Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

 

 

ہجرت سے متعلق کانفرنسیں تلخ حقیقت کو خوبصورت بنانے اور ذمہ داری سے فرار کا ذریعہ ہیں

 

 

تحریر: استاد محمود اللیثی

 

(ترجمہ)

 

مصر کے نئے انتظامی دارالحکومت میں رواں ماہ اپریل کے آغاز میں ہجرت سے متعلق افریقی وزراء کی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں افریقہ کے ان 17 ممالک کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں نے شرکت کی جو ہجرت کے عالمی معاہدے پر عمل درآمد میں "نمایاں ممالک" کے طور پر جانے جاتے ہیں، نیز اس میں ہجرت کی عالمی تنظیم (IOM) بھی شامل تھی۔ یہ اجلاس مئی میں نیویارک میں ہونے والے ہجرت کے عالمی جائزے کے فورم سے پہلے ایک کشیدہ علاقائی ماحول میں منعقد ہوا۔ وزراء نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جسے "اعلانِ قاہرہ" کا نام دیا گیا، جس میں ہجرت کے معاملے پر افریقی موقف کو متحد کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، اور اعلامیے میں ہجرت کے قانونی راستوں کی ترجیح، سرحد پار تعاون کے فروغ، اور ملازمت و نقل مکانی کے مواقع کو وسعت دینے پر توجہ دی گئی۔

 

ایک مصری مثل اس کانفرنس کی حقیقت اور اس کے نتائج کا خلاصہ کرتی ہے: "تمہاری باتیں سنوں تو سچ معلوم ہوتی ہیں، تمہارے کام دیکھوں تو حیرت ہوتی ہے"۔ اس کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں خود کو براعظم افریقہ کے مہاجرین اور پناہ گزینوں کا "خیر خواہ" دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، اور یہ دکھاوے کی خیر خواہی دراصل ان شریک ممالک کی اپنی فکر کا عکس ہے، خاص طور پر بحیرہ روم کے ساحلی ممالک، جہاں سے یورپ کی طرف ہجرت اور سمندری سفر شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ نیویارک میں ہجرت کے عالمی معاہدے کے جائزے کے فورم سے پہلے ایک متحدہ افریقی موقف وضع کرنا چاہتے ہیں اور قانونی راستوں اور سرحد پار تعاون پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں، جو ہجرت کو ایک سیکورٹی بحران سے ترقیاتی آلے (منظم مزدوری، افرادی قوت کی نقل مکانی، اور ترسیلاتِ زر) میں تبدیل کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔

 

خوبصورت الفاظ کا استعمال اور ان کا فلسفیانہ چناؤ، جیسے کہ "اعلانِ قاہرہ" کا بطور مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا—جو ہجرت کے قانونی راستوں کی حمایت، مہاجرین کے حقوق کے احترام، باوقار رضاکارانہ واپسی اور دوبارہ بحالی کے عمل پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جبکہ ہر ریاست کی (قومی) خودمختاری اور مقامی خصوصیات کو برقرار رکھنے، روزگار کے مواقع اور محفوظ نقل مکانی کو وسعت دینے، سرحد پار تعاون کو فروغ دینے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف جنگ کی بات کرتا ہے—یہ تمام رنگین باتیں دراصل حقیقت کا سامنا کرنے اور ہجرت کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری سے فرار ہے۔ ہجرت کے اصل اسباب حقیقت میں دو اہم وجوہات پر مشتمل ہیں:

 

اول: وہ ہجرت جو سیکورٹی، سیاسی، انسانی اور فوجی وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے، جیسا کہ اہل سودان کی مصر کی طرف اور اہل فلسطین کی دنیا بھر میں منتشر ہونے کی صورت میں نظر آتی ہے۔ سیاسی حالات اور فوجی تنازعات کی وجہ سے لوگ بمباری اور متحارب گروہوں کی لڑائی کے نتیجے میں موت سے بھاگنے پر مجبور ہوتے ہیں تاکہ اپنی جانیں بچا سکیں اور اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کر سکیں۔

 

دوسری وجہ: باعزت زندگی کی تلاش میں ہجرت، جو اپنے ملکوں کے بے پناہ قدرتی وسائل کے باوجود غربت سے فرار اور تیسری دنیا کے ممالک، بشمول افریقی ممالک کے بے روزگار نوجوانوں کے مستقبل کی تلاش کے لیے کی جاتی ہے، یہاں تک کہ نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے لیے ہجرت پہلا انتخاب بن گئی ہے۔ مثال کے طور پر، تونس سے یورپ اور مغرب ہجرت کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کی شرح 65 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔

 

دونوں قسم کے مہاجرین کی حالت پر نظر ڈالنے والا، وہ جو اپنی جان بچانے کے لیے ہجرت کرتا ہے اور وہ جو باعزت زندگی کی تلاش میں نکلتا ہے، یہ پائے گا کہ اس ہجرت اور اس کے بعد آنے والی تکالیف کا اصل سبب تیسری دنیا کے موجودہ حکمران نظام اور وہ ممالک ہیں جو ان مہاجرین کو پناہ دیتے ہیں۔ ان ممالک میں سیاسی بدعنوانی اور عوامی معاملات کی دیکھ بھال میں کوتاہی ہی ان پریشان حال لوگوں کو اپنے ممالک سے باہر ہجرت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی معاملہ سیاسی اور فوجی تنازعات کا ہے، جیسے کہ ارضِ مبارک (فلسطین) کے باشندوں کی اپنے وطن سے ہجرت، جو وہ اپنی جانیں بچانے اور اس امن کی تلاش میں کرتے ہیں جو یہودی وجود اور اس کی نسلی کشی (ایتھنک کلینزنگ) کی پالیسیوں کی وجہ سے وہاں مفقود ہو چکا ہے۔ مزید برآں، یہ یہودی وجود ان کی معیشت اور جان و مال کو خطرے میں ڈال کر انہیں جبری طور پر بے دخل کرنے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے۔ یہی کچھ اہل سودان کے ساتھ بھی ہو رہا ہے، جہاں ریپڈ سپورٹ فورسز  اور فوج کے متحارب گروہ آپس میں دست و گریبان ہیں اور جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، جو انہیں ہجرت اور نقل مکانی پر مجبور کر دیتا ہے۔ پس ہجرت کی اصل وجہ یہ نظام ہیں، نہ کہ ان لوگوں کی اپنی مرضی کہ وہ ان وطنوں کو چھوڑ دیں جن سے وہ مانوس ہیں۔

 

مہاجرین کی تکالیف اور ان کے حقوق کی پامالی کی دوسری وجہ وہ ممالک ہیں جہاں لوگ امن یا باعزت زندگی کی تلاش میں ہجرت کر کے جاتے ہیں۔ یہ ممالک دو اقسام میں منقسم ہیں: پہلی قسم ان ناکام ریاستوں کی ہے جو مہاجرین کو باعزت زندگی فراہم نہیں کر پاتیں، جیسے کہ تیسری دنیا کے ممالک؛ مثال کے طور پر سوڈانیوں کی مصر کی طرف ہجرت، برمیوں کی بنگلہ دیش کی طرف اور فلسطینیوں کی اپنے پڑوسی ممالک کی طرف ہجرت۔ یہ ناکام ریاستیں تو خود اپنے شہریوں کو ہی بنیادی سہولیات اور وقار فراہم نہیں کر پاتیں، تو پھر ان سے یہ امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ان پناہ گزینوں کی پرواہ کریں گی جو مجبوراً ان کے ہاں آ جاتے ہیں۔ دوسری قسم مغربی ممالک کی ہے؛ یہ ممالک مہاجرین کے ساتھ وہی پرانی غلامی اور استحصال کی پالیسی برتتے ہیں، مگر ایک جدید انداز میں! تمام انسانی نسلوں کے ساتھ تعصب اور نسل پرستی پر مبنی رویہ رکھنے کے ساتھ ساتھ، یہ ممالک تیسری دنیا کے وافر وسائل کی لوٹ مار پر پلتے ہیں۔ یہ ممالک مہاجرین کو صرف اسی صورت میں قبول کرتے ہیں جب انہیں مخصوص تجربات، نوجوان افرادی قوت یا ذہنی صلاحیتوں کی ضرورت ہو، خاص طور پر اس لیے کہ وہ خود شرحِ پیدائش میں شدید کمی کا شکار ہیں۔ لہذا، یہ ممالک کسی بھی ایسے مہاجر کو قبول نہیں کرتے جو ان کے مفادات کی خدمت نہ کرے اور ان کی افرادی قوت کی کمی کو پورا نہ کرے، اور اس ضرورت سے زائد کسی بھی شخص کو ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے جسے نکال باہر کرنا اور اس سے چھٹکارا پانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ چاہے اس کے لیے ان کشتیوں اور مچھیروں کے بیڑوں کو ہی کیوں نہ ڈبونا پڑے جن پر سوار ہو کر یہ مہاجرین اپنے ملکوں کی تپتی دھوپ (شدید مشکلات) سے بھاگ کر مغرب کی جھلساتی آگ کی طرف جاتے ہیں۔ یا پھر پڑوسی ممالک کے درمیان بلند و بالا دیواریں کھڑی کر دی جاتی ہیں، جیسے امریکہ کی وہ "عظیم" دیوار جو اسے میکسیکو سے جدا کرتی ہے، اور پناہ گزینوں کا پیچھا کر کے انہیں انتہائی ذلت آمیز طریقے سے نکال دیا جاتا ہے۔

 

تاریخ میں کسی بھی ریاست نے مہاجرین کے حقوق کی ویسی حفاظت نہیں کی جیسی اسلامی ریاست نے ان طویل صدیوں کے دوران کی جس میں اس نے دنیا کے بیشتر حصوں پر حکمرانی کی۔ دینِ حنیف کے شارع (اللہ تعالیٰ) نے مہاجر کے لیے پڑوسی کے حقوق، زکوٰۃ کے مال میں حصہ، اور مسلمانوں کے درمیان سکونت اور زندگی گزارنے کا حق مقرر کیا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو، معاہد (معاہدہ رکھنے والا غیر مسلم) ہو یا ذمی (اسلامی ریاست کا غیر مسلم شہری) ہو۔ جہاں تک مسلمان کا تعلق ہے، تو تمام اسلامی علاقے اس کے اپنے وطن ہیں، وہ ان کے درمیان بلا روک ٹوک آ جا سکتا ہے اور جس جگہ چاہے رہ سکتا ہے؛ وہ وہاں کوئی مہمان، مہاجر یا پناہ گزین نہیں بلکہ مستقل شہری اور اس سرزمین کا بیٹا ہوتا ہے۔ اس کی بہترین مثال وہ "وثیقہ مؤاخات" (بھائی چارے کا معاہدہ) ہے جو نبی کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان طے کیا تھا، جس میں صراحت کی گئی تھی کہ:«هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ (رَسُولِ اللَّهِ ﷺ) بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، مِنْ قُرَيْشٍ وَأَهْلِ يَثْرِبَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ فَلَحِقَ بِهِمْ، فَحَلَّ مَعَهُمْ وَجَاهَدَ مَعَهُمْ: أَنَّهُمْ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ دُونَ النَّاسِ» "یہ تحریر نبی محمد (اللہ کے رسول ﷺ) کی جانب سے مومنین اور مسلمانوں کے درمیان ہے، جن کا تعلق قریش اور یثرب سے ہے اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان کے نقشِ قدم پر چلے، ان سے آ ملے اور ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا: کہ وہ سب دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہی امت ہیں"۔

 

اور اگر کوئی معاہد یا ذمی ہو، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں فرمایا ہے:

 

﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْلَمُونَ

 

"اور اگر مشرکین میں سے کوئی آپ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دیں یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر اسے اس کی امن کی جگہ (بخیر و عافیت) پہنچا دیں، یہ اس لیے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے"۔ (سورة التوبہ:آیت  6)

 

پس خلافت کے سائے میں اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکمرانی ہی وہ واحد راستہ ہے جو کمزور مہاجرین اور پناہ گزینوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا، اپنے ملک سے ہجرت کا سوچنے والے ہر شخص کے لیے لازم ہے کہ وہ مغرب میں قائم ممالک اور نظاموں کی حقیقت کو پہچانے، اور یہ نہ سمجھے کہ وہ زمین پر اللہ کی جنت ہیں، بلکہ وہ استعماری (سامراجی) ریاستیں ہیں جو کمزور ممالک پر قبضے اور ان کے عوام کو غلام بنانے پر پلتی ہیں۔ ہجرت کا سوچنے کے بجائے مہاجرین کو چاہیے کہ وہ اپنا تمام تر غصہ اپنے ممالک میں قائم ان موجودہ نظاموں پر نکالیں، انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور ان کی جگہ وہ نظام نافذ کریں جو ان کے اپنے وطن میں ان کی عزتِ نفس کی حفاظت کرے اور اللہ کی دی ہوئی وافر نعمتوں کے ذریعے ان کے لیے ایک باوقار زندگی کو یقینی بنائے۔

 

ولایہ مصر   میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

Last modified onہفتہ, 02 مئی 2026 02:48

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.