امریکہ نے نئے صدر کی سربراہی میں اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کے لیے دوبارہ عہد کر لیا
- Published in پاکستان
- Written by Super User
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- الموافق
امریکہ نے نئے صدر کی سربراہی میں اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کے لیے دوبارہ عہد کر لیا
امریکہ نے نئے صدر کی سربراہی میں اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کے لیے دوبارہ عہد کر لیا
30 مارچ کی صبح جدید اسلحے سے لیس درجن کے قریب نامعلوم افراد نے لاہور کے علاقے مناواں میں پولیس ٹریننگ سکول پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے بلاتاخیر اس سانحے کو قبائلی علاقے سے منسلک کیا جہاں امریکہ جنگ کی آگ کو بھڑکائے رکھنا چاہتا ہے ۔
گزشتہ کچھ عرعے سے ہم کوپن ہیگن کے علاقوں میں مختلف گینگوں (gangs) کے مابین ایک بڑھتا ہوا تنازع دیکھ رہے ہیں ۔
17 رمضان کو غزوہءبدر ، جس میں رسول اللہ ﷺ نے کفار پر یقینی فتح حاصل کی تھی ،کے یادگار دن کے موقع پرحزب التحریر ولایہ پاکستان نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں "رمضان -غلبہ ء اسلام کا مہینہ" کے عنوان سے سمینارز منعقد کیے ۔ ان سمینارز میں یہ اعلامیہ جاری کیاجاتاہے:
سلام ان پر جس نے اللہ کی ہدایت کی پیروی کی !
جزب التحریر ایک فکری اور سیاسی جماعت ہے جو کہ تمام اسلامی ممالک میں خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ۔ ۔ ۔
7اپریل 2009کو اوباما نے ترکی کا دورہ مکمل کر لیا۔ امریکی صدر اوباما کا یہ دورہ ظاہری طور پر خوش نمابیانات سے پُر تھا، کہ جن کے ذریعے اس نے یہ ثابت کر نے کی کو شش کی کہ وہ اسلام یا مسلمانوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے ،نیز ترکی امریکہ اور پوری دنیا کے لیے اہم ملک ہے کیونکہ وہ اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان پُل کا کام دے سکتا ہے۔ اُس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی دنیا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات محض دہشت گردی کے خلاف لڑنے تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ کئی دیگر امور پر مشتمل ہیں۔ اور اوبامااسلامی دنیا اور مغرب کے مابین ڈائیلاگ بنانے کی کوشش کرے گا ۔ ترک پارلیمنٹ کے سامنے اپنے خطاب اور ترکی میں ہونے والی دیگر ملاقاتوں اور کانفرنسو ں میں اوباما نے انہی خطوط پربات کی۔