃ الروم؛ 30:30]

 

 

تو پھر آخر یہ بات کیونکر قابلِ قبول ہو سکتی ہے کہ کوئی شخص ہم جنس پرست پیدا ہوا ہے، یعنی ایسی حالت میں پیدا ہوا ہے جو اسے گناہ کی طرف مائل کرتی ہے؟ آخر کسی شخص کے پیدائشی طور پر ہم جنس پرست ہونے کے تصور کو اس دلیل کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے کہ انسان پاکیزہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے؟

 

میں ایک ایسی وجہ کی نشاندہی کرنا چاہوں گا کہ آج کے مسلمان اس فکری الجھن کا شکار کیوں ہو رہے ہیں، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے انگریزی زبان اور اس سے پیوست تصورات (مفاہیم) کو کس انداز سے اپنا لیا ہے۔

 

مغرب کے کئی اہلِ علم نے لفظ ’’ gay-ہم جنس پرست مرد‘‘ اور اس سے متعلقہ دیگر اصطلاحات مثلاً ’’queer-ہم جنس پرست‘‘، ’’lesbian-ہم جنس پرست عورت‘‘ اور ”homosexuality“ (ہم جنس پرستی) کی تاریخ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ اصطلاحات مغرب میں کیسے نمودار ہوئیں اور مغربی زبانوں جیسا کہ انگریزی کا راسخ حصہ بن گئیں۔ بنیادی دلیل یہ ہے کہ مغرب جنسیت (sexuality) کو جس نظر سے دیکھتا ہے اور اس نکتۂ نظر کو بیان کرنے کے لئے مغرب نے جو اصطلاحات وضع کی ہیں، وہ کوئی ایسا تصور نہیں جو ہر زمانے میں اور ہر خطے میں ہمیشہ سے موجود رہا ہو۔ بلکہ یہ تصورات ایک مخصوص دور اور مخصوص ماحول کے پیداکردہ ہیں۔

 

اپنی کتاب “Islam in Liberalism” میں پروفیسر جوزف مسعد (Joseph Massad) اس بحث کا خلاصہ درج ذیل الفاظ میں کرتے ہیں: ’’یہ سمجھنا نہایت اہم ہے کہ جنسیت (sexuality) ایک تاریخی اور ثقافتی طور پر مخصوص علمی و وجودی (epistemological and ontological) زمرہ ہے، اور یہ کوئی آفاقی یا لازمی طور پر ہر جگہ قابلِ اطلاق تصور نہیں ہے۔ اور یہ کہ اس حقیقت میں جنسیت سے اخذکردہ تصورات، یعنی ہم جنس پرستی (homosexuality)، مخالف جنس پرستی (heterosexuality) اور دو جنسوں کی طرف جنسی میلان (bisexuality) بھی شامل ہیں۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں مغربی یورپ اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں طبی، قانونی اور بعد ازاں سماجی سطح پر ان تصورات کے مستحکم ہونے نے ان کی توثیق کر دی۔ اور اسی طرح صنفِ مخالف کی طرف رجحان کو ہی واحد اور درست سمجھنے کا تصور (heterocentrism)، مخالف جنس پرستی (heterosexism)، اور ہم جنس پرستوں سے نفرت یا تعصب (homophobia) بھی ’مغربی‘ علمی تصور کی سطح پر ہونے والی ان پیش رفتوں کے ساتھ مخصوص سماجی اور ثقافتی مظاہر کے طور پر سامنے آئے‘‘۔

 

