المكتب الإعــلامي
ولایہ سوڈان
| ہجری تاریخ | 26 من ربيع الثاني 1447هـ | شمارہ نمبر: 1447/44 |
| عیسوی تاریخ | ہفتہ, 18 اکتوبر 2025 م |
بروز ہفتہ 26 ربیع الآخر 1447ھ، بمطابق 18 اکتوبر، 2025ء کو منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کے موقع پر،
حزب التحریر، ولایہ سوڈان کے آفیشل ترجمان کی تقریر
بعنوان: ”سونے کے لین دین کو منظم کرنے کے طریقۂ کار میں حکومت کی الجھن اور پاؤنڈ کی قدر پر اس کے پڑنے والے اثرات“
(ترجمہ)
2011ء میں جنوبی سوڈان کی علیحدگی اور سوڈان کی تیل کی برآمدات کے 75 فیصد سے زیادہ حصے کے ضائع ہو جانے کے بعد، سونا اس نقصان کی تلافی اور غیر ملکی کرنسی میں آمدنی حاصل کرنے کے لئے ایک اہم متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آیا تھا۔ 2008ء کے عرصہ میں سوڈان میں کان کنی کا عمل بڑے پیمانے پر پھیل گیا، اور سونے کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا، یہاں تک کہ 2024ء میں یہ پیداوار 73.8 ٹن تک پہنچ گئی، جس کے باعث سوڈان افریقہ میں پانچویں نمبر پر آ گیا (الجزیرہ ڈاٹ نیٹ)۔ تاہم، سونے کی اس قدر وافر اور بڑی پیداوار نہ تو ریاست کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی اور نہ ہی عوام کے لئے؛ بلکہ سونے کی یہ پیداوار چند افراد، غیر ملکی اور مقامی کمپنیوں کی لوٹ مار کا شکار ہو گئی، حتیٰ کہ روایتی کان کنی سے حاصل ہونے والا سونا بھی بعض کمپنیوں اور اداروں کے ذریعے خریدا اور اسمگل کیا جانے لگا ہے۔ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے، اس بات کی تصدیق کے لئے ہم مثال کے طور پر سوڈان کے سونے کی بڑی بڑی کانوں اور ان کے ساتھ حکومت کے طرزِعمل کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ طرزعمل انہی کانوں تک ہی محدود نہیں ہے!
ان کانوں میں سے ایک جبلِ عامر کی کان ہے، جو الفاشر شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، اور رائٹرز کے مطابق اس کان کی سالانہ پیداوار کا تخمینہ تقریباً 50 ٹن ہے، جو اسے افریقہ کی تیسری بڑی سونے کی کان بناتی ہے۔ اس کے باوجود حکومت نے اس کان پر کنٹرول حاصل نہیں کیا، بلکہ اسے مسلح گروہوں کی لوٹ مار کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان میں آخری واقعہ 2017ء میں پیش آیا، جب سونے کی یہ کان ریپڈ سپورٹ فورسز اور ویگنر جیسی روسی کمپنیوں کی ملکیت بن گئی۔
اگرچہ ریپڈ سپورٹ فورسز سے وابستہ الجنید کمپنی نے 2021ء میں اعلان کیا تھا کہ اس نے جبلِ عامر کی کان حکومت کے حوالے کر دی ہے، لیکن حقیقت میں یہ کان آج تک اسی کمپنی کے کنٹرول میں ہی ہے۔
حَسّال کی کان، جو شمال مشرقی سوڈان میں واقع ہے، اس میں 60 فیصد ملکیت اَریاب سوڈانی کمپنی کی ہے، جبکہ 40 فیصد ملکیت لا مانچا ریسورسز کی ہے، جو مصری تاجر نجیب ساویرس کی ملکیت ہے۔
بلاک 14 کی کان، جو شمالی سوڈان میں مصر کی سرحد کے قریب واقع ہے اور ”میاس سینڈ پراجیکٹ“کے نام سے جانی جاتی ہے، اس میں 70 فیصد ملکیت آسٹریلوی کمپنی 'پیر سوز-Per Sues' کی ہے، 20 فیصد سوڈانی حکومت کی، اور 10 فیصد ملکیت ایک مقامی سوڈانی کمپنی کی ہے جو 'میاس' کے نام سے جانی جاتی ہے۔
