Logo
Print this page

بسم الله الرحمن الرحيم

’سواپ لائنز‘ (Swap Lines): زیرِ تعمیر ایک ایسا عالمی مالیاتی نظام جو پیٹرو ڈالر کے دور کا خاتمہ کر سکتا ہے

 

 

تحریر: ڈاکٹر محمد جیلانی

 

(ترجمہ)

 

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے منگل، 21 اپریل کو ایک خبر شائع کی کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو مالی امداد فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے، اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان کرنسی کے تبادلے (Currency Swap) کا ایک معاہدہ زیرِ غور ہے۔

 

اس خبر کی اہمیت محض یو اے ای کی کسی فوری مالی ضرورت میں نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی مالیاتی نظام کے پردوں کے پیچھے ہونے والی ایک سٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ تبدیلی کرنسیوں کے تبادلے کے معاہدے (Swap Currencies) کے ذریعے عمل میں لائی جا رہی ہے، جسے مالیاتی حلقوں بالخصوص امریکہ میں ’سواپ لائنز‘ (Swap Lines) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ خبر محض ایک عارضی تکنیکی اقدام نہیں ہے، بلکہ یہ اس چنگاری کی مانند ہے جو ایک نئے مالیاتی نظام کی پیدائش کی نوید دے رہی ہے، جو امریکی بالادستی کو ایک بار پھر سے ترتیب دے سکتا ہے۔ اس بار یہ بالادستی تیل کے ذریعے نہیں، بلکہ براہِ راست بینکنگ کی نقدی (Liquidity) کے ذریعے قائم کی جائے گی۔

 

سن 1974 سے ڈالر کی طاقت ’پیٹرو ڈالر‘ کے نظام پر منحصر رہی ہے۔ اس نظام کے تحت سعودی عرب کی قیادت میں ’اوپیک‘ ممالک اپنا تیل صرف امریکی ڈالر کے عوض فروخت کرنے کے پابند تھے، جس کی وجہ سے ڈالر کو سونے کی بجائے تیل کی پشت پناہی حاصل ہو گئی تھی۔ اس نظام نے امریکی فیڈرل ریزرو بینک کو اس بات کی کھلی چھوٹ دے دی کہ وہ عالمی توانائی کی تجارت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کھربوں ڈالر جاری کر سکے۔

 

لیکن آج اس نظام کو بقا کے چیلنجز کا سامنا ہے؛ جن میں چینی ’پیٹرو یوآن‘ کا عروج، برکس (BRICS) ممالک کی اپنی مقامی کرنسیوں میں تجارت کی کوششیں، اور متبادل توانائی و الیکٹرک گاڑیوں کی طرف عالمی منتقلی شامل ہے، جس سے تیل پر انحصار کم ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں ’سواپ لائنز‘ (Swap Lines) کا تصور فیڈرل ریزرو کی ایک نئی حکمتِ عملی کے طور پر ابھر رہا ہے تاکہ امریکی ڈالر کی مالیاتی برتری کو برقرار رکھا جا سکے۔

 

’سواپ لائنز‘ یا تبادلی لکیروں کی تعریف یہ ہے کہ یہ مرکزی بینکوں کے درمیان کرنسی کے تبادلے کے دو طرفہ معاہدے ہوتے ہیں، جن کا مقصد بحرانوں کے دوران عالمی منڈیوں میں نقدی (Liquidity) کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ان لائنوں کے ذریعے فیڈرل ریزرو اپنے جاری کردہ ڈالرز کو دوسرے ملک کی مقامی کرنسی (مثلاً اماراتی درہم یا کینیڈین ڈالر) کے عوض تبدیل کرتا ہے۔ یہ مقامی کرنسی ڈالرز کی بروقت واپسی کے لیے بطور ضمانت یا رہن کام کرتی ہے۔ امریکہ کے لیے اس نظام کے بڑے فوائد درج ذیل ہیں:

 

1۔ پیداوری صلاحیت کا عظیم الشان امکان: تخمینوں کے مطابق اگر فیڈرل ریزرو تبادلی معاہدوں کا دائرہ کار 100 ممالک تک پھیلا دے اور ہر ملک کے لیے اوسطاً 100 ارب ڈالر رکھے، تو وہ اپنے سالانہ بجٹ میں 10 ٹریلین ڈالر کا اضافہ کر سکے گا۔ یہ رقم اس مقدار سے کہیں زیادہ ہے جو پیٹرو ڈالر نظام کے ذریعے پیدا کی جا سکتی ہے، اور یہ 2050 تک 20 ٹریلین تک پہنچ سکتی ہے۔