بہرحال مفہوم یہ ہے کہ لفظ ’’Gay-ہم جنس پرست مرد‘‘ انسان اور انسانی فطرت کے بارے میں مغرب کے ایک مخصوص تصور کا اطلاق کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پروفیسر جوزف مسعد مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ، اس تصور کے مطابق انسان خواہش کے تابع ہوتا ہے اور یہ خواہشات ہی اس کی پہچان کو تشکیل دیتی ہیں کہ وہ کون ہے۔ پروفیسر مسعد مزید آگے لکھتا ہے کہ، ’’حالانکہ اگر جنسیت (sexuality) کی ایک مخصوص یورپی تاریخ ہے، جیسا کہ کوبینا مرسر (Kobena Mercer) اور این لارا اسٹولر (Ann Laura Stoler) نے واضح کیا ہے، لیکن پھر بھی جنسیت کی یہ تاریخ یورپی نوآبادیاتی روابط کے اثرات اور انہی کی پیداوار ہے اور نسلیات (race) کے نظریۂ علم (epistemology) پر تہہ در تہہ چڑھی ہوئی پرت کی طرح ہے، تو اس اصطلاح کے علمی اور وجودی مضمرات کو غیر یورپی معاشروں تک منتقل کرنا، اور بالخصوص وہاں کے تناظر میں اس اصطلاح کا ترجمہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے‘‘۔ اسی طرح فوکالٹ (Foucault) کا انتباہ یہ ہے کہ اس اصطلاح کا ظہور 'اس امر کے اچانک وجود میں آنے کی علامت نہیں ہے جس کی طرف ’’جنسیت -‘sexuality’‘‘ میں اشارہ کیا گیا ہے'، اور یہ بات اس کے منصوبے کے ایک بہتر رُخ کو کمتر ظاہر کر رہی ہے، کیونکہ یہاں ’’جنسیت-‘sexuality’‘‘سے مراد یا اس کی تاریخ کسی بالکل نئے طرزِ شخصیت  کی طرف اشارہ کرتی ہوئی معلوم نہیں ہوتی، بلکہ جیسا کہ گریگ تھامس (Greg Thomas) نے کہا کہ، ’’یہ خواہش کی ایک زیادہ جامع تاریخ کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور جدید تشکیل میں جنسی کیفیت ہونا محض اس کا ایک حصہ ہے'۔ چنانچہ فوکالٹ کے مطابق، ’’جنسیت کی حامل شخصیت‘‘ بننا دراصل اس بات کی موجودہ ترین صورت ہے کہ کیسے ایک ’’مغربی مرد‘‘ نے خود کو ’’خواہش کے تابع‘‘  ہونے کے طور پر کس طرح تصور کر لیا ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ طبقاتی اور نسلی درجہ بندی، نیز نسلی برتری پر مبنی عمومی مغربی شناخت کا کوئی نیا تصور اچانک وجود میں آ گیا تھا‘‘۔

 

پروفیسر مسعد نے اس پیراگراف میں نسلیت (race) کا ذکر ایک خاص نکتے کی وضاحت کرنے کے لئے کیا ہے : ان کے مطابق جب مغربی استعماری طاقتیں مختلف اقوام کو فتح کرنے کے لئے دنیا کے مختلف حصوں میں گئیں تو انہوں نے لوگوں کی درجہ بندی اس بنیاد پر کی کہ ان کے خیال میں یہ لوگ کس قسم کے ہیں، یعنی ان کی فطرت کیا ہے۔ چنانچہ مغربی استعماری تصور میں ’’Gay-ہم جنس پرست مرد‘‘ ہونا کسی حد تک ’’سیاہ فام انسان‘‘ ہونے کے تصور سے مشابہ ہے۔ یعنی یہ اس بات سے متعلق ہے کہ آپ کون ہیں؛ یہ آپ کی شناخت ہے۔ یہ آپ کی حیاتیاتی ساخت اور آپ کے وجود کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

 

جنسی میلان اور ’’آپ کون ہیں‘‘ کے درمیان یہی تعلق ہی ہے جو بہت سے مسلمانوں کو اس بات کو قبول کرنے کی طرف لے جاتا ہے کہ کوئی شخص پیدائشی طور پر بھی ہم جنس پرست ہو سکتا ہے۔ اس تصور کے مطابق اگر آپ میں ہم جنس کشش یا خواہش پائی جاتی ہے تو یہی آپ کی باطنی اور بنیادی شناخت ہے، اور اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا؛ بالکل اسی طرح جیسے کسی سیاہ فام شخص کو سفید فام نہیں بنایا جا سکتا۔

 

لہٰذا مسلمانوں کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ ان مغربی تصورات کا ازسرِنو جائزہ لیں جنہیں انہوں نے اختیار کر لیا ہے، اور اس بات پر غور کریں کہ انسانی فطرت کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے، انسان پاکیزہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، اور اس فطرت کا ایک تقاضا یہ ہے کہ مرد عورت کی طرف میلان رکھتا ہے اور عورت مرد کی طرف میلان رکھتی ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا،

 

﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾

 

’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تم ہی میں سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں‘‘ [سورۃ الروم؛ 30:21 [

 

