المكتب الإعــلامي
ولایہ بنگلادیش
| ہجری تاریخ | 12 من جمادى الثانية 1447هـ | شمارہ نمبر: 1447/17 |
| عیسوی تاریخ | بدھ, 03 دسمبر 2025 م |
پریس ریلیز
*پیل خانہ واقعہ میں ہونے والا قتلِ عام ملک کی فوج کو کمزور کرنے کے لئےایک بھارتی سازش تھا — نیشنل انڈیپنڈنٹ انکوائری کمیشن کی اس رپورٹ نے اُس سچ کو ثابت کر دیا ہے جو حزب التحریر نے سولہ سال پہلے ہی جرأت مندانہ انداز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا تھا۔
ہم ایک بار پھر عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری فوج کو اپنے کنٹرول میں لینے کے امریکی منصوبے کے خلاف ہوشیار رہیں!*
(ترجمہ)
عبوری حکومت کی جانب سے پیل خانہ واقعہ میں ہونے والے قتلِ عام کے حوالے سے قائم کی گئی نیشنل انڈیپنڈنٹ انکوائری کمیشن (National Independent Inquiry Commission) نے اپنی تفتیشی رپورٹ جاری کر دی ہے، پیل خانہ کا یہ واقعہ جو 25 اور 26 فروری 2009ء کو بی ڈی آر ہیڈکوارٹرز (BDR Headquarters) میں پیش آیا اور جس میں 57 قابل اور باصلاحیت افسران شہید ہو گئے تھے۔ تفتیش نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حسینہ واجد، اس کا اسسٹنٹ، تاپوش اور دیگر ساتھی ملک کی فوج کو کمزور کرنے کے لئےبھارتی سازش پر عمل درآمد میں ملوث تھے۔ ہم پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث ان مجرموں کو فوری طور پر سزا دی جائے اور بھارت کو ایک دشمن ریاست قرار دیا جائے۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ دانا اور مخلص سیاسی جماعت، حزب التحریر، ہی وہ پہلی جماعت تھی جس نے اس حقیقت کو پوری جرأت کے ساتھ قوم کے سامنے پیش کر دیاتھا؛ 28 فروری 2009ء کو حزب التحریر ولایہ بنگلہ دیش کے شائع کردہ ایک پمفلٹ کا عنوان تھا: (”ہماری فوج اور بی ڈی آر کو تباہ کرنے کی بھارتی سازش اور حکومتی غفلت کے خلاف احتجاج“)۔ اس کے نتیجے میں، غدار حسینہ کی تیار کردہ یہ سازش اپنے آغاز ہی میں ناکام بنا دی گئی اور اسی دن سے ہی حسینہ کے زوال کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ پیل خانہ کے اس دلخراش سانحے کے فوراً بعد ہم نے نہ صرف اصل سازشیوں اور ان کے محرکات کو بے نقاب کیا، بلکہ ہم فوج کے اُن مخلص افسران کے لئے ایک حفاظتی ڈھال بھی بنے، جنہیں بعد میں حسینہ کی ظالم حکومت نے ”انتہا پسند“ قرار دے دیا تھا۔ اسی کے نتیجے میں، بعد ازاں برطرف ہونے والی حسینہ واجد کی حکومت نے حزب التحریر پر ظالمانہ پابندی عائد کر دی، حالانکہ یہ ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جو نہ تشدد کو اپناتی ہے اور نہ ہی اس پر عمل کرتی ہے اور حسینہ کی حکومت نے حزب کے شباب اور کارکنان کو ظلم و تشدد اور اذیت کا نشانہ بنانا جاری رکھا۔ تاہم، حزب نے معزول حسینہ واجد کی آمریت اور جبر کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے عوام کو اس کی حکومت کی جانب سے جاری مسلسل گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، قتل و غارت اور فوج کے مخلص افسران کی من مانے طریقے سے برطرفیوں کے خلاف کھڑے ہونے کی دعوت دی، جس پر عوام نے بھرپور انداز کے ساتھ لبیک کہا۔ چنانچہ 7 جنوری 2012ء کو شائع ہونے والے ہمارے پمفلٹ کا عنوان تھا: ”اے مسلمانو! امریکہ اور بھارت کے احکامات پر غدار حسینہ کے ہاتھوں ملک میں فوج کے مخلص افسران کے مسلسل اغوا، گرفتاری اور ان کی برطرفیوں کے خلاف احتجاج کرو“۔
