الإثنين، 21 محرّم 1448| 2026/07/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

واشنگٹن، تل ابیب اور تہران کے درمیان:

کیا مفاہمتی یادداشت (MoU) ایران-امریکہ تنازعے کی حدود کو ظاہر کرتی ہے یا امریکہ-یہود اتحاد کی گہرائی کو نئے سرے سے متعین کرتی ہے؟!

 

 

(عربی سے ترجمہ)

 

تحریر : انجینئر وسام ألاطرش

 

تعارف :

 

سیاسی اور تحقیقی حلقوں میں، حالیہ امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت (MoU) کو ایک ایسے واقعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ جس نے خطے میں موجود اہم مہروں کو نئے سرے سے ایک نئی ترتیب دے دی ہو۔ تاہم، فوری توجہ طلب سوال اس معاہدے کے مندرجات سے زیادہ اس معاہدے کے ذریعے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات پر پڑنے والے اثرات سے متعلق ہے۔ کیا ہم ان دیرینہ اتحادیوں کے مابین ایک ممکنہ کشیدگی کا سامنا کر رہے ہیں، جیسا کہ زیادہ تر میڈیا یہی نقطۂ نظر پیش کر رہا ہے؟ یا ٹرمپ انتظامیہ اور نیتن یاہو حکومت کے درمیان بڑھتا ہوا اختلاف اس ایسے اسٹریٹجک سمندر کی گہرائیوں میں محض ایک وقتی ابال ہے، جس سمندر کو ان بےشمار طوفانوں وطغیانیوں سے کچھ بھی فرق نہیں پڑا ؟

 

یہودی وجود : امریکہ کا اسٹریٹجک داؤ

 

حقیقت میں، یہ سوال ایک طرح کا فکری جال ہے۔ کوئی بھی ذی شعور جو واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لے، تو وہ یہ جان لیتا ہے کہ یہ رشتہ اس قدر گہرا ہے کہ کسی ایک صدر کے حکم پر منحصر نہیں ہو سکتا، اور یہ کسی بھی عبوری حکومت کی مدت سے کہیں آگے تک قائم رہتا ہے۔ واشنگٹن-تل ابیب کا یہ رشتہ نہ تو محض دوستی ہے اور نہ ہی کوئی روایتی فوجی اتحاد۔ بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک داؤ ہے — جسے امریکہ نے یونہی خود سے ایجاد نہیں کر لیا بلکہ اپنے پیش رو مغربی استعماری منصوبوں سے وراثت میں حاصل کیا ہے۔ خاص طور پر، یہ منصوبہ برطانیہ کی میراث سے نکلتا ہے، جس نے بالفور ڈیکلیریشن کے ذریعے فلسطین میں یہودی وجود کے بیج بوئے تھے۔ یہ اقدام اس اعلان سے قبل ہونے والی کیمبل کانفرنس کے بعد ہوا تھا، جس میں ”یہودی وجود“ کے قیام کے صیہونی خواب کو عملی شکل دینے کے طریقۂ کار کا خاکہ پیش کیا گیا تھا — اور یہی وہ تصور تھا جو تھیوڈور ہرڈزل نے 1897ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر بازل میں منعقد ہونے والے بازل کانگریس میں پیش کیا تھا — اور اس کے بعد برطانیہ نے اس سرکاری فرمان نامے پر کئی دہائیوں کی سازشوں کے ساتھ اس یہودی وجود کی پیدائش میں سہولت فراہم کی۔ تاہم، جب امریکہ نے اس داؤ کو اپنے ہاتھ میں لیا، تو اس نے اسے محض ایک استعماری میراث کے طور پر برقرار رکھنے یا کیمبل-بینرمین کانفرنس کے تصور کردہ فوائد کے تسلسل کو یقینی بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر نہیں لیا۔ بلکہ امریکہ نے اس منصوبہ کو بنیادی طور پر ایک خالصتاً امریکی منصوبے میں تبدیل کر دیا، جو امریکہ کے اپنے ہی مفادات اور اجارہ داری کی منطق کے تحت چلتا ہے۔ امریکہ نے یہودی وجود کو اپنی مشرق وسطیٰ پالیسی کا ایک اہم سنگ بنیاد بنا دیا، اور اس وجود کو ایسا سیاسی و عسکری جواز فراہم کر دیا کہ جس نے اسے محض ایک ایسے وجود سے کہیں بلند مقام دے دیا جو کہ اس خطے میں امتِ مسلمہ کی قوت کو کمزور کرنے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔ مزید برآں، امریکہ نے اس وجود کو طاقت اور بقا کے تمام وسائل فراہم کئے، اور اسے ایک ایسے مہلک امریکی آلے میں بدل دیا جو کسی بھی متبادل علاقائی منصوبے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے — خاص طور پر اس منصوبے کا جس کی بنیاد اسلام سے پیوستہ ہو۔

 

معاملات کا یہ فہم ہی اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ قابض آبادکاریاں، مسئلہ فلسطین، یا یہاں تک کہ ایران کے نیوکلئیر پروگرام کے بارے میں اختلافات کسی حتمی فیصلوں پر تنقیدی مباحثہ جات تک پہنچے بغیر ہمیشہ ہی محض حکمت عملی کی چالبازیوں کے دائرے تک ہی کیونکر محدود رہتے ہیں۔ یہ  تو ممکن ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ نیتن یاہو کی پالیسیوں سے اختلاف کرے یا قابض آبادکاریوں کی توسیع پر تنقید بھی کرے، لیکن ہر اہم و نازک موقع پر وہ اپنے اس پسندیدہ وجود کے ساتھ حمایت میں کھڑا ہوتا ہے — جو کہ اس وجود سے محبت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ خطے میں اپنے تہذیبی منصوبے کے دفاع کی خاطر ہے۔ جب تک امریکہ مغربی سرمایہ دارانہ تہذیب کی قیادت کرتا رہے گا تب تک یہ منصوبہ امریکہ کے لئے ایک اسٹریٹجک غیرمتغیر عنصر کی حیثیت سے رہے گا، اور مغربی سرمایہ دارانہ تہذیب نظامِ ہائے حیات میں اسلام کے احیاء کی سخت ترین مخالفت کرتی ہے۔ اب امریکی مساوات کا ایک اور زیادہ پیچیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ ایران — جو کہ دہائیوں تک امریکہ کے مدار میں ہی گردش کرتا رہا تھا اور امریکہ کے ہی علاقائی مفادات کی خدمت کرتا رہا تھا — لیکن ایران اب ایک ایسی ٹکر کی متوازن قوت کے طور پر سامنے آ گیا ہے جو اس یہودی وجود کو لگام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ، جب بھی اسٹریٹجک مفادات کا تقاضا ہو، امریکہ ایران کو یہ اجازت دے دیتا ہے کہ وہ یہودی وجود کو باز رکھے، بشرطیکہ ایران کا یہ رعب داب اور باز رکھنا یہودی وجود کی بقا کے لئے خطرہ نہ بن جائے۔

 

یہودی وجود: محض ایک اتحادی ہی نہیں، بلکہ ایک اہم برجِ بقا ہے

 

وائٹ ہاؤس میں یکے بعد دیگرے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن انتظامیہ اقتدار میں آتی رہی ہیں، اور یہودی وجود نے دائیں بازو اور بائیں بازو دونوں طرح کی حکومتیں دیکھی ہیں۔ اس کے باوجود، یہودی وجود اپنی جگہ پر مستحکم رہا ہے — اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ ایک پسندیدہ قوم ہے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ یہ وجود قائم رہنا ایک جیوپولیٹیکل ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ 2015ء میں اوباما اور نیتن یاہو کے درمیان ایران کے نیوکلئیر معاہدے پر شدید اختلاف کی انتہا کے موقع پر بھی — جب بیان بازی نے غیر معمولی شدت اختیار کر لی تھی — تب بھی امریکہ-یہود تعلقات کے اسٹریٹجک مرکز پر کوئی انگلی تک نہ اُٹھائی گئی اور وہ جوں کا توں رہا تھا۔ امریکہ –یہود تعلقات کے اس مرکز کو سطحی طوفانوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 

واشنگٹن کے اسٹریٹجک نقطہ نظر کی گہرائی سے دیکھا جائے تو یہودی وجود محض ایک فوجی پارٹنر نہیں ہے۔ یہ وجود اس خطے کی سکیورٹی کے انفراسٹرکچر کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو امریکہ نے سرد جنگ کے بعد مرتب دیا تھا۔ یہ وجود اس خطے میں مغربی اثر و رسوخ کی حدود کا ایک ثابت قدم محافظ ہے، تیل کی اہم گزرگاہوں پر ایک چوکس سپاہی ہے، اور خطے میں کسی بھی متبادل منصوبے کے سامنے ایک ناقابلِ تسخیر دیوار کی مانند ہے۔ مختصراً، یہ وجود ایک مغربی ماڈل ہے — مسلح اور تیار — جو مشرق وسطیٰ کے قلب میں واقع ہے، اور اسلام کے علاقوں کے عین وسط میں ایک جدید مغربی فوجی چھاؤنی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے۔

 

ایران: بحران کے انتظام کے طور پر ، نہ کہ خطرے کا خاتمہ گر

 

اس تناظر میں، ایران کے ساتھ حالیہ معاہدے کو اس وجود کی بقا کے انتظام کی طویل کوششوں کے سلسلے کے ایک تازہ ترین باب کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے نہ کہ اس انداز میں کہ ایران بطور اس وجود کو مٹا دینے والا ہوتا۔ امریکی انتظامیہ یہ یقین نہیں رکھتی — اور نہ کبھی رکھے گی — کہ ایران اپنی مرضی سے اپنے نیوکلئیر پروگرام یا خطے میں اپنے عزائم کو ترک کر دے گا۔ بلکہ امریکہ اس داؤ پر اعتماد رکھتا ہے کہ اس وجود کی موجودگی کو دھمکی کے طور پر عالمی نگرانی کے ایک فریم ورک کے اندر محدود اور ضابطہ بند کیا جا سکتا ہے — خاص طور پر اس بحران کے ردعمل میں ایک تباہ کن فوجی ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد، جس نے اس وجود کے اِمیج کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں اور اس کے مقام کو کھوکھلا و کمزور ظاہر کر دیا۔

 

اور یہیں سے یہودی وجود کے بارے میں بنیادی نقطۂ اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ جہاں ایک طرف واشنگٹن کنٹرول شدہ افزودگی کو — اور فی الحال ابھی کے لیے بعض بیلسٹک میزائل سرگرمیوں سے چشم پوشی کو — خطے میں جنگ سے جان چھڑانے کے لئے ایک قابلِ قبول قیمت کے طور پر سمجھتا ہے، وہیں دوسری طرف، یہودی قیادت ان عوامل کو ایک اخلاقی دھوکہ اور (اپنی بقا کے لئے) ایک ناقابلِ برداشت خطرہ تصور کرتی ہے۔ ان کے نزدیک، خطرہ محض یہ نہیں کہ ایران نیوکلئیر اسلحہ کا حامل ہے، بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ ایران کے پاس یہ ٹیکنیکل قابلیت موجود ہے کہ وہ جب چاہے نیوکلئیر اسلحہ سازی کی طرف تیز رفتاری سے قدم اٹھا سکتا ہے۔ چنانچہ، مفاہمتی یادداشت کا آرٹیکل 8 — جو سویلین افزودگی کے تسلسل کی اجازت دیتا ہے — اسرائیلی سلامتی کے لئے ایک کانٹا بن گیا ہے؛ اور اسے ایران کے لئے ایک موقع، یہودی وجود کے لئے ایک بالواسطہ دھمکی، اور بالآخر امریکہ کے ساتھ مستقبل کے اختلاف کا نقطہ سمجھا جا رہا ہے۔

 

تاہم، حکمت عملی کا یہ اختلاف بھی (امریکہ-یہود) مشترکہ اسٹریٹجک مقصد کی نفی نہیں کرتا: یعنی ایران کو نیوکلئیر اسلحہ سے لیس ایک فوجی طاقت بننے سے روکنا۔ یوں اس طرح، اختلاف یہ ہے کہ (ایران کو روکنے کے) اقدام کی پیش رفت سے متعلق ہے — اقتصادی عوامل اور جنگ کے اخراجات کو متوازن رکھنا — نہ کہ حتمی منزل (کہ ایران کو روکا جائے) کے متعلق۔

 

نیتن یاہو: آگے کنواں پیچھے کھائی - ڈیٹرنس اور اتحاد کی دو طرفہ مصیبت کے درمیان

 

اس حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے، نیتن یاہو خود کو ایک پیچیدہ سیاسی مشکل میں پا رہا ہے۔ وہ ایسے کسی معاہدے کو قبول بھی نہیں کر سکتا جسے وہ ایک مستقل خطرہ سمجھتا ہو، لیکن بہرحال وہ پوری طرح سے یہ بھی جانتا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ اختلافی صورتحال میں جانا سیاسی اور اسٹریٹجک خودکشی کے مترادف ہوگا۔ چنانچہ وہ ایک بار پھر امریکی انتظامیہ کے غضب سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے— کیونکہ وہ اس نوعیت کے بحرانوں کے دوران تنقید کا عادی ہو چکا ہے۔ تاہم، سب سے زیادہ ممکنہ منظر نامہ اسی چیز کا تسلسل ہے جسے ”نپی تلی مخالفت“ کی پالیسی کہا جا سکتا ہے: یعنی بیان بازی کا تیز ہونا، ایرانی اثر و رسوخ کے خلاف سکیورٹی حملوں میں شدت لانا—ایسے حملے جو لبنان سے باہر تک بھی پھیل سکتے ہیں—ایران اور اس کے اتحادیوں تک دراندازی کے لئے موساد کی کارروائیوں کو بڑھانا، اور یہودی وجود کے لئے اپنے دفاع کا حق ہونے کا دعویٰ کرنا، اور ان سب کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کے ساتھ حقیقی دراڑ یا تعلقات کی خرابی سے بچنا—جس کے نتیجے میں (امریکہ سے ملنے والی) اہم ترین فوجی امداد کی لائف لائن منقطع ہو سکتی ہے۔

 

یہ نیتن یاہو کا وطیرۂ خاص  ہے: عوام میں شور مچانا جبکہ خفیہ طور پر کارروائیاں کرنا — ایک ایسا انداز جسے اس نے دو دہائیوں کے دوران ہر اگلی آنے والی امریکی انتظامیہ کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے تکمیل تک پہنچایا ہے۔ جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے — جس نے ایران معاہدے پر دستخط سے ایک روز قبل بیروت کے جنوبی نواحی علاقے پر حملہ ہونے کے بعد نیتن یاہو کی سرزنش کی تھی اور اسے ”پاگل“ کہا تھا — ٹرمپ نے بعد میں اسرائیلی سرکاری براڈکاسٹر کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے اور نیتن یاہو کے اچھے تعلقات برقرار ہیں، تاہم اس کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کو زیادہ معقول رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ملاقات کے لئے اپنی آمادگی بھی ظاہر کی، اور مزید کہا: ”مجھے یہ دیکھنا ہوگا کہ کون انتخاب میں کھڑا ہے، لیکن میں بی بی (نیتن یاہو) کو بہت پسند کرتا ہوں۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ میں اس کی حمایت کروں گا“ (انادولو، 18 جون، 2026ء)

 

کیا یہودی وجود تنہا رہ کر کاروائیاں کر سکتا ہے ؟

 

یہاں فوری توجہ طلب اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر یہودی وجود ایران کے خلاف— یا لبنان میں ایران کی حزب — کے خلاف اپنی کارروائیوں کو اس انداز میں بڑھانے کا فیصلہ کر لے کہ (امریکہ کے ) سارے مرتب شدہ مہرے ہل کر رہ جائیں اور معاہدہ ناقابلِ برداشت دباؤ کی زد میں آ جائے، تو کیا ہوگا؟

 

یہ سوال فرانس میں جی-7 سربراہی اجلاس کے موقع پر ٹرمپ سے پوچھا گیا۔ اور اس کا جواب پہلے سے تیار تھا، جس میں اس نے تجویز دی کہ یہودی وجود لبنان میں ایران کی حزب سے نمٹنے کا کام شام — الشرع کی قیادت  — کے سپرد کر دے، اور اس بنیاد پر کہ دمشق یہ کام ”بہتر طریقے سے“ انجام دے دے گا۔

 

یہ تجویز ایک ایسی رپورٹ کے ساتھ ہم آہنگ تھی جو شام اور یہودی وجود کے مابین مذاکرات کی ممکنہ بحالی سے متعلق تھی۔ سرکاری براڈکاسٹر ”کان 11“ کے مطابق، متوقع مذاکرات ایک چینل کے ذریعے کیے جائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ یہودی وجود اور لبنان کے درمیان فی الوقت موجود براہِ راست مذاکراتی دور بھی چلتا رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ دمشق اور تل ابیب کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہا ہے، جس کا محرک اس کی یہ خواہش ہے کہ شامی صدر احمد الشرع کو لبنان میں ایران کی حزب کو کمزور کرنے کی کوششوں میں شامل کیا جائے۔

 

یہ حقیقت ہمیں دوبارہ اسی سوال کی طرف لے جاتی ہے: کیا یہودی وجود شام یا لبنان میں یکطرفہ طور پر کارروائی کر سکتا ہے؟

 

تو اس سوال کا جواب یہودی وجود کے وزیر دفاع، کاٹز کے 12 جون، 2026ء کے بیان میں واضح تھا — جو کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط سے چند روز قبل دیا گیا تھا۔ اس نے اپنی ریاست کے وجود کی ایران کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی صلاحیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، اور شام، لبنان اور غزہ کے علاقوں پر قبضہ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ویسٹ بنک کے شمالی پناہ گزین کیمپوں میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ (انادولو ایجنسی، 12 جون، 2026ء)

 

پہلی نظر میں، یہ ایسا لگ سکتا ہے کہ یہودی وجود امریکہ کی مرضی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تاہم حقیقت میں، نیتن یاہو ایک خودمختار کردار نہیں ہے۔ بلکہ وہ اسٹیج کا ایسا کھلاڑی ہے جس کی باگیں امریکہ کے ہاتھ میں ہیں اور اسی نے اس کی حدود طے کی ہیں۔ نیتن یاہو اس منظور شدہ دائرے میں رہ کر ہی کام کرتا ہے، چاہے اس کی آواز کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو یا اس کی بیان بازی کتنی ہی سخت ہو۔

 

ایک طرف تو شامی اور لبنانی فائلوں کے بارے میں سیاسی پیغامات کی ہم آہنگی امریکہ اور اس یہودی وجود کے مابین کرداروں کی تقسیم کو ظاہر کرتی ہے: یہودی وجود کو ”زمینی اشتعال انگیز“ کا کردار سونپا گیا ہے، جس کی لبنان اور شام میں فوجی کارروائیاں صورتحال کو اسی مذاکراتی میز کی طرف دھکیلتی ہیں جسے امریکہ اور یہودی وجود مشترکہ طور پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف، یہ بھی حتمی طور پر طے ہے کہ کسی بڑے تنازعہ کے لمحے پر، وائٹ ہاؤس ہرگز یہ نہیں پوچھے گا کہ ”کیا ہم نیتن یاہو کی مدد کرنا چاہتے ہیں؟“ بلکہ وہ یہ پوچھے گا کہ ”کیا ہم اس وجود کو اسٹریٹجک طور پر کمزور کرنے کے نقصانات کو برداشت کر سکتے ہیں؟“

 

یہیں ایک ایسا تضاد پایا جاتا ہے جسے بعض مشاہدین نظرانداز کر سکتے ہیں۔ یعنی امریکہ، یہودی حکومت سے اختلاف رکھنے کے باوجود یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ یہودی وجود کی اپنا ڈر اور خوف پھیلانے کی صلاحیت میں کسی بھی کمزوری سے ایرانی اثر و رسوخ کے لئے دروازہ چوپٹ کھل جائے گا، اور اس سے خطے میں طاقت کا توازن یکسر طور پر بدل جائے گا۔ کیونکہ یہودی وجود کا کمزور ہونا محض ایک اتحادی کے کھونے کا مطلب نہیں رکھتا، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ مشرق وسطیٰ کو امریکہ کی بطور ایک کلیدی کردار موجودگی کے بغیر نئے سرے سے تشکیل دیا جائے — جو کہ ایک ایسا منظرنامہ ہےجس کا کہ واشنگٹن ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔

 

اور یہی وہ نکتہ ہے کہ اس مقام پر، معاملہ محض یہودی وجود کی حمایت کا نہیں رہتا، بلکہ یہ امریکہ کی اس صلاحیت کا سوال بن جاتا ہے کہ وہ خطے میں طاقت کا ایک ایسا توازن برقرار رکھ سکے جس میں یہودی وجود ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہو۔

 

افراد سے بالاتر: ایک تہذیبی تصادم، نہ کہ محض حالات کا اتفاق

 

حالات کے موجودہ مرحلے کے سمجھنے میں شاید سب سے بڑی غلطی اس تصادم کو ٹرمپ یا نیتن یاہو کی شخصیات تک محدود کر دینا ہے۔ جو کچھ ہم آج رونما ہوتا دیکھ رہے ہیں وہ محض دو لیڈران کے درمیان اختلاف نہیں، بلکہ ایک ایسے تصادم کا نیا باب ہے — جو پرانا بھی ہے اور نیا بھی — جو دو تہذیبی منصوبوں کے درمیان جاری ہے: یعنی ایک مغربی سرمایہ دارانہ منصوبہ جو طاقت، اثر و رسوخ اور اجارہ داری پر مبنی ہے، اور ایک اسلامی احیاء کا منصوبہ جو اپنا تہذیبی کردار دوبارہ حاصل کرنے کا متلاشی ہے۔ ”اسلامی خلافت“ کے قیام کے بارے میں نیتن یاہو کے انتباہات خاص اہمیت اختیار کر لیتے ہیں؛ جو کہ اس گہرے یقین کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ تصادم محض ایک ایسے جامع منصوبے کے ساتھ تصادم کا ایک محاذ ہے جو مشرق وسطیٰ میں مغربی بنیادوں کے لئے خطرہ ہے — اور یہ کہ یہودی وجود خطے کا محض ایک کردار ہی نہیں، بلکہ مغربی تہذیب کی سرحدوں کا محافظ ہے۔

 

اس تنازعہ کے بارے میں اس مغرب کا رویہ — جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے — کوئی حکمت عملی کا انتخاب نہیں، بلکہ ایک ایسے تہذیبی منصوبے کے خلاف ایک مستقل ردعمل ہے جو اپنے اندر اس خطے کو نئے سرے سے متعین کرنے کا خطرہ مول لئے ہوئے ہے۔ ”طوفان الاقصیٰ آپریشن“ اس خطرے کا محض ایک ابتدائی مظہر تھا؛ ایک مخلص گروہ، جس کے پاس نہ تو ہوائی جہاز تھے اور نہ کوئی ٹینک، پھر بھی وہ یہودی وجود کی بنیادوں کو ہلا دینے اور اس وجود کی ناقابل شکست دیوار میں شگاف ڈالنے میں کامیاب ہو گیا۔ اگرایک ایسے گروہ میں اس قدر صلاحیت موجود ہے جو کہ کرۂ ارض کی ایک تنگ سی پٹی میں محصور ہے، تو پھر ایک ایسی اسلامی خلافت کے قیام کے بعد کا کیا حال ہوگا جو کہ پوری امت کو متحد کئے ہو گی ؟ اس صورت میں، خطرہ کوئی عارضی سا زلزلہ یا بھونچال نہیں ہوگا، بلکہ ایک ایسی جیوپولیٹیکل تبدیلی ہوگی جو دنیا کے نقشے کو اس کی بنیادوں سے ہی نئے سرے سے تشکیل دے گی۔ ایک واضح تضاد میں، ٹرمپ نے اس بات پر اصرار کیا کہ اس نے یہودی وجود کو بچایا — لفظی طور پر نہیں، بلکہ اسے ایک بے قابو یہودی وجود کے طور پر دوبارہ تشکیل دیتے ہوئے — اور ٹرمپ کہتا ہے: ”ہمارے بغیر، امریکہ کے بغیر، اسرائیل کا وجود ہی نہ ہوتا۔ میرے بغیر، اسرائیل رہ ہی نہ سکتا تھا“۔ اس نے یہ بات سفارت خانے کو القدس منتقل کرنے، گولان کی پہاڑیوں کو تسلیم کرنے، نیوکلئیر معاہدے کو ختم کرنے، اور غیر مشروط نارملائزیشن کی راہ ہموار کرنے کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کی، جس سے یہودی وجود کو ایک محدود اتحادی سے بدل کر ایک بے لگام قوت میں تبدیل کر دیا۔ تاہم، یہودی وجود میں ٹرمپ کا سفیر، ہکابی، اس کے برعکس دعویٰ کرتا ہےکہ، ”اسرائیل کے بغیر امریکہ کا وجود نہ ہوتا“۔ ان متضاد دعووں کے درمیان، یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ٹرمپ، خود پسندی کے زیرِ اثر، محض ایک عارضی صدر نہیں بلکہ مغربی تہذیب کا محافظ بننا چاہتا ہے — یعنی ایک ایسی داستاں جسے وہ خود رقم کرنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں، امریکہ-ایران معاہدہ ایک وسیع تر تنازعہ کے منظرنامے کے اندر محض ایک آلے کے طور پر ہی ابھرتا ہے۔ یہ معاہدہ اس بنیادی حقیقت کو نہیں بدلتا کہ یہ یہودی وجود اور امریکہ ایک مشترکہ بقا کی جنگ کا سامنا کرنے والے پارٹنرز ہیں۔

 

نتیجہ : تبدیلی کے کنارے پر کھڑا -مشرق وسطیٰ

 

بہرحال، موجودہ پیش رفت کو ایک اہم سوال سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا: کیا ہم محض اتحادوں کی نئی ترتیب کا مشاہدہ کر رہے ہیں، یا تہذیبوں کے تصادم کا ایک فیصلہ کن لمحہ متوقع ہے ؟

 

آثار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ غیر معمولی جیوپولیٹیکل ہلچل کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ جوں جوں یہ عمل آگے بڑھتا جائے گا، یہ واضح ہوتا جائے گاکہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان دراڑ محض ایک گہرے تصادم کی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے — ایک ایسا تصادم جو اس وجود کے لیڈران کو اس کشیدگی اور اسٹریٹجک تھکن کے کچھ نتائج برداشت کرنے پر مجبور کر ر ہا ہے، جس نے نہ صرف دنیا کی سرکردہ ریاست کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ اس کی اخلاقی اور سیاسی حیثیت کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ تاہم، اس مساوات میں مستقل عنصر یہی رہتا ہے کہ یہودی وجود — اپنے تمام تر غلط صحیح اقدامات کے ساتھ، اور اپنی دائیں بازو یا مرکزی حکومتوں کے ساتھ — امریکی تصورات کے مرکز میں ایک اسٹریٹجک مقام پر فائز رہے گا؛ اس لئے نہیں کہ وہ ٹھیک کر رہے ہیں، بلکہ اس لئے کہ اس وجود کی موجودگی امریکی تسلط کے لئے ناگزیر ہے۔

 

اگر ایران کے ساتھ معاہدہ اس استحکام کے لئے بطور ایک آزمائش ہے، تو معاہدے کے بعد کا مرحلہ اس پریشان کن سوال کا حتمی جواب فراہم کر دے گا جو طویل عرصے سے تجزیہ کاروں کو پریشان کرتا رہا ہے کہ : کیا واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان تنازعہ محض حکمت عملی کا معاملہ ہے، یا یہ ایک خطرناک اسٹریٹجک تبدیلی کا پیش خیمہ ہے؟

 

تو اب تک کی صورتحال کے مطابق، اس سوال کا جواب پہلی صورت کی طرف جھکتا ہے۔ تاہم، ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ امت کی تقدیر سے کھیلنے والوں کی گرفت ٹوٹ جائے، اور یہ کہ ان کی سازشیں جلد از جلد انہی پر الٹ پڑیں، اور یہ کہ نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ قائم ہو جو ان کے منصوبوں کو برباد کر کے رکھ دے اور ان کے زائچوں کو درہم برہم کر دے۔

 

اللہ نے فرمایا:

 

﴿وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ﴾

 

اور بری چال کرنے والوں کا وبال انہی پر الٹا آن پڑتا ہے [سورۃ فاطر؛ 35:43]

 

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے لئے انجینئر وسام الأطرش نے لکھا۔

 

Last modified onاتوار, 05 جولائی 2026 21:42

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک