بسم الله الرحمن الرحيم
عالمی مالیاتی تباہی کے ساختی اسباب
تحریر: استاد نبیل عبد الکریم
(ترجمہ)
عالمی مالیاتی بحران کوئی اچانک رونما ہونے والے واقعات نہیں ہیں جو خلا سے پیدا ہوئے ہوں، اور نہ ہی یہ محض مارکیٹوں میں ہونے والی عارضی ہیجان خیزی ہے، بلکہ یہ ان ساختی عدم توازن کے طویل عرصے تک موجود رہنے کا نتیجہ ہیں جو عالمی مالیاتی اور اقتصادی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ پس جب دولت کی بنیاد حقیقی پیداوار کے بجائے قرضوں پر رکھی جاتی ہے، اور مارکیٹیں حقیقی سرمایہ کاری کے بجائے سٹہ بازی کے میدانوں میں بدل جائیں، اور سرمایہ پیداوری معیشت سے کٹ جائے، تو پھر تباہی ایک فطری نتیجہ بن جاتی ہے جس کا وقوع پذیر ہونا صرف وقت کا محتاج ہوتا ہے۔
حالیہ دہائیوں کے دوران دنیا نے مالیاتی بحرانوں کا ایک ایسا سلسلہ دیکھا ہے جس نے بین الاقوامی مالیاتی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے، اور یہ ظاہر کر دیا ہے کہ جو علاج اپنائے گئے انہوں نے بگاڑ کی جڑوں کا مداوا نہیں کیا، بلکہ صرف اس کے دھماکے کو موخر کیا اور اس کے دائرے کو وسیع کیا۔ پس ہر بحران کا سامنا کریڈٹ میں مزید توسیع، نقد بہاؤ (لیکویڈیٹی) میں اضافے اور مالیاتی آلات پر انحصار کو گہرا کر کے کیا گیا، یہاں تک کہ اب خود نظام کی ساخت ہی اپنے اندر عدم استحکام کے اسباب سموئے ہوئے ہے۔
اس لیے، آج دنیا جن بحرانوں کا مشاہدہ کر رہی ہے وہ غیر معمولی واقعات یا عارضی غلطیوں کی پیداوار نہیں ہیں، بلکہ یہ ان ساختی بگاڑ کا نتیجہ ہیں جو دہائیوں سے موجود ہیں، یہاں تک کہ یہ خود مالیاتی نظام کی فطرت کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وہ ساختی بگاڑ ہیں جو بحرانوں کو وقفے وقفے سے دہرانے کا سبب بنتے ہیں، چاہے ان کے فوری اسباب یا ان کے وقوع پذیر ہونے کا وقت مختلف ہی کیوں نہ ہو۔
اول: قرضوں میں بے مثال اضافہ
قرضوں کا پھولنا عالمی معیشت کو درپیش خطرناک ترین چیلنجوں میں سے ایک ہے۔ اب قرضوں کا بوجھ صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ کمپنیوں، افراد اور مالیاتی اداروں تک پھیل چکا ہے، یہاں تک کہ یہ عالمی معیشت پر ایک بڑھتا ہوا بوجھ بن چکا ہے۔ برسوں تک سود (ربا) کی شرح کا مسلسل کم رہنا اور اس کے ساتھ قرض لینے کے رجحان میں بڑے پیمانے پر اضافے نے قرضوں کے حجم میں ایسی بے مثال سوجن پیدا کر دی ہے جس کے متوازی حقیقی پیداوار یا حقیقی معیشت میں کوئی حقیقی ترقی نہیں ہوئی۔ اور جب قرض کی ادائیگی زیادہ مشکل ہو جاتی ہے، تو ریاستیں پچھلے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینے کا سہارا لیتی ہیں، یوں وہ قرضوں کے ایک ایسے شیطانی چکر میں پھنس جاتی ہیں جس سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دوم: کرنسی کے اجرا میں توسیع
گولڈ اسٹینڈرڈ (سونے کے معیار) کو چھوڑنے کے بعد سے، مرکزی بینک اس قابل ہو گئے ہیں کہ وہ پیداوار یا سونے کے ذخائر سے براہ راست تعلق کے بغیر بڑی مقدار میں کرنسی جاری کر سکیں۔ اس پالیسی کا استعمال 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد وسیع ہوا، اور پھر کورونا کی وبا کے دوران اس سے بھی بڑے پیمانے پر، جہاں "کوانٹیٹیٹو ایزنگ" (مقداری آسانی) کے نام سے معروف پالیسی کے تحت مارکیٹوں میں کھربوں ڈالر جھونکے گئے۔ اگرچہ ان اقدامات نے مختصر مدت میں تباہی کو ٹالنے میں مدد دی، لیکن ان کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا، مالیاتی غبارے (bubbles) بنے اور کرنسیوں کی قوت خرید کمزور پڑ گئی۔
سوم: حقیقی معیشت کی قیمت پر مالیاتی معیشت کا پھولنا
عالمی سرمایہ کی نقل و حرکت کا بڑا حصہ اب پیداوری سرمایہ کاری کی طرف جانے کے بجائے مالیاتی منڈیوں کے اندر ہی گھوم رہا ہے۔ حصص (اسٹاکس)، بانڈز، فیوچر کنٹریکٹس اور فنانشل ڈیریویٹیوز میں سٹہ بازی اس قدر پھیل چکی ہے کہ مالیاتی لین دین کی مالیت حقیقی معیشت کی پیدا کردہ اشیاء اور خدمات کی مالیت سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ جب سرمایہ پیداوار سے الگ ہو جاتا ہے، تو مارکیٹیں شدید اتار چڑھاؤ اور اچانک تباہی کا زیادہ شکار ہو جاتی ہیں، کیونکہ قیمتیں اب اثاثوں کی حقیقی قدر کی عکاسی نہیں کرتیں، بلکہ سرمایہ کاروں کی توقعات اور سٹہ بازی کی لہروں کی عکاسی کرتی ہیں۔
چہارم: بینکنگ سسٹم کی کمزوری
جدید بینکنگ سسٹم "جزوی ریزرو" (فریکشنل ریزرو) کے اصول پر قائم ہے، جہاں بینک جمع کنندگان کی رقم کا ایک محدود حصہ اپنے پاس رکھتے ہیں جبکہ اس کا بڑا حصہ قرض پر دے دیتے ہیں۔ یہ نظام اس وقت تک معمول کے مطابق کام کرتا ہے جب تک اعتماد برقرار رہے، لیکن اعتماد کے متزلزل ہوتے ہی یہ انتہائی کمزور ہو جاتا ہے، کیونکہ جب بڑی تعداد میں جمع کنندگان ایک ہی وقت میں اپنی رقم نکالنے کا رخ کریں تو بعض بینک اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں، جیسا کہ حالیہ برسوں کے دوران ایک سے زائد بینکنگ بحرانوں میں مارکیٹوں نے دیکھا ہے، اور آنے والا وقت اس سے بھی برا ہے۔
پنجم: حد سے بڑھی ہوئی عالمگیریت اور معیشتوں کا باہمی ربط
عالمگیریت (گلوبلائزیشن) نے تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے میں تو مدد دی، لیکن اس کے برعکس اس نے معیشتوں کو اس طرح ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، یہاں تک کہ اب کوئی بھی مقامی بحران پوری دنیا میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کسی ایک بڑے مالیاتی مرکز میں اضطراب، یا سپلائی چین میں خلل، یا کسی جغرافیائی سیاسی تنازع کا بھڑک اٹھنا عالمی منڈیوں میں وسیع پیمانے پر بے چینی پیدا کرنے کے لیے کافی ہے، جیسا کہ کورونا کی وبا، توانائی کے بحران، اور علاقائی جنگوں کے دوران ہوا اور جیسا کہ آج ان اضطرابات کی صورت میں ہو رہا ہے جو مارکیٹوں کو بے مثال انداز میں اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔
ششم: عالمی مالیاتی نظام کی سیاست زدگی
عالمی مالیاتی نظام اب صرف تجارت اور سرمایہ کاری کو منظم کرنے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ آہستہ آہستہ سیاسی اثر و رسوخ کے آلات میں سے ایک آلے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اقتصادی پابندیوں، اثاثوں کو منجمد کرنے، مالیاتی منتقلی پر پابندیوں اور بعض ممالک کو بین الاقوامی ادائیگی کے نظام کے استعمال سے روکنے کا حربہ استعمال کیا گیا، جس نے ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ایسے متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے جو امریکہ کے زیر تسلط مالیاتی نظام پر ان کے انحصار کو کم کر سکیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی مالیاتی نظام کی غیر جانبداری پر اعتماد میں کمی آئی ہے، اور ادائیگیوں، تجارت اور کرنسی کے ذخائر کے شعبوں میں متبادل نظام بنانے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔
ہفتم: حقیقی معیشت اور مالیاتی معیشت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج
ساختی بگاڑ کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ عالمی مالیاتی دولت حقیقی پیداوار کی ترقی کے مقابلے میں بہت زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بہت سی معیشتیں سست شرح نمو، بے روزگاری میں اضافے اور پیداوری صلاحیت میں کمی کا شکار ہیں، توسیعی مانیٹری پالیسیوں کی وجہ سے مالیاتی اثاثوں کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں دولت محدود طبقات کے ہاتھوں میں مرکوز ہو گئی اور معاشی و سماجی خلیج وسیع ہو گئی، جس سے نظام کی کمزوری میں اضافہ ہوا اور اس کے جاری رہنے کی صلاحیت کمزور پڑ گئی۔
عالمی مالیاتی نظام کی تباہی کی حتمیت میں کوئی شک نہیں ہے، اور ان دنوں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دنیا ایک ایسے فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے جس میں ہر کوئی اس نظام کے ٹوٹنے کی کڑواہٹ چکھ سکتا ہے جو غیر پائیدار بنیادوں پر استوار کیا گیا تھا۔
حقیقی حل ایک ایسے معاشی نظام میں پوشیدہ ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے پیداکردہ ان بحرانوں، تباہی، مہنگائی اور کساد بازاری سے دور رہ کر انسانیت کے لیے خوشحالی اور فلاح و بہبود حاصل کرے ۔ نیز اسلامی نظام، ایک مکمل مبدأ (آئیدیالوجی)کی حیثیت سے، انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، کیونکہ اس کے احکامات انسان کے خالق کی طرف سے نازل شدہ ہیں جو اسے سنوارنے والی چیزوں کا بخوبی علم رکھتا ہے، اور یہ احکامات دھوکہ دہی، سود (ربا)، اجارہ داری اور معاشی بگاڑ کے تمام دیگر اسباب کو روکنے کے لیے آئے ہیں۔
حقیقی حل اسلام کا نفاذ ہے، اور یہ صرف اسلام کی اس ریاست کے قیام سے ہی حاصل ہو سکتا ہے جسے 1924ء سے غائب کر دیا گیا ہے۔ اور ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ اس کی واپسی جلد ہو، اور یہ اللہ کی نصرت اور اس کے قیام کے لیے کام کرنے والوں کی کوششوں سے اسی طرح واپس آئے جیسے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں تھی۔
اے مسلمانو! حل تمہارے ہاتھوں میں ہے، پس اسے کتابوں میں قید نہ رکھو بلکہ اسے نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ قائم کر کے زندگی کی حقیقت میں منتقل کرو، ان شاء اللہ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بشارت دی ہے۔ اور ہم دوبارہ ویسے ہی بن جائیں جیسا کہ ہمیں لوگوں کے لیے نکالی گئی بہترین امت بنایا گیا تھا، بے شک اللہ نے مومنوں سے نصرت کا وعدہ کیا ہے اگر وہ اس کے احکامات پر قائم رہیں اور اس کے رسول کی پیروی کریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلاً إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا وَكَانَ حَقاً عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾
"اور یقیناً ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جنہوں نے جرم کیا تھا، اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر لازم تھا۔" (سورۃ الروم:آیت 47)