 

2۔ مادی پابندیوں سے چھٹکارا: پیٹرو ڈالر کا نظام تیل کی محدود مقدار، اس کی اتار چڑھاؤ والی قیمتوں اور بین الاقوامی بحرانوں سے جڑا ہوا ہے، جیسا کہ کورونا وبا کے دوران ہوا اور جیسا کہ اب ایران کے خلاف امریکہ اور یہودی وجود کی جنگ کے سائے میں نظر آ رہا ہے۔ اس کے برعکس، ’سواپ لائنز‘ (Swap Lines) مالیاتی ترقی اور نقدی کی دستیابی کے ساتھ ساتھ مختلف منصوبوں پر تعمیر و ترقی اور اخراجات کے لیے ممالک کی مستقل ضرورت سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ چیز فیڈرل ریزرو کو کرنسی جاری کرنے میں مطلق لچک فراہم کرتی ہے۔

 

3۔ براہِ راست بالادستی: ان لائنوں کے ذریعے فیڈرل ریزرو دنیا کے مرکزی بینکوں کا سب سے بڑا قرض دہندہ بن جائے گا، جس سے ورلڈ بینک جیسے پرانے بین الاقوامی اداروں کا کردار ختم ہو کر رہ جائے گا۔ یہ نظام ممالک کو سخت شرائط یا بھاری سود (ربا) کے بغیر مستقل نقدی فراہم کرے گا، جس کے نتیجے میں ان ممالک کی مالی تقدیر ڈالر کے ساتھ مزید مضبوطی سے جڑ جائے گی۔

 

سن 1981 میں امریکہ میں ڈالر اور قومی پیداوار (GNP) کے درمیان سے پابندیوں کے خاتمے کا قانون منظور ہونے کے بعد سے، معاشی ترقی (اشیاء اور خدمات کی پیداوار) اور مالیاتی ترقی (کاغذی دولت کی تخلیق) کے درمیان ایک طرح کا رشتہ ختم ہو چکا ہے۔ اس علیحدگی نے فیڈرل ریزرو کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ معاشی مندی کے دور میں بھی بڑی مقدار میں نقدی فراہم کر سکے، جیسا کہ کورونا بحران کے دوران ہوا جب پیداوار میں کمی کے باوجود 12 ٹریلین ڈالر سے زائد کی رقم سسٹم میں شامل کی گئی۔

 

جہاں تک تبادلے کے خطوط اور کرنسیوں کے لین دین (Swap Lines) کے استعمال کا تعلق ہے، تو فیڈرل ریزرو کا یہ ماننا ہے کہ وہ سالانہ 10 ٹریلین ڈالر تک جو رقم پیدا کرے گا، اسے فوری طور پر ان مختلف ممالک میں تقسیم کر دیا جائے گا جنہیں ان ڈالروں کی ضرورت ہے۔ جس طرح فیڈرل ریزرو کی طرف سے پٹرول کے بدلے پیدا کیے جانے والے موجودہ ڈالر مہنگائی (افراط زر) کا سبب یا ذریعہ نہیں بنتے کیونکہ وہ براہ راست پٹرول خریدنے کے لیے استعمال ہو جاتے ہیں، اسی طرح غیر ملکی کرنسیوں کے بدلے پیدا کیے جانے والے یہ 'سواپ ڈالر' بھی ان ممالک کی منڈیوں میں امریکی مارکیٹ سے دور استعمال ہوں گے، جو اسے مہنگائی کی برائیوں سے محفوظ رکھے گا۔

 

رہی بات یہ کہ متحدہ عرب امارات یا جاپان جیسا ملک اپنی کرنسی کا ڈالر کے ساتھ تبادلہ کیوں کرے گا، تو فیڈرل ریزرو کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ ممالک اپنے بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ عالمی بینک سے اونچی سودی شرحوں اور سخت شرائط پر 100 ارب ڈالر ادھار لینے کے بجائے، مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) ان ممالک کو بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے ڈالر فراہم کرتا ہے اور ان ممالک پر کوئی بھاری سودی بوجھ یا سخت شرائط عائد نہیں کرتا۔

 

تو پھر اس میں امریکی فیڈرل ریزرو کا کیا فائدہ ہے؟ اس کا فائدہ دو باتوں میں پوشیدہ ہے؛ پہلا یہ کہ فیڈرل ریزرو کو اس قابل بنانا کہ وہ ان ممالک کی کرنسیوں کو بطور ضمانت یا رہن رکھ کر اس نظام میں شامل ممالک کے لیے ڈالروں کی بھاری مقدار پیدا کر سکے۔ ایک یا دو سال بعد رہن ختم ہونے پر یہ ڈالر فیڈرل ریزرو کے خزانے میں واپس آجاتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ فیڈرل ریزرو نے دوسرے ممالک کے مفاد کے لیے ڈالر پیدا کیے لیکن آخر کار وہ اس کے اپنے ہی خزانے میں واپس آگئے۔ دوسرا یہ کہ تبادلے کے وقت فیڈرل ریزرو مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات کی کرنسی خریدنے کا عمل کرتا ہے (جیسا کہ ٹرمپ کے بیان میں دو کرنسیوں کے تبادلے کے طور پر بیان کیا گیا ہے) اور تبادلے کی شرح اس وقت کی دونوں کرنسیوں کی قیمت کے مطابق طے کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ جب متحدہ عرب امارات اپنا بحران ختم ہونے کے بعد اپنی کرنسی واپس لیتا ہے، تو وہ اپنے پاس موجود ڈالروں کے ذریعے اپنی کرنسی دوبارہ خریدتا ہے۔ 2005 میں اس نظام کے آغاز سے اب تک کے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فیڈرل ریزرو ہمیشہ شریک ممالک کی کرنسی مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر حاصل کرتا ہے، اور جب وہ اسے واپس کرتا ہے یا اصل مالک کو بیچتا ہے تو اسے ایک خاص منافع کے مارجن کے ساتھ بیچتا ہے۔

 

لیکن اس نظام کا وہ 'بم' کہاں چھپا ہے جو کسی نہ کسی لمحے پھٹ جائے گا؟ تو اس کا جواب وہی مسئلہ ہے جسے فیڈرل ریزرو حل کرنا چاہتا تھا اور وہ ہے 'مالیاتی افراط زر' (مہنگائی) کا مسئلہ، جو اخراجات یا پیداوار میں ڈالروں کو استعمال کیے بغیر ان کے بڑے پیمانے پر جمع ہو جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ تبادلے کا یہ نظام اس مسئلے کو ہر ملک کے انفرادی افراط زر سے نکال کر بیک وقت 'عالمی مالیاتی افراط زر' میں تبدیل کر دے گا۔ جب فیڈرل ریزرو 10 ٹریلین ڈالر پیدا کرے گا، اور اس کے اپنے تخمینے کے مطابق 2050 تک یہ پیداوار 20 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی، تو مہنگائی کا یہ مسئلہ قومی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن جائے گا، یعنی پوری دنیا مجموعی طور پر ایک ہی کرنسی 'ڈالر' کی بہت زیادہ بہتات کا شکار ہو جائے گی، جس سے اس ڈالر کی قیمت بری طرح گر جائے گی، اور یہ دنیا بھر میں بنیادی ضرورتوں کی خریداری اور منصوبوں کی مالی معاونت کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ یوں دنیا ایک بہت بڑے معاشی جمود (کساد بازاری) کا شکار ہو جائے گی، یہ سب ان ظالموں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوگی۔

﴿كَلَّا بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ * وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ * وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلاً لَّمّاً * وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبّاً جَمّاً * كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكّاً دَكّاً...

 

"ہرگز نہیں، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو۔ اور وراثت کا مال سمیٹ کر (جائز و ناجائز کا لحاظ کیے بغیر) کھا جاتے ہو۔ اور مال سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہو۔ ہرگز نہیں، جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا۔" (سورۃ الفجر: آیات 17 تا 21)

Last modified onہفتہ, 02 مئی 2026 02:27

Latest from

Template Design © Joomla Templates | GavickPro. All rights reserved.