لیکن بلاشبہ پاکیزہ فطرت پر پیدا کیے جانے کے باوجود انسان گناہ کی طرف مائل یا اس کے ذریعے آزمائش میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ انسانوں کے جد امجد، آدم علیہ السلام کو شیطان نے ممنوعہ درخت سے کھانے پر اُکسایا۔ اسی طرح ایک گناہ اگر بار بار اس کا ارتکاب کیا جائے تو وہ عادت بن سکتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص باقاعدگی سے شراب نوشی کرنا یا نفسیاتی اثرات پیدا کرنے والے نشہ آور مواد کا استعمال کرنا شروع کر سکتا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا نہایت اہم ہے کہ ممنوع کردہ خواہشات کا شکار ہو جانا کسی شخص کی ایسی فطرت کی نشاندہی نہیں کرتا کہ جسے بدلا نہ جا سکے۔ یعنی ایسا شخص جو باقاعدگی سے شراب پیتا ہو، اس کے مقدر میں لازمی طور پر یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ کے لئے ہی شرابی بن کر رہنے پر مجبور ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ شراب نوشی کا عمل اس کے وجود میں اس طرح پیوست ہو چکا ہو کہ اسے کبھی تبدیل ہی نہیں کیا جا سکتا۔

 

اس بات کو سمجھنا اس امر کو سمجھنے کے لئے اہم ہے کہ ماضی میں مسلمان علماء گناہ کو کس نظر سے دیکھتے تھے اور انہوں نے اپنے فہم کو منتقل کرنے کے لئے کس طرح کی اصطلاحات وضع کیں۔ اس حوالے سے ان کا مرکزی نکتہ خود اس عمل (گناہ) پر مرکوز ہوتا تھا، اس بات پر نہیں کہ یہ عمل کسی شخص کی شناخت یا اس کی ذات کی عکاسی کرتا ہے۔ چنانچہ مسلمان علماء نے ’’لواطت‘‘ (مردوں کے درمیان غیر فطری جنسی تعلق) اور اس کے نسوانی ہم معنی فعل کے لئے ’’سحاق‘‘ کی اصطلاح استعمال کی، اور اس ممنوعہ فعل کا ارتکاب کرنے والے کو ’’لوطی‘‘ کہا جاتا تھا، لیکن اس سے یہ مراد نہیں لی جاتی تھی کہ یہ اس کی کوئی مستقل شناخت ہے۔ تاہم، یہ سمجھنا درست نہیں کہ ’’لوطی‘‘ کا ترجمہ ’’Gay‘‘ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس لفظ کا مقصد خود عمل پر توجہ مرکوز کرنا ہے، نہ کہ اس شخص کی فطرت یا اس کی ذات کے بارے میں کوئی مفہوم پیش کرنا۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے شراب پینے والے شخص کو ’’شرابی‘‘ اور قتل کرنے والے شخص کو ’’قاتل‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور تمام صورتوں میں، جو شخص کسی ممنوع عمل کا ارتکاب کرتا ہے، خواہ وہ لواطت ہو، شراب نوشی ہو یا قتل، وہ اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ فرماتا ہے،

 

 

﴿إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ فَأُولَٰئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾

 

 

’’اللہ کے ہاں توبہ صرف انہی لوگوں کی قبول ہوتی ہے جو نادانی سے برائی کر بیٹھتے ہیں، پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں—ایسے ہی لوگوں کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا، بڑی حکمت والا ہے‘‘ [سورۃ النساء؛ 4:17]۔

 

علماء نے ’’جلد ہی‘‘ سے مراد یہ لی ہے کہ ’’موت آنے سے پہلے‘‘ توبہ کر لی جائے۔

 

پاکیزہ فطرت اور خواہش کا یہی وہ فہم ہے جس کی بنا پر ماضی کے علماء ہم جنس کی طرف کشش کو اس فطری حالت سے انحراف سمجھتے تھے جس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں پیدا فرمایا ہے۔ یہ بات عمومی جانی جاتی تھی کہ جو مرد نوعمر لڑکوں (اَمْرَد) کی طرف کشش محسوس کرتے تھے، ایسا ان لڑکوں کے نسوانی اوصاف کی وجہ سے ہوتا تھا، جیسے کہ داڑھی کے بغیر ہونا اور باریک آواز کا ہونا۔

 