اور اُس وقت اس قتلِ عام کی تحقیقات میں مقامی تفتیش کاروں کی مدد کے لئے امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (FBI) اور برطانوی اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے بھی شرکت کی تھی، اور چونکہ ان ایجنسیوں کے پاس عالمی معیار اور وسیع تجربہ موجود ہے، اس لئے اس قتل کی حقیقت کو بے نقاب کرنا یقیناً کوئی پیچیدہ کام نہیں تھا۔ تاہم، ان ایجنسیوں نے اس واقعہ پر پردہ ڈال دیا، کیونکہ حسینہ واجد برطانیہ کی ایجنٹ تھی، اور بھارت اس خطے میں امریکی و برطانوی مفادات کے تحفظ کےلئے ایک علاقائی ٹھیکیدار کا کردار ادا کرتا ہے۔ مزید برآں، امریکہ نے اس نام نہاد ’’اصلاحات‘‘ کی منظوری دی، کیونکہ فوج میں موجود باصلاحیت اور مخلص افسران سے چھٹکارا حاصل کرنا امریکہ۔بھارت تعلقات کے نئے فارمولے کے نفاذ کے لئےضروری تھا، (یعنی بنگلہ دیش کو بھارت کی آنکھوں سے دیکھنا)۔ ہم عوام کو یاد دلاتے ہیں کہ حالات کے بدلنے کے ساتھ ساتھ امریکیوں کا چہرے تو بدلتے رہے، لیکن امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہم ایک بار پھر خبردار کرتے ہیں کہ امریکہ اس واقعے کو ہماری فوج کے حوصلے پست کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے، اور وہ مسلسل ہماری فوج پر اپنا کنٹرول مسلط کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اسی مقصد کے تحت امریکہ نے فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے لئے اپنے ایجنٹوں کے گروہ کو متحرک کر رکھا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جولائی انقلاب سے جنم لینے والی موجودہ عبوری حکومت، جو عوامی امنگوں کی بنیاد پر حقیقی تبدیلی کے لئے اقتدار میں آئی ہے، اس حکومت نے حزب التحریر پر سے وہ ظالمانہ پابندی کیوں نہیں ہٹائی جو برطرف ہونے والی حسینہ واجد نے عائد کر رکھی تھی؟ تو کیا صرف چہرہ اور ظاہری روپ ہی بدلا ہے، لیکن کیا وہی سازش بدستور جاری ہے؟ درحقیقت، پیل خانہ کے قتلِ عام کے حوالے سے امریکہ نواز سیاسی جماعتوں کے مگرمچھ کے آنسو اور بھارت دشمنی کے دعوے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے محض ایک دھوکہ ہیں، کیونکہ وہ امریکہ۔بھارت تعلقات کی حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں، اور وہ ان حدود کے پابند ہیں جو ان کے کافر استعماری آقا نے ان کے لئےمتعین کر رکھے ہیں۔
اے لوگو!
حزب التحریر، جو ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جو اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتی، امتِ مسلمہ کو کافر استعماری ریاستوں کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے فکری اور سیاسی جدوجہد کر رہی ہے۔ اور ہم ایک بار پھر نہایت واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ ملک کو کافر استعماری طاقتوں، امریکہ اور برطانیہ، اور ان کے علاقائی آلۂ کاروں — یہودی وجود اور ہندوتوا ہندو بھارت — سے اس وقت تک نجات نہیں مل سکتی جب تک نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کو قائم نہ کر لیا جائے، جس کا وعدہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے اور جس کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دی ہے، ان شاء اللہ! لہٰذا یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک عوامی انقلاب کا مطلوبہ مقصد، یعنی عوام کی حقیقی آزادی، حاصل نہیں ہو جاتی۔ اور ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حزب التحریر کی قیادت تلے متحد رہیں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا،
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ‘‘ (سورۃ التوبہ؛ 9: 119)
ولایہ بنگلہ دیش میں حزب التحریر کا میڈیا آفس
| المكتب الإعلامي لحزب التحرير ولایہ بنگلادیش |
خط وکتابت اور رابطہ کرنے کا پتہ تلفون: www.khilafat.org |
E-Mail: media@hizb-uttahrir.info |