الجزیرہ نیٹ کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، جبلِ عامر کی کان اور جنوبی دارفور کی دس سے زائد دیگر کانوں سے نکلنے والا سونا ریاستِ چاڈ کو اسمگل کیا جاتا ہے، جہاں اس سونے کو کاغذات میں ریاست چاڈ کا جاری کردہ سونا ظاہر کیا جاتا ہے، اور پھر اسے متحدہ عرب امارات کو برآمد کر دیا جاتا ہے۔ سوڈان سے سونے کی اسمگلنگ میں سالویشن حکومت کے دور سے ہی حکومت کے بااثر افراد ملوث رہے ہیں، کیونکہ یہ سونا خرطوم ایئرپورٹ اور سوڈانی بندرگاہوں کے ذریعے اسمگل کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ فوج سے وابستہ اور انٹیلی جنس ادارے سے منسلک کمپنیاں بھی سونے کی تلاش اور کان کنی میں سرگرم ہیں، اور ان کمپنیوں کی آمدن کو ریاست کے خزانے میں داخل نہیں کیا جاتا۔
سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان اس جنگ کے آغاز کے بعد سے،جبکہ اس جنگ نے زیادہ تر معاشی اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے رکھ دیا، اور ان برآمدات کو بھی روک دیا جو ریاست کے خزانے کو نام نہاد غیر ملکی کرنسی (ڈالر) فراہم کرتی تھیں، اس جنگ کے نتیجہ میں مقامی کرنسی، یعنی سوڈانی پاؤنڈ، امریکی ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں تیزی سے کمزور اور تباہ ہونے لگی۔ اس کا براہ راست اثر عوام کی زندگیوں پر پڑا، جو پہلے ہی جنگ کی وجہ سے ناقابلِ برداشت ہو چکی تھیں؛ غربت اور محرومی میں اضافہ ہوا، اور بھوک وافلاس کے ساتھ امراض بھی پھیل گئے۔
اس بگاڑ کو روکنے کی کاوش کے تحت، وزیرِ اعظم کامل ادریس کی سربراہی میں اقتصادی ہنگامی کمیٹی نے بدھ، 20 اگست 2025ء کو ایک اجلاس منعقد کیا، اور سوڈان نیوز ایجنسی کے مطابق، اس اقتصادی ہنگامی کمیٹی نے اقتصادی کارکردگی کو منظم کرنے کے لئے فیصلے جاری کئے۔ ان فیصلوں میں سب سے اہم یہ تھے:
1- کاغذات کے بغیر سونے کی ملکیت یا سٹور کرنے کو اسمگلنگ کا جرم قرار دینا۔
2- سونے کی اسمگلنگ کو روکنے کے لئے برآمدات کی نگرانی کرنا۔
3- سونے کی خرید و فروخت اور اس کی مارکیٹنگ کو ایک سرکاری ادارے تک محدود کرنا۔
اس بات کی تصدیق کے باوجود کہ سونے کی خرید و فروخت اور اس کی مارکیٹنگ کو ایک سرکاری ادارے تک محدود ہونا چاہیے، انہوں نے خود ہی اس فیصلے کی خلاف ورزی کی۔ ایک اجلاس میں سوڈان کے مرکزی بینک کے معزول گورنر، برعی الصادق، نے اس بات پر اصرار کیا کہ سونے کی برآمد کا واحد مجاز ادارہ مرکزی بینکِ سوڈان ہونا چاہیے۔ 12 اکتوبر، 2025ء کو پورٹ سوڈان میں وزارتی کمپلیکس میں منعقد ہونے والے اس سرکاری اجلاس میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا، گورنر برعی اس فیصلے پر قائم رہے کہ سونے کی برآمد صرف مرکزی بینک کے ذریعے ہو، جبکہ سونا برآمد کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں نے مرکزی بینک کی ثالثی کے بغیر براہِ راست برآمد کے اپنے حق پر زور دیا۔ وزیرِ خزانہ جبریل ابراہیم نے کمپنیوں کے مؤقف کی حمایت کی، جس پر گورنر غصے میں اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ یہی واقعہ، گورنر برعی کی برطرفی کا سبب بنا، اور اگلے ہی دن البرہان نے انہیں عہدے سے ہٹانے اور امینہ میرغني کی تقرری کا فیصلہ جاری کیا، جو سوڈان میں اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
بہرحال اسی دوران، سونے کے معاملے میں حکومتی طرزِ عمل میں مسائل کی جڑ بدستور موجود ہے :
ا- بڑی سونے کی کانوں کو ریاست کے بجائے کمپنیوں اور افراد کے حوالے کر دینا، جس کے نتیجے میں ملکی دولت کا بڑا حصہ چند ہاتھوں میں چلا گیا۔
ب- نکالے جانے والے سونے پر کنٹرول قائم کرنے اور اس کی مقدار معلوم کرنے میں ناکامی۔
ج- نکالے گئے سونے کے حوالے سے خریداری کی قیمت، خریداری کرنے والے ادارے اور اجارہ داری سے متعلق متضاد پالیسیاں، جن کے باعث بیرونِ ملک اور ہمسایہ ممالک (مصر، متحدہ عرب امارات اور چاڈ) کی طرف اس سونے کی اسمگلنگ کا پھیلاؤ ہوا۔
د- روایتی کان کنی سے فائدہ نہ اٹھانا، حالانکہ یہی سونا اسمگل ہو رہا ہے، یاد رہے کہ اعلان کردہ سونے کی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد حصہ روایتی کان کنی سے ہی حاصل ہوتا ہے، جو سونے کی اسمگلنگ کے حجم کو ظاہر کرتا ہے۔
چونکہ سونے کا مسئلہ براہِ راست کرنسی سے جڑا ہوا ہے، اس لئے سوڈانی پاؤنڈ کی قدر میں مسلسل کمی کے مسئلے کو چند بنیادی اسباب میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے:
1- سوڈانی پاؤنڈ کی بنیاد سونے اور چاندی کے بجائے ڈالر پر ہونا۔
2- سونے یا کسی اجناس سے منسلک کئے بغیر کرنسی نوٹ چھاپنا، جس سے افراطِ زر کی شرح بڑھتی ہے اور پاؤنڈ کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے۔
3- اسمگلنگ اور سیاسی عدم استحکام کے باعث برآمدات کا کمزور ہونا، حالانکہ سوڈان کے پاس زرعی، لائیواسٹاک اور معدنی دولت کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جو اسے دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل کر سکتی تھی۔
4- گندم، ادویات، پٹرولیم مصنوعات اور دیگر بہت سی ضروریات کے لئےدرآمدات پر انحصار، جس کے لئے ڈالر درکار ہوتے ہیں، اس سے ڈالر کی طلب بڑھتی ہے اور پاؤنڈ کمزور ہوتا ہے۔ لوگوں کا سوڈانی پاؤنڈ پر اعتماد ختم ہو گیا، جو روز بروز گرتا جا رہا ہے، چنانچہ لوگ—خصوصاً تاجر حضرات—اپنی بچت کی قدر کو محفوظ رکھنے کے لئے ڈالر یا سونا رکھنے کو ترجیح دینے لگے، جس سے ڈالر کی قیمت مزید بڑھ گئی اور مقامی کرنسی کی قدر کم ہو گئی۔
یہی حقیقت ہے سونے اور مقامی کرنسی—پاؤنڈ—کے حوالے سے حکومتی طرزِ عمل کی، اور یہ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے میں شدید الجھن اور وژن کی کمی پائی جاتی ہے۔
ہم، حزب التحریر، ولایہ سوڈان، اپنی امت کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کے تقاضے کے تحت، اس مسئلے کے بارے میں اسلامی عقیدے کی بنیاد پر بنیادی اور فیصلہ کن حل پیش کرتے ہیں، اور ہم کہتے ہیں:
اول : سونا، خاص طور پر وہ کان جو مسلسل پیداوار کرتی ہیں، جیسا کہ وہ کانیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا، وہ عوامی ملکیت کے زمرے میں آتی ہیں۔ اور کسی کمپنیوں یا افراد کے لئے ایسی کانوں کو اپنی ذاتی ملکیت کے طور پر رکھنا جائز نہیں؛ یہ پوری امت کا حق ہے۔ ریاست کا کام صرف استخراج اور مارکیٹنگ کی نگرانی کرنا ہے، اور اس کی آمدن یا تو عوامی منصوبوں میں خرچ ہونی چاہیے تاکہ سب لوگوں کو فائدہ پہنچے، یا براہِ راست عوام میں تقسیم کی جائے۔ ریاست کو عوامی ملکیت کو افراد یا کمپنیوں کو تفویض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، چاہے یہ گرانٹ کے ذریعے ہو، کسی تعلق کے ذریعے سے یا کسی بھی اور طریقے سے۔