امام نووی رحمہ اللہ (وفات: 676ھ) فرماتے ہیں: ”وكذلك يحرم على الرجل النظر إلى وجه الأمرد إذا كان حسن الصورة، سواء كان بشهوة أم لا، سواء أمن الفتنة أم خافها، هذا هو المذهب الصحيح المختار عند العلماء المحققين، نص عليه الشافعي، وحذاق أصحابه - رحمهم الله تعالى -، ودليله: أنه في معنى المرأة، فإنه يُشتهى كما تُشتهى، وصورته في الجمال كصورة المرأة، بل ربما كان كثيرٌ منهم أحسن صورةً من كثيرٍ من النساء، بل هم في التحريم أولى لمعنى آخر: وهو أنه يتمكن في حقهم من طرق الشر ما لا يتمكن مثله في حق المرأة.“ ’’اسی طرح کسی مرد کے لئے کسی بغیر داڑھی کے خوبصورت نوجوان (اَمْرَد) کے چہرے کو دیکھنا بھی حرام ہے، خواہ اس نظر میں شہوت ہو یا نہ ہو، اور خواہ اسے فتنہ میں مبتلا ہونے کا خوف ہو یا نہ ہو۔ محقق علماء کے نزدیک یہی صحیح اور راجح رائے ہے۔ امام شافعیؒ اور ان کے اصحاب میں سے جید علماء نے بھی اسی بات کی صراحت کی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ایک نوجوان کا بغیر داڑھی ہونا، اس معاملے میں وہ کسی عورت کے مشابہ لگتا ہے، کیونکہ جس طرح عورت خواہش کا باعث بنتی ہے، اسی طرح وہ نوجوان بھی خواہش کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ اس کا حسن عورت کے حسن سے مشابہ ہو سکتا ہے۔ بلکہ ان میں سے بہت سے نوجوان بہت سی عورتوں سے بھی زیادہ خوب صورت ہو سکتے ہیں۔ درحقیقت ان کے معاملے میں ممانعت کی ایک اضافی وجہ بھی ہے، اور وہ یہ کہ ایسے نوجوانوں کے ساتھ تعلق کے ذریعے برائی کے ایسے راستے پیدا ہو سکتے ہیں جوکہ عورت کے معاملے میں ممکن نہیں ہوتے‘‘۔ (شرح صحیح مسلم، 4/31)

 

چنانچہ، آج آپ دیکھتے ہیں کہ ہم جنس پرست لوگ کس طرح کا رویہ اپناتے ہیں—وہ کس طرح اپنی آوازوں کو زیادہ نسوانی بنانے کی مشق کرتے ہیں اور عورتوں جیسے انداز و اطوار اختیار کرتے ہیں۔ اور ایسا کرنا اس فطری حالت سے انحراف کے سوا کچھ نہیں جس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں پیدا فرمایا ہے۔

 

اور اب لغت کے حوالے سے اوپر بیان کیے گئے نکتے کی طرف دوبارہ آتے ہیں۔ اصل مقصد اس بات پر زور دینا ہے کہ آج کے مسلمانوں کے لئے ان تصورات کو سمجھنا ضروری ہے جنہیں اہلِ مغرب نے اپنایا اور اپنی زبانوں کے ذریعے منتقل کیا۔ ان تصورات کو اپنی سوچ پر اثر انداز ہونے دینے کے بجائے، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کا مطالعہ کریں، اس کے مفاہیم کو اپنائیں، اور وہ زبان بولیں جو ان اسلامی مفاہیم کی صحیح ترجمانی کرتی ہو۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی شخص کو Gay کے طور پر دیکھنا اس بات کو سمجھنے میں ناکامی ہے کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے ہمیں کس طرح پیدا کیا ہے، اور یہ کہ ہماری اصلاح کیسے ہو سکتی ہے اور ہمیں گناہ سے دور کر کے ہدایت کی طرف کیسے لایا جا سکتا ہے۔

 

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 

 

﴿لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ﴾

 

’ہر انسان کے آگے اور پیچھے اس کے نگہبان (فرشتے) لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بے شک اللہ کسی قوم کی (اچھی) حالت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت (ایمان و عمل) کو نہ بدل ڈالیں۔ اور جب اللہ کسی قوم پر عذاب کا ارادہ فرما لے تو پھر وہ ٹل نہیں سکتا، اور نہ ہی ان کا اللہ کے سوا کوئی مددگار ہو سکتا ہے‘‘ [سورۃ الرعد؛ 13:11]

 

مجھے امید ہے کہ اس آرٹیکل نے بعض امور کو واضح کرنے میں مدد دی ہو گی اور یہ مضمون شاید مسلمانوں کو جنسیت (sexuality) اور اسلام کے موضوع پر دوسروں کے ساتھ گفتگو کرنے میں بھی معاونت فراہم کرے گا۔

 

Last modified onپیر, 31 اگست 2026 18:27

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.