الخميس، 08 شوال 1447| 2026/03/26
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

المكتب الإعــلامي
مرکزی حزب التحریر

ہجری تاریخ    29 من رمــضان المبارك 1447هـ شمارہ نمبر: 1447 AH / 058
عیسوی تاریخ     جمعرات, 19 مارچ 2026 م

 

شوال 1447ھ کے نئے چاند کی تحقیقات کے نتائج کا اعلان اور عید الفطر کی مبارکباد

 

 

(ترجمہ)

 

 

 

                                       

 

اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا إله إلا الله… اللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه ومن والاه۔

 

امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں محمد بن زیاد سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُبِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ»"چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی روزہ افطار کرو، اور اگر تم پر (چاند) مخفی ہو جائے تو تیس دن پورے کرو۔"

 

اس مبارک شب، ہلالِ شوال کی تلاش کے بعد، شرعی شہادت کے ساتھ چاند کی رؤیت بعض مسلم ممالک میں ثابت ہو گئی ہے۔ لہٰذا کل بروز جمعرات شوال کا پہلا دن اور عید الفطر کا پہلا دن ہوگا۔

 

اس موقع پر میں اپنی جانب سے، اور حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے سربراہ اور اس کے تمام کارکنان کی جانب سے، حزب التحریر کے امیر، جلیل القدر عالم عطاء بن خلیل ابو الرشتہ، کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں نصرت عطا فرمائے اور ان کے ہاتھوں اسلام اور مسلمانوں کو تمکین دے، یہاں تک کہ امت جلد از جلد انہیں اپنا خلیفہ مقرر کرے۔

 

حزب التحریر اپنے امیر، دنیا بھر میں اپنے شباب اور اپنی خواتین کارکنان کے ساتھ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کرتی ہے کہ اس سال کی عید الفطر امتِ مسلمہ کے لیے خوشخبری بنے، اور یہ عید دوبارہ اس حال میں آئے کہ اللہ تعالیٰ نے امت کو خلافت، اقتدار اور امن کی نعمت عطا فرما دی ہو۔

 

اس سال عید الفطر ایسے وقت میں آ رہی ہے جب مسلم دنیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات امت کے شعور پر گہرے نقوش ثبت کر رہے ہیں اور اسے مغالطوں اور وہموں سے نکال رہے ہیں۔ امت پر یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ مغربی کافر استعمار سے مدد طلب کرنا، یا اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس کے مفادات کی خدمت کرنا، حتیٰ کہ اس کے شر سے بچنے کے بہانے سے بھی، ایک خسارے کا سودا ہے، جس کا انجام دنیا و آخرت کی رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔

 

چنانچہ مسلم ممالک کے حکمرانوں نے ٹرمپ کو امت کے مال میں سے اربوں بلکہ کھربوں ڈالر  اس بہانے سے دیے کہ امریکہ سے تحفظ حاصل کیا جائے، مگر امریکہ نے انہی کے ممالک میں جنگ بھڑکا دی۔ بلکہ ٹرمپ انہیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے اپنی جنگوں میں شریک ہونے پر مجبور کر رہا ہے۔

 

اسی طرح ایران، جو دہائیوں تک امریکہ کے دائرۂ اثر میں گھومتا رہا، اور افغانستان و عراق پر امریکی قبضے میں اس کے ساتھ تعاون کرتا رہا، یہاں تک کہ ایران کے ایک سابق صدر نے خود اعتراف کیا کہ اگر ایران نہ ہوتا تو امریکہ ان دونوں ممالک پر قبضہ نہ کر پاتا، اس کے باوجود آج امریکہ ایران کے کسی احسان کو نہیں مانتا، بلکہ اس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا، اس کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا اور اس کے نظام کو گرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

 

مسلم ممالک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں دو بنیادی امور پر غور کرنا چاہیے:

 

