بسم الله الرحمن الرحيم
کیا پاکستان، ترکی اور ایران کی مشترکہ مسلح افواج ٹرمپ کو پسپائی پر مجبور کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں؟
خبر:
پاکستان کی مسلح افواج کے میڈیا ونگ نے 30 جنوری 2026 کو رپورٹ کیا کہ: "ترک جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل سلجوک بیرقدراوغلو نے آج جنرل ہیڈکوارٹرز (GHQ) میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز سے ملاقات کی۔۔۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خطے اور دنیا کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، اور دو طرفہ دفاعی و عسکری تعاون کو مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔"
تبصرہ:
مسلم دنیا، بلکہ پوری دنیا کی دو طاقتور ترین افواج کے عسکری سربراہان کی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ نے ایران کی جانب ایک بحری بیڑہ روانہ کر دیا ہے اور فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس کے باوجود، انہوں نے کفار کی مسلح افواج کو پسپا کرنے کے لیے کسی اقدام پر گفتگو نہیں کی، حالانکہ ایران، ترکی اور پاکستان کی مشترکہ مسلح افواج امریکی افواج سے کہیں زیادہ بڑی ہیں، اور موجودہ فعال جنگی محاذ تک ان کی رسد کی لائنیں (LOC) نہ صرف کہیں مختصر بلکہ زیادہ محفوظ بھی ہیں۔ ترکی کی ایران کے ساتھ 534 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جبکہ پاکستان کی ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ اس کے برعکس، امریکہ کے لیے واشنگٹن سے تہران کا فاصلہ 10,000 کلومیٹر سے زائد ہے، جبکہ اس کی تمام رسدی لائنیں مسلمانوں کی سرزمین، سمندروں اور فضاؤں سے گزرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں جب بھی امریکہ نے مسلمانوں کی سرزمین پر حملے کیے، چاہے افغانستان ہو یا عراق، پاکستان، ترکی، ایران اور پاکستان میں امریکہ کے اطاعت گزاروں نے امریکی افواج کو ضروری فضائی اڈے، فضائی راہداریوں اور انٹیلی جنس فراہم کی، جن کے بغیر امریکہ حملہ نہیں کر سکتا تھا۔
ترکی اور پاکستان میں موجود امریکہ کے ایجنٹ، امریکہ کی اپنے ایجنٹوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی ظالمانہ پالیسی سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے، جو یہ ہے کہ جب وہ ایجنٹ امریکہ کے مفادات کی خدمت کے قابل نہیں رہتے تو انہیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ایران نے بھی دہائیوں تک امریکی مفادات کی خدمت کی ہے، چاہے افغانستان کا معاملہ ہو، عراق، شام یا فلسطین۔ ایران میں امریکہ کے اطاعت گزار اس وقت بھی محض نمائشی اقدامات تک محدود رہے جب امریکہ اور یہودی وجود نے محورِ مزاحمت کو توڑا۔ لیکن اتنی طویل خدمت کے بعد آج امریکی توپیں ایران میں امریکہ کے اطاعت گزاروں کے دروازے پر آن کھڑی ہوئی ہیں۔ یقیناً امریکہ اپنے ایجنٹوں اور اطاعت گزاروں سے شراکت داروں جیسا سلوک نہیں کرتا، بلکہ انہیں ملازم سمجھتا ہے۔ جب تک وہ مفید ہوتے ہیں، انہیں استعمال کرتا ہے اور پھر کام ختم ہونے پر انہیں پھینک دیتا ہے۔ اس کے باوجود، امریکہ کے اطاعت گزار اقتدار میں چمٹے رہنے کے لیے غیر ملکی امریکی سہارے پر انحصار کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ دین اور امتِ اسلام کی حمایت کر کے مضبوط عوامی تائید حاصل کریں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے خبردار فرمایا:
﴿مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنكَبُوتِ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ﴾
"
ان لوگوں کی مثال جو اللہ کے سوا دوسروں کو دوست بناتے ہیں، مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنا لیا، اور یقیناً گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر ہے، کاش وہ جانتے ہوتے۔" [سورۃ العنکبوت: آیت41]
اے امتِ اسلام!
ہم اپنے دشمنوں کے سامنے کمزور نہیں ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے امتِ اسلام کو عظیم لشکر، بے پناہ وسائل، اور دنیا کی بڑی آبی گزرگاہوں، زمینی راستوں اور فضائی راہداریوں پر کنٹرول عطا فرمایا ہے۔ ہم کمزور نہیں ہیں، بلکہ ہمیں کمزور ان حکمرانوں نے کیا ہے جو ہمارے دشمنوں سے اتحاد کرتے ہیں، ہماری مسلح افواج کو لڑنے سے روکتے ہیں، اور کفار کو مسلمانوں پر حملے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ دین کی عزت کو بحال کرنے اور اہلِ ایمان کو متحد کرنے کی جدوجہد کرنے کے بجائے، مسلمانوں کے حکمران دشمنوں کا ساتھ دیتے ہیں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے غضب کے مستحق بنتے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
﴿الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا﴾
"
جو لوگ مومنوں کی بجائے کافروں کو دوست بناتے ہیں، کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس یقیناً ساری عزت اللہ ہی کے لیے ہے۔" [سورۃ النساء: آیت 139]
اے مسلمانوں کی مسلح افواج!
مسلمانوں کا اتحاد آج انڈونیشیا سے مراکش تک پھیلی ہوئی پوری امتِ اسلام کی ایک پکار اور دعا بن چکا ہے۔ امت کا اپنے دشمنوں اور ان کے ظلم کے خلاف غصہ اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اب یہ تم پر لازم ہے کہ امت کی ڈھال یعنی نبوت کے نقشِ قدم پر قائم خلافتِ راشدہ کے دوبارہ قیام کے لیے اپنی نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کرو۔ جہاں تک تمہاری جدوجہد اور قربانی کے بدلے کا تعلق ہے، تو رسول اللہ ﷺ اور انصارؓ کے مجاہدین کے درمیان ہونے والی گفتگو کو یاد کرو، جو دوسری بیعتِ عقبہ، یعنی بیعتِ رجال، بیعتِ نصرۃ اور بیعتِ جنگ کے موقع پر ہوئی۔ انصارؓ نے کہا: فَإِنّا نَأْخُذُهُ عَلَى مُصِيبَةِ الْأَمْوَالِ وَقَتْلِ الْأَشْرَافِ، فَمَا لَنَا بِذَلِكَ يَا رَسُولَ اللّهِ إِنْ نَحْنُ وَفّيْنَا "ہم اسے قبول کرتے ہیں، چاہے اس میں ہمارے مالوں کا نقصان اور ہمارے معزز لوگوں کی جانیں جانا شامل ہو۔ تو اگر ہم اپنی بیعت پوری کریں تو ہمارے لیے کیا ہے، اے اللہ کے رسول ﷺ؟"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: الْجَنَّةُ "جنت۔" انصارؓ نے جواب دیا: اُبْسُطْ يَدَكَ "اپنا ہاتھ بڑھائیں۔"
پھر روایت ہے: فَبَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعُوهُ "پس نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور انہوں نے آپ سے بیعت کر لی۔" پس حزب التحریر تم سے نصرۃ (عسکری مدد) طلب کرتی ہے، لہٰذا اس کی پکار پر لبیک کہو۔
مصعب عمیر، ولایہ پاکستان