ترمذی نے ابیض بن حمال سے روایت کیا ہے کہ: «أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ فَقَطَعَ لَهُ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْمَجْلِسِ: أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ؟ إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ. قَالَ: فَانْتَزَعَهُ مِنْهُ» ”وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاظر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے نمک(کی پہاڑی) حصے میں دے دیں، تو آپ ﷺ نے اسے وہ قطعۂ زمین دے دیا۔ جب وہ واپس ہونے لگا ، تو مجلس میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے اسے کیا عطا کر دیا ہے؟ آپ نے تو اسے مسلسل جاری رہنے والا پانی عطا کر دیا ہے۔ تو راوی فرماتے ہیں ،کہ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان سے وہ واپس لے لیا“۔
مسلسل جاری رہنے والا پانی وہ ہے جو ختم نہ ہو، یعنی رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک ایسا معدنی ذخیرہ عطا کر دیا تھا جو ختم نہیں ہوتا، کیونکہ نمک بھی مسلسل پانی کی طرح جاری رہنے والی ایک معدنیات ہے۔ لہٰذا حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ سونے کا کوئی حصہ کمپنیوں کو الاٹ کر دے۔ حکومت کو کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنے چاہئیں تاکہ سونا نکالنے کی مقدار طے کی جائے اور اس کا فائدہ عوام یا امت کو پہنچے، نہ کہ کمپنیوں کو۔ کمپنیوں کو نکالے گئے سونے پر کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یہ امر اس بات کا ضامن ہے کہ تمام سونا ریاست کے پاس رہے تاکہ اسے امت کے فائدے کے لئے خرچ کیا جا سکے۔
دوئم : ریاستی کرنسی کی بنیاد لازمی طور پر سونا اور چاندی ہونی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے رومی دینار اور فارسی درہم کو اسلامی ریاست کی کرنسی کے طور پر ایک معلوم وزن کے ساتھ منظور فرمایا، یہاں تک کہ اسلامی دینار 4.25 گرام اور درہم 2.975 گرام چاندی کے وزن پر جاری کر دیا گیا، اور اسلامی ریاست کی یہ کرنسی اس وقت تک جاری رہی جب تک کہ امریکی صدر نکسن کے فیصلے کے بعد ڈالر کو سونے سے الگ کر کے دنیا کی غالب کرنسی بنا دیا گیا۔ ڈالر وہ کرنسی بن گیا جس پر تقریباً پوری دنیا انحصار کرتی ہے۔
حزب التحریر نے ریاستِ خلافت کے لئے مسودہ آئین شائع کیا ہے، جس کے آرٹیکل 167 میں یہ درج ہے کہ :
”ریاست کی کرنسی سونا اور چاندی ہوتی ہے، چاہے یہ سکوں کی صورت میں ڈھلے ہوں یا نہ ہوں۔ ریاست کو ان کے علاوہ کوئی اور کرنسی اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ریاست سونے اور چاندی کے بدلے کچھ اور کرنسی جاری کر سکتی ہے بشرطیکہ ریاست کے خزانے میں اس کے برابر سونا اور چاندی موجود ہو۔ ریاست تانبہ، کانسی، کاغذ یا کوئی اور چیز جاری کر سکتی ہے اور اپنے نام سے اس پر کرنسی کے طور پر مہر لگا سکتی ہے بشرطیکہ اس کے برابر سونا اور چاندی خزانے میں موجود ہو“۔
ہم نے سونا اور چاندی کو کرنسی کی بنیاد کے طور پر مقرر کیا کیونکہ اسلام نے انہیں ایسے متعین کردہ احکام کے ساتھ منسلک کیا ہے جو تبدیل نہیں ہوتے، جیسے دیت یا خون بہا، 1000 سونے کے دینار، اور چوری پر حد نافذ کرنے کے لئے مقرر کردہ مقدار، جوکہ ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ ہو، اور دیگر احکام جو شریعت کے مطابق سونے اور چاندی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسلام نے کرنسی پر زکوٰۃ سونا اور چاندی کی بنیاد پر مقرر کی ہے، اور اسلام میں تمام مالی لین دین سونے اور چاندی کی بنیاد پر ہی ہوتے ہیں۔
سوئم : سوڈان سونے کی سرزمین ہے۔ جب یہ اپنی کرنسی کی بنیاد سونے پر رکھ دے گا، تو اس کی کرنسی سب سے مضبوط اور قیمتی ہوگی کیونکہ سونے کی اپنی ذاتی قدر ہوتی ہے جو کسی اور شے سے متاثر نہیں ہوتی۔ سونے کی قدر مستحکم رہتی ہے؛ گرچہ اس میں معمولی سی کمی بیشی یا اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ کبھی بھی موجودہ سوڈانی مقامی کرنسی کی طرح کمزور نہیں ہوگی۔ اور ایسا صرف شریعت کے سونے سے متعلق احکام کو نافذ کرنے سے ہی ممکن ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «...وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ» ”…اور دفن شدہ خزانے (رکاز) میں پانچواں حصہ ہے“۔
ریاست ان تمام مسلسل جاری رہنے والی کانوں کو، جو ختم نہیں ہوتیں اپنے قبضے میں لے لیتی ہے، اور اسے انفرادی (کان کی) پیداوار کا پانچواں حصہ لینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
چہارم : ایسا ادارہ جو ان بنیادی حل کو نافذ کرتا ہو ، وہ ادارہ ایک اصولی اور خودمختار ریاست ہوتی ہے، نہ کہ ہماری موجودہ صورتحال میں کام کرنے والی ریاست جو اس استعماری کفر کے ماتحت ہے جوکہ وسائل کو لوٹنا، عوام کو غربت میں دھکیلنا، اور امت کی یکجہتی کو توڑ کر انہیں کمزور کرنا چاہتا ہے! وہی امریکہ، جس نے جنوبی سوڈان کو علیحدہ کر دیا تاکہ سوڈان تیل کی دولت سے فائدہ نہ اٹھا سکے، اب اس دارفور کو علیحدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جوکہ سونے اور قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے۔
اے اہلِ سوڈان! آپ کے لئے نجات کا کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ آپ حزب التحریر کے ساتھ مل کر سنجیدگی سے کام کریں اور نبوت کے طریقے پر خلافتِ راشدہ کو قائم کریں، جس میں آپ کے رب کی رضا ہو گی، اور جو آپ کے وقار کو بحال کرے گی اور آپ کو اس قابل کرے گی کہ آپ اس ریاست کی رحمت کے سائے تلے رہیں اور ان نعمتوں سے فیضیاب ہوں جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہماری زمینوں میں عطا کر رکھی ہیں ۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ابراہیم عثمان (أبوخلیل)
ولایہ سوڈان میں حزب التحریر کے ترجمان
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ سوڈان |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: 0912240143- 0912377707 https://www.hizb-uttahrir.info |
E-Mail: Spokman_sd@dbzmail.com |