پہلا یہ کہ مغربی کافر استعمار کے سامنے جھکنے کی تمام دعوتیں، چاہے اس کے شر سے بچنے کے لیے ہوں یا اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے، درحقیقت سیاسی خودکشی ہیں، جن کا انجام تباہی اور بربادی ہے، جیسا کہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے۔ مزید برآں یہ عمل حرام ہے، کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے اور خلفائے راشدین کے منہج کے خلاف ہے، اور دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔

 

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاء تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ

 

"اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کی طرف دوستی کا پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ انہوں نے اس حق کا انکار کیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے۔" [ سورۃ الممتحنہ ، 1]

 

دوسری بات یہ کہ مسلمان مغربی کافر استعمار اور اس کے ایجنٹوں کی ان باتوں سے ہرگز دھوکا نہ کھائیں کہ مسلم علاقے اپنی حاکمیت دوبارہ حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مغرب کے پاس جو طاقت ہے وہ اس سے بڑھ کر نہیں جو ہم دیکھ چکے۔ چنانچہ یہی امریکہ، جس کی فوج کو دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، اپنے اُن دعوؤں کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، جن کے ذریعے اس نے دنیا کو یہ باور کرایا تھا کہ ایران کے ساتھ اس کی جنگ ایک آسان مہم ہوگی، بالکل ویسی ہی جیسے اس نے وینزویلا میں کیا تھا۔ مگر یہ جنگ طول پکڑ گئی اور پیچیدہ ہو گئی، یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے حامی تنگی اور دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں، اور وہ یکے بعد دیگرے اپنی کامیابیوں کے بارے میں جھوٹے دعوے کرنے لگے، جبکہ درحقیقت وہ اس بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

 

چنانچہ اس بابرکت موقع پر ہم امتِ مسلمہ کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے دشمنوں کی ناپسندیدگی اور مخالفت کے باوجود عید کی مسرتوں کو بھرپور انداز میں منائے، اور اس سال کی عید الفطر کو نصرت و تمکین کی امید کے طور پر ایک اہم سنگِ میل بنائے۔ نیز وہ اس حقیقت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھے کہ خلافت ہی وہ سیاسی نظام ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے رکھی، اور جسے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم نے عملاً نافذ کیا۔ یہی وہ نظام ہے جس نے امتِ مسلمہ کو اس کی پوری تاریخ میں عزت و وقار سے سرفراز رکھا، اور اس کے سائے کے بغیر امت کو کبھی حقیقی عزت نصیب نہیں ہوئی۔ لہٰذا امت کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اس کے قیام کے لیے سنجیدہ اور منظم جدوجہد میں بھرپور طور پر شریک ہو، اور اسے اپنی فیصلہ کن اور بنیادی ترجیح بنا لے۔

 

حزب التحریر کے نوجوان اس عظیم فریضے کی ادائیگی کے لیے اسلامی ثقافت اور سیاسی شعور کے ساتھ تیار ہیں۔ وہ آپ کے ساتھ، آپ کے درمیان موجود ہیں اور آپ کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں، تاکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں اور آپ کو نصرت و تمکین سے نوازے۔ اور اس کاٹ کھانے والی حکمرانی کے بعد اس خلافت راشدہ کی (واپسی کی) بشارت رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں دی ہے جسے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا: «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، ثُمَّ سَكَتَ»"پھر نبوت کے نقش قدم پر خلافت قائم ہوگی، پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔"

 

 

آپ سب کو عید مبارک۔

 

والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔

 

جمعرات کی شب، یکم شوال 1447ھ

 

بمطابق 19 مارچ 2026ء

 

انجینئر صلاح الدین عضاضہ

 

ڈائریکٹر، مرکزی شعبۂ اطلاعات، حزب التحریر

 

المكتب الإعلامي لحزب التحرير
مرکزی حزب التحریر
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ
Al-Mazraa P.O. Box. 14-5010 Beirut- Lebanon
تلفون:  009611307594 موبائل: 0096171724043
https://www.hizb-uttahrir.info
فاكس:  009611307594
E-Mail: E-Mail: media (at) hizb-uttahrir.info

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک